اپنی زندگی میں بچوں کے درمیان جائداد کیسے تقسیم کریں۔

پوچھنے والا: نامعلوم

0 Views
Share

Question:

اپنی زندگی میں بچوں کے درمیان جائداد کیسے تقسیم کریں۔


Answer:

 السلام علیکم مفتی صاحب آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں اپنا فیصلہ دیں ۔ میرے والد صاحب حیات ہیں اور ہم دو بھائیاور ایک بہن ہیں کل تین ممبر ہیں اور ہمارے والد صاحب کی ملکیت میں دو کھیت ہیں ۔ جس کی قیمت آج کی تاریخ میں انداز کے مطابق 20 لاکھ روپئے ہیں ۔ اور ایک رہتا گھر ہے جس کی قیمت آج کی تاریخ میں انداز کے مطابق ۵؍ لاکھ روپئے ہیں ، کل ملا کر ملکیت کی رقم 25  لاکھ روپئے ہیں اب ہم سب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس کی مِلکیت کو تقسیم (وصیت ) کیا جائے ، والد صاحب کا جو حصہ بنتا ہ ان کو دیا جائے اور  ایک ایک حصہ دونوں بھائی کو اور جو بھی حصہ بہن کا بنتا ہے اسے دیا جائے ۔ اور گھر میں ہمارے والد صاحب کے ساتھ ایک بھائی اپنی فیملی کو لے کر رہتا ہے ، جو والد صاحب کی خدمت کر تے ہوئے آیا ہے ، ان کو کچھ حق خدمت ملے گا یا نہیں ؟ اور یہ کہ والد صاحب ان کے لیے کچھ وصیت کر سکتے ہیں یا نہیں ،اور دوسرا بھائی اپنی فیملی کو لے کر دوسری جگہ رہتا ہے اور بہن اپنے سسرال میں ہیں اور ابھی والد صاحب با حیات ہیں اور جو بیٹااپنے والد کی خدمت کر رہا ہے والد کے انتقال کے بعد جو والدصاحب کا حصہ ہوتا ہےوہ کس بیٹے کو ملے گا  ۔ اس کی تقسیم شریعت کی روشنی میں کیسے ہو گی ؟ بسم اللہ  الرحمٰن الرحیم الجوابـــــــــــــــــــــــ باپ اپنی زندگی میں اپنی جائداد کا خود مالک ہے کسی کا اس میں کوئی حق نہیں ، اگر اپنی زندگی میں اپنی جائداد بچوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے تو جتنا چاہے خود رکھ لے ، اور بقیہ مال کے تین حصے کریں تینوں بچوں ( دوبیٹے اور ایک بیٹی ) کو ایک ایک حصہ دے دیں اور قبضہ کرادیں اگر قبضہ نہیں کرائے گا ان کی ملکیت نہ ہو گی ۔ ایسا اس لیے ہے کہ باپ کے نزدیک بیٹا بیٹی دونوں برابر ہیں اگر کسی کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے دے گا تو گناہ گار ہوگا ۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ’’ یعطی الابنۃ مثل ما یعطی الابن و علیہ الفتویٰ و ھکذا فی فتاویٰ قاضی خان‘‘ ہاں اگر کوئی بہٹا دینی فضیلت رکھتا ہو ، مثلاً کوئی بیٹاعالمِ دین ہے دین کی خدمت میں مشغول رہتا ہے یا ماں باپ کی خدمت کرتا ہے تو اسے دوسروں سے کچھ زیادہ دے سکتا ہے ۔ والد کے انتقال کے بعد والد کا کل ترکہ پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے دو دو حصے کے دونوں بیٹے حق دار ہوں گےاور ایک حصہ کی بیٹی حق دار ہو گی ، یہ اس صورت میں  ہے جب کہ والد کے وارث یہی تینوں ہوں ، اگر زیادہ یا کم ہو گئے تو اس وقت استفتاکر کے معلوم کرلیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ فاروق خان المہائمی المصباحی  ۲۶؍۶؍ ۱۴۳۸ھ ۲۵؍۳؍ ۲۰۱۷ء

Link copied to clipboard!