سوال:
شوہر نے اپنی بیوی سے یہ کہا میں تجھے طلاق دیتا ہوں
جواب:
Question:
شوہر نے اپنی بیوی سے یہ کہا میں تجھے طلاق دیتا ہوں
Answer:
مولانا صاحب السلام علیکم میرا نام سید عظمیٰ عبد الحبیب ہے میرے ایک مسئلے کےلئے آپ سے وضاحت چاہیے۔ 2012ء میں میرے والد کی طبیعت خراب ہوئی اور تقریباً ایک سال تک ان کی نگہداشت کرنی پڑی ، اس دوران میں میرے والدین گھر میں موجود تھی ۔ 2006ء میں سید عبد الحبیب سے میری شادی ہوئی اس وقت میری عمر17 سال کی تھی دو سال کے بعد مجھے ایک بچی پیدا ہوئی جس کی عمر اب تقریباً 8 سال کی ہے ۔ یہ شادی میرے والدین نے طے کی تھی ، شادی کے بعد میرے شوہر سعودی واپس چلے گئے ، اس دوران ان کا آنا جانا ہندستان میں لگا رہا، چوں کہ میں اپنے سسرال میں اپنی ساس اور نند کے ساتھ رہتی تھی گھریلو جھگڑے ہو تے رہے ، ساتھ ہی ساتھ پراپارٹی ، زمین جائداد کو لے کر بھی مسئلے ہو تے رہے ۔ جب کہ میں میرے والدین کے گھر ان کی نگہداشت کے لیے موجود تھی اس وقت کچھ ایسی چیزیں میری ساس کے بارے میں معلوم ہوئی کہ میری ساس نے کچھ پراپرٹی اپنے نام کروا لی تھی جو کہ میرے شوہر کی ملکیت تھی اس بات کے سامنے آنے کے بعد میری ساس نے میرے شوہر کو مجھ سے بد ظن کر نا شروع کر دیا اور میری اور میرے شوہر کے درمیان جھگڑے کروا دیے ۔ مئی 2013ء کو میرے شوہر میرے والدین کے گھر اپنے والدین اور بہن کے ساتھ اور سارے مسئلے کو لے کر بحث کرنے لگے۔ بات حد سے بڑھ گئی اور گھر سے نکلتے وقت وہ طیش میں آکر مجھ سے کہنے لگے ’’ میں تجھے طلاق دیتا ہوں ‘‘ یہ بات انھوں نے صرف ایک بار کہی اور اپنے گھر والوں کے ساتھ چلے گئے ۔ میرے والد کی طبیعت ان سب حالات کے بعد بگڑتی چلی گئی اور جولائی 2013ء میں ان کا انتقال 22 روزے رمضان میں ہو گیا ۔ والد کے جانے کے بعد میرے شوہر نے مجھ سے بات چیت جاری رکھی اور اپنے گھر والوں کو ہمارے گھر جانے کے لئے مجبور بھی کیا لیکن وہ لوگ شامل نہیں ہوئے ۔ والد کے انتقال کے 15 دن بعد میں اپنے سسرال جا کے رہنے لگی اپنی بچی کے ساتھ تھوڑے دن بعد میرے شوہر بھی سعودی سے واپس آگئے اور اس دوران انھوں نے مجھ سے رجوع بھی کر لیا اگست ۲۰۱۳ء میں وہ واپس سعودی چلے گئے ، میرے سسرال والے ان کے جانے کے بعد مجھے رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوئے کیوں کہ انھوں نے زبردستی میرے شوہر کی شادی کروا دی تھی یہ بات 2013ء جون مہینے کی ہے جس وقت میں میرے والدین کے یہاں موجود تھی یہ بات میرے علم میں نہیں تھی ۔میں واپس میرے والدین کے گھر 2013ء اگست میں آگئی ، میرے والد کے انتقال کے بعد سے میرے گھر کے حالات مخدوش ہو گئے تھے میرا اور میری بچی کا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔ بہت مشکل حالات سے میں اُس کی پرورش کر رہی ہوں میرے شوہر مجھ سے بات چیت کر رہے ہیں لیکن خرچ کے لئے کچھ بھی نہیں دے رہے ہیں ۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس مسئلے میں اپنی رائے دیں کہ میرا طلاق واقع ہوا ہے یا نہیں ؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مفتیِ شرع شریعت کے مسئلوں میں اپنی رائے ظاہر نہیں کرتا ، بلکہ جو شریعت کا حکم ہے اسے بتا دیتا ہے ۔ صورتِ مسئلہ میں عبدالحبیب نے جس وقت اپنی بیوی سے یہ کہا ’’ میں تجھے طلاق دیتا ہوں ‘‘ اسی وقت اس کی بیوی سید عظمیٰ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی۔ ( بہارِ شریعت حصہ : 8 ، ص : 117) پر ایسا ہی مذکور ہے۔ اس وقت سے لے کر سید عظمیٰ کی عدت کے اندر اندر کامل تین حیض گزرنے سے پہلے پہلے اگر عبدالحبیب نے اپنی بیوی سے رجعت کر لی تھی تو سید عظمیٰ بدستور عبدالحبیب کے نکاح میں ہے اور اگر عدت ختم ہو نے کے بعد یعنی کامل تین حیض گزرنے کے بعد رجعت کی تھی تو عدت کے گزرنے سے ہی سید عظمیٰ عبد الحبیب کے نکاح سے نکل گئیں ، اب اگر دونوں پھر سے ایک دوسرے سے نکاح کرنے پر راضی ہیں تو نکاح کر سکتے ہیں حلالہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔فتاویٰ رضویہ میں ہے :رجعی میں عورت نکاح سے نہ نکلے گی، ایام ِ عدت میں بے تجدید نکاح عورت سے رجعت کر سکتا ہے ۔ اور اگر عدت گزر گئی تو برضائے عورت اس سے از سر نو نکاح کر سکتا ہے ، کچھ حلالہ کی حاجت نہیں ۔ ( فتاویٰ رضویہ مترجم ج : 12 ، ص: 447 ملخصا)۔ واللہ تعالیٰ اعلم فاروق خاں المہائمی المصباحی۱۷؍ محرم الحرام ؍ ۱۴۳۸ ھ ۱۵ ؍ اکتوبر ؍ ۲۰۱۶ ء