Minara Masjid Minara Masjid

Buray Akhlaaq Wala Kaamil Momin Nahin

| February 4, 2026 3 min read 14 views

بُرے اخلاق والاکامل مومن نہیں

اسلام نے خالقِ کائنات کی عبادت وبندگی کے ساتھ مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ اخلاق کا جو تصور پیش کیا ہے اس کی مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی یہاںتک کہ اسلام میں جو عبادتیں فرض ہیں ان میں بھی حسنِ اخلاق کا جلوہ دکھائی دیتا ہے چنانچہ اہم الفرائض نمازکے فوائد میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ بے حیائی اور بری باتوں سے باز رکھتی ہے۔ روزے کے متعلق بتایاگیا ہے کہ وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا ہے اور بھوکوں اور پیاسوں کے دکھ درد سمجھنے میں معاون ومددگار ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی میں یہ راز پنہاں ہے کہ مال ودولت سے محروم اور غربا وفقرا کی ضروریاتِ زندگی اس سے بحسن وخوبی انجام پاسکیں گویا اس میں انسانی خیر خواہی اور غم خواری کا سبق ہے اور حج میں بھی انسانی وحدت اور حسن اخلاق کی تعلیم ہے گویا اسلام کی اصل روح حسنِ اخلاق ہی ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اسے سب سے زیادہ انسانوں سے ہی واسطہ پڑتا ہے۔ انسان اپنی زندگی کے جس مرحلے میں بھی ہو دوسرے انسانوں سے اس کے تعلقات ضرور ہوتے ہیں۔ اس لیے اسلام جو کہ دین فطرت ہے اس نے انسانی طبیعت ومزاج کے مطابق حسنِ اخلاق کی ایسی تعلیم دی ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ایک صالح انسانی معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔ محسنِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور آپ کے اخلاقِ کریمہ ہمارے لیے قابلِ اتباع ہیں۔ آپ کا اخلاق اور بندگانِ خدا کے ساتھ آپ کے معاملات اتنے عمدہ اور اچھے تھے کہ دنیا کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں خود آپ کے عمدہ اخلاق کی تعریف یوں فرماتا ہے: وَاِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم: ۶۸؍ ۴)اور اے محبوب( صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ خلقِ عظیم پر فائز ہیں۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ جب ربِّ کائنات خود آپ کے اخلاق کی تعریف بیان فرمارہا ہے تو پھر آپ کے اخلاق کی بلندی کا کما حقہ اندازہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ عرب جیسے بدو، جاہل اور ضدی قوم کو اسلام کا حامی بنانا ایک مشکل کام تھا لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیگر تمام خوبیوں اور کمالات کے ساتھ اخلاقِ حسنہ کی ایسی تلوار عنایت فرمائی تھی جس سے ان کے کفر وطغیان کا دیو خود بخود مات کھا گیا اور ایک قلیل مدت میں عرب کے چپے چپے پر اسلامی عظمت کا پرچم لہرانے لگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت سے قبل اپنی چالیس سالہ حیات ِمبارکہ میں عربوں کے سامنے اپنا ایسا اخلاق اور کردار پیش فرمایا کہ مخالفین بھی آپ کو صادق وامین کے لقب سے پکارنے لگے۔ حضرت پیغمبرِ اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بے حد خلیق تھے، کسی سے ترش روئی کے ساتھ پیش نہیں آتے، کسی کو ڈانٹتے نہیںتھے، بچوں، بوڑھوں، مجبوروں اور یتیموں ہر ایک کے ساتھ شفقت ومحبت سے پیش آتے چنانچہ سب سے پہلی ہجرت اسلام میں حبشہ کی طرف ہوئی جس میں مہاجرین کی تعداد کل پندرہ تھی۔ گیارہ مرد اور چار عورتیں۔ مسلمانوں کا یہ قافلہ شاہِ حبشہ نجاشی کے ملک میں امن وسلامتی کی زندگی بسر کرنے لگا لیکن قریش نے اپنے آدمی بھیج کر بادشاہ سے ان کے بارے میں شکایت کی تو بادشاہ نے تحقیق حال کے لیے مسلمانوں کو طلب کیا مہاجرین کی جانب سے حضرت جعفر بن ابی طالب نے بادشاہ کے سامنے جو تقریر کی وہ آپ کے اخلاق ومحاسن کا بین ثبوت ہے۔ حضرت جعفر ابن ابی طالب نے اس طرح تقریر کی۔ ’’اے بادشاہ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے، مردار کھاتے تھے ،بدکاریاں کرتے تھے، ہمسایوں کو ستاتے تھے، بھائی بھائی پر ظلم کرتا تھا، قوی لوگ کمزوروں کو کھاجاتے تھے۔ اس اثنا میں ہم میں سے ایک شخص پیدا ہوا جس کی شرافت اور صدق ودیانت سے ہم لوگ پہلے سے واقف تھے۔ اس نے ہم کو اسلام کی دعوت دی اور یہ سکھایا کہ ہم پتھروں کو پوجناچھوڑدیں، سچ بولیں، خوں ریزی سے باز آئیں، یتیموں کا مال نہ کھائیں، ہمسایوں کو آرام دیں، پاک دامن عورتوں پر بدنامی کا داغ نہ لگائیں، نماز پڑھیں ، روزے رکھیں، زکوٰۃ دیں۔ ہم اس پر ایمان لائے، شرک اور بت پرستی چھوڑ دی اور تمام اعمال بد سے باز آئے۔تو اس جرم پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہوگئی اور ہم کو مجبور کرتی ہے کہ اسی گمراہی میں واپس آجائیں۔‘‘(سیرت ابن ہشام ج۱، ص۳۶۳، مطبوعہ دار الکتا ب العربی بیروت) حضرت جعفر ابن ابی طالب کی شاہِ حبشہ نجاشی کے دربار میں بیان کردہ یہ تقریرا س بات کاواضح ثبوت ہے کہ سرکارِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل عرب کو اخلاق ومحاسن کا درس عظیم دیا اور اسی کے اثر سے دعوت دین کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔ بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے خدمتِ اقدس میں باریابی کی اجا ز ت چاہی توآپ نے فرمایا: اچھا آنے دو وہ اپنے قبیلے کا اچھا آدمی نہیں ہے لیکن جب وہ خدمتِ مبارک میں حاضر ہوا تو نہایت نرمی کے ساتھ اس سے گفتگو فرمائی۔ حضرت عائشہ کو اس پر تعجب ہوا اور آپ سے دریافت کیا کہ آپ تو اس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے پھربھی اس کے ساتھ رِفق وملاطفت کے ساتھ کلام کیا۔ آپ نے فرمایا: خدا کے نزدیک سب سے برا وہ شخص ہے جس کی بدزبانی کی وجہ سے لوگ اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیں۔ (بخاری، ج؍۲، ص؍۹۰۵، کتاب الادب، باب المداراۃ مع الناس) رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات سراپا رحمت اور پیکرِ الفت ومحبت تھی۔ نرم کلامی، حلم وبردباری، اعتدال ومیانہ روی، صدق ودیانت داری، شجاعت وبہادری، سخاوت ودریادلی، عدل و انصاف، عفو ودرگزر وغیرہ یہ سب وہ صفات ہیں جو سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خداوند قدوس نے سارے جہان کے لیے آئیڈیل اور رہنما بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور کوئی بھی آئیڈیل اور قابلِ اتباع اس وقت ہوسکتا ہے جب کہ اس کے اندر وہ تمام صفات موجود ہوں جو اسے دیگر تمام انسانوں سے ممتاز اور نما یا ں کردیں اوران تمام چیزوں سے اس کی ذات پاک وصاف ہو جو اخلاقِ رزیلہ یا صفاتِ مذمومہ کے تحت آتے ہیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت ہمارے لیے دستور العمل ہے۔ فرمان خداوندی ہے لَقَدْ کَانَ لَکُم فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: ۳۳؍۲۱) رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنے لیے عملی نمونہ بنا ئیں اور بالخصوص آپ کے اخلاقِ کریمہ اور صفاتِ حسنہ سے درس لیں اس لیے کہ دونوں جہاں کی کامیابی اسی میں مضمر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمِ امت کے لیے ارشاد فرمایا۔ عن انس بن مالک ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : لاتباغضوا ولاتحاسدوا ولا تدابروا وکونوا عباد اللہ اخوانا ولا یحل لمسلم ان یہجر اخاہ فوق ثلاث لیال (بخاری، ج۲ ص،۸۹۷، حدیث ۸۵۴، کتاب الادب) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ایک دوسرے پر بغض وحسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو اور اے خدا کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے۔ ایک اور حدیث ہے۔ عن ابن عمران رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: المسلم اخوالمسلم لایظلمہ ولا یسلمہ ومن کان فی حاجۃ اخیہ کان اللہ فی حاجتہ ومن فرج عن مسلم کربۃ فرج اللہ عنہ کربۃ من کربات یوم القیٰمۃ ومن ستر مسلماً سترہ اللہ یوم القیٰمۃ (مشکوٰۃ ،ص؍۴۲۲، باب الشفقۃ والرحمۃ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس کی مدد چھوڑے۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت میں ہوتو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت میں ہے اور جو شخص مسلمان سے کسی تکلیف کو دور کرے اللہ تعالیٰ قیامت کی تکلیف میں سے ایک تکلیف اس سے دور کردے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ مشکوٰۃ شریف کی ایک دوسری حدیث ہے۔ عن انس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لایؤمن عبد حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ۔ (مشکوٰہ: ص؍۴۲۲، باب الشفقۃ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ عربی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ درج بالا احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بغض، حسد، کبر وریا کاری، نفرت وعداوت، مسلمانوں کی عیب جوئی وبے عزتی، ترکِ امداد،اہلِ حاجت کی حاجت روائی سے انحراف، ظلم وزیادتی اور دو سر و ں کے خسارہ ونقصان کی تمنا وخواہش ۔یہ سب ایسے اعمال ہیں جو شریعت کی نظر میں معتوب ومبغوض ہیں اور انہیں رزائلِ اخلاق کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے اُمتِ مسلمہ کو ان اعمالِ خبیثہ سے اجتناب ضروری ہے۔ خاص طور پر سب سے اخیر والی حدیث اپنے مفہوم ومعنی کے اعتبار سے بے حد جامع ہے۔ اس حدیث میں وہ تمام چیزیں آگئیں جنہیں ایک انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے یا اپنے لیے ناپسند کرتا ہے اورظاہر سی بات ہے کہ ہر انسان اپنے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اس کے حق میں منفعت بخش ہو اور ہر اس چیز کو ناپسند کرتا ہے جو اس کے لیے مضرت رساں ونقصان دہ ہو۔ ایک انسان اپنے لیے جن باتوں کو پسند کرتا ہے ان میں یہ ہے کہ رنج والم کے ہجوم میں اس کا کوئی غم خوار وخیر خواہ ہو، اگر کسی کے ہاتھوں ظلم وستم اور جبر وتشددکا شکار ہے تو دوسرا اس کی امداد واعانت کرے اور ظالم کے ظلم سے نجات دلائے، اگر وہ بیمار ہے تو کوئی اس کا پرسان حال ہو، اگر قرض ودین کے بوجھ تلے دبا ہے تو کوئی اس کی امداد واعانت کرکے بار قرض سے نجات دلائے ،اگر بھوکا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی اسے کھانا کھلائے، اگر یتیم ہے تو سوچتا ہے کہ کوئی اس کے سر پر دستِ شفقت پھیرے اور اگر مجبور ولاچار ہے تو اس کی تمنا ہوتی ہے کہ کوئی اس کی مجبوری ولاچاری دور کرے۔ کوئی اس سے حسد نہ کرے، کوئی اس کی برائی وملامت نہ کرے، کوئی اس کا بدخواہ نہ ہو، کوئی اس کی غیبت نہ کرے، کوئی اس کی چغلی نہ کھائے، نہ ستائے، نہ مارے پیٹے اورنہ کسی قسم کا کوئی ایسا کام انجام دے جس سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اسی طرح سے اس شخص کو بھی غور کرنا چاہیے کہ جب میں ان تمام باتوں کو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتا تو اپنے مسلم بھائی کے لیے کیوں کر پسند کروں۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں۔ (مشکوٰۃ: کتاب الایمان، حدیث نمبر؍ ۲) نبیِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے افعال، اقوال، کردار اور سیرتِ طیبہ سے ہمیں حسنِ معاشرت کا ایسا حسین نمونہ عطا فرمادیا ہے جس کی روشنی میں ہم اپنے تاریک دلوں کی کدورت مٹا سکتے ہیں اور ایک ایسے خاندان ومعاشرے اور ماحول وسوسائٹی کی تشکیل میں کامیاب ہوسکتے ہیں جس کا ہر فرد بشر اسلام کا سچا مبلغ، پابندِ شریعت، متبعِ سنت اور ہر اخلاقی وباطنی امراض سے محفوظ ومامون ہوگا۔ شریعت کے احکام اور احادیثِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روشنی میں جب ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ بے پناہ برائیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، گھر، خاندان، قصبہ، دیہات یا پھر کوئی تنظیم وتحریک اور مدارس ومکاتب الغرض جہاں کہیں بھی چند افراد ایک ساتھ زندگی کے روز وشب گزار تے ہیں ان کے مابین نا اتفاقی، بغض وحسد، ایک دوسرے کے متعلق شکوہ شکایت اور غیبت و چغل خوری کی وبا عام ہے۔ ایک تنظیم دوسری تنظیم وتحریک کے افراد کی خامیاں نکالنے اور اس کو نیچا دکھانے میں اپنا پورا زور صرف کردیتی ہے، ہر وقت اسے یہی فکر رہتی ہے کہ اس کے اندر کون سی ایسی خامی تلاش کی جائے جس سے اس کی امیج گھٹ جائے اور معاشرے میں لوگ اسے گری ہوئی نظروں سے دیکھنے لگیں۔ اسی طرح سے ایک خانقاہ کے پیرو سجادہ نشین دوسری خانقاہ کے لوگوں کو ہر طرح سے متہم کرنے اور لوگوں کے سامنے ان کی برائیاں کرکے اپنے مریدین و متوسلین کی تعداد میں اضافہ کرنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ا س کی بہت سی مثالیں ہمارے اردگردبکھری پڑی ہیں۔ یہ احوال اجتماعی زندگی کے ہیں انفرادی زندگی میں بھی آج کا انسان بے حد خود غرض، مفادپرست اور انا پرست ہوچکا ہے اپنے آگے وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ حضور نے ارشاد فرمایا: اُفْشُو ْالسَّلَاَمَ یعنی سلام کو پھیلاؤ مطلب یہ کہ اسے زیادہ سے زیادہ رواج دو مگر آج ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ سامنے والا شخص پہلے مجھے سلام کرے۔ راستے میں کوئی گرفتارِ بلا مل جاتا ہے یا مصیبت کے مارے سے اچانک اتفاق پڑجاتا ہے تو اس کی پریشانی ومصیبت سن کر ذرہ برابر بھی ہمارے دل میں نرمی وہمدردی نہیں پیدا ہوتی ہے الاماشاء اللہ۔ غرضیکہ ہمارے اندر بے پناہ خامیاں سرایت کرچکی ہیں جس کا اصل سبب یہی ہے کہ ہم نے اُسوۂ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے اور آپ کی اخلاقی تعلیمات وارشادات سے منحرف ہوگئے ہیں۔ ہمارے حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہایت رحم دل اور رقیق القلب تھے ۔جب کسی کو رنج ومصیبت میں مبتلا دیکھتے خواہ موافق ہو یا مخالف خود رنجیدہ خاطر ہوجاتے گویا وہ تکلیف آپ ہی کو پہنچی ہو۔ حضرت مصعب بن عمیر ایک صحابی تھے جو اسلام سے پہلے ناز ونعمت میں پلے تھے ان کے والدین بیش قیمت لباس ان کو پہناتے تھے خدا نے ان کو اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ یہ دیکھ کر کہ لڑکے نے اپنے آبائی مذہب کو ترک کردیا ہے توان کے والدین کی محبت دفعتاً عداوت میں بدل گئی ۔ایک روز وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ مبارک میں اس حال میں آئے کہ وہ جسم جو حریر وقاقُم میں ملبوس رہتا تھا اس پر پیوند سے ایک کپڑا بھی سالم نہ تھا۔ یہ منظر دیکھ کرحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے۔ (ترغیب وترہیب، ج؍۲، ص؍۲۴۷) ایک بار ایک صحابی جاہلیت کا اپنا قصہ بیان کررہے تھے کہ میری ایک چھوٹی لڑکی تھی عرب میں لڑکیوں کو مار ڈالنے کا رواج تھا میں نے بھی اپنی لڑکی کو زندہ زمین میں گاڑ دیا ۔وہ ابا! ابا! کہہ کر پکار رہی تھی اور میں اس پر مٹی کے ڈھیلے ڈال رہا تھا۔ اس بے دردی کو سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے آپ نے فرمایا ’’اس قصہ کو پھر دہراؤ‘‘ ان صحابی نے اس دردناک ماجرے کو دوبارہ بیان کیاتو آپ بے اختیار روئے یہاں تک کہ روتے روتے ریش مبارک تر ہوگئی۔ (سنن دارمی:باب ماکان علیہ الناس قبل مبعث النبی ، ص؍۱۳) ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم انسانی ہمدردی ، محبت ورواداری کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور پھر آپ کے اخلاق کے نتیجے میں جو اثرات مرتب ہوئے وہ دنیا نے دیکھ لیا کہ تیئس سالہ مختصر مدت میں حامیانِ اسلام کی ایک فوج تیار ہوگئی اور لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ آج جب کہ بے راہ روی، اخلاقی انحطاط وپستی اور خود غرضی وانا پرستی کا دور دورہ ہے ایسے ماحول میں ہم مسلمانوں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ ہم قرآن وسنت کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر عمدہ اخلاق وکردار کا مظاہرہ کریں جس سے دیگر قومیں یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ واقعی اسلام امن وامان، محبت ورواداری اور خیر خواہی وبھائی چارگی کا مذہب ہے اورہم ڈاکٹر اقبال کے اس شعر کے مصداق بن جائیں ۔؎ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان

Islam ne Khaaliq-e-Kainaat ki ibaadat o bandagi ke saath makhlooq-e-Khuda ke saath husn-e-akhlaaq ka jo tasawwur pesh kiya hai, us ki misaal kisi doosre mazhab mein nahin milti. Yahan tak ke Islam mein jo ibaadaat farz hain, un mein bhi husn-e-akhlaaq ka jalwa numayaan hai. Chunancha aham-ul-faraiz namaz ke fawaid mein aik faida yeh bhi hai ke woh be-hayai aur buri baaton se baaz rakhti hai. Roze ke mutalliq bataya gaya hai ke woh taqwa ki taleem deta hai aur bhookhon aur pyaason ke dukh-dard samajhne mein mu‘aawin o madadgaar hai. Zakat ki adaigi mein yeh raaz pinhaan hai ke maal-o-daulat se mehroom ghurba o fuqara ki zarooriyaat-e-zindagi is se husn-o-khoobi anjaam paati hain—gooya is mein insaani khair-khwahi aur gham-khwaari ka sabaq hai. Aur Hajj mein bhi insaani wahdat aur husn-e-akhlaaq ki taleem hai. Gooya Islam ki asal rooh husn-e-akhlaaq hi hai.

Insaan jab is duniya mein aankh kholta hai to usey sab se zyada insaanon se hi waasta padta hai. Insaan apni zindagi ke jis marhalay mein bhi ho, doosre insaanon se us ke ta‘alluqaat zaroor hotay hain. Is liye Islam jo ke deen-e-fitrat hai, us ne insaani tabi‘at o mizaj ke mutabiq husn-e-akhlaaq ki aisi taleem di hai jis par amal-paira ho kar aik saalih insaani mu‘aashray ki tashkeel hoti hai.

Muhsin-e-Kainaat ﷺ ki hayaat-e-tayyiba aur aap ke akhlaaq-e-kareema hamare liye qaabil-e-ittiba‘ hain. Aap ka akhlaaq aur bandgaan-e-Khuda ke saath aap ke mu‘aamlaat itnay umdah aur achhay thay ke duniya ki tareekh mein aisi misaal nahin milti. Allah Ta‘ala Qur’an-e-Majeed mein khud aap ke umdah akhlaaq ki tareef yun farmaata hai: “Wa innaka la‘ala khuluqin ‘azeem.” Aur aye Mehboob ﷺ! Aap khuluq-e-azeem par faiz hain.

Ghor ka maqam hai ke jab Rabb-e-Kainaat khud aap ke akhlaaq ki tareef bayaan farma raha hai to phir aap ke akhlaaq ki bulandi ka kama-haqqah andaza kaise kiya ja sakta hai.

Arab jaisi badu, jaahil aur zid-di qaum ko Islam ka haami banana aik mushkil kaam tha, lekin Allah Ta‘ala ne aap ko deegar tamam khoobiyon aur kamalaat ke saath akhlaaq-e-hasanah ki aisi talwaar ata farmai thi jis se un ke kufr-o-tughyaan ka deew khud-ba-khud maat kha gaya aur qaleel muddat mein Arab ke chappay chappay par Islami azmat ka parcham lehraane laga. Huzoor-e-Akram ﷺ ne elaan-e-nabuwwat se qabl apni chalis saala hayaat-e-mubaarakah mein Arabon ke saamne apna aisa akhlaaq aur kirdaar pesh farmaya ke mukhaalifeen bhi aap ko Sadiq o Ameen ke laqab se pukaarne lage.

Hazrat Payambar-e-Islam ﷺ be-had khaleeq thay; kisi se tursh-rooi ke saath pesh nahin aate, kisi ko daanttay nahin thay; bachon, boodhon, majbooron aur yateemon—har aik ke saath shafqat o muhabbat se pesh aate. Chunancha Islam ki sab se pehli hijrat Habsha ki taraf hui jismein muhajireen ki tadaad kul pandrah thi—gyaarah mard aur chaar auratein. Musalmaanon ka yeh qaafila Shaah-e-Habsha Najashi ke mulk mein aman-o-salaamti ki zindagi basar karne laga. Lekin Quraish ne apne aadmi bhej kar baadshah se un ke baare mein shikaayat ki to baadshah ne tahqeeq-e-haal ke liye Musalmaanon ko talab kiya. Muhajireen ki jaanib se Hazrat Ja‘far bin Abi Taalib ne baadshah ke saamne jo taqreer ki, woh aap ke akhlaaq-o-mahaasin ka bayyan saboot hai.

Hazrat Ja‘far bin Abi Taalib ne yun taqreer ki:
Aye Baadshah! Hum log aik jaahil qaum thay; buton ki pooja karte thay, murdaar khate thay, badkaariyan karte thay, hamsaayon ko satate thay, bhai bhai par zulm karta tha, qawi log kamzoron ko kha jaate thay. Is asna mein hum mein se aik shakhs paida hua jis ki sharaafat aur sidq-o-diyaanat se hum pehle se waaqif thay. Us ne humein Islam ki da‘wat di aur yeh sikhaya ke hum patharon ko poojna chhor dein, sach bolain, khoon-rezi se baaz aayen, yateemon ka maal na khayen, hamsaayon ko aaraam dein, paak-daaman auraton par badnaami ka daagh na lagayen, namaz parhain, roze rakhein, zakat dein. Hum us par imaan laaye, shirk aur but-parasti chhor di aur tamaam a‘maal-e-bad se baaz aa gaye. To is jurm par hamari qaum hamari jaan ki dushman ho gayi aur humein majboor karti hai ke usi gumraahi mein wapas aa jaayen.”

Is taqreer se wazeh hota hai ke Sarkaar-e-Kainaat ﷺ ne ahl-e-Arab ko akhlaaq-o-mahaasin ka dars-e-azeem diya aur isi ke asar se da‘wat-e-deen ka halaqa wasee‘ hota chala gaya.

Bukhari Shareef ki aik hadees mein aata hai ke aik martaba aik shakhs ne khidmat-e-aqdas mein haazri ki ijaazat chahi. Aap ne farmaya: “Achha, aane do; woh apne qabeelay ka achha aadmi nahin.” Magar jab woh haazir hua to nihayat narmi ke saath guftagu farmayi. Hazrat Ayesha ko ta‘ajjub hua aur poocha ke aap to usey achha nahin samajhte thay, phir bhi rifq-o-malaatafat se baat ki. Aap ne farmaya: “Khuda ke nazdeek sab se bura woh shakhs hai jis ki bad-zubaani ki wajah se log us se milna-julna chhor dein.”

Rasool-e-Akram ﷺ ki zaat saraapa rehmat aur paikar-e-ulfat o muhabbat thi. Narm kalaami, hilm-o-bardbaari, i‘tidaal-o-miyaana-rawi, sidq-o-diyaanat, shuja‘at-o-bahaduri, sakhaawat-o-daryaadili, adl-o-insaaf, afw-o-darguzar—yeh sab sifaat aap ﷺ ki zaat mein badarja-e-tam maujood thin.

Allah Ta‘ala ne Huzoor ﷺ ko saaray jahan ke liye ideal aur rehnuma bana kar mab‘oos farmaya. Koi bhi ideal tabhi qaabil-e-ittiba‘ hota hai jab us ke andar woh tamaam sifaat maujood hon jo usey deegar insaanon se mumtaaz bana dein aur woh akhlaaq-e-razeelah se paak ho.

Nabi-e-Kareem ﷺ ki seerat hamare liye dastoor-ul-amal hai: “Laqad kaana lakum fi Rasool-illahi uswatun hasanah.” Is liye humein chahiye ke Sarkaar-e-Kainaat ﷺ ki zindagi ko apne liye amli namoona banayen, bil-khusoos aap ke akhlaaq-e-kareema aur sifaat-e-hasanah se dars lein—kyon ke dono jahan ki kaamiyaabi isi mein muzmar hai.

Rasoolullah ﷺ ne taleem-e-ummat ke liye farmaya:
“Ek doosre se bughz na rakho, hasad na karo, peeth na phero; aur aye Khuda ke bandon! bhai bhai ban kar raho. Kisi Musalmaan ke liye jaaiz nahin ke apne bhai se teen raaton se zyada qata‘-ta‘alluq rakhe.”

Aur farmaya:
“Musalmaan Musalmaan ka bhai hai; na us par zulm karta hai aur na usey be-yaro-madadgaar chhorta hai. Jo apne bhai ki haajat mein hota hai, Allah us ki haajat mein hota hai; jo Musalmaan ki koi takleef door karta hai, Allah Qiyamat ki takleefon mein se aik takleef us se door karega; aur jo kisi Musalmaan ki parda-poshi karta hai, Allah Qiyamat ke din us ki parda-poshi karega.”

Aur yeh bhi farmaya:
“Qasam hai us Zaat ki jis ke qabza-e-qudrat mein meri jaan hai, banda momin nahin hota jab tak apne bhai ke liye wohi pasand na kare jo apne liye pasand karta hai.”

In ahadees se saabit hota hai ke bughz, hasad, kibr-o-riya, nafrat-o-adaawat, Musalmaanon ki aib-jooi aur be-izzati, tark-e-imdaad, ahl-e-haajat se i‘raaz, zulm-o-ziyadati aur doosron ke nuqsaan ki tamanna—yeh sab shari‘at ki nazar mein mabghooz aur razaail-e-akhlaaq hain. In se ijtenaab zaroori hai.

Insaan apne liye khair chahta hai: gham mein gham-khwaar, zulm mein madadgaar, beemari mein pursaan-haal, qarz mein sahara, bhookh mein khaana, yateemi mein shafqat. Jab yeh sab apne liye pasand hain to phir apne Musalmaan bhai ke liye kyon na pasand kiye jaayen?

Huzoor ﷺ ne farmaya: “Musalmaan woh hai jis ke haath aur zubaan se log mehfooz rahen.”

Huzoor ﷺ ne apne af‘aal, aqwaal aur seerat se husn-e-mu‘aashrat ka aisa haseen namoona ata farmaya ke hum apne dilon ki kudoorat mita sakte hain aur aisa mu‘aashra qaim kar sakte hain jahan har fard Islam ka sachcha muballigh ho.

Aaj jab hum apne mu‘aashray par nazar daalte hain to bay-shumaar buraiyan aam nazar aati hain—na-ittifaaqi, bughz-o-hasad, ghibat-o-chughli. Tanzeemen, tahreeken aur khanqahen—sab jaga yeh rawaiyyat payi jaati hai. Fardana zindagi mein bhi khud-gharzi aur ana-parasti numayaan hai.

Huzoor ﷺ nihayat raheem-dil aur raqeeq-ul-qalb thay. Kisi ko ranj-o-museebat mein dekhte to khud ranjeeda ho jaate. Hazrat Mus‘ab bin Umair ki ghurbat dekh kar aap ﷺ ki aankhen ashk-baar ho gayeen. Jahaalat ke daur mein zinda dafn ki gayi bachchi ka waaqia sun kar aap ﷺ itna roye ke rish-e-mubaarak tar ho gayi.

In waqiaat se maloom hota hai ke Sarkaar-e-Kainaat ﷺ insaani hamdardi aur muhabbat ke aala tareen maqam par faiz thay. Isi akhlaaq ke asar se thori muddat mein Islam phail gaya.

Aaj jab be-raah-rawi aur akhlaaqi inhitataat ka daur hai, hum Musalmaanon par zimmedaari hai ke Qur’an-o-Sunnat ko mazbooti se thaam kar umdah akhlaaq ka muzahira karein, taake duniya gawahi de ke Islam aman, muhabbat aur bhai-chaare ka mazhab hai.

Iqbal:
Har lamha hai momin ki nayi shaan nayi aan
Kirdaar mein guftaar mein Allah ki burhaan

Credits & Acknowledgements

Article Writing: از:مولاناامتیازاحمدمصباحی
Share This

Related Mazameen