جامع الصفات نبی صلی اللہ علیہ وسلم
از: علامہ محمد فیض احمد اویسی رضوی
خوبی وشکل وشمائل وحرکات وسکنات
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
سیدنا آدم علیہ السلام
آپ کو اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کے نام کا علم دیا، آپ کو فرشتوں نے سجدہ کیا۔
حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم
سیدنا ومولانا محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اسما کے علاوہ مُسمَّیات کا بھی علم دیا جیسا کہ حدیث طبرانی ومسندِ فردوس میں مذکور ہے۔ آپ پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے رہتے ہیں اور مومنین بھی سلام ودرود بھیجتے ہیں یہ شرف اتم واکمل ہے کیوں کہ سجدہ تو ایک دفعہ ہوکر منقطع ہوگیا اور درود وسلام ہمیشہ کے لیے جاری ہے اور اتم بھی ہے کیوں کہ سجدہ تو صرف فرشتوں سے ظہور میں آیا اور درود میں اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور مومنین شامل ہیں علاوہ ازیں امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس لیے سجدہ کا حکم دیاتھا کہ نورِ محمدی حضرت آدم علیہ السلام کی پیشانی میں تھا۔
سیدنا ادریس علیہ السلام
حضرت ادریس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھایا۔
ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں آسمانوں کے اوپر مقام قاب قوسین تک اٹھایا۔
سیدنا نوح علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو غرق ہونے سے نجات دی۔
حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم
آپ کے وجود کی برکت سے آپ کی اُمت عذابِ استیصال سے محفوظ رہی۔
وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِبَّہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ۔ اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ (پارہ ۹سورۃ الانفال، آیت ۳۳)
یعنی اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہیں۔
٭ اللہ تعالیٰ نے کشتیِ نوح کو بھی آپ ہی کے نور کی برکت سے غرق ہونے سے بچایا کیوں کہ اس وقت نور محمدی حضرت سام علیہ السلام کی پیشانی میں تھا۔ (زرقانی علی المواہب، ص۵۴، ج۳)
سیدنا ہود علیہ السلام
آپ کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی۔
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
آپ نے فرمایا کہ بادِ صبا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد مغربی ہوا سے ہلاک کی گئی۔ (خصائص کبریٰ، صحیحین، ص: ۳۳۸)
سیدنا صالح علیہ السلام
آپ کے لیے اللہ تعالیٰ نے پتھر میں سے اونٹنی نکالی۔
٭ آپ فصاحب میں یگانۂ روزگار تھے۔
جامع کمالات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
اونٹ نے آپ کی اطاعت کی اور آپ سے کلام کیا۔
فصاحت میں کوئی آپ کے درجہ کو نہیں پہنچا۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے آگ ٹھنڈی کردی۔
آپ کو مقام خُلّت عطا ہوا اسی واسطے آپ کو خلیل اللہ کہتے ہیں۔
آپ نے اپنی قوم کے بت خانے کے بت توڑے۔
آپ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر فرمائی۔
حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم
آپ ہی کے نور کی برکت سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ پر آگ ٹھنڈی ہوگئی۔آپ کی ولادت شریف پر فارس کی آگ جو ہزار (۱۰۰۰) برس سے نہ بجھی تھی گل ہوگئی۔ شب معراج میں کرۂ نار سے آپ کا گزر ہوا اور کوئی تکلیف نہ پہنچی۔ آپ کی اُمت میں بھی ایسے بزرگ گزرے ہیں کہ آگ میں ڈالے گئے اور سلامت رہے۔ چناں چہ ابو مسلم خولانی وذویب بن کلیب وغیرہ۔ (ورد نارا الخلیل مکتتما فی صلبہ انت کیف یحترق)۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ آگ میں پوشیدہ داخل ہوئے آپ ان کی پشت میں تھے کیسے جل سکتے تھے، طبرانی وغیرہ نے اس قصہ کو روایت کیا ہے۔ مواہب زرقانی، خصائص کبریٰ، ص۷۹، ج۱۔ زرقانی علی المواہب، ص: ۱۹۳، ج۵۔ (تفصیل فقیر کے رسالہ ’’مصدر السرور‘‘ میں ہے)
آپ کو درجۂ خلت عطا ہوا اور اس سے بڑھ کر درجہ حبیب اللہ کا ہے۔
آپ نے خانۂ کعبہ کے گرد اوپر جو تین سو ساٹھ (۳۶۰) بت نصب تھے محض ایک لکڑی کے اشارے سے یکے بعد دیگرے گرا دئیے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانۂ کعبہ کی تعمیر فرمائی اور حجرِ اسود کو اس جگہ پر رکھ دیا تاکہ آپ کی اُمت کے لوگ طواف وہاں سے شروع کریں۔
سیدنا اسماعیل علیہ السلام
جب آپ کو والد بزرگوار ذبح کرنے لگے تو آپ نے صبر کیا۔
حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
اس کی نظیر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر ہے جو وقوع میں آیا حالاں کہ ذبح اسماعیل وقوع میں نہ آیا بلکہ ان کی جگہ دنبہ ذبح کیاگیا۔
سیدنا یعقوب علیہ السلام
آپ کو جب برادرانِ یوسف نے خبر دی کہ یوسف کو بھیڑیا کھاگیاہے توآپ علیہ السلام نے بھیڑئیے کو بلا کر پوچھاتو بھیڑیا بولا میں نے یوسف کو نہیں کھایا۔( روح البیان، پ۱۲، خصائص کبریٰ، ص: ۱۸۲، ج۲)
حضرت یعقوب علیہ السلام فراقِ یوسف میں مبتلا ہوئے اور صبر کیا یہاں تک کہ غم کے مارے آپ کی آنکھیں سفید ہوگئیں اورقریب تھا کہ مضمحل یا ہلاک ہوجاتے۔
جامع کمالات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
آپ سے بھی بھیڑئیے نے کلام کیا۔ آپ اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دائمی مفارقت میں مبتلا ہوئے مگر آپ نے صبر کیا حالاں کہ اس وقت اور کوئی صاحبزادہ آپ کا نہ تھا۔
حضرت یوسف علیہ السلام
آپ کو اللہ تعالیٰ نے بڑا حسن وجمال عطا فرمایا۔ آپ خوابوں کی تعبیر کرتے تھے مگر قرآن مجید میں صرف تین خوابوں کی تعبیر وارد ہے۔ آپ اپنے والدین اور وطن کے فراق میں مبتلا ہوئے۔
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
آپ کو ایسا حسن عطا ہوا کہ کسی کو نہیں ہوا، حضرت یوسف علیہ السلام کو تو نصف حسن ملا تھا مگر آپ کو تمام ملا۔
آپ سے تعبیرِ رُویا کی کثیر مثالیں احادیث میں مذکور ہیں۔ آپ نے اہل اور رشتہ داروں اور دوستوں اور وطن کو چھوڑ کر ہجرت کی۔
سیدنا ایوب علیہ السلام
آپ صابر تھے۔
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
صبر میں آپ کے احوال حصر (شمار)سے خارج ہیں۔
سیدنا موسیٰ علیہ السلام
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ید ِبیضا عطا ہوا۔ آپ نے عصار مار کر پتھر سے پانی جاری کردیا۔ آپ کو عصاعطاہوا جو اژدہا بن جاتا تھا۔ آپ نے کوہ طور پر اپنے رب تعالیٰ سے کلام فرمایا۔ آپ نے عصاسے بحیرۂ قُلزم کو دوپارہ کردیا۔
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
آپ کی پشت مبارک پر مہرِ نبوت تھی علاوہ ازیں آپ سراپا نور تھے اگر آپ نے نقابِ بشریت نہ اوڑھا ہوتا تو کوئی جمال کی تاب نہ لاتا۔ آپ نے انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی جاری فرمایا اور یہ اس سے بڑھ کر ہے کیوں کہ پتھر سے پانی نکلنا متعارف ہے مگر خون وگوشت میں متعارف نہیں۔ ستونِ حنّانہ جو کھجور کا ایک خشک تنا تھا آپ کے فراق میں رویا اور اس سے بچے کی سی آواز نکلی جو ماں کے فراق میں رو رہا ہو۔ آپ نے عرش پر مقام قاب قو سین میں اپنے رب تعالیٰ سے کلام کیااور دیدارِ الٰہی سے بھی بہرہ ور ہوئے اورحالتِ تمکین میں رہے۔ آپ نے انگشت شہادت سے چاند کو دو ٹکڑے کردیا۔ معجزہ کلیم تو زمین پر تھا اور یہ آسمان پر، وہاں عصا کا سہارا تھا اور یہاں صرف انگلی کا اشارہ تھا۔
حضرت یوشع علیہ السلام
آپ کے لیے آفتاب ٹھہرایا گیا۔ آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جبارین سے بات کی۔
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
آپ کے لیے بھی آفتاب غروب ہونے سے روکا گیا۔ آپ نے بدر کے دن جبارین سے جہاد کیااور ان پر فتح پائی، آپ وفات شریف تک جہاد کرتے رہے اور جہاد قیامت تک آپ کی امت میں جاری رہے گا۔
حضرت داؤد علیہ السلام
آپ کے ساتھ پہاڑ تسبیح پڑھتے تھے۔ پرندے آپ کے لیے مسخر کردیے گئے۔ آپ کے ہاتھ میں لوہا موم کی طرح نرم ہوجاتا تھا۔ آپ نہایت خوش آواز تھے۔
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
آپ کے ہاتھ مبارک میں سنگ ریزوں نے تسبیح پڑھی بلکہ آپ نے دوسروں کے ہاتھ میں بھی کنکروں سے تسبیح پڑھوادی، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ آپ کے طعام میں تسبیح کی آواز آیا کرتی تھی کیوں کہ پہاڑ تو خشوع و خضوع سے متصف ہے مگر طعام سے تسبیح معہود نہیں۔ پرندوں کے علاوہ حیوانات اونٹ، بھیڑئیے، شیر وغیرہ آپ کے لیے مسخر اور مطیع کردیے گئے۔ آپ کے لیے شب معراج میں صخرۂ بیت المقدس خمیر کی مانند ہوگیاتھا پس آپ نے اس سے براق باندھا۔ (دلائل حافظ ابو نعیم اصفہانی)
آپ بھی نہایت خوش آواز تھے،چنانچہ ترمذی شریف میں حدیث انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نقل کیا ہے:
’’ وکان نبیکم احسنہم وجہًاواحسنہم صوتاً‘‘۔
سیدنا سلیمان علیہ السلام
آپ کو ملکِ عظیم عطا ہوا۔ آپ کے تخت کو جہاں آپ چاہتے ہوا اُڑا لے جاتی، صبح سے زوال تک ایک مہینہ کی مسافت اور زوال سے شام تک ایک مہینہ کی مسافت طے کرتے تھے۔ جن بقہر وغلبہ آپ کے مطیع تھے اور آپ پرندوں کی بولی سمجھتے تھے۔
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ نبوت کے ساتھ ملک لیں یا عبودیت، آپ نے عبودیت کوپسند فرمایا بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے خزائن الارض کی کنجیاں آپ کو عطا فرمائیں اور آپ کو اختیار دیا ہے۔ آپ کو شب معراج میں براق عطا ہواجو ہوا بلکہ بجلی سے بھی تیز رفتار تھا۔ جن بہ رضا ورغبت آپ پر ایمان لائے، آپ اونٹ، بھیڑئیے وغیرہ حیوانات کا کلام سمجھتے تھے، آپ سے پتھر نے کلام کیا جسے آپ نے سمجھ لیا۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
آپ مردوں کو زندہ اور اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو اچھا کردیتے تھے۔
آپ نے مٹی سے پرندہ بنایا۔ آپ نے گہوارے میں لوگوں سے کلام کیا، آپ بڑے زاہد تھے۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
آپ نے مردوں کو زندہ اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اچھا کیا اور جب خیبر فتح ہواتو وہاں ایک یہودیہ عورت نے آپ کو زہر آلود بکری کا گوشت بطور ہدیہ بھیجا، آپ نے بکری کا بازو لیا اور اس میں سے کچھ کھایا، وہ بازو بولا کہ مجھ میں زہر ڈالاگیا ہے یہ مردے کو زندہ کرنے سے بڑھ کر ہے کیوں کہ یہ میت کے ایک جزو کا زندہ ہونا ہے حالاں کہ اس کا بقیہ جو اس سے منفصل تھا مردہ ہی تھا۔ غزوۂ بدر میں حضرت عکاشہ بن محصن کی تلوار ٹوٹ گئی آپ نے ان کو ایک خشک لکڑی دے دی جب انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر ہلائی تو وہ سفید مضبوط لمبی تلوار بن گئی۔ آپ نے ولادت شریف کے بعد کلام کیا۔ آپ کازہد سب سے زیادہ تھا۔
نمونے کے طور پر چند انبیا ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کمالات کے ساتھ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کمالات عرض کیے ہیں۔ تفصیل کے لیے فقیر کی تصنیف ’’تنہاداری‘‘ کا مطالعہ کیجیے۔ مولیٰ تعالیٰ قبول فرمائیے۔
{…}
Sayyiduna Aadam علیہ السلام
Aap ko Allah Ta‘ala ne tamam cheezon ke naam ka ilm diya, aap ko farishton ne sajda kiya.
Huzoor Sarwar-e-Aalam ﷺ
Sayyiduna wa Maulana Muhammad Mustafa Ahmad Mujtaba ﷺ ko Allah Ta‘ala ne asmaa ke ilawa musammiyat ka bhi ilm diya, jaisa ke Hadith Tabarani aur Musnad-e-Firdous mein mazkoor hai.
Aap par Allah Ta‘ala aur us ke farishtay durood bhejte rehte hain aur momineen bhi salaam o durood bhejte hain. Ye sharf atam-o-akmal hai, kyun ke sajda to ek martaba ho kar munqata‘ ho gaya, jab ke durood o salaam hamesha ke liye jaari hai.
Aur ye zyada atam bhi is liye hai ke sajda sirf farishton se zahir hua, jab ke durood mein Allah Ta‘ala, farishtay aur momineen sab shaamil hain.
Mazeed Imam Fakhr-ud-Deen Raazi رحمۃ اللہ علیہ Tafseer-e-Kabeer mein likhte hain ke Allah Ta‘ala ne farishton ko sajda ka hukm is liye diya ke Noor-e-Muhammadi Hazrat Aadam علیہ السلام ki peshani mein tha.
Sayyiduna Idrees علیہ السلام
Hazrat Idrees علیہ السلام ko Allah Ta‘ala ne aasman par utha liya.
Huzoor Nabi Pak ﷺ
Allah Ta‘ala ne Shab-e-Mi‘raj mein aap ko aasmanon se upar Maqaam-e-Qaab Qausain tak uthaaya.
Sayyiduna Nooh علیہ السلام
Allah Ta‘ala ne aap ko aur aap par imaan laane walon ko gharq hone se nijaat di.
Huzoor Sarwar-e-Aalam ﷺ
Aap ke wajood ki barkat se aap ki ummat azaab-e-isti’saal se mehfooz rahi.
“Wa maa kaanallahu li yu‘azzibahum wa anta feehim” — Allah ka kaam nahi ke unhein azaab de jab tak, aye Mehboob, tum un mein tashreef farma ho.
Yani jab tak aap un mein mojood hain Allah Ta‘ala un par azaab na karega.
Allah Ta‘ala ne Kashti-e-Nooh ko bhi aap hi ke noor ki barkat se gharq hone se bachaya, kyun ke us waqt Noor-e-Muhammadi Hazrat Saam علیہ السلام ki peshani mein tha. (Zarqani ‘ala al-Mawahib)
Sayyiduna Hood علیہ السلام
Aap ki madad ke liye Allah Ta‘ala ne hawa bheji.
Huzoor Nabi Pak ﷺ
Aap ﷺ ne farmaya: “Meri madad baad-e-saba se ki gayi aur qaum-e-‘Aad maghribi hawa se halaak ki gayi.”
Sayyiduna Saalih علیہ السلام
Allah Ta‘ala ne aap ke liye pathar se oontni nikaali.
Huzoor ﷺ — Jami‘-e-Kamaalat
Oont aap ka mutee‘ hua aur aap se kalaam kiya.
Fasaahat mein koi aap ke darjay ko nahi pohancha.
Sayyiduna Ibrahim علیہ السلام
Allah Ta‘ala ne aap ke liye aag thandi kar di.
Aap ko maqam-e-khullat ata hua, isi liye aap Khalilullah kehlaye.
Aap ne apni qaum ke but toray aur Khana-e-Ka‘bah ki ta‘meer farmayi.
Huzoor Sarwar-e-Aalam ﷺ
Aap hi ke noor ki barkat se Hazrat Ibrahim Khalilullah par aag thandi hui.
Aap ki wiladat sharif par Fars ki aag jo hazaar (1000) baras se jal rahi thi bujh gayi.
Shab-e-Mi‘raj mein aap ka guzar kurra-e-naar se hua aur koi takleef na pohanchi.
Aap ki ummat mein bhi aise buzurg guzray hain jo aag mein daalay gaye aur salaamat rahe.
Aap ko darja-e-khullat ata hua aur is se bhi buland darja Habibullah ka hai.
Aap ﷺ ne Khana-e-Ka‘bah ke gird 360 but sirf lakri ke ishare se gira diye.
Aap ﷺ ne Khana-e-Ka‘bah ki ta‘meer farmayi aur Hajr-e-Aswad ko us maqam par rakha taake aap ki ummat tawaaf wahin se shuru kare.
Sayyiduna Ismail علیہ السلام
Jab walid-e-buzurgwaar zibh karne lage to aap ne sabr kiya.
Huzoor Nabi Pak ﷺ
Is ki nazeer Shiq-e-Sadr hai jo waqi‘ hua, jab ke zibh-e-Ismail waqi‘ na hui.
Sayyiduna Ya‘qoob علیہ السلام
Aap firaaq-e-Yusuf mein mubtala hue aur itna sabr kiya ke aankhein safed ho gayin.
Huzoor ﷺ
Aap se bhi bheeray ne kalaam kiya.
Aap apne sahibzaday Hazrat Ibrahim علیہ السلام ki daimi judaai mein mubtala hue, magar aap ne be-misaal sabr farmaya.
Sayyiduna Yusuf علیہ السلام
Allah Ta‘ala ne aap ko be-misaal husn ata farmaya.
Aap khwabon ki ta‘beer batate thay.
Huzoor Nabi Pak ﷺ
Aap ko aisa husn ata hua jo kisi ko na mila.
Hazrat Yusuf ko nisf husn mila aur aap ko poora husn.
Ta‘beer-e-ru’ya ki beshumaar misaalein ahadith mein mojood hain.
Aap ne ghar, rishte, dost aur watan chhor kar hijrat farmayi.
Sayyiduna Ayyub علیہ السلام
Aap sabr mein mashhoor thay.
Huzoor ﷺ
Sabr mein aap ke ahwaal shumaar se baahir hain.
Sayyiduna Musa علیہ السلام
Aap ko yad-e-bayza aur ‘asaa ata hua.
Pathar se paani jaari kiya.
Koh-e-Toor par Rabb se kalaam kiya.
Bahr-e-Qulzum ko cheera.
Huzoor Nabi Pak ﷺ
Aap ke jism par Mohar-e-Nubuwwat thi.
Aap saraapa noor thay; agar parda-e-bashariyat na hota to koi aap ke jamaal ki taab na laata.
Aap ne ungliyon se chashmon ki tarah paani jaari farmaya.
Sutoon-e-Hannana aap ke firaaq mein roya.
Aap ne Arsh par Qaab Qausain mein Rabb se kalaam aur deedaar farmaya.
Aap ne ungli ke ishare se chaand ke do tukray kar diye.
Sayyiduna Yusha‘ علیہ السلام
Aap ke liye sooraj roka gaya.
Huzoor ﷺ
Aap ke liye bhi sooraj ghuroob hone se roka gaya.
Badr ke din jabbaron se jihaad kiya aur fatah paayi.
Jihaad qiyamat tak aap ki ummat mein jaari rahega.
Sayyiduna Dawood علیہ السلام
Pahaad aap ke saath tasbeeh karte thay.
Parinday musakhkhar thay.
Loha haath mein narm ho jaata tha.
Aap khush-aawaaz thay.
Huzoor ﷺ
Aap ke haath mein kankar tasbeeh parhte thay.
Aap ke ta‘aam se bhi tasbeeh ki awaaz aati thi.
Parindon ke ilawa oont, bheeray aur sher bhi aap ke mutee‘ thay.
Aap bhi nihayat khush-aawaaz thay.
Sayyiduna Sulaiman علیہ السلام
Aap ko azeem saltanat ata hui.
Takht hawa par chalta tha.
Jinn aur parinday aap ke taab‘ thay.
Huzoor ﷺ
Aap ne bandagi ko saltanat par tarjeeh di.
Allah Ta‘ala ne phir bhi khazain-ul-arz ki kunjiyan ata farma di.
Shab-e-Mi‘raj mein Buraaq ata hua jo bijli se tez tha.
Jinn razamandi se imaan laaye.
Aap ko haywanat aur patharon ki guftagu samajh aati thi.
Sayyiduna ‘Isa علیہ السلام
Murday zinda karte, andhon ko bina dete aur korhiyon ko shifa dete thay.
Gehware mein kalaam kiya.
Huzoor Muhammad Mustafa ﷺ
Aap ne murdon ko zinda kiya, andhon ko bina di, korhiyon ko shifa di.
Khaybar mein zehr-aalooda gosht ne aap se kalaam kiya.
Ghazwa-e-Badr mein tooti hui talwar lakri se talwar ban gayi.
Wiladat ke baad bhi aap ne kalaam farmaya.
Aap ka zuhd sab se zyada tha.
Yeh chand anbiya o rusul علیہم الصلوٰۃ والسلام ke kamaalaat ke saath Huzoor Nabi Kareem ﷺ ke kamaalaat ke namoonay thay.
Tafseel ke liye mu’allif ki tasneef “Tanha Daari” ka muta‘ala farmaiye.
Allah Ta‘ala qubool farmaye. Aameen.