Minara Masjid Minara Masjid

Deeni kaamon mein ikhlaas nahi, to kuch bhi nahi

| February 8, 2026 3 min read 8 views

دینی کاموں میں اخلاص نہیں توکچھ نہیں

دینی کاموں میں اخلاص نہیں توکچھ نہیں

از:محمدبدر رضا

 

اخلاص کی تعریف

عبادت ہو یا اطاعت اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت صرف اسی عمل کو حاصل ہوتی ہے جس میں اخلاص ہو۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ جو کام بھی کیا جائے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔ اس مقصد کے سوا کسی اور غرض کا اس میں شائبہ نہ ہو۔لوگوں نے اس کی تعریف اگرچہ مختلف الفاظ میں کی ہے لیکن یہ اختلاف محض الفاظ کا ہے مدعا سب کا ایک ہی ہے۔ ایک عارف نے اس کی تعریف یہ کی ہے کہ اخلاص یہ ہے کہ اطاعت میں مقصود صرف اللہ وحدہ کی ذات ہو۔ ایک اور عارف کا قول ہے کہ اخلاص یہ ہے کہ آدمی کے اعمال ظاہر و باطن دونوں میں بالکل یکساں ہوں۔ اسی طرح ایک اور بزرگ کا ارشاد ہے کہ اخلاص یہ ہے کہ آدمی کی توجہ اس طرح خدا کی طرف ہو جائے کہ وہ اپنے عمل میں خلق کے لحاظ و خیال سے بالا ہو جائے۔حضرت فضیل کا قول ہے کہ لوگوں کے خیال سے عمل کو چھوڑنا ریا ہے اور کرنا شرک (خفی)ہے ۔اخلاص یہ ہے کہ آدمی ان دونوں فتنوں سے محفوظ رہے۔ 

 اخلاص کی حقیقت احادیثِ نبویہ میں

 

ان احادیث سے بھی اخلاص کی یہی حقیقت واضح ہوتی ہے:

٭عن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال انما الاعمال بالنّیّات و لکل امرء ما نوی فمن کانت ہجرتہ الی اللہ و رسولہ فہجرتہ الی اللہ و رسولہ و من کانت ہجرتہ لدنیا یصیبہا اوامرأ ۃ یتزوجہا فہجرتہ الی ما ہاجر الیہ

 ترجمہ :حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ ہر آدمی کے سامنے اس کی نیت ہی آئے گی۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے شمار ہو گی اور جس کی ہجرت کسی دنیوی مقصد کے لیے ہو گی جس کو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا کسی عورت کی خاطر ہو گی جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس کی ہجرت اسی مقصد کے لیے ہے۔ (بخاری)

٭عن ابی موسیٰ قال: سئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عن الرجل یقاتل شجاعۃً و یقاتل حمیۃً و یقاتل ریائً ای ذلک فی سبیل اللہ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا فہو فی سبیل اللہ۔ ۔

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کی نمائش کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص محض حمیت کے تحت جنگ کرتاہے اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے جنگ کرتا ہے تو ان میں سے کس کی جنگ اللہ کی راہ میں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں اس شخص کی جنگ ہے جو اس مقصد کے لیے جنگ کرے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ 

 اسی طرح ایک اور مشہور حدیث ہے جس میں خبر دی گئی ہے کہ سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں پر دوزخ کی آگ بھڑکائی جائے گی۔ ایک قرآن کے وہ قاری جو قاری کہلانے کے لیے قرآن پڑھتے تھے، دوسرے وہ مجاہد جو بہادر کہلانے کے لیے جہاد کرتے تھے اور تیسرے وہ صدقہ کرنے والے جو اس لیے صدقہ کرتے تھے کہ لوگوں میں ان کی داد و دہش کی دھوم ہو۔(مشکوۃ شریف)

 اخلاص کی حقیقت آیاتِ کریمہ میں

 

جو حقیقت ان احادیث میں واضح کی گئی ہے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اخلاص کی یہی اہمیت و حقیقت قرآنِ مجید میں بھی بیان ہوئی ہے:

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِیَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ حُنَفَآء (البیّنۃ)

ترجمہ:ان کو یہی حکم ہوا تھا کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ بالکل یکسو ہو کر۔ 

 فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّینَ أَلَا لِلّٰہِ الدِّینُ الْخَالِصُ(الزمر)ترجمہ:تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ،یاد رکھو کہ اطاعتِ خالص کا سزاوار اللہ ہی ہے۔ 

 پیغمبرِاعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اعلان کرایا گیا ہے:

قُلِ اللّٰہَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہُ دِینِیْ فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُم مِنْ دُونِہِ (الزمر)ترجمہ :کہہ دو کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ سو تم اس کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ 

 تمام عبادات و اطاعت کی روح اسی اخلاص کو قرار دیا گیا،فرمایاگیا:

قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَْا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ (الانعام)

ترجمہ:کہہ دو میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی ساجھی نہیں اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں تم میں پہلا مسلم ہوں۔ 

 مخلصانہ عمل کامطلب؟

 

اس اخلاص کے لیے جہاں یہ بات ضروری ہے کہ آدمی کا عمل صرف اللہ کے لیے ہو وہیں یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس کا عمل خدا کے حکم اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق ہو۔ یہ چیز اخلاص کی فطرت کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر کوئی شخص کوئی کام نہایت اخلاص کے ساتھ خدا ہی کے لیے کرے لیکن اس کا وہ کام خدا اور رسول کے حکم کے خلاف ہو تو اس کا یہ اخلاص بے معنی بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی توہین ہے۔ اس کا طرزِ عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خدا کی پسند و نا پسند کو خود خدا اور رسول سے زیادہ سمجھنے کا زعم رکھتا ہے اور یہ زعم غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ گھمنڈ اور شرک دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔ اس وجہ سے کوئی عمل جو خدا اور رسول کے حکم کے خلاف ہو وہ اخلاص کا عمل نہیں قرار پا سکتا اگرچہ وہ کتنے ہی مخلصانہ طور پر انجام دیا جائے۔ 

 حضرت فضیل بن عیاض کاقول

 

حضرت فضیل بن عیاض کا ایک قول سننے اور سمجھنے کے قابل ہے۔ ان سے بہترین عمل کی حقیقت پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ بہترین عمل یہ ہے کہ وہ خالص اور بے لوث بھی ہو اور درست بھی۔ جب اس کی مزید تشریح ان سے چاہی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر عمل درست ہو لیکن خالص نہ ہو جب بھی وہ قبول نہیں ہوتا۔ خدا کے یہاں قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عمل خالص بھی ہو اور درست بھی۔ پھر انہوں نے خالص کی یہ تشریح فرمائی کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو اور درست کی یہ تشریح فرمائی کہ وہ سنت کے مطابق ہو۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں چند آیتیں پڑھیں۔ 

 اگر کوئی عمل خدا اور رسول کے حکم کے خلاف محض اخلاص کی بنا پر خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل کر سکتا تو رہبانیت کا نظام اللہ تعالیٰ کے یہاں ضرور قبولیت کا درجہ پاتا۔ 

 بعض لوگوں کو یہ بات کھٹکتی ہے کہ اگر ایک آدمی بھلائی کے کام کرے لیکن وہ اللہ کے لیے نہ کرے یا اللہ کے ساتھ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرے تو آخر اس کے وہ عمل خدا کے یہاں قبولیت سے کیوں محروم رہتے ہیں۔ کام تو اس کے وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ قرار دیے گئے ہیں؟ جن لوگوں کو یہ بات کھٹکتی ہے وہ دین کی ایک بنیادی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اچھا ئی اور بھلائی کے کاموں کا محتاج نہیں ہے کہ جو لوگ بھلائی کا کوئی کام کر دیں خواہ وہ اس کے لیے کریں یا کسی اور کے لیے، خواہ وہ اس عمل کو اس کے حکم کے مطابق کریں یا اس کے خلاف، وہ ان کا ممنونِ کرم ہو جائے کہ ان لوگوں نے اس پر یا اس کی دنیا پر کوئی احسان کر دیا ہے اس وجہ سے اس پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ ان کی بھلائیوں کی قدر کرے اور ان کا بدلہ دے۔ 

 اخلاص کامطلب صرف نیکی اوربھلائی نہیں

 

اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی اور بدی دونوں سے بالکل بے نیاز ہے۔ وہ اگر چاہے تو اپنی ساری دنیا کو صرف فرشتوں ہی سے بھر دے اس کے اندر کوئی برائی کرنے والا سرے سے رہ ہی نہ جائے۔ اسی طرح اگر وہ چاہے تو ہر آدمی کو اتنا نیک بنا دے کہ اس سے کسی شر کا صدور سرے سے ہو ہی نہیں لیکن اختیار اور قدرت کے باوجود اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو صرف نیکی اور بھلائی ہی مطلوب نہیں ہے بلکہ اصل چیز جو مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ لوگ بھلائی کے کام صرف اس کی رضا کے لیے کریں اور اس کے حکموں کے مطابق کریں۔ اس وجہ سے جو نیکی مذکورہ شرطوں کے ساتھ کی جاتی ہے اس کی تو اس کے یہاں بڑی قدر ہے خواہ وہ کتنی چھوٹی ہو اور وہ اس کا اجر دیتا ہے لیکن جس نیکی میں کسی اورچیز کی ملاوٹ ہو جاتی ہے اس کا اس کے یہاں کوئی اجر نہیں ہے۔ وہ اس طرح کی نیکی کرنے والوں سے کہتا ہے کہ اس کا اجر اس سے لو جس کے لیے تم نے یہ نیکی کی ہے۔ احادیث میں یہی حقیقت اس طرح واضح کی گئی ہے۔ ایک حدیثِ قدسی ہے:

انا اغنی الشرکاء عن الشرک۔ فمن عمل لی عملاً اشرک فیہ غیری فانا منہ بریء وہو للذی اشرک۔ ۔

ترجمہ:میں ساجھے کے تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز ہوںتو جس نے میرے لیے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے ساتھ اس نے کسی دوسرے کو بھی شریک کر لیا تو میں اس سے بری ہو جاتا ہوں اور وہ عمل اسی کے لیے ہو جاتا ہے جس کو اس نے میرے ساتھ شریک کیا۔ 

 جبجب جب آخرت میں ایسے لوگ اجر کے طالب ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ:اذہب فجد اجرک ممن عملت لہ لا اجرلک عندنا۔ترجمہ :جاؤ !اس سے تم اپنے عمل کا معاوضہ لو جس کے لیے تم نے یہ کام کیا ہے ہمارے یہاں تمہارے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ 

 یہ شریک، کوئی بت اور صنم بھی ہو سکتا ہے، خاندان اور قبیلہ بھی ہو سکتا ہے، قوم اور وطن بھی ہو سکتے ہیںاور شہرت اور دکھاوے اور نفس کی دوسری خواہشیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے جو چیز بھی ہو وہ اخلاص کی ضد ہے اور انسان کے عمل کو عند اللہ باطل کر دیتی ہے۔ 

 غلط فہمی کاازالہ:اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ کوئی مخلص مسلمان اپنے خاندان یا قبیلے، قوم اور وطن کے لیے کوئی کام کر ہی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے خاندان اور قبیلے، قوم اور وطن کے حقوق و فرائض خود نہایت تفصیل کے ساتھ متعین کر دیے ہیں اور ہر مسلمان پر یہ واجب کر دیا ہے کہ ہر شخص ان حقوق و فرائض کو اللہ کی رضا کے لیے اور اس کے احکام کے مطابق ادا کرے۔ جو شخص ان حقوق و فرائض کو اللہ کی رضا کے لیے اور اس کے احکام کے مطابق ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا بڑا اجر ہے اوراگر اس کا وہ کام خدا کے لیے نہ ہو تو وہ نری دنیا داری ہے اگرچہ وہ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، بظاہر جہاد ہی کیوں نہ ہو۔ 

 دومثالیں:

غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس اخلاص کے ہونے یا نہ ہونے سے عمل کی فطرت میں بڑا تغیر واقع ہو جاتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک ماں کی ممتا بچے کے لیے ہر شبہے سے بالا تر چیز ہے لیکن اگر وہ اپنی ممتا کے جوش میں یہ کرے کہ بچے کی بیماری میں اس کو وہ سب کچھ کھلاتی جائے جس کے لیے بچہ ضد کرے اور ڈاکٹر کی ہدایات کی وہ کوئی پرواہ نہ کرے تو اس ممتا کے باوجود اندیشہ ہے کہ وہ بچے کی جان لے کے رہے گی۔ اسی طرح فرض کیجیے کہ ایک شخص ہے جو کام تو اچھے کرتا ہے لیکن ان کاموں میں اس کے سامنے صرف خدا ہی کی رضا جوئی کا نصب العین نہیں ہے بلکہ خدا کے سوا کوئی اور نصب العین ہے تو لازمی طور پر وہی نصب العین اس کے لیے حق اور باطل، پسند اور نا پسنداور خیرو شر کے لیے معیار بن جائے گا۔ آگے چل کر یہ چیز اس کی ہر بھلائی کو برائی کی شکل میں تبدیل کر دے گی۔ وہ اپنے قبیلے اور اپنی قوم کے لیے اچھے اچھے کام کرتے کرتے بالآخر اس فلسفے تک پہنچ سکتا ہے کہ “میری قوم خواہ حق پر ہو یا باطل پر” ۔یہ فلسفہ بالآخر اس کو ہٹلر اور مسو لینی بنا سکتا ہے۔ یہ صرف خدا کی رضا جوئی کے نصب العین ہی کا خاصا ہے کہ وہ انسان کو کبھی بہکنے نہیں دیتا۔ یہ نصب العین انسان کو ایک جہانی اور آفاقی نقطۂ نگاہ دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے سامنے ہمیشہ اپنی ذات، اپنی قوم اور اپنے ملک کی بہبود کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا ہمہ گیر پروگرام رہتا ہے اسی وجہ سے اسلام میں خدا کے سوا کسی اور چیز کو پسند اور نا پسند کا معیار قرار دینا حرام پایا۔ اسی حقیقت کو اخلاص کہتے ہیں یہی اخلاص عقیدۂ توحید کی جان اور روح ہے اوریہ عقیدۂ توحید تعلق باللہ کا بنیادی عنصرہے۔ 

کتابیات

 

 صحیح البخاری:کتاب الایمان، صحیح مسلم:کتاب الامارۃ، صحیح مسلم: کتاب الامارۃ ، سنن ابن ماجہ:کتاب الزہد ،مشکوٰۃ المصابیح ،مدارج السالکین 

{۔۔۔۔۔}

 

Deeni kaamon mein ikhlaas nahi, to kuch bhi nahi

Credits & Acknowledgements

Article Writing: از:محمدبدر رضا
Post By: Maula Ali Research Center
Share This

Related Mazameen