رسول کونین کی جسمانی معراج مقدس
رسول کونین کی جسمانی معراج مقدس
از: غلام مصطفی قادری رضوی
خالقِ کائنات جل وعلا نے اپنے سب نبیوں اور رسولوں کو معجزات سے نوازا۔ ہر نبی کو کوئی نہ کوئی معجزہ دیاگیا ہر رسول معجزہ لے کر آئے اور کیوں نہ ہو کہ معجزات دلائلِ نبوت ہوتے ہیں ان معجزات کی وجہ سے بھی انبیا ومرسلین سے لوگوں کی عقیدت ومحبت میں اضافہ ہوا اور لوگ ان سے قریب ہوتے رہے۔ ہرنبی ورسول کو الگ الگ معجزہ سے نوازا گیا مگر تاجدار کائنات حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو سراپا معجزہ بناکر بھیجا گیا۔
جس طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ساری کائنات میں بے مثال ہیں اسی طرح آپ کے محاسن وکمالات اور معجزات و اعجازات بھی اپنی مثال آپ ہیں اور تعداد کے لحاظ سے بھی زیادہ ہیں۔ کس کس معجزہ کو قید تحریر میں لایا جائے ہر معجزہ کا بیان دفتر طلب ہے۔ ان کے ماننے چاہنے والوں نے ان کے معجزات کو مانا اور عقیدتوں کے چراغ میں اضافہ کیا مگر عقل وفکر سلیم سے عاری کچھ افراد معجزات کے بارے میں بھی کشمکش کا شکار ہوگئے اوراپنی عقل پرستی میں اوندھے ہوگئے۔ان کا کہنا ہے کہ معجزات خلاف عقل ہیں ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ کائنات کا یہ نظام اس میں بے عدیل ارتباط اور موزونیت بے مثل ترتیب یکسانیت اس امر پر شاہد وعادل ہے کہ یہ نظام چند قوانین اور ضوابط کے مطابق عمل پیرا ہے جنہیں قوانین فطرت (Laws of Nature) کہا جاتا ہے اور فطرت کے قوانین اٹل ہیں ان میں ردوبدل ممکن نہیں ورنہ نظام کائنات سارے کا سارا درہم برہم ہو جائے گا۔ اس لیے عقل معجزات کو تسلیم نہیں کرتی تو اس سلسلے میں عرض اور گزارش یہ ہے کہ علماے اسلام نے معجزہ کی جو تعریف کی ہے وہ یہ نہیں کہ معجزہ وہ ہوتا ہے جو قوانین فطرت کے خلاف ہو اور قدرت سے برسر پیکار ہو بلکہ معجزہ کی صحیح تعریف یہ ہے۔
الاتیان بامر خارق العادۃ لقصد بہ بیان صدق من ادعی انہ رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ ’’یعنی مدعی رسالت کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کسی ایسے امر کا ظہور پذیر ہونا جو عادت کے خلاف ہواسے معجزہ کہتے ہیں‘‘ (ضیاء القرآن۲؍ ۶۲۹)
سر سید جیسے لوگ عقل کو سب کچھ سمجھنے والے ان نظریات پر عمل پیرا تھے جو خلاف شرع تھے اور اپنی فکر خام کا خوب خوب اظہار کرتے تھے خداے قدیر وجبار ان کے ماننے والوں کو ہدایت سے نوازتے۔ ہمارا تو رب قدیر کی ذات پر ایمان اور بھروسہ ہے اسے قادر وقیوم تسلیم کرتے ہیں اس کے حکم اور اِذن سے ہر کام ہوتا ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ معجزات بھی حق وصادق ہیں جو صحیح اور قابل وثوق ذرائع سے ثابت ہوچکے ہیں۔
تاجدار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات پر اہل سیر وتواریخ نے سیکڑوں کتابیں لکھیں اور خوش اسلوبی سے انہیں بیان کیا،علماے محدثین نے اپنے علم کے مطابق آپ کے معجزات رقم فرمائے۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ والرضوان نے الخصائص الکبریٰ لکھی۔ جس میں اہل علم کے بقول ایک ہزار معجزات مندرج ہیں۔ اور علامہ نبہانی علیہ الرحمہ کی ’’حجۃ اللہ علی العالمین‘‘ بھی اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔
معراج مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک عظیم الشان معجزہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا خاصہ ہے کسی اور کو یہ معجزہ نہیں عطا فرمایاگیا۔ قرآن واحادیث میں اس عنایت ربانی یعنی معجزۂ معراج کو جس خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیاگیا ہے اس کا غوروفکر سے مطالعہ کرنے کے بعد عقل سلیم کو اس کے حق وصادق ہونے کا یقین کرنا ہی پڑے گا۔
حضرت پیر کرم شاہ ازہری علیہ الرحمۃ والرضوان ر قمطراز ہیں:
’’واقعۂ معراج کی اہمیت صرف اسی قدر نہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین وآسمان بلکہ ان سے بھی ماورا اپنی قدرت وکبریائی کی آیات بینات کا مشاہدہ کرایا بلکہ اس میں ستم رسیدہ اہل اسلام کے لیے بھی مژدہ ہے کہ شب غم اب سحر آشنا ہونے والی ہے تمہارا آفتاب اقبال بھی طلوع ہوا چاہتا ہے۔ شرق وغرب میں تمہاری سطوت کا ڈنکا بجے گا لیکن مسندِ اقتدار پر متمکن ہونے کے بعد اپنے پروردگار کو فراموش نہ کرنا اس کی یاد اور اس کے ذکر میں غفلت سے کام نہ لینا اور اگر تم نے نشۂ حکومت سے بدمست ہوکر نافرمانی اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو پھر ان کے ہولناک نتائج سے تمہیں دو چار ہونا پڑے گا۔ (ضیاء القرآن ۲؍ ۶۳۳)
واقعہ معراج کو علماے کرام نے قرآنی آیات اور احادیث کریمہ کی روشنی میں بڑے حسین پیرایۂ بیان میں اپنی کتابوں کی زینت بنایا ہے جس کا مطالعہ عشق وعقیدت میں یقینا اضافے کا باعث ہوگا یہاں واقعہ معراج بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ اس عظیم الشان معجزہ اور بے پایاں عنایات ونوازشات الٰہی سے رب قدیر نے اپنے محبوب پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مالا مال کیا ہے ان پر منکرین فضائل رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے شکوک وشبہات کا ازالہ کیا جائے گا ۔ان شاء اللہ العظیم
الحمد للہ! ہمارا عقیدہ مسلمہ ہے کہ تاجدار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس معراج کا شرف حاصل ہوا اور جو جو خصوصیات اور عنایات آپ کو اس موقع پر عطا فرمائی گئیں اور جن جن مناظر کا آپ نے مشاہدہ ونظارا فرمایا یہ سب بحالت بیداری ہوا جس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم معراج سے تشریف لائے اور اس فضل ربی اور عنایت الٰہی کا اظہار فرمایا تو وہ لوگ جو نور ایمان سے مالا مال اور عقیدت والفت سے خاص حصہ پائے ہوئے تھے انہوں نے بلا چوں وچرا اس کی تصدیق کی اور مان لیا کہ جب صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان بول رہی ہے تو پھر حقیقت ہی ہے کہ ؎
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
مگر جو دل نور ایمان سے خالی تھے انہوں نے داعیِ اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف سب سے بڑا اعتراض قرار دیا انہوں نے اس واقعہ کو ماننے سے انکار کردیا اور یہ تو ہر دور میں ہوتا چلا آیا ہے کہ عقل کوتاہ اندیش ایسے مواقع پر اپنی محرومی قسمت کا مظاہرہ کرتی ہے کچھ ایسا یہاں بھی ہوا ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو انہوںنے سر تسلیم خم ہی نہیں کیا بلکہ خوشی ومسرت کا بھی خوب اظہار کیا اور ابو جہل جیسے شقی القلب کے سامنے معراج کی بات کی گئی تو اس نے ماننے سے انکار کردیا ۔ ع
بادب بانصیب بے ادب بے نصیب
واقعۂ معراج کا کچھ لوگوں نے سرے سے ہی انکار کردیا اور کچھ افراد نے اسے مان تو لیا مگر اسے محض خواب کا واقعہ اور قصہ تک مانا اور کہہ گئے کہ یہ سب کچھ عالم خواب میں ہوا جسمانی طور پر آپ کہیں بھی نہیں گئے اپنے اس مختصر سے مضمون میں اسی مسئلہ پر گفتگو کرنی ہے کہ پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف روحانی ہی نہیں بلکہ جسمانی معراج بحالت بیداری حاصل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کے مخلص علما ودُعاۃ حق وہدایت کے ایک گروہ کو اس کی توفیق بخشی کہ وہ اسلامی روایات کے امین بن کر اپنے آپ کو ازالۂ شبہات وردِّ شکوک کے لیے وقف کرچکے ہیں جو پوری طرح کوشش وتگ ودو کرکے مخالفین کے بے سروپا اعتراضات کی قلعی کھول کر ان کے پرخچے بکھیرتے رہتے ہیں اور ناقابل تردید براہین ودلائل سے مخالف کو دندان شکن جوابات دیتے ہیں۔ معراج جسمانی پر بھی ان مخلصین اور صالحین کی کتب کے ذخیرے آج ہمارے سامنے ہیں اگر ان کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو حقیقتوں کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ آئیے ارشاد ربانی ملاحظہ کریں جو واقعہ معراج کے بیان پر مشتمل ہے۔ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الیٰ المسجد الاقصیٰ۔
اس آیت کی تفسیر میں فرمایاگیا ہے کہ ’’ اس آیت میں جسمانی معراج کا ذکر ہے جو نبوت کے گیارہویں سال ۶۲۱ء میں ۲۷ ویں رجب پیر کی آخری رات بیداری کی حالت میں ہوئی۔ خواب کی معراجیں اس سے پہلے اور بہت سی ہوئیں اس جسمانی معراج میں نماز پنج گانہ فرض ہوئی کیوں کہ عبد جسم اور روح دونوں کو کہتے ہیں نیز فقط خواب کی معراج پر کفار اتنا شور نہ مچاتے۔‘‘ (تفسیر نور العرفان)
اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عالم خواب کا واقعہ ہے اور ثبوت میں یہ آیت کریمہ ’’وما جعلنا الرء یا التی ارینک الا فتنۃ للناس‘‘ پیش کرتے ہیں کہ یہاں خواب کالفظ ہے تو پھر مطلب یہی ہوگا کہ یہ خواب کا واقعہ ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ:
اس آیت کا تعلق معراج سے ہے ہی نہیں بلکہ کسی دوسرے خواب سے ہے اور اگر اس پر ہی اصرار ہو کہ اس آیت میں معراج کا ہی ذکر ہے تو پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تصریح کے بعد کوئی التباس نہیں رہتا آپ نے فرمایا: یہاں رؤیا سے مراد عالم بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا ہے۔
قال ابن عباس ہی رؤیا عین اریہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ علامہ ابن عربی اندلسی نے احکام القرآن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول بھی نقل کیا ہے: ولو کانت رؤیا منام ما افتتن بہا احد ولا انکرہا فانہ لایستعد علی احد ان یریٰ نفسہ یخترق السموات ویجلس علیٰ الکرسی ویکلمہ الرب۔‘‘
یعنی اگر معراج عالم خواب کا واقعہ ہوتا تو کوئی اس سے فتنہ میں مبتلا نہ ہوتا اور اس کا انکار نہ کرتا کیوں کہ اگر کوئی شخص خواب میں اپنے آپ کو دیکھے کہ وہ آسمان کو چیرتا ہوا جارہا ہے یہاں تک کہ وہ کرسی پر جاکر بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس سے گفتگو فرمائی تو ایسے خواب کو کبھی مستبعد اور خلاف عقل قرار دے کر اس کا انکار نہیں کیا جائے گا۔ (احکام القرآن بحوالہ ضیاء القرآن ۲؍ ۶۲۷)
علامہ طیب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے بخاری اورترمذی کی روایتیں جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہیں انہیں ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد’’ وما جعلنا الرء یا التی ارینک الا فتنۃ للناس۔ اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو یعنی آپ کو حالت بیداری میں معراج کراکے لوگوں کے لیے آزمائش بنایا کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں۔
امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے مسند میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ قال شئی اریہ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی الیقظۃ رواہ بعینہ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جو چیز دکھائی گئی وہ بیداری میں یعنی جاگتے میں جسے آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور یہ بات بھی واضح ہے کہ واقعۂ معراج کو سن کر قریش نے انکار کیا تھا اور العیاذ باللہ کچھ لوگ مرتد بھی ہوگئے تھے۔ (بحوالہ تذکرۃ الانبیا ء ص: ۵۸۳، ۵۸۴)
اور استاد محترم حضرت اورنگ زیب عالمگیر علامہ احمد جیون رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:الاصح انہ کان فی الیقظۃ وکان بجسدہ مع روحہ وعلیہ اہل السنۃ والجماعۃ فمن قال بالروح فقط اوفی النوم فھومبتدع ضال مضل فاسق۔ یعنی صحیح یہ ہے کہ معراج بحالت بیداری جسم اطہر کے ساتھ ہوئی اہل سنت وجماعت کا یہی مسلک ہے تو جس نے کہاکہ معراج صرف روح کے ساتھ ہوئی یا صرف خواب میں ہوئی تو وہ بد دین، گمراہ، گمراہ گر اورفاسق ہے۔
(تفسیرات احمدیہ ص: ۳۳۰ بحوالہ معجزات رسول صلی اللہ علیہ وسلم)
اور مرقاۃ شریف مشکوٰہ شریف میں فرمایاگیا ہے:
وانما ینکر اذا کانت فی الیقظۃ فان الرؤیا لاینکرمنہا۔
انکار کی ضرورت ہی اس وقت درپیش آئی جب کہ واقعہ بیداری کاتھا اگر خواب کا معاملہ ہوتا تو کسی کو انکار کی ضرورت ہی کیا تھی۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ۱۱؍ ۱۳۹)
اور عاشق مصطفی حضرت علامہ قاضی محمد عیاض اندلسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف’’ الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس مسئلہ مسلمہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ذہب معظم السلف والمسلمین الی انہ اسراء بالجسد وفی الیقظۃ وہٰذا ہو الحق وہو قول ابن عباس وجابر وانس وحذیفۃ وعمر وابی ہریرۃ ومالک بن معصعۃ وابی حبہ البدری وابن مسعود والضحاک وسعید بن جبیر وقتادۃ وابن المسیب وانت شہاب وابن زید والحسن وابراہیم ومسروق ومجاہد وعکرمۃ وابن جریح وہو دلیل قول عائشۃ رضی اللہ عنہا اجمعین وہو قول الطبری وابن حنبل وجماعۃ عظیمۃ من المسلمین وہو قول اکثر المتاخرین من الفقہاء والمحدثین والمتکلمین والمفسرین۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ (عربی)صفحہ ۱۸۸؍ مطبوعہ پوربندر)
حضرت قاضی صاحب کے مذکورہ کلمات طیبات بھی اس حقیقت کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ واقعہ ر وحانی ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی اور حالت بیداری کا تھا۔
صاحب سراج منیر فرماتے ہیں:
ومما یدل علیٰ انہ بجسدہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قولہ اسریٰ بعبدہ ولفظ العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد۔ (سراج منیر ۲؍ ۲۷۷)
رب تعالیٰ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اسریٰ بعبدہ جو اس پر دلالت کررہا ہے کہ یہ واقعہ بیداری کا تھا اور آپ کو جسمانی طور پر معراج ہوئی کیوں کہ عبد روح اور جسم دونوں کے مجموعہ پر بولا جاتا ہے اگر خواب کا واقعہ ہوتا تو اسریٰ بروح عبدہکہا جاتا۔ کیوں کہ عمدۃ القادری میں بھی اس دلیل کو ذکر کیاگیا ہے۔اور تفسیر کبیر میں علامہ رازی علیہ الرحمۃ والرضوان نے بھی ذکر کیا ہے۔
خواب کا واقعہ بیان کرنے والے ایک روایت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی پیش کرتے ہیں: عن معاویۃ انہ سئل عن المعراج فقال کانت رؤیا صالحۃ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے معراج کے متعلق سوال کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ وہ رُویا صالحہ تھا۔ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ رُویا سے مراد رؤیا بالعین ہے یعنی آنکھ سے دیکھنا، بنیادی غلطی کی وجہ یہ ہے کہ رؤیا خواب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں بھی۔ جب دوسری روایات سے واضح ہے کہ رؤیا بمعنی آنکھ سے دیکھنا یہاں مراد ہے تو خواب والا معنی لینا کسی طرح درست نہیں۔
دوسری روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہے: مافقد جسد محمد صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ المعراج۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم معراج کی رات کو گم نہیں پایاگیا۔
اگر حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سے مراد یہ لیا ہے کہ میں نے آپ کے جسم کو گم نہیں پایا تو یہ خواب کا ہے لیکن خواب میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی مرتبہ معراج ہوئی، یہ خواب والے معراج کا واقعہ ذکر ہوگا کیوں کہ جاگتے ہوئے معراج مکہ مکرمہ میں ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت میں مدینہ طیبہ میں آئیں اور اگر مطلقاً آپ نے واقعہ کو ذکر کیا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ آپ کا جسم روح سے گم نہیں تھا اور روح سے جدا نہیں تھا بلکہ روح اور جسم کے ساتھ معراج ہوئی یہ معنی لیا جائے تو د وسری روایات کے ساتھ تطبیق ہوسکتی ہے۔ (تذکرۃ الانبیاء ص: ۵۸۴)
اسلام کو ہر دور میں اعدا ومخالفین سے نبرد آزما ہونا پڑا ہے جو اسلام اوراہل اسلام کے خلاف اپنی کوشش اور سازش کو کامیاب بنانے کے لیے طرح طرح کے گمراہ کن نظریات اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ سر سید خاں نے بھی مسلمان ہونے کے ٹائٹل کے ساتھ اسلام ونظریات اسلام پر اپنی گندی زبان وقلم سے خوب کیچڑ اچھالا ہے اور جہاں ان کے قلم سے ملت اسلامیہ کے سیکڑوں مسلمات مجروح ہوچکے ہیں وہیں انہوں نے عقیدۂ معراج پر بھی ایک جگہ قلم کی تلوار اٹھائی ہے اور بڑی شد ومد کے ساتھ معراج کو خواب ثابت کیا ہے مقالات سر سید کا مطالعہ کرنے سے ان کے قلم کا طغیان ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ معراج سے متعلق جو احادیث مروی ہیں ایک دوسرے سے اس قدر متضاد اور متناقض ہیں کہ صراحۃً ایک دوسرے کی تردید کرتی ہیں اور اپنی صحت واعتبار کو کھودیتی ہیں۔( مقالات سر سید صفحہ ۷۶۲، بحوالہ ضیاء القرآن)
ضیاے ملت فرماتے ہیں کہ
ان (سر سید) کا مقالہ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مستشرقین اور عیسائی مؤرخین کے اعتراضات سے گھبرائے ہوئے ہیں اور ان کے زہر میں بجھے ہوئے طعن وتشنیع کے تیروں سے اسلام کو ہر قیمت پر بچانا چاہتے ہیں خواہ اس کوشش میں اسلام کا حلیہ ہی کیوں نہ بگڑجائے اور عظمت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عقیدہ ہی کیوں نہ متزلزل ہوجائے آپ اس جذبہ کے اخلاص کی تعریف کرسکتے ہیں۔ لیکن عواقب ونتائج کے لحاظ سے آپ اس کی تحسین نہیں کرسکتے۔ کیا معراج کا انکار کرکے آپ نے کسی کو حلقہ بگوش اسلام بنا لیا ہے؟ کیا آپ کی معذرت خواہی کو انہوں نے قبول کرکے پیش کردہ ماڈرن اسلام پر اظہار ناراضگی چھوڑ دیا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر اس محنت کا کیا حاصل،بجز اس کے کہ ان صحیح واقعات کا انکار کرکے اپنے تمام علمی ورثہ کو مشکوک اور مشتبہ کردیا جائے۔ (ضیاء القرآن ۲؍ ۶۲۸)
ان مختصر کلمات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ واقعہ معراج عالم خواب کا نہیں بلکہ عین بیداری کے عالم میں ہواتھا اور آپ کو معراج روح اور جسم دونوں کے ساتھ ہوئی تھی آخر میں حضرت شیخ محقق سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ان مبارک جملوں پر اپنامضمون ختم کررہا ہوں ۔ فرماتے ہیں:
’’مذہب صحیح یہی ہے کہ وجود اسریٰ ومعراج سب کچھ بحالت بیداری اور جسم کے ساتھ صحابہ تابعین اور اتباع کے مشاہیر علما اور ان کے بعد محدثین، فقہا اور متکلمین کا مذہب اسی پر ہے اس پر احادیث صحیحہ اور اخبار متواتر ہیں۔ (مدارج النبوۃ ۱؍ ۲۸۷)
{…}
Rasool-e-Konen ki Jismani Me‘raj-e-Muqaddas
Az: Ghulam Mustafa Qadri Razvi
Khaliq-e-Kainaat Jalla wa ‘Ala ne apne sab anbiya aur rusul ko mu‘jizaat se nawaza. Har nabi ko koi na koi mu‘jiza ata kiya gaya, har rasool mu‘jiza lekar aaya, aur yeh is liye ke mu‘jizaat dalaail-e-nubuwwat hote hain. In mu‘jizaat ki wajah se anbiya-o-mursaleen se logon ki aqeedat o muhabbat mein izafa hota raha aur log un se qareeb hote chale gaye. Har nabi aur rasool ko mukhtalif mu‘jizaat se nawaza gaya, magar Tajdaar-e-Kainaat Huzoor Rahmat-e-Aalam ﷺ ko sarapa mu‘jiza bana kar bheja gaya.
Jis tarah Huzoor Aqdas ﷺ saari kainaat mein be-misal hain, isi tarah aap ke mahasin-o-kamalat aur mu‘jizaat-o-i‘jaazaat bhi apni misaal aap hain, aur ta‘daad ke lihaz se bhi bohot zyada. Kaun kaun se mu‘jize ko qaid-e-tehreer mein laya jaye, har mu‘jize ka bayan daftar talab hai. Aap ke maan-ne walon ne in mu‘jizaat ko tasleem kiya aur apni aqeedat ke chiragh aur roshan kiye, magar kuch afraad jo ‘aql-o-fikr-e-saleem se aari the, mu‘jizaat ke maamle mein kashmakash ka shikar ho gaye aur apni ‘aql-parasti mein ulajh gaye.
Un ka kehna hai ke mu‘jizaat khilaaf-e-‘aql hain. In logon ka da‘wa hai ke kainaat ka nizaam, us ka be-misal rabt aur mowzooniyat, aur us ki yaksa’n tarteeb is baat par daleel hai ke yeh sab kuch chand qawaneen aur zabt ke mutabiq chal raha hai jinhein “Qawaneen-e-Fitrat (Laws of Nature)” kaha jata hai, aur fitrat ke qawaneen atoot hote hain, un mein tabdeeli mumkin nahi, warna nizaam-e-kainaat darham-barham ho jaye. Is liye ‘aql mu‘jizaat ko tasleem nahi karti.
Is silsile mein arz yeh hai ke ‘ulama-e-Islam ne mu‘jiza ki jo ta‘reef ki hai, woh yeh nahi ke mu‘jiza qawaneen-e-fitrat ke bilkul khilaaf aur qudrat se bar-sar-e-paikar ho, balkeh mu‘jiza ki sahih ta‘reef yeh hai:
“Al-Ityaan bi amrin khariq-il-‘aadah li-qasdi bayaan sidq man idda‘a annahu Rasool-Allah ﷺ.”
Yani da‘wa-e-risalat ki sachchai sabit karne ke liye kisi aise amr ka zahoor-pazeer hona jo ‘aadat ke khilaaf ho, use mu‘jiza kehte hain. (Ziya-ul-Qur’an)
Sar Syed jaise afraad ne ‘aql ko sab kuch samajh kar aise nazariyat ikhtiyar kiye jo khilaaf-e-shari‘at the, aur apni kham soch ka izhar khoob kiya. Allah-e-Qadeer o Jabbaar un ke maan-ne walon ko hidayat ata farmaye. Hamara to Rabb-e-Qadeer ki zaat par poora imaan aur bharosa hai. Hum use Qadir-o-Qayyoom tasleem karte hain. Jab har kaam us ke hukm aur izn se hota hai to humein yeh maanna padega ke mu‘jizaat bhi haq aur sach hain, jo sahih aur qabil-e-wisaaq zaraaye‘ se sabit ho chuke hain.
Tajdaar-e-Nubuwwat ﷺ ke mu‘jizaat par ahl-e-seer-o-tawareekh ne sadiyon par muheet kitaabein likhi hain. ‘Ulama-e-muhadditheen ne apne ilm ke mutabiq aap ke mu‘jizaat ko qalam-band kiya. Imam Jalal-ud-Deen Suyooti ne Al-Khasaais-ul-Kubra tasneef ki, jis mein ahl-e-ilm ke qoul ke mutabiq ek hazaar mu‘jizaat darj hain. Isi tarah Allama Nabhani ki Hujjat-ullah ‘ala-l-‘Aalameen bhi is silsile mein bohot aham hai.
Me‘raj-e-Mustafa ﷺ bhi ek azeem-ush-shaan mu‘jiza hai jo sirf aap ﷺ ka khaas hai. Kisi aur ko yeh sharf ata nahi hua. Qur’an-o-Ahadees mein is ‘inaayat-e-Rabbani, yani Mu‘jiza-e-Me‘raj, ko jis khoobsurti se bayan kiya gaya hai, us par ghour-o-fikr karne ke baad ‘aql-e-saleem ko is ke haq aur sach hone ka yaqeen karna hi padta hai.
Hazrat Peer Karam Shah Azhari رحمہ اللہ likhte hain ke waqi‘a-e-Me‘raj ki ahmiyat sirf is qadar nahi ke Allah Ta‘ala ne apne barguzida Rasool ﷺ ko zameen-o-aasman balkeh un se bhi mawara apni qudrat aur kibriyaai ki nishaniyon ka mushahida karaya, balkeh is mein satam-zada ahl-e-Islam ke liye bhi yeh paighaam hai ke shab-e-gham ab sahar mein badalne wali hai.
‘Ulama-e-Kiram ne Qur’ani ayaat aur Ahadees ki roshni mein waqi‘a-e-Me‘raj ko bohot husn-o-andaz se bayan kiya hai. Yahan waqi‘a bayan karna maqsood nahi, balkeh yeh wazeh karna hai ke Huzoor ﷺ ko sirf roohani hi nahi, balkeh jismani Me‘raj bhi haasil hui, aur woh bhi haalat-e-bedaari mein.
Hamara ‘aqeeda yeh hai ke Huzoor ﷺ jab Me‘raj se wapas tashreef laye aur is fazl-e-Rabbani ka izhar farmaya, to ahl-e-imaan ne bila chon-o-chara tasdeeq ki. Magar jin ke dil noor-e-imaan se khaali the, unhon ne inkar kiya. Isi liye baaz logon ne is waqi‘a ko sirf khwab qarar diya, jab ke Ahl-e-Sunnat ka muttafiq ‘aqeeda yeh hai ke Me‘raj jismani aur bedari ki haalat mein hui.
Qur’an ki aayat “Subhanallazi asra bi ‘abdihi laylan…” is baat par daleel hai ke yahan “‘abd” ka lafz aaya hai jo rooh aur jism dono ke majmooe par bola jata hai. Agar sirf khwab hota to yeh andaz bayan na hota.
Mukhtalif sahaba-e-kirahm aur ‘ulama-e-ummat ke aqwal se yeh baat wazeh hoti hai ke Me‘raj sirf roohani nahi balkeh jismani thi. Jo log ise sirf khwab kehte hain, un ka qoul jamhoor-e-Ahl-e-Sunnat ke khilaaf hai.
Aakhir mein Shaikh Abdul Haq Muhaddith Dehlvi رحمہ اللہ ka qoul hai ke sahih mazhab yahi hai ke Isra aur Me‘raj dono bedari aur jism ke saath hue, aur isi par sahaba, tabi‘een, muhadditheen, fuqaha aur mutakallimeen ka ittefaq hai.
Al-hamdulillah, isi par hamara yaqeen aur imaan qayam hai.