Minara Masjid Minara Masjid

اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچاؤ

| February 4, 2026 3 min read 4 views

اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچاؤ

شادی کے بعد ہر جوڑے کی یہی تمنا ہوتی ہے کہ جلد اس کی گود ہری ہو۔ دیر ہوتی ہے تو سو جتن کرتا ہے، روتا گڑ گڑاتا ہے، دعائیں مانگتا ہے اور نہ جانے کیسا کیسا کرتا ہے، خدا خدا کرکے نخل آرزو بار آور ہوتی ہے، دل کی کلی کھلتی ہے، اللہ اس کی گود بھردیتا ہے اور مسرت کا سامان کرتا ہے۔ بچہ بلا شبہ اپنے ساتھ بے شمار مسرتیں لاتا ہے اس کے ساتھ گھر میں برکت کا نزول ہوتا ہے، والدین کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی مسرت نہیں ہوتی۔ ماں دن کا سکھ اور رات کا چین قربان کرکے بھی خوش رہتی ہے، صورت دیکھتے ہی باپ کی ساری الجھنیں کافور ہوجاتی ہے، سنجیدہ سے سنجیدہ آدمی بھی بچوں کی معصوم حرکتیں دیکھ کر بھی بے ساختہ مسکرادیتا ہے، غرض ہر طرف مسرت وفرحت وانبساط کا ایک لہر دوڑتی ہے۔

نیک اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے اس لیے اولاد کا ہونا خوش بختی تصور کیا جاتا ہے، جنہیں یہ نعمت میسر آتی ہے وہ بہت خوش وخرم رہتے ہیں اور جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی وہ ہمیشہ اولاد کی محرومیت کے صدمے میں پڑے رہتے ہیں۔

مگر جب اولاد مل جاتی ہے گویا کہ دنیا کی ہر نعمت مل گئی ظاہر ہے ایسا بیش بہا تحفہ اور ایسی نعمت غیر مترقبہ پاکر کون بد نصیب مسرورنہ ہوگا۔ مگر مسرتوں کے ساتھ بچہ بے شمار ذمہ داریاں بھی لاتا ہے۔

(۱) خوش دلی سے اس کو پالنا پوسنا۔

(۲) شفقت ومحبت کا برتاؤ کرنا۔

(۳) ہمدردی ودلسوزی سے سکھانا پڑھانا۔

(۴) تدریج سے پسندیدہ عادات ڈلوانا۔

(۵) مختلف مواقع کے آداب بتانا۔

(۶) مہذب طور طریقے سکھانا۔

(۷) عقائد کو نکھارنا، اعمال کو سدھارنا اور اخلاق کو سنوارنا۔

یہ سب وہ اہم ذمے داریاں ہیں جو بچے کے ضمن میں والدین پر عائد ہوتی ہیں۔

انہی اولاد کے تعلق سے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکَمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ(پارہ ۲۸سورہ تحریم )

ترجمہ: اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔

اس آیت کریمہ میں یہی تاکید کی گئی ہے کہ اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ یعنی اپنی اولاد کی تربیت ایسی اخلاقی اور دینی بنیادوں پر کرو تاکہ برائیوں سے بچ جائیں اور نیکیوں کی طرف مائل ہوجائے۔ اس طرح وہ آخرت میں دوزخ کی آگ سے نجات حاصل کرلے۔

اس سے معلوم ہواکہ اولاد کی تربیت عمدہ طریقے سے کرنا ماں وباپ کی ذمہ داریاں ہے، اور نیک اولاد والدین کی زندگی کا بڑا قیمتی سرمایہ ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے اولاد پر والدین کی خدمت کا فرض عائد کیا ہے، وہیں پر کچھ حقوق بھی والدین کے ذمے لگائے ہیں۔ تاکہ فطری تقاضے قائم رہیں اور کسی فریق کی حق تلفی نہ ہو، اولاد کی صالح خطوط پر پرورش کے ساتھ انہیں دینی تعلیم سے آراستہ کرنا بھی والدین کا فرض ہے، اس کے متعلق ارشاد نبوی یہ ہے کہ:

طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم ومسلمۃ۔

علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

 اس کے متعلق ارشاد نبوی اور مزید ملاحظہ ہو:

حضر ت ایوب بن موسیٰ رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد واپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھی تعلیم وتربیت سے زیادہ ایک باپ کا اپنی اولاد کے لیے کوئی عطیہ نہیں۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہواکہ علم وہ دولت ہے کہ جس سے انسان کی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں۔ (ترمذی شریف)

لہٰذا والدین پر فرض ہے کہ خود بھی علم حاصل کریں اور اپنی اولاد کو بھی دولت علم سے آراستہ کریں۔ والدہ کی گود بچے کی پہلی اور بہترین درسگاہ ہے،جہاں انسان کی سیرت سنورتی ہے، کیوں کہ بچے کا سب سے زیادہ رابطہ ماں کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ماں سے اس کے ماحول کا اثر قبول کرتا ہے۔

لہٰذا والدہ کو بچے کی ابتدائی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں علم کو بڑی اہمیت دی گئی ہے تعلیم کی قدر وقیمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے ظاہر ہے کہ قیدیوں کا فدیہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو قیدی پڑھے لکھے ہیں اور فدیہ دینے پر قادر نہیں ہیں وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں، تو انہیں آزاد کردیا جائے گا، ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ دنیاوی علم نہ سکھاؤ بلکہ سکھاؤ لیکن دنیاوی علوم پر ہی اکتفا نہ کرو بلکہ پہلے دینی علوم سے بچوں کو آراستہ وپیراستہ کرنا ضروری ہے اور انہیں گناہوں سے کوسوں دور رہنے کی تلقین کرو اور اعمال حسنہ کی ترغیب دلاؤ۔ تاکہ بچے کے ذہن میں بچپن سے ہی شریعت کی پیروی کا جذبہ پیدا ہو، دینی امور ومسائل، رہنے سہنے، کھانے پینے، بات چیت کے آداب، بڑوں کا ادب واحترام، حرام کاریوں سے اجتناب، نیکیوں کو اختیار کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔

کیوں کہ بچے اور بچیوں کی تربیت دینی ماحول میں نہ ہوئی ، آوارگی، بد کرداری، چوری، جوابازی، شراب نوشی، زنا کاری کا عادی بن گیا تو یہ ایسے جرم وگناہ ہیں جو آدمی کو دوزخ میں لے جانے والے ہیں وہ تو دوزخ میں جائیں گے، لیکن والدین بھی ماخوذ ہوں گے کہ انہوں نے اچھی تربیت کیوںنہ کی، ان کے بگڑتے ہوئے کردار کو سنوارا کیوں نہیں؟ گناہوں میں پھنسے ہوئے دیکھ کر روکا کیوں نہیں؟ اگر بچپن میں غلطیوں پر تنبیہ کی جاتی تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔

آج کل مسلم معاشرے کا برا ہے قوم مسلم کے نا عاقبت اندیش افراد اپنے بچوں کو کلمہ سکھانے کے بجائے گانا سکھاتے ہیں، نماز کی تعلیم دینے کے بجائے ناچنے اور ایکٹنگ کا طریقہ بتاتے ہیں، ان کے ناچنے اور گانے پر اتنا خوش ہوتے ہیں، جتنا کلمہ وسلام پر خوش نہیں ہوتے ہیں۔ لیجئے اس حکایت کو پڑھیے اور بچوں کی صحیح تربیت کے بارے میں غورکیجئے۔

حضرت سیدنا مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عالم صاحب لوگوں کو گھر میں جمع کرکے بیان سنایا کرتے تھے،اس عالم صاحب کا ایک لڑکا تھا ایک دن اس نے خوبصورت لڑکی کی طرف اشارہ کیا تو عالم صاحب نے دیکھ لیا اور کہا اے بیٹے! صبر کر، یہ کہتے کہتے ہی عالم صاحب اپنے تخت سے فوراً منہ کے بل گرپڑے، یہاں تک کہ ان کے بعض جوڑ بھی ٹوٹ گئے۔ اللہ عزوجل نے اس وقت کے نبی علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ فلاں عالم کو خبر کردو کہ اس کی نسل سے کبھی صدیق پیدا نہیں کروں گا ۔ میرے لیے صرف اتنا ہی ناراض ہونا تھا کہ وہ بیٹے کو کہہ دے، بیٹے صبر کرو۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے بیٹے پر سختی کیوں نہیں کی اور اس کو اس بری حرکت سے اچھی طرح باز کیوں نہ رکھا، اپنی اولاد کی تربیت نہ کرنے پر ان کو گناہوں سے نہ بچانے کی صورت میں اس پر اللہ تعالیٰ کا قہر وغضب نازل ہوا۔

قیامت کے دن مرد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا اس کی بیوی اور اولاد اللہ تعالیٰ کی جناب میں شکایت کرتے ہوئے عرض کریں گے، اے ہمارے رب عزوجل! اس مرد کو ہمارے حق کے بارے میں مواخذہ کر۔ کیوں کہ اس نے ہمارے دین کی باتیں نہ سکھائیں اور حرام روزی کھلاتا تھا، اور ہم بے علم تھے۔

لہٰذا اس بد نصیب کو حرام روزی کمانے کے سبب پیٹا جائے گا اور فرشتے پہاڑ کے برابر مرد کی نیکیاں لائیں گے تو اولاد میں ایک شخص بڑھے گا اور کہے گا میرا وزن کم ہے اوراس کی نیکیوں میں سے لے گا۔ پھر دوسرا آئے گا وہ بھی اس کی نیکیوں سے اپنی کمی پوری کرے گا ۔ یہاں تک کہ اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں گے۔ پھر اپنے گھر والوں کی طرف رخ کرکے کہے گا آہ! میری گردن پر اب وہ گناہ ر ہ گئے ہیں جو تمہارے لیے میں نے اٹھائے اور فرشتے کہیں گے، یہ وہ بد نصیب ہے جس کے گھر والے اس کی تمام نیکیاں لے گئے اور یہ ان کی وجہ سے دوزخ کا مستحق ہوچکا ہے۔

لہٰذا خود بھی جہنم کی آگ سے بچیں اور اپنی اولاد کو بھی اس آگ سے بچائیں، اسی میں ہمارے لیے دنیا وآخرت میں کامیابی ہے اور جو فرائض بچوں کے تعلق سے شریعت مطہرہ نے ہم پر عائد کیا ہے، اس کو پورا کریں گے، اگر ہم نے ان فرائض کو پورا نہ کیا تو میدان حشر میں افسوس کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا۔

{۔۔۔۔۔}

 

Shadi ke baad har jore ki yahi tamanna hoti hai ke jald us ki god hari ho. Dair hoti hai to so jatan karta hai, rota gidgidata hai, duaein mangta hai aur na jaane kaisa kaisa karta hai. Khuda khuda karke nakhl-e-arzu bar aawar hoti hai, dil ki kali khulti hai, Allah us ki god bhar deta hai aur masarrat ka samaan karta hai.

Bacha bila shuba apne sath beshumar masarratein lata hai, us ke sath ghar mein barkat ka nuzool hota hai. Walidain ke liye is se barh kar koi khushi nahi hoti. Maa din ka sukh aur raat ka chain qurban karke bhi khush rehti hai, surat dekhte hi baap ki sari uljhanen kafoor ho jati hain. Sanjeeda se sanjeeda aadmi bhi bachon ki masoom harkatein dekh kar be-sakhta muskura deta hai. Ghar ke har kone mein khushi aur farhat ki lehar daud jati hai.

Naik aulaad Allah Ta‘ala ki nematon mein se ek azeem nemat hai jise aankhon ki thandak kaha gaya hai. Is liye aulaad ka hona khush bakhti samjha jata hai. Jinhein yeh nemat milti hai woh khush o khurram rehte hain aur jin ke haan aulaad nahi hoti woh is mehroomi ke gham mein mubtala rehte hain.

Magar jab aulaad mil jati hai to goya duniya ki har nemat mil jati hai. Aisi qeemti nemat pa kar kaun badnaseeb masroor nahi hota. Lekin khushiyon ke sath sath bacha bohot si zimmedariyan bhi lata hai:

  1. Khushi dil se palna posna
  2. Shafqat aur muhabbat ka rawaiya
  3. Hamdardi aur dilsuzi se taleem dena
  4. Tadreej ke sath achhi aadatein dalna
  5. Mukhtalif moqa‘on ke adaab sikhana
  6. Mohazzab tor tareeqe sikhana
  7. Aqeedon ko nikharna, a‘maal ko sudharna aur akhlaaq ko sanwarna

Yeh sab zimmedariyan walidain par farz hoti hain. Isi silsile mein Allah Ta‘ala Qur’an-e-Majeed mein irshad farmata hai:

“Ya ayyuhallazeena aamanu quu anfusakum wa ahleekum naran…”

Yani: Aey imaan walo! Apne aap ko aur apne ghar walon ko us aag se bachao jiska indhan insaan aur pathar honge.

Is ayat se wazeh hota hai ke aulaad ki tarbiyat aisi dینی aur akhlaqi bunyaadon par ki jaye ke woh buraiyon se bach kar nekiyon ki taraf mail ho jaye aur aakhirat mein jahannam se nijaat pa sake.

Is se yeh bhi maloom hota hai ke aulaad ki behtareen tarbiyat maa baap ki zimmedari hai. Naik aulaad walidain ki zindagi ka qeemti sarmaya hoti hai. Jahan aulaad par walidain ki khidmat farz hai, wahin walidain par bhi aulaad ke huqooq farz hain.

Nabi Kareem ﷺ ka irshad hai:
“Talab-ul-ilm farizatun ‘ala kulli Muslim wa Muslima.”

Ilm hasil karna har Muslim mard aur aurat par farz hai.

Hazrat Ayyub bin Musa رضی اللہ عنہ se riwayat hai ke Nabi ﷺ ne farmaya:
“Achhi taleem aur tarbiyat se barh kar baap ka apni aulaad ke liye koi tohfa nahi.” (Tirmizi)

Is liye walidain par farz hai ke khud bhi ilm hasil karein aur apni aulaad ko bhi ilm se aarasta karein. Maa ki god bachche ki pehli darsgaah hoti hai jahan us ki seerat banti hai.

Aaj kal Muslim muashray ka haal bohot kharab hota ja raha hai. Log apne bachon ko kalma sikhane ke bajaye gaane sikhate hain, namaz ki taleem ke bajaye dance aur acting sikhate hain.

Aakhirat ke din aadmi Allah ke samne khada hoga aur us ki biwi aur aulaad shikayat karegi ke humein deen ki taleem nahi di gayi. Phir us aadmi ki nekian us ke ghar walon mein taqseem kar di jayengi aur woh khud nekion se khali reh jayega.

Is liye zaroori hai ke hum khud bhi jahannam ki aag se bachein aur apni aulaad ko bhi bachayein. Isi mein duniya aur aakhirat ki kamyabi hai.

Credits & Acknowledgements

Transliteration (Urdu–Roman): محمد اویس صدیقی
Article Writing: از : ممتاز بانو,باسنی ناگور
Share This

Related Mazameen