Minara Masjid Minara Masjid

Apni Nigaahain Neechi Rakhiye

| February 4, 2026 3 min read 5 views

اپنی نگاہیں نیچی رکھیے

اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلامِ مجید میںارشاد فرمایا ہے: وَقُلْ لِّلْمُؤمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ (۱)
اور مسلمان مردوں کو حکم دوکہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں۔
دوسری جگہ ارشادفرمایا:وَقُلْ لِّلْمُؤمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ (۲)
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں۔
اسلام میں ایسا نہیں ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کو صرف برائیوں سے بچنے کا حکم دیا ہو اور کوئی ایسی راہ نہ بتائی ہو جس سے برائیوں سے بچا جا سکے بلکہ اس نے برائی کی طرف لے جانے والے ہر راستے ہی کو بند کردیے ہیں۔اسی لیے معاشرے کو ہر طرح کی برائی سے محفوظ رکھنے، اپنے آپ کو باعزت اور پروقار رکھنے اور اپنے دامن کو ہر طرح کی آلودگی سے بچانے کا جو طریقہ قرآنِ عظیم نے بتایا ہے اس میں سب سے پہلے نظروں کی حفاظت کرنے اور پردہ کرنے پر زور دیا ہے۔
آخر مردوزن دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم کیوں دیاگیا؟ اس امر پر بحث کرتے ہوئے علامہ پیر کرم شاہ ازہری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف ضیاء القرآن میں فرماتے ہیں:
’’اس (دامنِ عظمت کو ہر آلودگی سے پاک وصاف رکھنے)کا طریقہ قرآنِ مجید میں یہ بتایا ہے کہ مومن مرد اور مومنہ عورت اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور یہ حقیقت ہے کہ آنکھوں میں جب تک شرم وحیا ہوتی ہے انسان کے دل کی دنیا فاسد خیالات اور ناپاک نظریات کی یورش سے محفوظ رہتی ہے جذبات میں سکون واعتدال پایا جاتا ہے اور کسی کی آبرو کی طرف ہاتھ بڑھانا تو کجا آنکھ اٹھانے کی سکت بھی پیدا نہیں ہوتی لیکن جب آنکھیں نورِ حیا سے محروم ہوجاتی ہیں جب شرم کا پردہ چاک ہوجاتا ہے تو پھر پر سکون جذبات میں ایک آگ سی لگ جاتی ہے خبیث خیالات کا ایک سیلاب امڈ کر آجاتا ہے جو بڑے بڑے انسانوں کو تنکوں کی طرح بہا لے جاتا ہے حتیٰ کہ انہیں اپنے ظاہری تقدس کی پروا بھی نہیں رہتی‘‘۔ (۳)
نظروں کی حفاظت نہ کرنے والا شخص جب بے حیا ہوجاتا ہے اور دوسروں کی بہو بیٹیوں کو اپنے تیرِ ہوس کا نشانہ بنانے لگتا ہے تو اس کی اس بے حیائی کا نتیجہ ذکر کرتے ہوئے علامہ تحریر فرماتے ہیں:
’’بے حیا شخص صرف دوسروں کو ہی اپنے تیرِ ہوس کا نشانہ نہیں بناتا بلکہ وہ اپنے گھر کی فصیل میں خود شگاف ڈال کر لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ بھی آکر اس کی آبرو کو خاک میں ملائیں‘‘۔ (۴)
اس بحث سے اتنا تو ضرور معلوم ہوا کہ انسان کی بے حیائی کی ابتدا نظروں کو غیر محارم کی طرف اٹھانے سے ہوتی ہے۔ اگر ابتدا ہی میں اس دروازے کو بند کردیا جائے تو انسان کی حیا محفوظ ومامون رہ سکتی ہے لیکن اگر اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ دیکھنا جائز ہے اور پھر آگے جو گناہ اس راستے میں ہونے والے ہیں ان سے روکا جائے تو یقینا یہ ایک قسم کا ظلم ہوگا اور بہت بڑی زیادتی ہوگی کہ پہلے تو اس راستے پر چلنے کے لیے دروازہ کھول دیاگیا اور جب اس راستے پر چل پڑے تو اب روکا جارہا ہے اور اس پر سزا دی جارہی ہے اس لیے قرآنِ عظیم نے اولاً ہی مردو زن دونوں کے لیے یہ لازم کردیا کہ اپنی اپنی نگاہیں نیچی رکھو تاکہ گناہ کی ابتدا ہی نہ ہوسکے۔غیر محرم سے ربط وتعلق، اس سے سلام وکلام، ملنا جلنا اس کے بعد ہے۔ بے حیائی کی حدود کو پار کرنا یہاں تک کہ حدود کو پار کرکے زنا تک کی نوبت آجانا نگاہوں کے چار ہونے ہی سے ہوتا ہے۔
نگاہوں کے نیچا رکھنے پر اسلام نے کتنا زور دیا ہے آئیے اس کو ملاحظہ کرتے چلیں۔
عن ابی امامۃ یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکفلوا لی بستٍ اکفل لکم بالجنۃ اذا حدث فلا یکذب واذا اؤتمن فلا یخن واذا وعد فلا یخلف وغضوا ابصارکم وکفوا ایدیکم واحفظوا فروجکم (۵)
اگر تم میرے ساتھ ان چھ باتوں کا وعدہ کرو تو میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں(۱) جب تم سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولو(۲) جب تمہیں امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرو(۳) جب وعدہ کرو تو وعدہ خلافی نہ کرو(۴) اپنی نگاہوں کو نیچے رکھو(۵) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو(۶) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔
ان چھ باتوں میں اخیر کی تین باتیں ایسی ہیں کہ جن کا راستہ بالکل ایک ہے کیوںکہ نگاہ حرکت کرتی ہے تو پھر ہاتھ میں حرکت پیدا ہوجاتی ہے جب یہ دونوں حرکت میں آجاتے ہیں تو ان دونوں کی حرکت کا نتیجہ بد اطواری کی شکل میں نکلتا ہے اس لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان چیزوں کی حفاظت کا حکم فرمایا اور یہی نہیں بلکہ ان کے محافظین کو جنت کی ضمانت دے دی۔ اب اگر ہم نمبر (۴) سے لے کر نمبر (۶) تک کی ترتیب پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اخیر کی دونوں باتیں اس وقت وجود میں آئیں گی جب پہلی بات (نظر) ہوچکی ہو تو گویا نظریں ان دونوں حرکتوں کا سبب ہیں۔
اسی طرح ایک دوسری جگہ اور ارشاد ہے۔
من یکفل لی مابین لحییہ وبین رجلیہ اکفل لہ الجنۃ۔ (۶)
جو شخص مجھے دو باتوں کی ضمانت دے کہ جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان( یعنی زبان) اور جو اس کے دونوں ٹانگوں کے درمیان(یعنی شرم گاہ) ہے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
اس (شرم گاہ) کی حفاظت اسی وقت ہوگی جب فکر وذہن پاک وصاف ہوں گے اور ان میں کسی بھی طرح کا فاسد خیال موجود نہ ہوگا کیوںکہ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ذہن وفکر میں خیالات فاسدہ کا مینہ مجتمع ہو اور یہ امید کی جائے کہ اس کے قطر ے زمینِ قلب پر نہ پڑسکیں۔ یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب نظر پاک وصاف ہو اور غیر محارم کی طرف نہ اٹھتی ہو۔
نظر کی حقیقت کو واضح فرماتے ہوئے نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے:
ان النظر سہم من سہام ابلیس مسموم من ترکہ مخافتی ابدلتہ ایماناً یجر حلاوتہا فی قلبہ۔ (۷)
نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے جو اس (تیر) کو میرے خوف سے ترک کرتا ہے میں اسے ایمان کی نعمت بخشوں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں پائے گا۔
حدیثِ مذکور سے یہ بات مستفاد ہوتی ہے کہ نظرِ بد میں شیطان کے وسوسوں کا ہیجان انگریز اثر ہوتا ہے اسی لیے تو جو نظروں کو نیچی نہیں رکھتے بلکہ ہر جگہ تانک جھانک میں لگے رہتے ہیں ان افراد سے اکثر شیطانی افعال کا ظہور ہوا کرتا ہے اور جو نظروں کو نیچا رکھتے ہیں وہ شرارتِ شیطان سے محفوظ ومامون بھی رہتے ہیں اور ایمان کی حلاوت سے لذت آشنا بھی ہوتے ہیں۔
دراصل نظر تو راہِ قلب کا بابِ اول ہے یہی وجہ ہے کہ جب کوئی چیز نظر نہیں آتی تو بعض اوقات دل اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے یہی تو کہاتھا(اگرچہ غلط مطالبہ تھا): لَنْ نُّؤمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہْرَۃً (ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے تجھ پر جب تک ہم نہ دیکھ لیں اللہ کو ظاہر) اور جب کوئی چیز نظر آجاتی ہے تو وہ چیز بابِ نظر سے ہوتے ہوئے منزلِ قلب تک لمحوں میں پہنچ جاتی ہے اسی لیے تو حسنِ یوسف کو دیکھنے کے بعد نہ صرف زلیخا فریفتہ ہوئیں بلکہ زنانِ مصر اپنے آپ کو بھول گئیں اور اپنی انگلیوں کو کاٹ ڈالا۔
یہ بات آج کل کے مشاہدات میں بھی ہے کہ جب کوئی چیز دیکھ لی جاتی ہے تو وہ بہت جلدی دل میں اتر جاتی ہے۔ نظر دل کا دروازہ ہے اور دل پورے جسم کا ٹرانفسارمر جو پورے جسم میں کرنٹ سپلائی کرتا ہے۔ اس حقیقت کو بھی حدیثِ پاک میں یوں اُجاگر کیا ہے ’’ان فی جسد اٰدم لمضغۃ لوفسدت فسدا الجسد کلہ ولو صلحت صلح الجسد کلہ الا وھی القلب الا وہی القلب‘‘ کہ آدمی کے جسم میں ایک پارۂ گوشت ہے اگر اس میں فساد آیاتو سارے جسم میں فساد آیا اگر وہ اصلاح پذیر ہواتمام بدن اصلاح پذیر ہوا خبردار ہوجاؤ وہ دل ہے ہوشیار ہوجاؤ وہ دل ہے۔
اس کا اندازہ اس وقت کیا جاسکتا ہے کہ جب کوئی حور صفت دو شیزہ موجود ہو اور اس پر کسی کی نظر پڑی ہو اولاً تو وہ اپنی نگاہوں کو جھکالیتے ہیں لیکن پھر دل میں دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اگر کوئی اس اشتیاق کی بنا پر دوبارہ دیکھ لیتا ہے تو پھر اس کے جو اثرات دل پر مرتب ہوتے ہیں وہ قابلِ توجہ ہوتے ہیں۔
حقیقتِ نظرکواُجاگرکرتے ہوئے علامہ قرطبی تحریرکرتے ہیں
البصرھوالباب الاکبرالیٰ القلب یحسب ذلک کثر الشوط من جہتہ ووجب التحزیر منہ وغضہ واجب عن جمیع المحرمات وقل مایخشی الفتنۃ من اجلہ (۸)
نظر دل کی طرف کھلنے والا سب سے بڑا دروازہ ہے نگاہ کی بے راہ روی کے باعث ہی اکثر لغزش ہوتی ہے اس لیے اس سے بچنا چاہیے اور تمام محرمات سے اسے روکنا چاہیے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے فتنے سے بچاجاسکے۔
جب یہ نظر کی حقیقت ہے اور یہ اس کا نتیجہ ہے تو اب ہر صاحبِ عقل وخرد یہی کہے گا کہ ہاں! نظروں کو نیچا ہی رکھنا ضروری ہے اور اس کے لیے صرف نظروں کے نیچا رکھنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ عورتوں کے لیے پردہ کرنے کی سخت تنبیہ کرنی ہوگی کیوں کہ اگر عورت بے پردہ ہوگی تو کب تک نظروں کو نیچا رکھا جائے گا کبھی بھی نظر خطا کرسکتی ہے۔پیٹرول کے پاس سے چنگاری کو دور رکھا جائے تب تو اس بات کا اطمینان رہے گا کہ آگ نہیں لگے گی ورنہ تو کون صاحبِ عقل ہے جو مطمئن رہے گا کہ اب آگ نہیں لگے گی۔
لہٰذاتمام اسلامی بھائی اور بہنیںاس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعدنگاہ پر کنٹرول کرنے کی کوشش کریں۔ یہ کوئی بہت بڑی بات نہیںہے صرف دل میں اگر عمل کا پختہ ارادہ ہوجائے اور دل ہمہ وقت اللہ کی توفیق کا طلبگار رہے ۔’’ہرنفس کوموت کامزہ چکھناہے ‘‘کامسلم نظریہ پیش نظررہے تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ اسلامی بہنوں سے خصوصی گزارش ہے کہ پردہ جو کہ آپ کی عزت وآبرو کا محافظ ہے اس کو اپنائیں۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر میری ہر بہن پردہ اختیار کرلے تو ضرور معاشرے سے بہت سارے گناہوں کی بیماریوں کا خاتمہ ہوسکتاہے جن سے آج پورا معاشرہ سسک اور کراہ رہا ہے۔
حوالہ جات

(۱) سورۂ نور آیت۳۰
(۲) سورۂ نور آیت۳۱
(۳) ضیاء القرآن جلد سوم صفحہ ۲۱۰
(۴) ایضاً
(۵) ضیاء القرآن جلد سوم صفحہ ۳۱۲
(۶) ایضاً

Allah Tabarak wa Ta‘ala ne Kalam-e-Majeed mein irshad farmaya hai:
“Wa qul lil-mu’minina yaghuddu min absarihim” (1)
Aur Musalman mardon ko hukm do ke apni nigaahain kuch neechi rakhein.

Doosri jagah irshad farmaya:
“Wa qul lil-mu’minati yaghududna min absarihinna” (2)
Aur Musalman auraton ko hukm do ke apni nigaahain kuch neechi rakhein.

Islam ka yeh andaz nahin hai ke sirf buraiyon se bachne ka hukm de aur un se bachne ka tareeqa na bataye, balkeh Islam ne burai ki taraf le jaane wale har raaste ko band kar diya hai. Isi liye muashray ko har qisam ki burai se mehfooz rakhne, apne aap ko ba-izzat aur ba-waqar rakhne aur apne daaman ko har qisam ki aaloodgi se bachane ke liye Qur’an-e-Azeem ne sab se pehle nigaahon ki hifazat aur parda par zor diya hai.

Aakhir mard aur aurat dono ko nigaahain neechi rakhne ka hukm kyun diya gaya? Is amr par behs karte hue Allama Peer Karam Shah Azhari رحمۃ اللہ علیہ apni tasneef Ziya-ul-Qur’an mein farmate hain:

“Is (daaman-e-azmat ko har aaloodgi se paak rakhne) ka tareeqa Qur’an-e-Majeed ne yeh bataya hai ke momin mard aur mominah aurat apni nigaahain neechi rakhein. Yeh haqeeqat hai ke jab tak aankhon mein sharm-o-haya hoti hai, insaan ka dil faasid khayalat aur napaak nazariyat ke hamlon se mehfooz rehta hai, jazbaat mein sukoon aur aitidal hota hai aur kisi ki aabru ki taraf haath badhana to door, aankh uthana bhi mumkin nahin hota. Lekin jab aankhein noor-e-haya se mehroom ho jati hain aur sharm ka parda chaak ho jata hai to phir pur-sukoon jazbaat mein aag si lag jati hai, khabees khayalat ka sailaab umad aata hai jo bade bade insaanon ko tinkon ki tarah baha le jata hai, hatta ke unhein apne zahiri taqaddus ki bhi parwah nahin rehti.” (3)

Nigaahon ki hifazat na karne wala shakhs jab be-haya ho jata hai aur doosron ki bahu-betiyon ko apne teer-e-hawas ka nishana banata hai to is be-hayai ka nateeja bayan karte hue Allama likhte hain:

“Be-haya shakhs sirf doosron ko hi apne teer-e-hawas ka nishana nahin banata, balkeh woh apne ghar ki faseel mein khud shagaaf daal kar logon ko daawat deta hai ke woh bhi aakar us ki aabru ko khaak mein mila dein.” (4)

Is behs se yeh baat wazeh hoti hai ke insaan ki be-hayai ki ibtida nigaahon ko ghair-mahram ki taraf uthana hai. Agar ibtida hi mein is darwaze ko band kar diya jaye to insaan ki haya mehfooz reh sakti hai. Lekin agar dekhne ki ijazat de di jaye aur baqi gunahon se roka jaye to yeh zulm aur bari zyadti hogi. Isi liye Qur’an-e-Azeem ne pehle hi mard aur aurat dono ke liye nigaahain neechi rakhna lazim qarar diya taa ke gunaah ki ibtida hi na ho.

Nigaahon ko neechi rakhne par Islam ne kitna zor diya hai, is par ahadees bhi dalalat karti hain:

Hazrat Abu Umamah se riwayat hai ke Rasoolullah ﷺ ne farmaya:
“Agar tum mujh se chay baaton ka wada kar lo to main tumhein jannat ki zamaanat deta hoon: jab baat karo to jhoot na bolo, amanat di jaye to khayanat na karo, wada karo to wada khilafi na karo, apni nigaahain neechi rakho, apne haath roke rakho aur apni sharmgah ki hifazat karo.” (5)

In chay baaton mein aakhri teen aapas mein juda hui hain. Nigaah chalti hai to haath harkat mein aata hai aur jab dono harkat mein aa jate hain to bad-atwari ka dar khul jata hai. Isi liye Nabi ﷺ ne in ki hifazat ka hukm diya aur in par amal karne walon ko jannat ki zamaanat di.

Isi tarah doosri jagah farmaya:
“Jo shakhs mujhe apni zaban aur apni sharmgah ki hifazat ki zamaanat de, main use jannat ki zamaanat deta hoon.” (6)

Sharmgah ki hifazat us waqt mumkin hoti hai jab soch aur zehan paak hon, aur yeh tabhi hota hai jab nigaah paak ho. Nabi-e-Kareem ﷺ ne farmaya:

“Nazar shaitan ke zahreelay teeron mein se ek teer hai. Jo shakhs use mere khauf se chhor deta hai, main use aisa iman ata karta hoon jis ki mithaas woh apne dil mein mehsoos karta hai.” (7)

Haqeeqat yeh hai ke nigaah dil ka darwaza hai. Jo cheez nigaah se guzarti hai woh lamhon mein dil tak pohanch jati hai. Isi liye Allama Qurtubi likhte hain:

“Nazar dil ki taraf khulne wala sab se bada darwaza hai. Isi ki wajah se aksar laghzish hoti hai, is liye is se bachna aur har haram se nigaah ko roakna zaroori hai.” (8)

Jab yeh nigaah ki haqeeqat hai to har aqalmand yahi kahega ke nigaah ko neechi rakhna zaroori hai. Sirf mardon ka nigaah jhukana kaafi nahin, balkeh auraton ke liye parda bhi nihayat zaroori hai, kyun ke jab be-parda hogi to nigaah ka bachna mushkil ho jata hai.

Lihaza tamam Islami bhai aur behnen is haqeeqat ko samajh kar nigaah par qaboo paane ki koshish karein. Islami behnon se khaas guzarish hai ke parda ikhtiyar karein jo aap ki izzat aur aabru ka muhafiz hai. Agar parda aam ho jaye to muashray se bohot si buraiyan khatam ho sakti hain jin se aaj poora muashra karah raha hai.


Hawala Jaat:
(1) Surah-e-Noor, Ayat 30
(2) Surah-e-Noor, Ayat 31
(3) Ziya-ul-Qur’an, Jild 3, Safha 210
(4) Ibid
(5) Ziya-ul-Qur’an, Jild 3, Safha 312
(6) Ibid

Credits & Acknowledgements

Transliteration (Urdu–Roman): محمد اویس رضوی
Article Writing: ازقلم : مولانا محمدفیضان عزیزی
Share This

Related Mazameen