Minara Masjid Minara Masjid

Huzoor Ghaus-e-Azam: Da‘wati Khidmaat ki Ek Jhalak

| February 5, 2026 3 min read 9 views

حضور غوثِ اعظم :دعوتی خدمات کی ایک جھلک 

حضور غوثِ اعظم :دعوتی خدمات کی ایک جھلک 

از: محمد فضل الرحمن برکاتی

حضورغوث اعظم کی شخصیت :

سید العارفین، حجۃ الواصلین، نائب رحمۃ للعالمین، قطب ِربانی، محبوبِ سبحانی، شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی سوانحِ حیات کا مطالعہ کرنے سے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ آپ بہت بڑے صاحبِ کرامت بزرگ ہیںیا بہت بڑے عالمِ جلیل ہیں یا بہت بڑے داعی ومبلغ۔ سچ یہ ہے کہ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، بہت بڑے صاحبِ کشف وکرامت بزرگ اور بہت بڑے داعی ومبلغ بھی ہیں۔ آپ کا مرتبہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بہت اونچا ہے اور بلا شبہ آپ روئے زمین کے تمام اولیاء اللہ کے سردار ہیں ؎

محمد کا رسولوں میں ہے جیسے مرتبہ اعلیٰ

ہے افضل اولیا میں یونہی رتبہ غوث اعظم کا

غوث اعظم کی ولادت:

حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان المبارک ۴۷۰ھ میں گیلان کے قصبہ نیف میں پیدا ہوئے، آپ کا لقب پاک محی الدین اور اسم گرامی عبدالقادر، آپ کے والد کا نام ابو صالح موسیٰ جنگی دوست اور والدہ کا نام اُم الخیر فاطمہ تھا۔ آپ کی پیدائش سے قبل اور وقتِ پیدائش وبعدِ پیدائش بے شمار کرامتوں کا ظہور ہوا آپ نے شیر خوارگی کے زمانے میں بھی روزے کے اوقات میں شیرِ مادر نوش نہ فرمایا ؎

رہے پابند احکام شریعت ابتداہی سے

نہ چھوٹا شیر خواری میں بھی روزہ غوث اعظم کا

حضور شیخ کل، تاج اولیا اور غوث الاغواث ہیں۔ ہر سلسلے والا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے در سے ہی فیض پارہا ہے اور اولیائے جہاں حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قدم مبارک کے سامنے اپنی اپنی گردنیں جھکائے ہوئے ہیں ؎

جو فرمایا کہ دوشِ اولیا پر ہے قدم میرا

لیا سر کو جھکا کر سب نے تلوا غوث اعظم کا

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ؎

سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا

اولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

تعلیم وتربیت:

حضرت غوثِ اعظم نے ابھی عمر کی چند منزلیں ہی طے کی تھیں کہ سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ تعلیم وتربیت کا تمام بوجھ آپ کی والدۂ محترمہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کندھوں پر آپڑا اور انہوں نے اپنے لخت جگر کی تعلیم وتربیت کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دیا۔حضرت شیخ ۴۸۸ھ مطابق ۱۰۹۵ء میں ۱۸؍ سال کی عمر میں علومِ ظاہری کی تحصیل کے لیے بغداد پہنچے اور نامورانِ فن سے بھرپور استفادہ کیا جن میں ابو الوفا علی بن عقیل حنبلی، ابو الخطاب محفوظ کلوذانی حنبلی، ابو غالب محمد بن الحسن باقلانی، ابوسعید محمد بن عبدالکریم، ابو زکریا یحییٰ بن علی تبریزی، عارف باللہ حضرت حماد باس قدس سرہ اور قاضی ابو سعید مبارک مخزومی قدس سرہم العزیز خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ ان میں آخر الذکر مخزومی سے آپ کو غایت درجہ عقیدت تھی اور پھر یہی آپ کے شیخ طریقت ٹھہرے۔

حضرت مخزومی فرماتے ہیں:

’’عبدالقادرجیلانی نے مجھ سے خرقۂ خلافت پہنا اور میں نے ان سے پہنا ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے برکت حاصل کرے گا۔‘‘ (قلائد الجواہر، ص؍۴،۵)

آغازِ رشد وہدایت:

 حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بغداد میں شریعت وطریقت کے علوم ومعارف حاصل کرچکے تو مخلوقِ خدا کو فیضیاب کرنے کا وقت آگیا۔ ماہ شوال ۵۲۱ھ مطابق ۱۱۲۷ء کو محلہ حلبہ براینہ میں آپ نے وعظ کا آغاز فرمایا۔ (بہجۃ الاسرار؍ ص۹۰)

بغداد کے محلہ باب الزج میں حضرت شیخ ابو سعید مخزومی کا ایک مدرسہ تھا جو انہوں نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کردیا۔ آپ کے قدومِ میمنت لزوم سے طلبا کا اس قدر ازدحام ہوا کہ قدیم عمارت ناکافی ہوگئی تو بغداد کے علم دوست حضرات نے اسے وسعت دے کر شاندار نئی عمارت تیار کرائی۔ ۵۲۸ھ مطابق ۱۱۳۴ء میں یہ مدرسہ پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت سے مدرسۂ قادریہ مشہور ہوا۔ (قلائد الجواہر، ص:۵)

آپ نے وعظ وتبلیغ کا سلسلہ (۵۲۱ھ مطابق ۱۱۶۶ء) تک جاری رکھا اس طرح آپ نے چالیس سال تبلیغ اور تینتیس سال تدریس وافتا کے فرائض انجام دیے۔ (زبدۃ الآثار، ص:۳۹)

غوثِ اعظم کا وعظ:

 سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہفتے میں تین دن خطاب فرماتے جمعہ کی صبح، منگل کی شام اور اتوار کی صبح۔ طریقہ یہ تھا کہ پہلے قاری صاحب قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے اس کے بعد حضرت خطاب فرماتے، کبھی سید مسعود ہاشمی تلاوت کرتے کبھی دوسرے دو حضرات تلاوت کرتے جو دونوں بھائی تھے۔ تلاوت سادہ انداز میں لحن کے بغیر ہوتی۔

حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدأً مجھ پر وعظ وتقریر کا اس قدر غلبہ ہوتا کہ خاموش رہنا میری طاقت سے باہر ہوجاتا، میری مجلس میں دو یا تین آدمی سننے والے ہوتے مگر میں نے سلسلۂ کلام جاری رکھا پھر لوگوں کا ہجوم اس طرح بڑھا کہ جگہ تنگ ہوگئی پھر عیدگاہ میں خطاب شروع کیا وہ بھی ناکافی ہوئی تو شہر سے باہر کھلے میدان میں اجتماع ہونے لگا اور ایک ایک مجلس میں ستر ہزار کے قریب سامعین جمع ہونے لگے۔ چار سو افراد قلم ودوات لے کر آپ کے ملفوظات جمع کرتے تھے۔ ( سالنامہ اہل سنت کی آواز ۲۰۰۷ء، ص۸۲ بحوالہ اخبار الاخیار فارسی: ص؍۱۲)

مشائخ سے منقول ہے کہ حضرت شیخ جیلانی جب وعظ کے لیے منبر پر بیٹھ کر الحمد للہ کہتے تو روئے زمین کا ہر غائب وحاضر ولی خاموش ہوجاتا اسی لیے آپ یہ کلمہ مکرر کہتے اور اس کے درمیان کچھ سکوت فرماتے، بس اولیا اور ملائکہ کا آپ کی مجلس میں ہجوم ہوجاتا۔ جتنے لوگ آپ کی مجلس میںنظر آتے ان سے کہیں زیادہ ایسے حاضرین ہوتے جو نظر نہیں آتے تھے۔ (ایضاص۲۹۴)

حضرت شیخ عموماً عربی زبان میں خطاب فرماتے لیکن بعض اوقات فارسی میں بھی خطاب فرماتے اسی لیے آپ کو ذوالبیانین واللسانین اور امام الفریقین کہتے ہیں۔ (اخبار الاخیار ص؍۲۰) آپ کی کرامت یہ تھی کہ دور ونزدیک کے لوگ یکساں طور پر آپ کی آواز سنتے تھے۔ (زبدۃ الآثار ص؍۵۷) (ایضا،ص؍۸۲)

وعظ کی اثر انگیزی:

 آپ کا وعظ بہت اثر انگیز ہوتا تھا۔ آپ کی زبانِ مبارک میں ایسی روانی اور طاقت تھی کہ مضامین کا ایک سیل رواں ہوتا جو آپ کے دہنِ مبارک سے نکلتا چلا جاتا۔ تاثیر ایسی کہ پتھر دل بھی موم ہوجاتے، سیاہ کار تائب ہوتے، کفر کی آلودگی میں لتھڑے لوگ سرچشمۂ اسلام کے قریب آکر شفاف ہوجاتے، لوگوں پر ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ بے حال ہوجاتے اور بہت سے لوگ مرغِ بسمل کی مانند تڑپنے لگتے اور بعض تو وہیں جاں بحق ہوجاتے۔

شیخ عمر کیسانی کا بیان ہے کہ آپ کی کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں کچھ یہودونصاریٰ اسلام نہ قبول کرتے ہوں چور، ڈاکو اور بدمعاش لوگ اپنے جرائم سے توبہ نہ کرتے ہوں اور رافضی وغیرہ اپنے غلط عقائد سے توبہ نہ کرتے ہوں۔ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک عیسائی راہب آپ کی مجلس میں آیا اور مسلمان ہوگیا اس نے لوگوں کو بتایا کہ میں یمن کا باشندہ ہوں میرے دل میں اسلام قبول کرنے کی لگن پیدا ہوئی لیکن میں نے عہد کرلیا کہ میں اس شخص کے ہاتھ پر اسلام لاؤں گا جو دنیا بھر کے مسلمانوں سے افضل ہوگا چنانچہ میں اکثر اسی فکر میں محو رہتا تھا۔ ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ تم بغداد کی طرف چلے جاؤ اور شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلو کیوں کہ وہ اس زمانے میں سب سے بہتر ہیں۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے ہاتھ پر پانچ ہزار سے زیادہ یہودونصاریٰ تائب ہوکر مشرف باسلام ہوئے۔ رہزنوں اور فسق وفجور میں ملوث افراد جنہوں نے میرے ہاتھوں پر توبہ کی ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔آپ کی ہر مجلس میں کوئی نہ کوئی یہودی یا عیسائی مشرف باسلام ہوتا، ڈاکو، قاتل اور دیگر جرائم پیشہ اور بدعقیدہ لوگ تائب ہوتے۔ (قلائد الجواہر، ص؍۱۸،۱۹)

اسلوبِ خطابت:

ـ سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبات میں عموماً سادہ اور عام فہم باتیں ارشاد فرماتے لیکن کبھی کبھی آپ کا دریائے علم موجزن ہوتا تو عالمانہ ومحققانہ نکات بیان فرماتے اور آیتوں کی ایسی تفسیر سناتے کہ بڑے بڑے علما بھی انگشت بدنداں ہوجاتے۔ آپ دینِ متین کی تعلیمات کو بہت پرکشش اور مؤثر انداز مین بیان فرماتے بعض اوقات صحابۂ کرام اور اولیائے عظام کے ارشادات بھی زیبِ سخن بنتے۔

آپ پر بغداد کی معاشرتی، سماجی اور دینی زندگی کی بگڑتی ہوئی حالت پوشیدہ نہیں تھی۔ ظلم وستم، جبر واستبداد، تن آسانی اورعیش وطرب میں ڈوبی زندگی کو ہلاکت کے بھنور سے نکال لانا ہی آپ کا مقصد ِاصلی تھا اور اسی لیے آپ نے بغداد کو اپنی دعوت وتبلیغ کا مرکز بنایا۔ بڑے بڑے لوگوں کو ان کی برائیوں پر بے دھڑک ٹوکتے اور ان کی اصلاح کی طرف توجہ فرماتے تھے اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ آپ منجانب اللہ ایک داعی ومبلغ کی حیثیت سے دنیا میں منتخب فرمائے گئے تھے۔

دعوتی اسلوب کے چندنمونے:

 آپ نے اس وقت کے ظالموں، عالموں، صوفیوں، فقیہوں سے خطاب فرمایا۔ ان کے مواعظ سے چند اقتباسات نذرِ قارئین ہیں۔

(۱) اے لوگو! تم رمضان میں اپنے نفسوں کو پانی پینے سے روکتے ہو اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو مسلمانوں کے خوف سے افطار کرتے ہو اور ان پر ظلم کرکے جو مال حاصل کیا ہے اسے نگلتے ہو۔

(۲) اے لوگو! افسوس کہ تم سیر ہوکر کھاتے ہو اور تمہارے پڑوسی بھوکے رہتے ہیں اور پھر دعویٰ یہ کرتے ہو کہ ہم مومن ہیں، تمہارا ایمان صحیح نہیں دیکھو ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے سائل کو دیا کرتے تھے، اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالتے، اس کا دودھ دوہتے اور اپنی قمیص سیا کرتے۔ تم ان کی متابعت کا دعویٰ کیسے کرتے ہو جب کہ اقوال وافعال میں ان کی مخالفت کررہے ہو۔

آپ نے اس وقت کے مولویوں، فقہیوں اور زاہدوں کو مخاطب کرکے فرمایا:

(۱) اے مولویو اور فقہیو، زاہدو، عابدو، اے صوفیو! تم میں کوئی ایسا نہیں جو توبہ کا حاجت مند نہ ہو ہمارے پاس تمہاری موت اور حیات کی ساری خبریں ہیں۔ سچی محبت جس میں تغیر نہیں آسکتا وہ محبت ِالٰہی ہے جس کو تم اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور وہی محبت روحانی صدیقوں کی محبت ہے۔

(۴) یا الٰہی تو منافقوں کی شوکت کو توڑ دے اور ان کو ذلیل فرما۔ ان کو توبہ کی توفیق عطا فرما اور ظالموں کا قلع قمع فرمادے زمین کو ان سے پاک فرمادے یا ان کی اصلاح فرما۔ (اقتباسات از :الفتح الربانی)

غوث اعظم کااندازِتبلیغ اورعصرِحاضر

آج جس قدر حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت کو بیان کیا جاتا ہے اور ہمارے مبلغین وخطبا حضرات اپنے خطبوں میں زورِبیانی کے ساتھ پیش کرتے ہیں اس سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ اگر عوام کے سامنے آپ کے ان اقدامات ومساعیِ مشکورہ کو جو احیائے دین کے لیے آپ نے کی ہیں ،پیش کیا جائے تو اس سے دو فائدے ہوں گے اول تو وہ حضرات جو صرف اور صرف آپ کو کرامت تک ہی محدود جانتے ہیں ان کی معلومات میں اضافہ ہوگا دوم ہماری عوام اور خواص کے اندر جذبۂ تبلیغ بھی پیدا ہوگا جس سے آج بھی گمراہ انسانوں کو راہِ ہدایت نصیب ہوسکتی ہے بشرطیکہ آج کے مبلغین اور داعیانِ اسلام کی تبلیغ کا طرز وانداز سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ کی طرح ہو۔ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شریعت کے تنِ بے جان میں دوبارہ جان ڈال دی اور آپ کی دعوت وتبلیغ نے ہزاروں بھٹکے ہوئے انسانوں کو منزلِ مقصود سے ہم کنار کردیا جس کی وجہ سے آپ کا لقب ’’محی الدین‘‘ مشہور ومعروف ہوگیا۔ آپ کے اسلوبِ دعوت وتبلیغ اور خطبات سے زمانہ آج بھی فیض یاب ہورہا ہے اور قیامت تک ان شاء اللہ ہوتا رہے گا۔

 

Huzoor Ghaus-e-Azam: Da‘wati Khidmaat ki Ek Jhalak
Az: Muhammad Fazl-ur-Rehman Barkati


Huzoor Ghaus-e-Azam ki Shakhsiyat

Sayyid-ul-‘Arifeen, Hujjat-ul-Wasileen, Naib-e-Rahmat-ul-lil-‘Alameen, Qutub-e-Rabbani, Mehboob-e-Subhani, Shaykh Abdul Qadir Jilani quddisa sirruh-un-Noorani ki sawanih-e-hayat ka mutala‘a karne se yeh faisla karna mushkil ho jata hai ke aap bohat bade sahib-e-karamat buzurg hain ya bohat bade ‘alim-e-jaleel, ya bohat bade da‘i o muballigh. Haqiqat yeh hai ke aap apne waqt ke azeem ‘alim bhi the, sahib-e-kashf o karamat bhi, aur azeem da‘i o muballigh bhi. Aap ka martaba Allah عزوجل ki bargah mein nihayat buland hai aur bila-shuba aap ro-e-zameen ke tamam auliya-e-Allah ke sardar hain:

Muhammad ka Rasoolon mein hai jaise martaba a‘la
Hai afzal auliya mein yunhi rutba Ghaus-e-Azam ka


Ghaus-e-Azam ki Wiladat

Hazrat Ghaus-e-Azam رضي الله تعالى عنه Ramzan-ul-Mubarak 470 Hijri mein Gilan ke qasba Naif mein paida hue. Aap ka laqab Pak Muhiy-ud-Deen aur ism-e-girami Abdul Qadir hai. Walid ka naam Abu Saleh Musa Jangi Dost aur walida ka naam Umm-ul-Khair Fatima tha. Paidaish se pehle, paidaish ke waqt aur baad mein be-shumar karamat ka zuhoor hua. Aap ne sheerkhwari ke daur mein bhi roze ke auqaat mein sheermadar nosh na farmaya:

Rahe paband ahkam-e-shari‘at ibtida hi se
Na chhoota sheerkhwari mein bhi roza Ghaus-e-Azam ka

Huzoor Shaykh-ul-Kul, Taj-ul-Auliya aur Ghaus-ul-Aghwas hain. Har silsila Ghaus-e-Azam رضي الله تعالى عنه ke dar se faiz pa raha hai, aur auliya-e-jahan aap ke qadam-e-mubarak ke samne apni apni gardanen jhukae hue hain:

Jo farmaya ke dosh-e-auliya par hai qadam mera
Liya sar ko jhuka kar sab ne talwa Ghaus-e-Azam ka

Imam-e-Ahl-e-Sunnat A‘la Hazrat Imam Ahmad Raza Fazil Barelvi رحمۃ اللہ علیہ farmate hain:

Sar bhala kya koi jaane ke hai kaisa tera
Auliya milte hain aankhen, woh hai talwa tera


Ta‘leem o Tarbiyat

Hazrat Ghaus-e-Azam ne abhi ‘umr ki chand manzilein hi tay ki thin ke walid ka saya sar se uth gaya. Ta‘leem o tarbiyat ka tamam bojh walida-e-muhtarma Fatima رضي الله تعالى عنها ke kandhon par aa pada, aur unhon ne apne laqt-e-jigar ki parwarish o ta‘leem ka farz khoobi se anjaam diya.

488 Hijri (1095 Isvi) mein 18 saal ki ‘umr mein aap ‘uloom-e-zahiri ki tahseel ke liye Baghdad pohnche aur namwar ‘ulama se faiz hasil kiya. Jin mein yeh asami khas taur par qabil-e-zikr hain:
Abu-ul-Wafa Ali bin Aqeel Hanbali, Abu-ul-Khattab Mehfooz Kalwadhani Hanbali, Abu Ghalib Muhammad bin-ul-Hasan Baqillani, Abu Sa‘eed Muhammad bin Abdul Kareem, Abu Zakariya Yahya bin Ali Tabrizi, ‘Arif Billah Hazrat Hammad Bas, aur Qazi Abu Sa‘eed Mubarak Makhzumi quddisa sirruhum.

Aakhri buzurg se aap ko khas ‘aqeedat thi aur wahi aap ke Shaykh-e-Tariqat bane. Hazrat Makhzumi farmate hain:

“Abdul Qadir Jilani ne mujh se khirqa-e-khilafat pehna aur main ne un se pehna; hum mein se har ek doosre se barakat hasil karega.”
(Qala’id-ul-Jawahir)


Aaghaz-e-Rushd o Hidayat

Jab aap ne Baghdad mein shari‘at o tariqat ke ‘uloom o ma‘arif hasil kar liye to makhlooq-e-Khuda ko faiz-yab karne ka waqt aa gaya. Shawwal 521 Hijri (1127 Isvi) mein Mohalla Halba Baraina mein wa‘z ka aaghaz farmaya.

Bab-uz-Zaj ke ilaqe mein Hazrat Abu Sa‘eed Makhzumi ka madrasa tha jo unhon ne Ghaus-e-Azam رضي الله تعالى عنه ke hawale kar diya. Aap ke qudoom se talaba ka itna hujoom hua ke purani imarat na-kaafi ho gayi. 528 Hijri (1134 Isvi) mein naya madrasa mukammal hua jo Madrasa-e-Qadiriyya ke naam se mashhoor hua.

Aap ne 521 se 561 Hijri tak wa‘z o tableegh ka silsila jari rakha—chalis saal tableegh aur teintees saal tadrees o ifta ke faraiz anjaam diye.


Ghaus-e-Azam ka Wa‘z

Aap haftay mein teen din khutba irshad farmate: Jumma ki subh, Mangal ki shaam, aur Itwar ki subh. Pehle qari tilawat karta, phir aap wa‘z farmaate. Tilawat saadah andaaz mein, baghair lahn hoti.

Aap farmate hain ke ibtida mein wa‘z ka itna ghalba hota ke khamoshi mumkin na thi. Pehle do-teen sunne wale hote, phir hujoom is qadr badha ke Eidgah aur phir shehar se bahar khulay maidan mein majalis hone lagin—ek majlis mein qareeban 70,000 sam‘een. 400 afraad qalam o dawat ke sath malfoozat likhte.

Mashayikh ke mutabiq jab aap mimbar par “Al-hamdu lillah” farmate to zameen par maujood har wali khamosh ho jata; is liye aap is kalimay ko takrar ke sath aur darmiyan mein sakoot ke sath irshad farmate. Aap aam tor par Arabi aur kabhi Farsi mein bhi khutba dete—isi liye Zul-Baynain aur Imam-ul-Fareeqain kehlaye. Aap ki karamat yeh thi ke qareeb o door dono aap ki awaaz yaksa sunte the.


Wa‘z ki Asar-Angaizi

Aap ka wa‘z nihayat mo‘assir hota. Zabaan-e-mubarak se mazaameen ka aisa selaab rawan hota ke pathar-dil bhi mom ho jate. Siyah-kaar taib ho jate, kufr ki aaloodgi mein lipte log Islam ke sarchashmay ke qareeb aa jate. Kai log be-haal ho jate, kuch murgh-e-bismil ki tarah tarapte, aur baaz to wahin jaan bhi de dete.

Shaykh Umar Kaysani ke bayan ke mutabiq har majlis mein kuch Yahood o Nasara Islam qubool karte, chor-daku apne jurm chhor dete, aur bad-‘aqeeda apne ghalat nazariyat se tauba karte. Ek Nasrani rahib ne bataya ke khwab mein Hazrat ‘Isa عليه السلام ne use Baghdad ja kar Shaykh Abdul Qadir رضي الله تعالى عنه ke haath par Islam laane ka hukm diya.

Khud aap farmate hain: 5,000 se zyada Yahood o Nasara mere haath par Islam laye, aur 1,00,000 se zyada rahzan aur fasiq afraad ne tauba ki.


Uslub-e-Khitabat

Aap aam tor par saadah aur aam-fahm guftagu farmate, magar kabhi darya-e-‘ilm josh maarta to nihayat ‘alimana aur muhaqqiqana nuqaat bayan farmate. Aayat ki aisi tafseer hoti ke bare bare ‘ulama hairan reh jate. Sahaba aur auliya ke aqwal bhi khitab ka hissa bante.

Baghdad ki bigarti hui mu‘ashrati, samaji aur deeni surat-e-haal aap se posheeda na thi. Zulm, jabr, ‘aish-o-tarab aur tan-asani se nikalna hi aap ka bunyadi maqsad tha—isi liye Baghdad ko markaz-e-da‘wat banaya. Bare logon ko bhi unki buraiyon par be-jhijhak tokte aur islah ki taraf tawajjoh dilate.


Da‘wati Uslub ke Chand Namoonay

Zalimon, ‘ulama, sufiyon aur fuqaha se khitab ke chand iqtebasat:

  1. “Ramzan mein pani se nafs ko rokte ho, iftar mein logon ke khauf se khate ho, aur zulm se hasil mal nigal jate ho.”
  2. “Tum khud ser ho kar khate ho aur padosi bhooka hota hai, phir iman ka da‘wa karte ho—iman sahih nahi.”

Molviyon, fuqaha aur zahidon se farmaya:
“Tum mein koi aisa nahi jo tauba ka mohtaaj na ho… sacchi muhabbat woh hai jo muhabbat-e-Ilahi hai.”

Dua:
“Ya Ilahi! Munafiqeen ki shaukat tod de, unhein zillat de, tauba ki taufeeq ata farma; zalimon ka qila‘ qam‘ kar de—ya unki islah farma.”


Ghaus-e-Azam ka Andaaz-e-Tableegh aur ‘Asr-e-Haazir

Aaj agar sirf karamat par zor diya jaye aur ihya-e-deen ke aap ke qadam na dikhaye jayein to woh maqsad hasil nahi hota. Jab aap ki da‘wati koshishon ko numaya kiya jaye to ek taraf ilm mein izafa hota hai, doosri taraf jazba-e-tableegh paida hota hai. Agar aaj ke du‘at aur khataba apna tarz Ghaus-e-Azam رضي الله تعالى عنه ke uslub par dhal lein to aaj bhi bhatke hue log hidayat pa sakte hain.

Aap ne shari‘at ke tan-e-be-jaan mein phir se jaan daali; isi liye aap “Muhiy-ud-Deen” kehlaye. Aap ke khutbat aur uslub se zamana aaj bhi faiz-yab hai aur inshaAllah qiyamat tak rahega.

Credits & Acknowledgements

Article Writing: از: محمد فضل الرحمن برکاتی
Post By: Maula Ali Research Center
Share This

Related Mazameen