Minara Masjid Minara Masjid

Hazrat Qais bin Saad Sa‘adi

| February 5, 2026 3 min read 6 views

حضرت قیس بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت قیس بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ازقلم : عارف محمود صاحب 

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے محبوب جاں نثار تھے۔ ایک دفعہ حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ملاقات کے لیے تشریف لے گئے آپ کا یہ معمول تھا کہ اجازت کے بغیر کسی کے مکان میں داخل نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ آپ نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کے دروازے پر کھڑے ہوکر فرمایا: ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت آہستہ جواب دیا۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پھر آہستہ سے آپ کے سوال کا جواب دیا۔پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ اس بار بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سلام کے جواب میں حضرت سعد نے رضی اللہ عنہ اپنی آواز بہت پست رکھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ سعد( رضی اللہ تعالیٰ عنہ )مجھ کو اجازت دینے میں متامل ہیں چنانچہ آپ واپس ہوچلے۔ اب حضرت سعد رضی اللہ عنہ فوراً باہر آئے اور عرض کیا۔ ’’یارسول اللہ !صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں آپ کا سلام سن رہاتھا اورآپ کے سلام کا جواب اس لیے آہستہ دے رہاتھا کہ آپ ہم پر کثرت سے سلام کریں۔‘‘

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم متبسم ہوگئے اور ان کے گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے انتظام کا حکم دیاچنانچہ آپ نے غسل فرمایا۔ اس کے بعد حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی خدمت میں موٹے کپڑے کی ایک چادر پیش کی جو زعفران یاددرس (ایک قسم کی خوشبودار گھاس) میں رنگی ہوئی تھی۔ آپ نے اس کو اپنے جسمِ اطہر پر لپیٹ لیا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی۔ ’’الٰہی اپنی رحمت اور مہربانی سعد پر نازل فرما‘‘۔ اس کے بعد آپ نے کھانا کھایا اور پھر واپسی کا ارادہ فرمایا۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا گدھا منگایا اور اس کی پشت پر چادر بچھوائی ساتھ ہی اپنے بیٹے سے فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے وہ آپ کے ساتھ چل پڑے۔ رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میرے ساتھ سوار ہوجاؤ۔ ان کو پاسِ ادب مانع ہوا اورانہوںنے آپ کے ساتھ بیٹھنے پر عذر کیا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار ہوجاؤ یاواپس ہوجاؤ۔ انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کی جرأت نہ کی اور واپس چلے گئے۔

حضرت قیس کافضل وکمال:

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہ سعادت مند فرزند جن کو سید الانام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس قدر ادب واحترام ملحوظ تھا ،حضرت قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔سیدنا ابوالفضل حضرت قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار کبارِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں ہوتا ہے، ان کا تعلق خزرج کے خاندان بنوسعد سے تھا۔حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد گرامی حضرت سعد بن عبادہ خزرج کے رئیسِ اعظم اور بزمِ رسالت( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خاص اراکین میں سے تھے۔ وہ نہ صرف خود ایک عظیم المرتبت صحابی تھے بلکہ ان کی والدہ حضرت عمرہ بنت مسعود اور اہلیہ حضرت فکیہہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی شرفِ صحابیت سے بہرہ ور تھیں۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی گھرانے میں شعور کو پہنچے اوروالدین کی طرح ہجرتِ نبوی( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) سے پہلے شرف ِاسلام سے بہرہ ور ہوئے۔ مسندِ احمد بن حنبل میں ہے کہ سرور ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ ٔ منورہ میں نزولِ اجلال فرمایا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر بارگاہِ رسالت مآب میں حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔ ’’یارسول اللہ! یہ میرا فرزند قیس ہے میں اسے آپ کے حوالے کرتا ہوں آپ اس سے کام لیا کریں۔‘‘

حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی دل وجان سے اپنے آپ کو سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ اہلِ سیر نے لکھا ہے کہ ان کو دربارِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حد درجہ تقرب وامتیاز حاصل تھا۔اس کا اندازہ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ دربارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں وہ مقام رکھتے تھے جو کسی فرماںروا کے یہاں پولیس کے اعلیٰ افسر کا ہوتا ہے۔

قیس بن سعدکی خصوصیات:

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے قد کاٹھ اورڈیل ڈول کے جوان تھے۔ گدھے پر بیٹھتے تو پاؤں زمین کو چھوتے تھے۔ چہرہ قدرتاً بالوں سے بالکل خالی تھا اس لیے اہلِ مدینہ از راہِ مذاق کہا کرتے تھے کہ کاش ان کے لیے ایک داڑھی خرید لی جاتی۔ صورت نہایت حسین وجمیل پائی تھی ظاہری وجاہت اور رعب کے ساتھ وہ حسن باطنی سے بھی متصف تھے۔ نہایت شجاع، پاک باز، زیرک اور صائب الرائے تھے۔ فیاضی اور جود وسخا انہیں اپنے بلند حوصلہ آبا واجداد سے ورثے میں ملی تھی اور وہ عرب کے دریا دل لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ شوقِ جہاد کا یہ عالم تھا کہ عہدِ رسالت کے بیشتر غزوات وسرایا میں والہانہ ذوق وشوق سے شریک ہوئے۔

قیس بن سعدکی فیاضی:

 اربابِ سیر نے سریۂ سیف البحریا جیش الخبط (رجب ۸ہجری ) اور غزوۂ فتح (رمضان ۸ ؍ہجری) میں ان کی شرکت کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے۔ سیف البحر کی مہم کی قیادت سرور ِدو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سونپی تھی۔ ان کے ساتھ تین سو مہاجرین وانصار تھے جن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت قیس بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی شامل تھے۔ یہ مہم بنو جہینہ کے علاقے کی طرف (قافلۂ قریش کی دیکھ بھال یا اس کی توجہ منتشر کرنے کے لیے) بھیجی گئی تھی۔یہ علاقہ مدینۂ منورہ سے پانچ روز کے فاصلے پر ساحلِ سمندر پر واقع تھا اسی لیے اس کو سریۂ سیف البحر کہا گیا ہے (سیف البحر کے معنی ساحل سمندر کے ہیں) ۔جیش الخبط یا سریۂ خبط اس کو اس لیے کہاگیا ہے کہ اس مہم کے دوران میں رسد ختم ہوجانے کی وجہ سے مسلمانوں کو درختوں کے پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانے کی نوبت آئی تھی۔ خبط درخت کے پتوں کو کہتے ہیں جو لاٹھی وغیرہ سے جھاڑے جاتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ مجاہدین نے ساحلِ سمندر پر قیام کیاتو ان کا سامانِ رسد ختم ہوگیا اور وہ درختوں کے پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانے پر مجبور ہوگئے۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے تین مرتبہ تین تین اونٹ قرض لے کر ذبح کرائے اور لشکر کے لیے خوراک فراہم کی۔ علامہ ابن اثیر کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق نے حضرت ابوعبیدہ (امیر لشکر) سے کہا کہ ان کو روکا جائے ورنہ وہ اپنے باپ کا مال اسی طرح صرف کردیں گے چنانچہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مزید اونٹ ذبح کرانے سے منع کردیا۔

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اسی مہم کے دوران جب پتے کھاکھاکر ہمارے گلے زخمی ہوگئے تو ایک دن سمندر کی موجوں نے ایک بہت بڑا آبی جانور ہماری طرف کنارے پر لا پھینکا جسے عنبر کہتے ہیں ۔ (یہ وہیل یا کوئی دوسری بڑی مچھلی تھی) ہم لوگوں نے (جو تعداد میں تین سو تھے) نصف مہینے تک اس کے گوشت پر گزارا کیااور ہم سب کے سب موٹے تازے ہوگئے۔ اس مچھلی کی جسامت کا یہ حال تھا کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی نصب کرنے کا حکم دیا اور پھر سب سے طویل قامت آدمی (حضرت قیس بن سعد) کو سب سے بلند قامت اونٹ پر سوار کرکے اس کے نیچے سے گزارا وہ بے تکلف گزر گئے اور پسلی ان کے سر سے اونچی رہی۔ ایک دن حضرت ابوعبیدہ نے لوگوں کو اس کی آنکھ کے گڑھے میں بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ اصحاب آسانی سے اس میں بیٹھ گئے۔ مدینہ کو واپس ہوتے ہوئے ہم لوگوں نے بچے ہوئے گوشت کو بطور زادِ راہ ساتھ لے لیا۔ مدینہ پہنچ کر ہم نے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں سارا واقعہ عرض کیا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک نے تمہاری شکم پروری کے لیے اسے پیدا فرمادیا اگر اس کا کچھ گوشت ساتھ لائے ہو تو مجھے بھی کھلاؤ۔ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا اور آپ نے اسے تناول فرمایا۔

حافظ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں لکھا ہے کہ سریۂ سیف البحر سے واپس آکر صحابہ نے حضرت قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اونٹ ذبح کرانے کا واقعہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ فیاضی اور سخاوت اس گھرانے کا خاصہ ہے۔

صحیح بخاری میں ہے کہ مہمِ سیف البحر سے واپس آکر حضرت قیس نے اپنے والد گرامی حضرت سعد بن عبادہ کو مسلمانوں کی فاقہ کشی کا حال سنایا تو انہوں نے فرمایا کہ اونٹ ذبح کرائے؟ جواب دیا میں نے ایسا ہی کیا لیکن دوسرے دن مسلمانوں کا پھر وہی حال تھا۔ حضرت سعد نے فرمایا اور اونٹ ذبح کراتے ۔ عرض کیا میں نے دوبارہ ایسا ہی کیا لیکن اس کے بعد مسلمان پھر بھوک میں مبتلا ہوگئے فرمایا کہ پھر ذبح کراتے۔ حضرت قیس (بصد حسرت) بولے کہ مجھے روک دیاگیا۔

علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اسد الغابہ میں بیان کیا ہے کہ جیش الخبط کے سلسلے میں کسی نے حضرت سعد بن عبادہ کو بتایا کہ حضرت قیس کو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے ایما پر مزید اونٹ ذبح کرانے سے روکا گیا تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ کا مال اسی طرح صرف کردیں گے۔ یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ فوراً سرکار ِدو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشتِ مبارک کے پیچھے کھڑے ہوکر کہا :ابنِ ابی قحافہ اور ابن خطاب کی طرف سے کوئی جواب دے کہ وہ میرے بیٹے کو بخیل بنانا چاہتے ہیں۔

فتحِ مکہ کے دن اعزاز:

رمضان المبارک ۸؍ ہجری میں حضرت قیس بن سعد کو ان دس ہزار قدوسیوں میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا جو فتحِ مکہ کے موقع پر رحمتِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھے۔ حضرت قیس کے والد گرامی حضرت سعد بن عبادہ بارگاہِ نبوت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں خاص مقام رکھتے تھے۔ فتح مکہ کے دن حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جھنڈا ان کے سپرد کررکھا تھا وہ یہ علَم اٹھائے بڑی شان سے انصار کے آگے آگے چل رہے تھے۔ راستے میں ایک جگہ حضرت عباس ابو سفیان کو ساتھ لیے کھڑے تھے۔ حضرت سعد کی نظر حضرت ابو سفیان(ابوسفیان اس وقت تک ایمان نہیںلائے تھے) پر پڑی تو بڑے جوش سے یہ شعر پڑھنے لگے۔

ترجمہ: ’’ آج کا دن خوںریزی (سخت لڑائی) کا دن ہے آج کعبہ (حرم) حلال کردیا جائے گا۔‘‘ (یا آج کے دن عزتیں اتاری جائیں گی)

جب رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اطلاع دی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یوں کہہ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: ’’سعد نے غلط کہا آج کعبہ کی عظمت دوبالا ہوگی آج کعبہ کو غلاف پہنایا جائے گا۔‘‘ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ میرا جھنڈا سعد سے لے کر ان کے بیٹے قیس کو دیا جائے۔ اب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ!( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) اپنا علَم قیس کی بجائے کسی دوسرے کے سپرد فرمایے میں ڈرتا ہوں کہ قریش کے خلاف قیس کا جوش ِانتقام تازہ نہ ہوجائے۔‘‘

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات مان لی اور جھنڈا حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لے کر حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے کردیا۔

مصرکی گورنری:

سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کا سراغ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عہدِ خلافت میں ملتا ہے۔ سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے قدر دان تھے۔ وہ سریر آرائے خلافت ہوئے تو حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا والی مقرر فرمایا۔ انہوں نے بڑے مدبرانہ انداز سے مصر کا نظامِ حکومت چلایا لیکن اہل ِکوفہ کو حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امارتِ مصر بوجوہ پسند نہیں تھی اس لیے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے مصر کے حالات اس انداز سے پیش کیے کہ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امارتِ مصر سے سبک دوش کردیااور ان کی جگہ محمد بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا والی مقرر کیا۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصرسے مدینہ آگئے لیکن مروان بن الحکم نے ان کی مدینے میں موجودگی کو پسند نہ کیاچنانچہ وہ کوفہ چلے گئے اور ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کے مطابق وہیں مستقل اقامت اختیار کرلی۔ 

جرأت وبے باکی:

حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پرجوش حامیوں میں تھے۔ جنگِ جمل کے بعد جنگ ِصفین میں شریک ہوئے اور کئی موقعوں پر فوجِ مرتضوی کی قیادت کی۔ صفین کے بعد خوارج نے زور باندھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی سرکوبی کے لیے آگے بڑھے اس سلسلے میں نہروان کی خوںریز جنگ پیش آئی۔ اس جنگ میں حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے تمام قبیلے کے ساتھ لشکرِ مرتضوی میں شامل تھے۔لڑائی شروع ہونے سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اتمامِ حجت کے لیے خوارج کے پاس بھیجا کہ انہیں سمجھا بجھا کر اپنی روش کو ترک کرنے پرآمادہ کریں۔

دورانِ گفتگوخارجیوں کے سردار عبداللہ بن سنجر نے کہا: ’’ہم آپ کاساتھ نہیں دے سکتے البتہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا کوئی شخص ہوتو اس کی خلافت ہمیں منظور ہوگی۔‘‘حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’ہم میں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب موجود ہیں تم ان کے رتبے کا کوئی آدمی پیش کرو۔‘‘عبداللہ بن سنجر نے کہا ’’ہم میں اس رتبے کی کوئی شخصیت نہیں۔‘‘ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے ’’ تو پھر تم جلد اپنی اصلاح کرو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے دلوں میں فتنہ جڑ پکڑ رہا ہے۔‘‘

اس گفتگو کے بعد فریقین میں سخت لڑائی ہوئی جس میں خوارج کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ ۴۰ھ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے شہادت پائی اور سیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسندِ خلافت پر بیٹھے تو حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے بھی دست و بازو بن گئے۔ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوائلِ خلافت میں امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک زبردست لشکر شام سے عراق کی جانب روانہ کیا۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع ملی تو وہ پانچ ہزار جنگجوؤں کو ساتھ لے کر شامی لشکر کو روکنے کے لیے انبار پہنچے۔ ان جنگجوئوں نے اپنے سر منڈوا رکھے تھے اور موت پر بیعت کی تھی۔ شامی لشکر نے انبار کے گرد گھیرا ڈال لیا اسی اثنا میں امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مابین معاہدۂ صلح طے پاگیا اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھ بھیجا کہ انبار شامیوں کے حوالے کرکے میرے پاس مدینہ آجاؤ۔

ًّ سب کے قرضے معاف کردیے 

مدینہ پہنچ کر انہوں نے ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں سے علاحدگی اختیار کرلی اور گوشۂ عزلت میں بیٹھ کر عبادتِ الٰہی میں مصروف رہنے لگے۔ ۶۰؍ ہجری کے دوران علیل ہوگئے مدینہ کے بہت سے لوگ ان کے مقروض تھے ان میں سے اکثر چونکہ قرض ادا کرنے کی سکت نہ رکھتے تھے اس لیے حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوپرسہ دینے کے لیے آنے سے شرماتے تھے۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان لوگوں کی مجبوری کا علم ہواتو اعلان کرادیا کہ میں اپنا قرض معاف کرتا ہوںاب کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔

یہ اعلان سن کر سارا شہر ان کی عیادت کے لیے ٹوٹ پڑا۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالا خانے پر تھے لوگوں کا اتنا ہجوم ہوا کہ کوٹھے کازینہ ٹوٹ گیا۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ علالت طول پکڑ گئی اور کچھ عرصے بعد انہوں نے داعی ِاجل کو لبیک کہا۔ اپنے پیچھے ایک صاحبزادے چھوڑے جن کا نام عامر تھا انہوں نے اپنے والد سے حدیث روایت کی ہے۔ حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار فضلائے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ہوتا ہے اور ان سے مروی کئی احادیث بھی موجود ہیں۔

 

Hazrat Qais bin Saad Sa‘adi رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Az qalam: Arif Mahmood Sahib

Hazrat Saad bin Ubadah رضی اللہ تعالیٰ عنہ Sarwar-e-Aalam ﷺ ke mehboob jaan-nisaar thay. Ek martaba Huzoor-e-Akram ﷺ un ki mulaqat ke liye tashreef le gaye. Aap ﷺ ka ye mamool tha ke baghair ijazat kisi ke makan mein daakhil nahi hotay thay. Chunanche aap ﷺ ne Hazrat Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ ke makan ke darwazay par kharay ho kar farmaya:
“Assalamu Alaikum wa Rahmatullah.”

Hazrat Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ ne bohat aahista jawab diya. Huzoor ﷺ ne dobara farmaya:
“Assalamu Alaikum wa Rahmatullah.”
Is martaba bhi jawab aahista hi raha. Phir teesri martaba Huzoor ﷺ ne salam farmaya, magar Hazrat Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ ne is dafa bhi apni awaaz bohat past rakhi.

Huzoor ﷺ ne khayal farmaya ke shayad Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ ijazat dene mein ta’ammul kar rahe hain, chunanche aap ﷺ wapas ho chaley. Itnay mein Hazrat Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ foran bahar aaye aur arz ki:
“Ya Rasool Allah ﷺ! Meray maa baap aap par qurban hon. Main aap ka salam sun raha tha, aur jaan boojh kar aahista jawab de raha tha taa ke aap hum par baar baar salam farmayein.”

Ye sun kar Huzoor ﷺ muskuraye aur un ke ghar tashreef le gaye. Hazrat Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ ne ghusl ka intezam karwaya, Huzoor ﷺ ne ghusl farmaya. Phir ek motay kapray ki chadar jo zafran ya dars (khushbodar ghaas) mein rangi hui thi, pesh ki. Huzoor ﷺ ne usey apnay jism-e-athar par lapait liya aur dono haath utha kar dua farmayi:
“Allahumma apni rehmat aur meharbani Saad par naazil farma.”

Is ke baad aap ﷺ ne khana tanawul farmaya aur rawangi ka irada kiya. Hazrat Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ ne apna gadha mangwaya, us ki pusht par chadar bichai aur apnay betay se farmaya ke Huzoor ﷺ ke sath jao. Huzoor ﷺ gadhe par sawar hue aur wo sath chal paray. Rahmat-e-Aalam ﷺ ne farmaya:
“Meray sath sawar ho jao.”
Magar paas-e-adab ne mana kiya aur unhon ne uzr kiya. Huzoor ﷺ ne farmaya:
“Ya to sawar ho jao ya wapas chalay jao.”
Wo sawari ki jurrat na kar sakay aur wapas ho gaye.


Hazrat Qais ka Fazl-o-Kamaal

Hazrat Saad bin Ubadah رضی اللہ تعالیٰ عنہ ke ye sa’adat-mand farzand Hazrat Qais bin Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ thay. Aap ka shumar kibar-e-Sahaba mein hota hai. Aap ka ta’alluq qabeela-e-Khazraj ke khandan Banu Saad se tha. Aap ke walid Hazrat Saad bin Ubadah Khazraj ke sarbarah aur Bazm-e-Risalat ﷺ ke khaas arkaan mein se thay. Aap ki walida Hazrat Amrah bint Mas‘ood aur aap ki ahliya Hazrat Fakiha رضی اللہ تعالیٰ عنہما bhi sahabiyat thi.

Hazrat Qais رضی اللہ تعالیٰ عنہ ne walidain ki tarah hijrat-e-Nabawi ﷺ se pehlay Islam qabool kiya. Musnad-e-Ahmad ke mutabiq, jab Huzoor ﷺ Madinah tashreef laye to Hazrat Saad apnay betay Qais ko sath la kar arz ki:
“Ya Rasool Allah ﷺ! Ye mera farzand Qais hai, main ise aap ke hawalay karta hoon.”

Hazrat Qais رضی اللہ تعالیٰ عنہ ne apni zindagi Rasool-e-Akram ﷺ ki khidmat ke liye waqf kar di. Ahle-Seer likhtay hain ke darbar-e-Risalat ﷺ mein unhein khaas qurb hasil tha. Sahih Bukhari ki riwayat ke mutabiq, Hazrat Anas bin Malik رضی اللہ تعالیٰ عنہ farmatay hain ke Qais bin Saad ka maqam Rasool ﷺ ke darbar mein aisa tha jaisa kisi badshah ke yahan police ke aala afsar ka hota hai.


Qais bin Saad ki Khusosiyat

Hazrat Qais رضی اللہ تعالیٰ عنہ buland qadd-o-qaamat aur mazboot jism ke malik thay. Gadhe par baithtay to paon zameen ko chho jatay. Chehra fitratan baalon se khali tha, is liye Madinah ke log mazaaq mein kehtay thay ke kaash in ke liye daadhi khareed li jaye. Surat nihayat haseen thi. Aap shujaa‘, paak-baaz, zareek aur sahib-e-raaye thay. Sakhawat aur jood-o-ata aap ko apnay buzurgon se wirsay mein mili thi. Ahd-e-Risalat ke aksar ghazwat aur saraya mein hissa liya.


Qais bin Saad ki Fayazi

Sariyah-e-Saif-ul-Bahr (Jaysh-ul-Khabt) aur Fatah-e-Makkah mein aap ki shirkat khaas taur par mashhoor hai. Jaysh-ul-Khabt mein jab ration khatam ho gaya aur log darakhton ke pattay khanay par majboor ho gaye, to Hazrat Qais رضی اللہ تعالیٰ عنہ ne teen martaba teen teen oont qarz le kar zibh karwaye aur lashkar ko khana faraham kiya. Isi muhim mein samandar se aik bohat bari machhli (Anbar) sahil par aa gayi, jis ka gosht aadha maheena lashkar ne khaya.

Huzoor ﷺ ne Madinah wapas aakar is waqia ko sun kar farmaya:
“Ye Allah ki taraf se tumhari ghiza thi.”
Aur Hazrat Qais ke khandan ki sakhawat ko saraha.


Fatah-e-Makkah ka Aizaaz

Ramzan 8 Hijri ko Fatah-e-Makkah ke mauqe par Hazrat Qais un das hazaar mujahideen mein shamil thay. Pehlay jhanda un ke walid Hazrat Saad ke paas tha, baad mein Huzoor ﷺ ne hikmat ke tehat jhanda Hazrat Zubair bin Awam رضی اللہ تعالیٰ عنہ ko de diya.


Misr ki Governor-ship

Hazrat Ali کرم اللہ وجہہ ke daur-e-khilafat mein Hazrat Qais رضی اللہ تعالیٰ عنہ ko Misr ka wali muqarrar kiya gaya. Aap ne nihayat tadabbur se hukumat chalai, magar baaz siyasi wajoohat ki bina par baad mein wapas bula liye gaye.


Jurrat aur Be-Baaki

Aap jang-e-Jamal, Siffin aur Nahrawan mein Hazrat Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ ke sath shamil rahe. Khawarij ke muqable mein bhi aham kirdar ada kiya. Baad mein Hazrat Hasan رضی اللہ تعالیٰ عنہ ke daur mein bhi un ke madadgar rahe.


Sab Qarze Maaf Kar Diye

Zindagi ke aakhri daur mein Madinah mein ibadat aur uzlat ikhtiyar ki. Jab beemar hue aur maloom hua ke bohat se log un ke qarzdar hain aur sharm ki wajah se aate nahi, to aap ne ailaan kar diya ke “Main sab qarz maaf karta hoon.”
Is ailaan par shehar bhar ke log aap ki iyadat ke liye aa gaye.

Kuch arsay baad Hazrat Qais bin Saad رضی اللہ تعالیٰ عنہ ne wisal farmaya. Aap ek farzand, Hazrat Aamir, chhor gaye jin se ahadees bhi manqool hain. Aap ka shumar fazil Sahaba mein hota hai.

Credits & Acknowledgements

Presented By: ازقلم : عارف محمود صاحب 
Share This

Related Mazameen