Minara Masjid Minara Masjid

اُفقِ علم وولایت کا درخشاں ستارہ

| February 5, 2026 3 min read 7 views

اُفقِ علم وولایت کا درخشاں ستارہ

اُفقِ علم وولایت کا درخشاں ستارہ

خاتونِ اہل بیت سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنہا

از: فضہ حسین قادری

تاریخ اسلام میں ایسی بے شمار ہستیاں گزری ہیں جنہوں نے زہد وورع، تقویٰ وپاکیزگی، عبادت وریاضت اور مخلوق خدا کی خدمت کے ذریعہ اللہ رب العزت کا قرب حاصل کیا،اور سینکڑوں سال گزرنے کے بعد بھی ان ہستیوں پر تاریخ نازاں ہے اور ان کی سیرت انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگرتاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو مراتبِ ولایت پر فائز شخصیات میں اکثریت مردوں کی ہے، لیکن تاریخ میںبے شمار نام ان خواتین کے بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنی عائلی زندگی کے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سلوک وتصوف اور طریق ولایت پر ایسے ایسے سنگِ میل رقم کیے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ اس صف میں جہاں ازواج مطہرات، صحابیات، اہل بیت اطہار کی عظیم المرتبت شہزادیاں جلوہ افروز ہیں وہاں ایک ایسی عظیم المرتبت ہستی بھی اُفق ولایت پر درخشاں ہے جس سے بیک وقت سلوک وتصوف اور علوم وفنون کا فیض جاری ہوا اور تاریخ اسلام میں کئی صوفیا اور ائمہ کرام نے اپنے دامن کو ان کے فیوض سے معطر کیا۔ اس ہستی کو تاریخ اسلام نفیسۃ العلم والمعرفۃ رضی اللہ عنہا کے خطاب سے یاد کرتی ہے۔ اس تحریر کا مقصود انہی کے ذکر سے اپنے قلوب واذہان کو منور کرنا ہے۔

 

نام ونسب

آپ کا اسم گرامی سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنہا بنت سید حسن الانور رضی اللہ عنہ ہے۔ سید حسن الانور سید زید الایلج کے صاحبزادے اور امام حسن بن علی کے پوتے ہیں۔ اس لحاظ سے سیدہ نفیسہ امام حسن کی پڑ پوتی ہیں۔ (الدرر النفیسۃ)

ولادت باسعادت اور ابتدائی زندگی

حضرت سیدہ نفیسہ مکہ مکرمہ میں ۱۱؍ ربیع الاوّل ۱۴۵ ھ کو بروزبدھ حسن الانوار اور حضرت اُم سلمہ زینب کے گھر پیدا ہوئیں۔ آپ کی عمر مبارک ابھی پانچ سال تھی جب آپ کے والد گرامی کو مدینہ منورہ کا امیر بنادیاگیا اور آپ کے خاندان نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ آپ نے چھ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور اس کے ساتھ ساتھ امام دارُ الہجرت امام مالک بن انس اصبحیسے حدیث اور فقہ کا علم بھی حاصل کرتی رہیں۔ نیز مسجد نبوی میں ہونے والی علمی وفقہی مجالس میں شرکت کرتیں اور ان علوم میں تبحر حاصل کیا۔ آپ کے والد گرامی حضرت حسن الانور کا معمول تھا کہ مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے کے بعد اپنی کم سن صاحبزادی سیدہ نفیسہ کو روضۂ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پہ حاضر ی دلوانے کے لیے لے جاتے اور وہاں تاجدار کائنات کی بارگاہ میں عرض کناں ہوتے۔ ’’یارسول اللہ! میں اپنی اس بیٹی نفیسہ سے راضی ہوں‘‘ یہ کہہ کر آپ واپس پلٹ آتے۔ ایک روز تاجدار کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حسن الانور کو خواب میں شرفِ زیارت بخشا اور فرمایا: یا حسن، اننی راض عن ابنتک نفیسہ رضاک عنہا، والحق سبحانہ وتعالیٰ راض عنہا برضای عنہا (اے حسن! میں بھی تیری بیٹی نفیسہ سے راضی ہوں اور میرا رب بھی اس سے راضی ہے۔) (الجواہر النفیسۃ: ۵، اہل البیت: ۵۳)

سیدہ نفیسہ کی شادی اور اولاد مبارک

 

سیدہ نفیسہ کا نکاح تاجدار کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود مقرر فرمایا۔ امام جعفر الصادق کے صاحبزادے حضرت اسحاق المؤتمن نے حضرت حسن الانور کے سامنے سیدہ نفیسہ سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت اسحاق المؤتمن تاجدار کائنات کی بارگاہ میں عرض کناں ہوئے:’’یار سول اللہ! میں نے یہ خواہش صرف اس لیے کی ہے کہ کیوں کہ سیدہ نفیسہ تقویٰ، حیا، خدمتِ خلق،زہد وورع، اور عبادت وریاضت میں اپنی مثال آپ ہیں اور کلامِ الٰہی کی حافظہ اور مفسرہ بھی ہیں۔‘‘ یہ عرض کرنے کے بعد آپ واپس لوٹ آئے۔ اگلی ہی رات تاجدار کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حسن الانور کو خواب میں شرف زیارت بخشا اور فرمایا: اے حسن! نفیسہ کی نسبت اسحاق المؤتمن سے کردو۔ (الجواہر النفیسۃ)

اوریوں آپ کانکاح بروز جمعہ ۵؍ رجب ۱۶۱ھ میں ہوا۔ حضرت اسحاق المؤتمن اپنے وقت کے بہت بڑے محدث تھے اور کئی ائمہ نے آپ سے روایات نقل کی ہیں۔ آپ کی زیارت سے مستفید ہونے والے لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ آپ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک صاحبزادہ سید قاسم اور ایک صاحبزادی سیدہ ام کلثوم عطا فرمائی۔ (مرشد الزوار: ۱۶۱)

عبادت وریاضت

 

سیدہ نفیسہ کا قلبِ اطہر ذوق عبادت، محبت الٰہی، نور ایمان، صدق ویقین سے معمور تھا۔ عبادت، علم وعمل، طلب معرفت، رضاے حق اوراطاعت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کی زندگی کا اوڑھنا بچھوناتھے۔ آپ کی بھتیجی سیدہ زینب بنت سید یحیٰ فرماتی ہیں: میری پھوپھی جان بہت پرہیزگار اور متقی خاتون تھیں۔ میں چالیس سال آپ کی خدمت میں رہی ہوں اور اس عرصے میں میں نے انہیں کبھی سوتے نہیں دیکھا۔ آپ تین دن میں فقط ایک بار کھانا تناول فرماتی تھیں۔

امام شرف الدین بوصیری سیدہ نفیسہ کی شان میں اس طرح لب کشا ہیں:

عرش الحقائق مہبط الاسرار

قبر نفیسۃ بنت ذی الانوار

عرش کے حقائق سے گرتے ہیں جو اسرار

قبرِ نفیسہ پر، جو ہیں بنت ذی الانوار

حسن بن زید بن الحسن نجل الامام

علی ابن عم المصطفی المختار

حسن بن زید بن الحسن ہیں بیٹے امام علی کے

وہ ہیں بیٹے مصطفی مختار کے چچا کے

حضرت سیدہ نفیسہ نے زندگی میں تین مرتبہ حج بیت اللہ کاشرف حاصل کیا اور اکثر حج انہوں نے پیدل چل کر ادا کیے۔ جب آپ سے دریافت کیاگیا کہ عالمِ ضعف میں بھی ایسی مشقت پر مداومت کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: امام حسین فرمایا کرتے تھے کہ: مجھے شرم آتی ہے اگر میں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری کے لیے پیدل چل کے بھی نہ جاسکوں۔ بس میں انہی کی سنت پر عمل پیرا رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔

حضرت سیدہ نفیسہ کی بھتیجی سیدہ زینب بنت سید یحیٰ فرماتی ہیں کہ سیدہ نفیسہ نے اپنی قبر مبارک خود تیار فرمائی اور اس میں چھ ہزار مرتبہ ختم قرآن فرمایا۔ آپ قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے کیا کرتیں اور اس معمول کو آپ نے تادم مرگ جاری رکھا۔ آپ نے کئی نمازیں اپنی قبر مبارک میںادا کیں اور آپ نے ساری زندگی روزہ کی حالت میں گزاری (سوائے عید اور تشریف کے دنوں میں) (The light of Ahl-ul-Baiby Metawalli al-sha rawi)

سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے قلبی تعلق اور زیارت

 

 سیدہ نفیسہ کے بارے میں سیدہ زینب فرماتی تھیں: سیدہ نفیسہ قرآن مجید کی حافظہ، مفسرہ اور ایک عظیم شاعرہ تھیں۔ ہمیشہ دورانِ تلاوت قرآن آپ کی آنکھیںاشک بار رہتیں اور آپ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کرتیں: میرے اللہ! میرے مالک میرے لیے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی زیارت آسان فرما، اس لیے کہ تو جانتا ہے کہ وہ ابوالانبیاء ہیں اور میرے جد امجد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بھی جد ہیں۔ (الدرر النفیسۃ: ۴۱)

سیدہ نفیسہ جب مصر کے لیے سفر پر روانہ ہوئیں تو راستہ میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے مزارِ اقدس پر فلسطین میں حاضر ہوئیں۔ وہاں دیر تک سورۂ ابراہیم کی تلاوت کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کناں ہوئیں: اے میرے جد اعلیٰ! میں آپ کی بارگاہ میں آج جسم وروح کے ساتھ حاضر ہوئی ہوں جب کہ اس سے پہلے فقط میری روح آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتی تھی۔ آج مجھے حالت ِبیداری میں اپنے دیدار سے مشرف فرمائیں۔ یہ کہنے کی دیر تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: یا ابنتی! یا نفیسۃ! ابشری فانک من الصالحات القانتات۔ اننی اوصیک بان تقری سورۃ المزمل۔ (اے میری بیٹی! اے نفیسہ! تجھے بشارت ہو کہ بے شک تو صالحات اور بارگاہِ الٰہی میں مؤدب ہستیوں میں سے ہے۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ سورۃ المزمل کثرت سے پڑھا کر۔) پھر سیدہ نفیسہ نے عرض کیا: یا جد الاکبر! میری تمنا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہو اور وہ مجھ سے راضی ہوجائے،اس کے بعد میری کوئی تمنا نہیں۔ اس پرسیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میری بیٹی! تجھے مبارک ہو کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تیری دعا قبول کرلی اور وہ تجھ سے راضی ہوگیا اور میں تجھے عالم ارواح میں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن نہیں بھلاؤں گا۔(اہل البیت: ص: ۵۴، السیدۃ نفیسۃ: ۶۰۔ ۶۲)

مصر کی طرف ہجرت

 

جب عباسی خلیفہ منصور کا دور آیا تو اس نے بلا وجہ حضرت سیدہ نفیسہ کے والدِگرامی کو قید کیا اور آپ کے خاندان کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔اپنے والد گرامی کے وصال کے بعد آپ نے اپنے شوہر حضرت اسحاق المؤتمن اور بچوں، سید قاسم اور سیدہ اُم کلثوم، کے ہمراہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مصر کی جانب ہجرت فرمائی۔ بلادِ شام سے ہوتی ہوئیں ہفتہ کے روز ۲۶؍ رمضان المبارک ۱۹۳ھ کو مصر پہنچیں۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک ۴۸سال تھی۔ آپ کی آمد سے قبل ہی سرزمین مصر آپ کی عظمت وولایت اور علم ومعرفت کے چرچے ہوچکے تھے۔ اسی لیے جب آپ مصر پہنچیں تو اہل مصر نے آپ کا عظیم الشان استقبال کیا جو کہ اہل مصر کا اہل بیت اطہار سے والہانہ محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ (الدرر النفیسۃ: ۴۳)

کرامات

 

حضرت سیدہ نفیسہ اپنے دور کی باکرامت ولیہ کاملہ تھیں اور اہل حجاز ومصر ہمیشہ ان کی کرامات پر گواہ رہے۔ آپ سے ایسی بے شمار کرامات ظاہر ہوئیں جن کا چرچا نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں میں بھی ہونے لگا۔ ایک جم غفیر حاجت روائی کی غرض سے آپ کی چوکھٹ پر موجود رہتا۔ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت اپنی ٹانگوں سے مفلوج بیٹی کو آپ کی خدمت میں چھوڑ کر کسی کام سے چلی گئی۔ اس وقت سیدہ نفیسہ وضو فرمارہی تھیں۔ جب وضو والے پانی کے چند قطرے اس لڑکی کی مفلوج ٹانگوں پر گرے تو اس پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ کچھ ہی دیر میں اس لڑکی کو محسوس ہوا کہ اس کی ٹانگوں میں زندگی لوٹ آئی ہے اور وہ شفایاب ہوگئی۔جب اس کی والدہ نے یہ منظر دیکھا توآپ کے ہاتھوں اسلام قبول کرلیا اور اسی واقعہ کی وجہ سے اس یہودی عورت کا پورا خاندان دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا۔ جہاں سیدہ نفیسہ کے جسمِ اطہر سے مس ہونے والے پانی کے قطروں نے مردہ ٹانگوں کو زندگی بخشی وہاں اس واقعہ کی شہرت نے سینکڑوں دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور بھی کیا۔

آپ کے وسیلے سے ستر یہودی گھرانے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ مؤرخین نے آپ کی ۱۵۰؍ نمایاں کرامات کا ذکر کیا ہے جن کو شارح صحیح البخاری حافظ ابن حج عسقلانی نے مرتب فرمایا ہے۔ (الدرر النفیسۃ : ۸۹) (The light of Ahl-ul-Baitby Metawalli al-Shal rawi)

علمی مقام ومرتبہ

 

آپ سے سلوک وتصوف اور علوم وفنون کا فیض بیک وقت جاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امام محمد بن ادریس شافعی اور حضرت ذوالنون مصری جیسی عظیم المرتبت ہستیاں آپ سے اکتساب فیض کرتی رہیں۔ امام شافعی آپ سے علم حدیث وفقہ حاصل کرتے رہے۔ امام شافعی کا معمول تھا کہ جب آپ علیل ہوتے تو سیدہ نفیسہ کی خدمت میںد عا کے لیے درخواست بھیجا کرتے اور اس سے پہلے کہ پیغام بر واپس لوٹتا،اللہ رب العزت آپ کو شفایاب فرما دیا کرتا۔ جب امام شافعی اپنی مرض الموت میں مبتلا تھے تو آپ نے معمول کے مطابق ایک شاگرد کو دعا کی غرض سے سیدہ نفیسہ کی خدمت میں بھیجا۔ آپ نے اس شاگرد کو اس پیغام کے ساتھ واپس بھیج دیا: احسن اللہ لقائہ ومتعہ بالنظر الیٰ وجہہ الکریم (اللہ تعالیٰ کی ملاقات بہت خوب ہے اور اس کی طرف توجہ کرنا بہت نفع بخش ہے) یہ پیغام سنتے ہی امام شافعی سمجھ گئے کہ ان کا آخری وقت آ پہنچا ہے تو آپ نے اپنے تلامذہ کو وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد سیدہ نفیسہ میرے جنازے میں ضرورت شرکت کریں۔جب امام شافعی کا وصال ہوا تو امیر مصر ابن الحکم نے کہا کہ امام شافعی کا جنازہ سیدہ نفیسہ کی بارگاہ میں لے جایا جائے کیوں کہ آپ کثرت عبادت اور روزے کی وجہ سے کافی علیل ہوچکی ہیں۔ اس پر امام شافعی کا جنازہ سیدہ نفیسہ کے گھر پر لے جایاگیا جہاں سیدہ نفیسہ نے اپنے حجرے میں باپردہ امام شافعی کا جنازہ امام یعقوب البویطی کی اقتدا میں ادا فرمایا۔ امام البویطی حضرت امام شافعی کے عظیم ساتھیوں میں سے تھے۔ نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد جنازے میں شریک صالحین میں سے ایک بزرگ نے فرمایا: ان اللہ غفرلمن صلی علی الشافعی بالشافعی، وغفر للشافعی بصلاۃ السیدۃ نفیسہ علیہ (بے شک اللہ تعالیٰ نے امام شافعی کے صدقے ہر اس شخص کی مغفرت فرمادی ہے جس نے امام شافعی کا جنازہ پڑھا،اور سیدہ نفیسہ کی امام شافعی پر نماز جنازہ پڑھنے کے صدقے ان کی مغفرت فرمادی ہے۔ (الدرر النفیسۃ من مناقب ومآثر السیدۃ نفیسۃ: ۴۰،۴۱)

اسی طرح حضرت ذوالنون مصری کا سیدہ نفیسہ سے تعلقِ ارادت بھی کافی قوی تھا اور آپ کا یہ فرمان تھا کہ اس زمانے میں سیدہ نفیسہ سے بڑھ کر مستجاب الدعوات اور کوئی ہستی نہیں ہے۔(الجواہر النفیسۃ، الدرر النفیسۃ من مناقب ومآثر السیدۃ نفیسۃ: ۱۰۶، ۱۰۹)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیدہ نفیسہ بیک وقت عالمہ وفاضلہ اور ولیہ کاملہ تھیں اور دونوں میدانوں کے شہسوار آپ سے رُشد وہدایت اور اکتساب فیض کے لیے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے۔

نفیسۃ الدارین کا وصال مبارک

 

آپ کے وصال کا وقت جب قریب آیا تو آپ روزے سے تھیں۔طبیبوں نے آپ سے عرض کیا کہ روزہ افطار فرما لیجیے، اس پر سیدہ نے فرمایا: تعجب ہے، مجھے تیس سال ہوگئے ہیں اپنے رب سے یہ دعا مانگتے ہوئے کہ مجھے روزے کی حالت میں موت دینا، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں روزہ افطار کرلوں!اس کے بعد آپ نے یہ اشعار پڑھے۔

اصرفوا عنی طبیبی  

ودعونی وحبیبی

اے میرے طبیب میرے پاس سے چلے جاؤاور مجھے اور میرے حبیب کو اکیلا چھوڑ دو۔

جسدی راض بسقمی

وجفونی بتحیب

میرا جسم میری بیماری میں راضی ہے اور میری پلکیں میرے آنسوؤں میں خوش ہیں۔

آپ کی بھتیجی سیدہ زینب فرماتی ہیں کہ آپ بستر مرگ پر سورۃ الانعام کی تلاوت فرمارہی تھیں۔ جب سورت کی آیت نمبر ۱۲۷۔ لہم دار السلٰم عند ربہم وہو ولیہم بما کانوا یعملون۔ (انہی کے لیے ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا مولیٰ ہے ان اعمالِ (صالحہ) کے باعث جو وہ انجام دیا کرتے تھے) پر پہنچیں تو آپ پر غشی طاری ہوئی۔ سیدہ زینب نے آپ کو سینے سے لگا لیا۔ آپ نے شہادت کے کلمات ادا کیے اور داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ ۱۵؍ رمضان المبارک ۲۰۸ھ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ آپ کے وصال کے وقت آپ کی عمر مبارک ۶۳ برس تھی۔ (نور الابصار: ۳۹۴)

اہل حجاز ومصر کے لیے آپ کا وصال ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ اس روز مصر کے ہر گھر سے آہ وبُکا کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ آپ کے شوہر حضرت اسحاق المؤتمن نے آپ کو مدینہ منورہ میں دفنانے کا ارادہ فرمایا تو اہل مصر مزید غم میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے درخواست کی کہ سیدہ کو ہم سے جدا مت کیجیے۔ اسی رات تاجدار کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کو خواب میں شرفِ زیارت بخشا اورفرمایا: اے اسحاق! نفیسہ کو مصر میں دفن کردو۔ پھر تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق سیدہ نفیسہ کو مصر میں ہی دفن کیاگیا۔ آج سوا بارہ سو سال گزرنے کے باوجود بھی نفیسہ کا مزار مقدس مرجع خلائق ہے۔ دنیا آج بھی آپ کے مزار اقدس پر فیوض وبرکات حاصل کرنے کے لیے قاہرہ جاتی ہے۔

مصادر

 

۱۔ محمد طاہر القادری ،شیخ الاسلام الدکتور، عرفان القرآن

۲۔ عصفور، رمضان احمد عبد ربہ،الدرر النفیسۃ من مناقب ومآثر السیدۃ نفیسۃ

۳۔ الشبلنجی، نور الابصار

۴۔ ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ

۵۔ ابن سعد، ابوعبداللہ محمد، الطبقات الکبری

۶۔ ابو علم، السیدۃ نفیسۃ

۷۔ حمزۃ شاہین، السیدۃ نفیسۃ

۸۔ عبدالخالق، الشیخ محمد، الجواہر النفیسۃ

۹۔المؤفق بن عثمان، مرشد الزوار الیٰ مقابر الاخیار

۱۰۔ (The light of Ahl-ul-Baitby Metawalli al-Shal rawi)

 

{…}

 

Ufaq-e-Ilm-o-Wilayat ka Darakhshan Sitara
Khatoon-e-Ahl-e-Bait Sayyida Nafeesa Raziallahu Anha
Az: Fizza Hussain Qadri


Tareekh-e-Islam mein aisi be-shumaar hastiyaán guzri hain jinhon ne zuhd-o-wara‘, taqwa-o-paakeezgi, ibadat-o-riyazat aur makhlooq-e-Khuda ki khidmat ke zariye Allah Rabb-ul-Izzat ka qurb hasil kiya. Sadiyon guzar jaane ke baad bhi tareekh in buzurgan par naaz karti hai aur in ki seerat insaniyat ke liye mash‘al-e-rah hai.

Agar tareekh ka ba-ghaur muta‘ala kiya jaye to maratib-e-wilayat par fa’iz shakhsiyat mein aksariyat mardon ki nazar aati hai, lekin tareekh ke daaman mein aisi azeem khawateen ke naam bhi roshan hain jinhon ne apni a‘aili zindagi ke faraiz ada karte hue suluk-o-tasawwuf aur tareeq-e-wilayat mein aise sang-e-meel qaim kiye jo apni misaal aap hain.

Is silsile mein jahan Azwaaj-e-Mutahharat, Sahabiyaat aur Ahl-e-Bait-e-Athaar ki shahzadiyaan jalwa-farma hain, wahin ek azeem-ul-martabat hasti aisi bhi hai jo ufaq-e-wilayat par sitaray ki tarah chamakti hai. Jin se ba-ek-waqt suluk-o-tasawwuf aur uloom-o-funoon ka faiz jaari raha aur tareekh-e-Islam ke kai sofiya aur a’imma ne apne daaman ko un ke faiz se mu‘attar kiya. Tareekh inhein “Nafeesat-ul-Ilm-wal-Ma‘rifah” Raziallahu Anha ke laqab se yaad karti hai. Is tehreer ka maqsad unhi ke zikr se quloob-o-azhaan ko munawwar karna hai.


Naam-o-Nasb

Aap ka ism-e-girami Sayyida Nafeesa Raziallahu Anha bint Sayyid Hasan-ul-Anwar Raziallahu Anhu hai. Sayyid Hasan-ul-Anwar, Sayyid Zaid-ul-Ailaj ke sahib-zaday aur Imam Hasan bin Ali ke potay hain. Is lehaaz se Sayyida Nafeesa, Imam Hasan ki par-poti hain.


Wiladat-e-Ba-Sa‘adat aur Ibtidai Zindagi

Hazrat Sayyida Nafeesa Makkah Mukarramah mein 11 Rabi‘-ul-Awwal 145 Hijri, ba-roz Budh, Sayyid Hasan-ul-Anwar aur Hazrat Umm-e-Salma Zainab ke ghar paida huín. Aap ki umr sirf paanch saal thi ke walid-e-girami ko Madinah Munawwarah ka ameer muqarrar kar diya gaya aur gharana Makkah se Madinah hijrat kar gaya.

Aap ne 6 saal ki umr mein Hifz-e-Qur’an shuru kiya aur saath hi Imam-ud-Dar-ul-Hijrah Imam Malik bin Anas se Hadith aur Fiqh ka ilm hasil karti rahin. Masjid-e-Nabawi ﷺ ki ilmi aur fiqhi majalis mein shirkat karti aur in uloom mein kamal hasil kiya.

Walid-e-girami ka ye mamool tha ke namaz ke baad apni chhoti si beti ko Roza-e-Rasool ﷺ par hazri ke liye le jate aur arz karte:
“Ya Rasool Allah ﷺ! Main apni is beti Nafeesa se razi hoon.”
Baad mein Rasool-e-Akram ﷺ ne khwab mein basharat di ke Allah Ta‘ala bhi Sayyida Nafeesa se razi hai.


Nikah aur Aulaad

Sayyida Nafeesa ka nikah Imam Ja‘far Sadiq ke sahib-zadey Hazrat Ishaq-ul-Mo’taman se hua. Ye nikah 5 Rajab 161 Hijri, ba-roz Jumu‘ah anjaam paya. Hazrat Ishaq apne daur ke buzurg muhaddis the aur kai a’imma ne un se riwayat li.

Allah Ta‘ala ne aap ko ek sahib-zada Sayyid Qasim aur ek sahib-zadi Sayyida Umm-e-Kulsoom ata farmai.


Ibadat-o-Riyazat

Sayyida Nafeesa ka qalb ishq-e-Ilahi, noor-e-imaan, sidq-o-yaqeen se labrez tha. Ibadat, ilm-o-amal, talab-e-ma‘rifat aur itaat-e-Rasool ﷺ aap ki zindagi ka markaz the.

Aap ki bhatiji Sayyida Zainab bayan karti hain:
“Main 40 saal aap ki khidmat mein rahi aur kabhi aap ko sote hue nahin dekha. Aap teen din mein sirf ek martaba ghiza tanawal farmati thín.”

Aap ne zindagi mein 3 martaba Hajj ada kiya, aksar Hajj paidal ada karti thín. Farmaaya karti thín ke mujhe sharm aati hai ke main apne Rabb ki barah-e-raast hazri ke liye paidal bhi na ja sakoon.

Aap ne apni qabr mubarak khud tayyar karwai aur us mein 6000 martaba Qur’an ka khatm kiya. Aap ne zindagi bhar roza rakha (siwaye Eid ke dinon ke).


Hazrat Ibrahim Khalilullah se Roohani Ta‘alluq

Sayyida Nafeesa Qur’an ki hafiza, mufassira aur azeem shaira bhi thín. Aap ne Hazrat Ibrahim Khalilullah Alaihis Salam ki ziyarat ki tamanna ki aur Falasteen mein un ke mزار par hazir ho kar Surah Ibrahim ki tilawat ke baad dua ki. Riwayat ke mutabiq Hazrat Ibrahim Alaihis Salam ne aap ko basharat di aur Surah Muzammil ki kasrat se tilawat ki wasiyyat farmai.


Misr ki Taraf Hijrat

Walid-e-girami ke wisal ke baad Sayyida Nafeesa ne apne shohar aur bachon ke saath 26 Ramzan 193 Hijri ko Misr hijrat farmai. Aap ki aamad se pehle hi Misr mein aap ki wilayat aur ilm ka charcha ho chuka tha. Ahl-e-Misr ne shandaar istiqbal kiya jo Ahl-e-Bait se un ki muhabbat ka zinda saboot hai.


Karamat

Sayyida Nafeesa ek ba-karamat waliya thín. Aap ke wasile se kai log Islam mein dakhil hue. Mashhoor waqia hai ke aap ke wuzu ke pani ke chand qatre ek maflooj ladki par gire aur woh foran shifa pa gayi. Is waqia ke baad poora yahoodi gharana Islam mein dakhil ho gaya.

Mo‘arrikheen ne 150 se zyada karamat ka zikr kiya hai.


Ilmi Maqam

Imam Muhammad bin Idrees Shafi‘i aur Hazrat Zul-Nun Misri jaise buzurg aap se faiz hasil karte the. Imam Shafi‘i jab beemar hote to Sayyida Nafeesa se dua ki darkhwast karte aur foran shifa hoti. Imam Shafi‘i ke wisal ke baad un ka janaza Sayyida Nafeesa ke ghar par laaya gaya aur aap ne parda mein reh kar namaz-e-janaza ada ki.


Wisal-e-Mubarak

Sayyida Nafeesa ka wisal 15 Ramzan 208 Hijri ko hua. Aap us waqt bhi roza se thín. Surah Al-An‘aam ki tilawat ke dauran aayat
“Lahum Dar-us-Salaam ‘inda Rabbihim”
par pahunch kar rooh parwaz kar gayi.

Aap ki umr 63 saal thi. Aaj bhi Qahira (Misr) mein aap ka mazar-e-mubarak marja‘-e-khalaaiq hai aur log aap ke faiz-o-barakat se mustafeed hote hain.

Credits & Acknowledgements

Article Writing: از: فضہ حسین قادری
Share This