خواتین اسلام اور ان کی اشک ریزیاں وشب خیزیاں
خواتین اسلام اور ان کی اشک ریزیاں وشب خیزیاں
حضرت خنسا بنت خدام:
یہ عرب کی ایک حسین وجمیل عورت تھیںجن کی لالہ رخی اور ماہ جبینی اپنی مثال آپ تھی لیکن جب ان پر عشق الٰہی کا پرتو پڑا تو پھران کے رت جگوں اور عبادتوں کا یہ عالم ہوگیا کہ انھوں نے مسلسل چالیس سال تک روزے رکھے جس کے باعث ان کی جلدہڈیوں سے چپک گئی۔ خشیت مولامیں اتنا روئیں کہ ان کی آنکھیں جاتی رہیںاور اپنے پروردگار کو منانے کے لیے انھوں نے اتنا لمبا لمبا قیام کیا کہ آخر کار ان کے قدم کھڑے ہونے کے لائق نہ رہے۔
جب رات کی سیاہی چھا جاتی،دنیا نیند کی آغوش میں چلی جاتی اور لوگوں کی حرکات و سکنات بند ہوجاتیں تو وہ اپنی حزن آگیں آوازوں میںچیخ کر کہتیں: اے اہل اطاعت کے محبوب!طاعت گزاروں کے چہرے کب تک خاک کے ذروں پرالٹتے پلٹتے رہیں گے اپنا وعدہ پورا فرمااور ان کے اس مقصدو مراد کو پورا فرما جس کے لیے انھوں نے خود کو تھکا تھکا دیا ہے۔پھربے اختیار ہوکر زارو قطار اس قدر روتیں کہ ان کے پڑوس کے درودیوار تک رونے کی آوازپہنچ جاتی۔
حضرت طائوس یمانی اور وہب بن منبہ جیسے جلیل القدر ائمہ اسلام کی نگاہوں میں خنساء بنت خدام کی شب خیزیوں اور اشک ریزیوں کی بڑی قدر تھی۔(۱)
ریحانۂ مجنونہ:
حضرت ابوالربیع رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ، محمد بن منکدر اور ثابت بنانی ایک شب ‘ریحانہ مجنونہ کے پاس گئے تو ہم نے دیکھا کہ اِبتداے شب میں کھڑی ہوئیں اور مسرت و شادمانی کے اندازمیں یہ شعر پڑھا :
قام المحب إلی المؤمل قومۃً
کاد الفؤاد من السرور یطیر
یعنی محب اپنے مرجع امید کے آگے اس طرح کھڑا ہے کہ اس کا دل خوشی سے اُڑتا جارہاہے۔
آدھی رات ہوئی تو ان کی زبان پر یہ اشعار تھے :
لا تأنسن بمن توحشک نظـرتُہ
فتمنعن مـن التـذکار في الظلـم
واجہد وکدَّ وکن في اللیل ذا شجن
لیسقیک کأس وداد العز و الکرم
یعنی اس سے اُلفت نہ رکھ جس کے نظر اُٹھانے سے تجھے وحشت ہوجائے کیوں کہ یہ شے اندھیروں میں تجھے ذکر سے روک دے گی، اور راہِ حق میں محنت ومشقت کر، اور رات کو غمزدہ رہ، اس کے عوض اللہ تعالیٰ تجھے اپنی دوستی اور بخشش کے جام سے نوازے گا۔
اور جب صبح کا وقت قریب ہوا تو حسرت ویاس سے آہ بھرنے لگیں اور نالہ کرنے لگیں، میں نے سبب پوچھا تو فرمایا :
ذہب الظلام بأنسہ و بالفہ
لیت الظلام بأنسہ یتجدد
یعنی رات اپنی تاریکی کے ہمراہ اپنے انس اور محبت کو بھی لے گئی۔ کاش! یہ تاریکی اسی انس کے ساتھ بار بار آتی۔(۲)
حضرت منیفہ بنت ابو طارق:
حضرت منیفہ کاشمار حبرین کی مشہور عابدات میں ہوتا تھا،جب رات کی تاریکی چھاتی توآپ اپنے نفس کو مبارک باد پیش کرتی ہوئی کہتیں کہ اے نفس! رات آگئی جس میں مومن کی آنکھوں کی ڈھندک اور دل کاسرور رکھاگیاہے، پھر آپ عبادت و ریاضت میں مشغول ہوجاتیں۔۔۔۔۔ آپ فرماتیں کہ قسم بخدا! جب تک میں اس دنیا میں زندہ ہوں کبھی بھی رات کی تاریکیوں میں نہیں سوئوںگی،بلکہ پوری رات اپنے مولاکے ذکر سے روشن رکھوں گی۔
حضرت عامر بن ملیک بحرانی ایک کنیزسے حکایۃً نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک رات منیفہ بنت ابوطارق کے یہاں شب باش ہوئی،تواس نے دیکھا کہ قیام لیل میں انھوں نے اس آیت کی تکرار کرتے کرتے صبح کردی :
وَ کَیفَ تَکْفُرُونَ وَ أنتُمْ تُتْلٰی عَلَیکُمْ آیَاتِ اللّٰہِ وَ فِیْکُمْ رَسُولُہُ، وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ہُدِيَ إلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ o (سورۂ آل عمران: ۳؍۱۰۱)
اور تم (اب) کس طرح کفر کروگے حالاں کہ تم وہ (خوش نصیب) ہو کہ تم پر اللہ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور تم میں (خود) اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) موجودہیں، اور جو شخص اللہ(کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیتاہے تو اسے ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی جاتی ہے۔(۳)
حبیبہ عدویہ:
حضرت حبیبہ عدویہ اپنے وقت کی عظیم عابدہ ومجاہدہ ہوئی ہیں۔ان کے حوالے سے آتاہے کہ جب وہ عشا کی نماز پڑھ لیتیں تو اپنے مکان کی چھت پر چڑھ جایا کرتیںاور اپنے جسم کے اِرد گرد کرتا اور دوپٹہ کس کر کہتی تھیں: اے اللہ! ستارے نکل آئے ہیں، آنکھیں نیند سے بوجھل ہوگئی ہیں، بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کرلیے ہیں، عاشق اپنے معشوق کے ساتھ خلوت میں چلے گئے، اور میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوگئی ہوں۔ پھر وہ اپنی نماز میں مشغول ہوجاتیں۔ جب فجر کا وقت ہوجاتا تو کہتیں: اے اللہ! یہ رات رخصت ہوگئی ہے اور دن نکل آیاہے، مجھے نہیں معلوم کہ میری یہ رات تو نے قبول کی ہے یا نہیں؟ اگر قبول کرلی ہے تو میں اپنے آپ کو مبارک باد پیش کروں ورنہ اس کی تعزیت کروں۔تیری عزت کی قسم! یہ میرا معمول رہے گا جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا۔ اگر تونے مجھے اپنے در سے جھڑک دیا تب بھی میں کبھی تیرا در نہ چھوڑوں گی؛ اس لیے کہ میرا دل تیرے جودو کرم کے اَنوار سے روشن ہے۔ (۴)
حضرت عمرہ:
مشہورِ زمانہ بزرگ حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ کی زوجۂ محترمہ حضرت عمرہ بھی اپنے وقت کی بڑی عابدہ و زاہدہ ہوئی ہیں۔ ایک رات وہ نمازوں میں مشغول تھیں اور ان کے شوہر ابھی تک سورہے تھے۔ وقت ِسحر قریب آگیا اور وہ یوں ہی سوئے رہے۔تو حضرت عمرہ نے انھیں بیدار کرکے کہا:شوہرنامدار!اب تو اُٹھیے،دیکھئے کاروانِ شب کوچ کرچکاہے، سپیدۂ سحرنمودار ہونے کو ہے، آپ کے سامنے ایک لمبا سفر ہے، اور زادِ راہ کچھ بھی نہیں۔ صالحین کے قافلے ہمارے سامنے رخصت ہوگئے اور ہم یہیں کے یہیں پڑے رہ گئے۔(۵)
اللہ اکبر! یہ بات کس قدر پاکیزہ اور عمدہ ہے! اور وہ گھر کس قدر باسعادت اور خوش نصیب ہے جس میں ایسی بات کہی اور سنی جائے۔اور اس بات کو کہنے والی خاتون کس قدر شان وعظمت والی ہے!۔اللہ ہمارے گھروں میں بھی ایسی باتیں جاری فرمائے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورت کے لیے بطورِ خاص دعاکی ہے جو رات کو اُٹھ کر عبادت کرتی ہے اور اپنے شوہر کو بھی اسی غرض سے بیدار کرنے کوشش کرتی ہے۔
حضرت عجردہ عمیہ:
آپ کے بارے میں آتاہے کہ وہ رات بھر عبادت کرتی تھیں حالاں کہ آنکھوں سے معذور تھیں مگر جب سحر کا وقت ہوتا تو اونچی اور غمگین آواز میں کہتیں: عابدوں نے تجھ تک پہنچنے ہی کے لیے رات کی مسافت طے کی ہے۔ وہ تیری رحمت اور فضل ومغفرت کی طرف سبقت کرتے ہیں۔ اے اللہ! میں تجھی سے مانگتی ہوں، تیرے غیر سے نہیں مانگتی کہ مجھے سبقت کرنے والوں میں سر فہرست کر اور مجھے علیین میں مقربین کا درجہ عطا کر اور مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کر، تو انتہائی رحم اور کرم والاہے، تو تمام بڑوں سے بڑا اور تمام بلندیوں سے بلند ہے۔ یہ دعا مانگ کر وہ سجدے میں گرجاتیں یہاں تک کہ ان کے سجدے میں گرنے کی آواز آس پاس میں سنی جاتی،پھر وہ سجدے ہی میں صبح کی نماز تک دعائیں مانگتی رہتیں اور روتی رہتیں۔(۶)
حضرت بریرہ:
حضرت ابن العلاء السعدی کہتے ہیںکہ میری چچازاد بہن’’بریرہ‘‘ بڑی عبادت گزار ونہایت پرہیزگار خاتون تھیں۔ وہ کثرت سے تلاوت کلام اللہ کیا کرتی تھیں اور تلاوت کے دوران مسلسل روتی رہتیں۔ زیادہ رونے کے باعث ان کی آنکھیں بھی بیکار ہوگئی تھیں۔
ایک مرتبہ ہم سب چچا زاد بھائیوں نے پروگرام بنایا کہ بریرہ کے پاس جائیں گے اور اس قدر رونے پر انھیں ملامت کریں گے؛ چنانچہ ہم سب ان کے یہاں پہنچے اور ان کی خیروعافیت دریافت کی۔ انھوں نے کہا: ہم اجنبی مہمان زمین پر پڑے ہوئے ہیں اور منتظر ہیں کہ کوئی ہمیں بلائے اور ہم جائیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ اس طرح کب تک روتی رہیں گی،اب تو آنکھیں بھی چلی گئیں۔ انھوں نے کہا: اگر اللہ کے یہاں میری آنکھوں کے لیے کچھ بہتری ہے تو مجھے ان کے ضائع ہوجانے پر کوئی ملال نہیں ہے اور اگر اللہ کے یہاں ان کی کچھ برائی ہے تو پھر انھیں اور رونا چاہیے۔ان کی یہ عارفانہ بات سن کر ہم میں سے کسی شخص نے کہا کہ یہاں سے چلو، ان کا حال دوسرا ہے،ان کا حال ہمارے جیسا نہیں ۔(۷)
حضرت رحلہ :
حضرت خواص فرماتے ہیں کہ ہم مشہور عابدہ ’’رحلہ‘‘ کے یہاں گئے۔ انھوں نے اتنے روزے رکھے تھے کہ ان کی رنگت سیاہ پڑ گئی تھی، اس قدر آنسو بہائے تھے کہ آنکھوں سے محروم ہوگئی تھیں اور اس قدر نمازیں پڑھی تھیں کہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئی تھیں۔ جس وقت ہم لوگ ان کے پاس پہنچے وہ بیٹھی ہوئی نمازیں پڑھ رہی تھیں۔
ہم نے انھیں سلام کیا اور اللہ تعالیٰ کے عفووکرم اورفضل واِحسان پر کچھ گفتگو کی تاکہ وہ اپنے نفس پر قدرے نرمی کریں۔ ہماری بات سن کر انھوں نے ایک چیخ ماری اور کہنے لگیں کہ میں اپنے نفس سے زیادہ واقف ہوں؛ اس لیے میرا دل زخمی ہے اور کلیجہ چھلنی ہے۔ سوچتی ہوں کاش! اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتااور میں کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ ہوتی۔ یہ کہہ کر وہ پھر نماز میں مشغول ہوگئیں۔(۸)
منقول ہے کہ حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ کے زمانے میں ایک عورت کی عبادت وریاضت اور اس کی گریہ وزاری کا بڑا چرچا تھا۔حضرت بایزید ایک مرتبہ اس کی ملاقات کے لیے گئے اور اس سے کمالِ شفقت سے فرمایاکہ اے نیک بخت! بہت نہ رویا کرکیوں کہ زیادہ رونا بینائی کو ضرر پہنچاتاہے۔ یہ سن کر اس نیک خاتون نے بے ساختہ جواب دیا: اے شیخ! جن آنکھوں کو قیامت کے دن دیدارِ الٰہی کی دولت نصیب ہونے والی ہے انھیں دنیا میں اندھی ہوجانے کا کوئی غم نہیں اور جو آنکھیں اس نعمت سے محروم رہیں وہ یقینا اس قابل ہیں کہ اندھی ہی ہوجائیں۔(۹)
حضرت عبد اللہ بن الحسن کہتے ہیںکہ میری ایک رومی باندی تھی اور میں اسے بہت چاہا کرتاتھا۔ ایک شب وہ میرے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی، میری آنکھ لگ گئی، رات کے کسی پہر آنکھ کھلی تو میں نے محسوس کیا کہ وہ بستر پر نہیں ہے۔ میں اسے تلاش کرنے کے لیے بستر سے اُٹھا، میں نے دیکھا کہ وہ سجدے میں پڑی زار و قطار رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اے اللہ! اس محبت کی وجہ سے جو تجھے میرے ساتھ ہے میری مغفرت فرما۔ میں نے کہا: یوں مت کہہ کہ جو محبت تجھے میرے ساتھ ہے بلکہ یوں کہہ کہ جو محبت مجھے تیرے ساتھ ہے۔ وہ کہنے لگی اے میرے آقا! اسی محبت کی وجہ سے اس نے مجھے شرک سے نکال کر اسلام تک پہنچایا اور اسی محبت کی وجہ سے اس نے میری آنکھ کو جاگنے کی قوت بخشی جب کہ اس کی مخلوق خوابِ راحت میں مست ہوتی ہے۔ (۱۰)
حضرت محمد بن قدامہ فرماتے ہیںکہ میںنے ابوبشر کو کہتے سنا کہ حضرت منصور بن معتمر کی ایک ہمسایہ تھی، جس کے پاس دو نیک بچیاں تھیں جو صرف رات گئے اس وقت چھت پرچڑھتیں جب لوگ سوچکے ہوتے۔ ان میں سے ایک نے ایک دن اپنی ماں سے پوچھا: امی جان! فلاں چھت کے اوپر جو ستون کھڑا رہتاتھا، وہ اب کہاں چلا گیا، کئی دنوں سے نظر نہیں آیا۔ ماں نے کہا: بیٹی! وہ کوئی ستون نہیں تھا بلکہ وہ وقت کے عظیم بزرگ حضرت منصور بن معتمرتھے جو پوری رات بیدار رہتے اور ابھی ایک رکعت بھی نہ پوری کرپاتے کہ شب کا سفرختم ہوجاتا۔
بیٹی نے تعجب سے کہا: امی جان! کیا وہ عبادت وبندگی کی اس منزل پر فائز تھے!، یقینا محض ایسی جی توڑ عبادتیں ہی آتش جہنم سے بچائوکا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ خیر! تو ان کا کیا بنا جو کئی دنوں سے نظر نہیں آئے؟۔فرمایا: وہ انتقال کرگئے۔۔۔۔۔
یہ سن کر بیٹی نے کہا کہ امی جان! میرے لیے ایک چھوٹا سا گھروندا بنا دیجیے جہاں میں عبادت و ریاضت کرسکوں۔ چنانچہ میں نے اس کے لیے بالوں کاایک گھروندا بنادیا۔ دیکھا دیکھی اس کی دوسری بہن بھی اس میں اُتر گئی، اور دوونوں نے بیس سال تک مسلسل اللہ کی عبادت وبندگی میں گزار دی، حال یہ تھاکہ دونوں رات بھرجاگتیں اور دن میں روزے رکھتیں۔ (۱۱)
ایک مردِ صالح کے ہمسایوں میں ایک ضعیفہ خاتون تھیں جو کبیر السن ہونے اور ضعف وناتوانی کے باوجود مجاہدہ وریاضت میں بے حد سعی کیا کرتی تھیں،اور ان کی راتیں آبادرہا کرتی تھیں ۔ اس مردِ صالح کو اس کی حالت پر ترس آیا۔ اس نے ایک روز کہا: آپ کو اس قدر محنت ومشقت نہیںکرنی چاہیے۔ کچھ اپنے جسم اور اعضا کو بھی آرام دیجیے ، اس باخدا ضعیفہ نے جواب دیا :
اگر میں اپنی جان کو آرام دینے لگوں تو مالک حقیقی کے دروازے سے علاحدہ اور دور ہوجائوںگی اور جو دنیوی مشاغل کے باعث اس سے دور ہوا، اس نے خود کو عظیم آزمائش میں ڈالا اور سعی وکوشش کے ساتھ عمل کروں تو بھی میرے عمل کی حیثیت کتنی؟، اگر اس میں بھی کوتاہی کرنے لگوں پھر باقی کیا بچے گا!۔ حسرت وغم ان کو جو آگے بڑھیں، فراق ان کا جو محبوب سے دور رہیں۔ آگے بڑھنے والوں کی حسرت یہ کہ محشر کے لیے جب مردے قبروں سے اُٹھیں، صالحین نور کے براق پر سوار جنت کو جائیں اور انھیں دوستوں کے رتبے ملیں، حوروغلمان ان کی خدمت کو دست بستہ ایستادہ ہوں اور پیچھے والے کف افسوس ملتے رہ جائیں۔ اس وقت حسرت وغم سے اُن کے دل پارہ پارہ ہوکر بہہ جائیں گے۔
لوگ جب میدانِ قیامت میں الگ الگ ٹولیوں میں تقسیم کیے جائیں گے تو رب ذو الجلال سب کو یکجا فرمائے گا، ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : اے گنہ گارو!آج تم الگ ہوجائو۔ اوراللہ کے پرہیزگار بندے بامراد ہوئے ۔ اس روز شوہر اپنی بیوی سے، بیٹا ماں باپ سے، اور دوست دوست سے الگ ہوجائے گا۔ کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ نفسانفسی کا عالم ہوگا۔ کسی کو عزت وتکریم سے بہشت بریں میں لے جایاجائے گا،اور کوئی پابجولاں گھسیٹ کر آتش جہنم میں جھونک دیاجائے گا۔جدا جدا راستے اور منزلیں ہوں گی۔ آنکھوں سے اشکوں کے سمندر رواں ہوں گے۔ جدائی وفراق کے عالم میں ایک دوسرے کو حسرت سے تکیں گے۔ ذرا اُن مناظر کو سوچو تو سہی تمہاری نیندیں نہ اُڑ جائیں تو کہنا اور جبینیں مولا کے حضور نہ جھک جائیں تو کہنا۔۔۔۔(۱۲)
عارفہ کنیز:
حضرت حسن بن صالح علیہ الرحمہ کے پاس ایک لونڈی تھی انھوں نے اسے کسی کے ہاتھوں بیچ ڈالا۔جب آدھی رات ہوئی تو وہ لونڈی اُٹھی اور اس نے کہا: گھر والو! اُٹھو اور نماز پڑھو۔ انھوں نے پوچھا: صبح ہوگئی ہے جو نماز پڑھیں!۔ لونڈی نے کہا: تم فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں پڑھتے؟۔انھوں نے جواب دیا: نہیں۔اس کے بعد وہ لونڈی حضرت حسن بن صالح کے پاس بھاگ آئی اور کہا: آپ نے مجھے ایسے لوگوں کے ہاتھ بیچ ڈالاہے جو شب بیداری اور دولت تہجد سے عاری ہیں؛ لہٰذا مجھے واپس لے لیں چنانچہ انھوں نے ایساہی کیااور دام لوٹادیے۔
حضرت شعوانہ:
حضرت معاذ بن فضل فرماتے ہیں کہ شعوانہ اس قدر رویاکرتی تھیں کہ ہمیں ان کے اندھے ہوجانے کا خوف لاحق ہوگیا۔ ہم نے جب اس سلسلہ میں ان سے عرض کیا تو انھوں نے فرمایا:اللہ کی عزت کی قسم! اللہ کی خشیت میں روروکردنیا کے اندر اندھا ہوجانااس سے بہتر ہے کہ آخرت میں جہنم کی آگ اندھاکرے۔(۱۳)
حضرت یحییٰ بن بسطام کہتے ہیں کہ میں شعوانہ کی مجلس میں حاضر ہوتا تھا اور دیکھتا تھا کہ وہ کس قدر رویا کرتی ہیں اور کس شدت سے گریہ وزاری کیا کرتی ہیں۔ ایک دن میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ کسی دن تنہائی میں ملاقات کرکے ہم ان سے کہیں گے کہ وہ اپنے نفس کے ساتھ تھوڑی نرمی کا معاملہ کریں۔ ساتھی نے میری اس تجویز سے اتفاق کیا؛ چنانچہ ایک موقع تلاش کرکے ہم لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیاکہ کیا اچھا ہواگر آپ نفس کے ساتھ کچھ نرمی برتیں اور اس کثرتِ گریہ وبکا میں کچھ کمی کریں،جو آپ چاہتی ہیں اس نرمی سے اس پر بڑی مدد ملے گی۔
یہ بات سن کر وہ روتے ہوئے کہنے لگیں: بخدا میں اس قدر رونا چاہتی ہوں کہ میرے آنسو خشک ہوجائیں۔ پھر خون کے آنسو روئوں؛ یہاں تک کہ میرے جسم سے خون کا ایک ایک قطر ہ آنسو بن کر آنکھوں سے بہہ جائے لیکن میں کہاں روتی ہوں، مجھے رونا کب نصیب ہوتاہے؟ یہ جملے انھوںنے کئی مرتبہ کہے اور وہیںبے ہوش ہوگئیں۔ (۱۴)
حضرت مالک بن ضیغم فرماتے ہیںکہ اہل اَبلہ کا ایک شخص اکثر میرے والد کے پاس آیا کرتا،اور شعوانہ کی گریہ وبکاکی داستان بیان کیا کرتاتھا، تو ایک دن میرے والد نے اس سے فرمایا: آج ذرا مجھ سے اس کے رونے کی کیفیت بیان کرو۔کہا:قسم بخدا! وہ صبح وشام روتی ہی رہتی ہے،رونے دھونے کے علاوہ اس کا کوئی کام ہی نہیں۔
والد نے کہا: میری مراد یہ نہیں، میں یہ جانناچاہتاہوں کہ اس کے رونے کی ابتدا کیوں کر ہوتی ہے؟کہا: اے مالک! جیسے ہی وہ ذکر مولا سنتی ہے زاروقطار رونے لگتی ہے، اس کی آنکھیں سیلاب بن جاتی ہیں،اور اس کی پلکوں سے آنسوکے قطرے خشیت مولا کے موتی بن کر ٹپکنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔
یہ سن کر میرے والد بھی رونے لگے اور فرمایا: یقیناخوف کی چنگاری نے اس کے دل کے چاروں کونے جلا ڈالے ہیں۔ مزید فرمایا: آنسوئوں کی کمی بیشی دل کی جلن پرموقوف ہوتی ہے،جتنا دل جلتاہے اُتناآنسوبہتا ہے، حتیٰ کہ جب پورا دل سلگ اُٹھتاہے تو اس سے حزن و اُداسی جنم لیتی ہے اور یہ حزن اسے سدا رونے پر انگیخت کرتارہتاہے، اور جب کسی کا یہ حال ہوجائے تو ایک ذرا سا ذکربھی اسے پرغم بناکرآمادۂ گریہ وبکا کردیتاہے۔(۱۵)
شعوانہ اپنی دعا میں یوں کہاکرتی تھیں : اے اللہ! مجھے تیری ملاقات کا کتنا شوق ہے اور تیری جزاپانے کی کس قدر اُمید ہے۔ تیری ذاتِ کریم سے امید کرنے والوں کی امیدیں مایوسی سے نہیں بدلتیں اور نہ مشتاقین کا شوق ضائع جاتاہے۔ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت آچکاہے اور میرے کسی عمل نے مجھے تجھ سے قریب نہ کیا ہو تو میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتی ہوں۔ اگر تو مجھے معاف کردے گا تو اس سلسلہ میں تجھ سے بہتر کون ہے۔ اور اگر مجھے عذاب دے گا تو تجھ سے زیادہ عادل کون ہے۔ اے اللہ! میں نے اپنے نفس کے لیے نظر کی جسارت کی، اب تیرے حسن نظر کی اُمید ہے۔ اگر تونے مجھ پر نظر کرم نہیں فرمائی تو یہ تباہ وبرباد ہوجائے گی۔ اے اللہ! تو نے تمام زندگی مجھ پر احسانات فرمائے ہیں، مرنے کے بعد بھی مجھ سے اپنے احسانات کا سلسلہ منقطع نہ کرنا۔ جس ذات نے زندگی میں مجھے اپنے کرم واحسان کا مستحق سمجھاہے اسی ذات سے مجھے یہ امید ہے کہ وہ موت کے بعد بھی مجھ پر بخشش کا دروازہ کھولے رکھے گی۔اے اللہ! جب تو زندگی میں میرا ذمہ دار رہا تو مرنے کے بعد میں تیری نظر کرم سے کیسے مایوس ہوں!۔ اے اللہ! ایک طرف مجھے میرے گناہ ڈراتے ہیں دوسری طرف جو محبت تجھ سے ہے اس سے دل مطمئن ہوتاہے۔ میرے معاملے میں اپنی شان کے مطابق نظر فرما اور اس شخص کو بھی اپنے فضل واحسان سے محروم نہ کر جو جہالت کے نشے میں مدہوش ہے۔ اے اللہ! اگر تو میری رسوائی چاہتا تو مجھے ہدایت کیوں دیتا!، اور میری ذلت چاہتا تو میرے گناہوں کی پردہ پوشی کیوں فرماتا؟۔ اے اللہ! جس سبب سے تونے مجھے ہدایت دی ہے اسے قائم رکھ اور جس سبب سے تو میری پردہ پوشی کرتاہے اسے دائم رکھ۔ اے اللہ! میں نہیں سمجھتی کہ جس مقصد کے لیے میں نے عمر لگائی ہے اسے تو نامنظور کردے گا۔ اگر میں نے گناہ نہ کیے ہوتے تو مجھے تیرے عذاب کا خوف نہ ہوتا اور اگر مجھے تیرے کرم کا علم نہ ہوتا تو میں تیرے اَجروثواب کی امیدوار نہ ہوتی۔(۱۶)
انھیں کی دعا پر میں اپنا مضمون ختم کرتی ہوںاس دعا کے ساتھ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں بھی ان اللہ والیوں کے نقش قدم پر چل کر شب خیزی اور اَشک ریزی کی دولت بیدار سے نوازے، نیز آئندہ نسلوں تک ہمیں یہ وراثت منتقل کرنے کا جذبہ وخروش عطافرمائے۔آمین۔
ماخذومراجع
(۱) صفۃ الصفوۃ: ۱؍۲۴۶۔
(۲) روض الریاحین:۷۱بحوالہ بزم اولیاء: ۱۳۸تا۱۳۹۔
(۳) صفۃ الصفوۃ: ۴۱۸۔
(۴) احیاء علوم الدین: ۴؍۴۱۴…صفۃ الصفوۃ:۱؍ ۴۰۶۔
Hazrat Khansa bint Khidam
Yeh Arab ki aik haseen-o-jameel aurat thin. Un ki laala-rukhi aur maah-jabini be-misal thi, magar jab un par Ishq-e-Ilahi ka parto pada to un ki zindagi ka rukh hi badal gaya. Un ke rat-jagay aur ibadatein is had tak barh gayin ke musalsal chalees (40) saal rozay rakhe, jis se jild haddiyon se chipak gayi. Khauf-e-Maula mein itna roeen ke aankhen jaati rahin, aur apne Parwardigar ko mananay ke liye itna lamba qiyam kiya ke aakhir-kar qadam kharay honay ke qabil na rahe.
Jab raat ki siyaahi chha jati, duniya neend ki aaghosh mein chali jati aur logon ki harkat-o-sukoon band ho jati, to woh apni hazn-aageen aawazon mein cheekh kar kehtin:
“Aey ahl-e-ita‘at ke Mehboob! itaat guzaaron ke chehray kab tak khaak ke zarron par ulat-palat hotay rahenge? Apna wada poora farma aur un ke us maqsad-o-murad ko poora farma jiske liye unhon ne apne aap ko thaka diya hai.”
Phir be-ikhtiyar is qadr zaar-o-qatar roti thin ke un ke pados ke dar-o-deewar tak roney ki aawaz pohanch jati.
Hazrat Taous Yamani aur Wahb bin Munabbah jaisay jaleel-ul-qadr a’imma-e-Islam ki nazron mein Khansa bint Khidam ki shab-kheziyan aur ashk-reziyan bohat qadr-o-manzilat rakhti thin. (1)
Reehana-e-Majnoona
Hazrat Abu-r-Rabi‘ رحمہ اللہ bayan karte hain ke main, Muhammad bin Munkadir aur Sabit Banani aik shab Reehana Majnoona ke paas gaye. Dekha ke ibtida-e-shab khari ho kar masarrat-o-shadmani ke andaz mein yeh she‘r padh rahi thin:
Qama-l-muhibbu ila-l-mu’ammali qawmatann
Kaada-l-fu’aadu mina-s-suroori yateer
Yani: “Muhib apne marja‘-e-umeed ke samne is tarah khara hai ke us ka dil khushi se udta chala ja raha hai.”
Aadhi raat hui to yeh ash‘aar zaban par thay:
La ta’anasan bi-man tuwahishka nazratuh
Fa-tamna‘anna mina-t-tazkaari fi-z-zulam
Wajhad wa kadd wa kun fi-l-layli dha shajan
Li-yasqiyaka ka’sa widadi-l-‘izzi wa-l-karam
Yani: “Us se ulfat na rakh jis ki nazar tujhe wahshat mein daal de; kyun ke yeh andheron mein tujhe zikr se rok degi. Rah-e-Haq mein mehnat-o-mushqqat kar, raat ko ghamzada reh; badlay mein Allah Ta‘ala tujhe apni dosti aur bakhshish ke jaam se nawazega.”
Subah qareeb hui to hasrat-o-yaas se aah bharne lagin. Sabab poocha to farmaya:
Zahaba-z-zulamu bi-unsihi wa bi-ulfatihi
Layta-z-zulamu bi-unsihi yatajaddad
Yani: “Raat apni tareeki ke sath apna uns aur muhabbat bhi le gayi. Kaash yeh tareeki usi uns ke sath bar-bar aati.” (2)
Hazrat Muneefa bint Abu Tariq
Hazrat Muneefa ka shumaar mashhoor aabidat mein hota tha. Jab raat ki tareeki chhati to apne nafs ko mubarak-baad deti hui kehtin: “Aey nafs! raat aa gayi, jis mein momin ki aankhon ki thandak aur dil ka suroor rakha gaya hai.” Phir ibadat-o-riyazat mein mashghool ho jatin.
Farmati thin: “Qasam ba-Khuda! jab tak zinda hoon raat ki tareekiyon mein kabhi na soungi, balkeh poori raat apne Maula ke zikr se roshan rakhungi.”
Hazrat ‘Aamir bin Malik Bahrani aik kaneez se riwayat karte hain ke woh aik raat Muneefa bint Abu Tariq ke yahan rahi. Us ne dekha ke qiyam-ul-layl mein yeh ayat bar-bar parhte parhte subah kar di:
Wa kaifa takfuroona wa antum tutla ‘alaykum ayatullahi wa feekum Rasooluh, wa man ya‘tasim billahi faqad hudiya ila siratin mustaqeem.
(Surah Aal-e-Imran: 3/101)
Yani: “Tum ab kaise kufr karo ge jab ke tum par Allah ki ayatein tilawat ki ja rahi hain aur tum mein Allah ke Rasool ﷺ maujood hain; aur jo Allah ki rassi ko mazboot pakar leta hai, woh seedhi raah ki taraf hidayat paa leta hai.” (3)
Habeeba ‘Adawiya
Hazrat Habeeba ‘Adawiya apne waqt ki azeem aabida-o-mujahida thin. Jab ‘Isha ki namaz ada kartin to apne makan ki chhat par chadh jatin, dupatta kas kar kehtin:
“Aey Allah! sitaray nikal aaye, aankhen neend se bojhal ho gayin, badshahon ne apne darwazay band kar liye, aashiq apne mashooq ke sath khalwat mein chalay gaye—aur main teri bargah mein haazir ho gayi hoon.”
Phir namaz mein mashghool ho jatin. Fajr ke qareeb kehtin: “Aey Allah! raat rukhsat ho gayi aur din nikal aaya. Mujhe nahin maloom ke meri raat qubool hui ya nahin. Agar qubool ho gayi to khud ko mubarak-baad doon, warna ta‘ziyat karoon. Teri izzat ki qasam! yeh mera mamool rahe ga jab tak zinda rahoon. Agar tu ne mujhe apne dar se jhatak diya tab bhi main tera dar na chhoroon gi—kyun ke mera dil tere jood-o-karam ke anwaar se roshan hai.” (4)
Hazrat ‘Umrah
Mashhoor buzurg Hazrat Habeeb ‘Ajmi رحمۃ اللہ علیہ ki zawja-e-mohtarma Hazrat ‘Umrah bhi bari aabida-o-zahida thin. Aik raat woh namazon mein mashghool thin aur un ke shohar so rahe thay. Sehar qareeb aayi to woh abhi tak soye rahe. Hazrat ‘Umrah ne jaga kar kaha:
“Shohar-e-namdar! ab uthiye—karwan-e-shab kooch kar chuka, safeeda-e-sehar namoodaar honay ko hai. Aap ke samne aik lamba safar hai aur zaad-e-raah kuch bhi nahin. Saleheen ke qaflay hum se pehle rawana ho chukay aur hum yahin paray reh gaye.”
Allah-u-Akbar! yeh baat kitni pakeeza aur umda hai! Aur woh ghar kitna ba-sa‘adat hai jahan aisi baat kahi aur suni jaye. Nabi-e-Kareem ﷺ ne aisi aurat ke liye khaas dua farmai jo raat ko uth kar ibadat karti aur apne shohar ko bhi uthati hai. (5)
Hazrat ‘Ajradah ‘Amya
Riwayat hai ke woh raat bhar ibadat kartin, halaan ke aankhon se ma‘zoor thin. Sehar ke waqt buland aur ghamgeen aawaz mein kehtin:
“Aey Allah! aabidon ne sirf teri hi manzil tak pohanchne ke liye raat ka safar tay kiya hai. Woh teri rehmat, fazl aur maghfirat ki taraf sabqat le ja rahe hain. Main sirf tujh se maangti hoon—ghair se nahin. Mujhe bhi sabqat karne walon mein sar-e-fehrist kar, ‘Illiyyeen mein muqarrabeen ka darja ata farma aur apne neik bandon mein shamil kar.”
Yeh dua kar ke sajday mein gir jatin, yahan tak ke girnay ki aawaz aas-paas suni jati. Sajday hi mein Fajr tak roti aur dua karti rehtin. (6)
Hazrat Bareerah
Hazrat Ibn-ul-‘Alaa As-Sa‘di kehte hain ke meri chachazaad behn Bareerah bohat aabida aur parhezgar thin. Kasrat se tilawat kartin aur tilawat ke dauran musalsal roti rehtin—itna ke aankhen be-kaar ho gayin.
Aik martaba hum ne mashwara kiya ke unhein itna rone par tanbeeh karein. Jab un se kaha gaya to farmaya: “Agar Allah ke yahan meri aankhon ke liye koi behtari hai to un ke zaya honay ka gham nahin; aur agar wahan koi burai hai to phir unhein aur rona chahiye.”
Yeh sun kar hum mein se kisi ne kaha: “Chalo, in ka haal hum se mukhtalif hai.” (7)
Hazrat Rahlah
Hazrat Khawwas farmate hain ke hum mashhoor aabida Rahlah ke paas gaye. Itne rozay rakhe ke rangat siyah ho gayi, itne aansu bahaye ke aankhon se mehroom ho gayin, aur itni namazain padheen ke chalna phirna mushkil ho gaya. Hum ne narmi ki baat ki to cheekh kar kaha:
“Main apne nafs ko zyada janti hoon—mera dil zakhmi aur kaleja chhalni hai. Kaash! Allah ne mujhe paida hi na kiya hota.”
Phir namaz mein mashghool ho gayin. (8)
Isi silsilay mein riwayat hai ke aik neik khatoon ne jab zyada rone par tanbeeh suni to kaha: “Jin aankhon ko qiyamat ke din didaar-e-Ilahi naseeb hona hai, un ka duniya mein andha ho jana koi gham nahin.” (9)
Mukhtalif Riwayatain
Hazrat Abdullah bin Hasan apni rumi bandi ka waqia bayan karte hain jo raat ko sajday mein ro rahi thi aur kehti thi: “Aey Allah! jo muhabbat tujh ko mujh se hai, usi ki wajah se meri maghfirat farma.” (10)
Hazrat Muhammad bin Qudamah Hazrat Mansoor bin Mu‘tamir ki padosan aur un ki do neik betiyon ka zikr karte hain jo sirf raat ko ibadat kartin—aur bees saal tak yahi silsila raha. (11)
Aik buzurg aurat, jo bohat zaeef honay ke bawajood raaton ko aabad rakhti thin, naseehat par farmati thin ke agar main aaram ko tarjeeh doon to Maalik-e-Haqeeqi ke dar se door ho jaungi… aur aakhirat ke manazir bayan karti thin jin se neend udd jaye. (12)
‘Aarifah Kaneez
Hazrat Hasan bin Saleh ne aik kaneez bechi, jo raat ko ghar walon ko namaz ke liye jagati. Jab pata chala ke woh tahajjud se ghafil hain, to wapas aakar kaha: “Mujhe aise logon ke haath bech diya gaya jo shab-bedari se mehroom hain.” Chunanche unhein wapas le liya gaya.
Hazrat Shu‘wana
Hazrat Shu‘wana itna roti thin ke logon ko un ki beenai ka khauf hota. Farmati thin: “Duniya mein Allah ke khauf se andha ho jana is se behtar hai ke aakhirat mein jahannum ki aag andha kare.” (13)
Un ki majlis mein log un ke ashk-o-buka dekh kar hairan rehte. Naseehat par farmati thin ke main itna rona chahti hoon ke aansu khatam ho jayen, phir khoon ke aansu roon—magar mujhe rona naseeb hi kahan hota hai! Yeh keh kar be-hosh ho jatin. (14–15)
Un ki aik mashhoor dua:
“Aey Allah! mujhe teri mulaqat ka shauq hai aur teri jaza ki umeed. Agar tu mujhe maaf kare to tujh se behtar kaun, aur agar azaab de to tujh se zyada ‘adil kaun? Meri zindagi mein tu ne mujh par ehsaanat kiye—mout ke baad bhi apni rehmat ka darwaza band na kar…”
Is dua par yeh mazmoon khatam hota hai, is tamanna ke sath ke Allah Ta‘ala humein bhi un Allah-waliyon ke naqsh-e-qadam par chalne ki taufeeq de—shab-khezi aur ashk-rezi ki daulat se nawazay, aur yeh warasat naslon tak muntqil karne ka jazba ata farmaye. Aameen.
Maakhaz o Maraji‘
(1) Sifat-us-Safwah 1/246
(2) Roz-ul-Riyahin p.71 (Bazm-e-Awliya)
(3) Sifat-us-Safwah p.418
(4) Ihya ‘Uloom-ud-Deen 4/414; Sifat-us-Safwah 1/406