حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے چالیس اصول
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے چالیس اصول
دنیابھرمیں آج کامیاب زندگی کے جوبہترین اصول پڑھائے جارہے ہیں وہ میرے نبی کی حیات طیبہ کانچوڑہیں
از:جاویدچودھری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے برسوں پہلے انگریزی کی کسی طبی کتاب میں بہترین زندگی کے چالیس بہترین اصول پڑھے تھے۔ میں نے وہ صفحات کاپی کر کے اپنے پاس رکھ لیے۔ میں گاہے بگاہے یہ صفحات نکال کر پڑھتا رہتا تھا میں ان اصولوں پر عمل کی کوشش بھی کرتا تھا میں نے دس سال قبل تفاسیر اور احادیث کا مطالعہ شروع کیا تو پتہ چلا یہ چالیس اصول? دنیا کے کسی طبی ادارے یا یورپ اور امریکا کے کسی سیلف ہیلپ انسٹی ٹیوٹ نے ڈویلپ نہیں کیے بلکہ یہ تمام اصول ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا نچوڑ ہیں ۔یہ سیرت البنی صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کیے گئے ہیں۔
ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی اپنے اصحاب کو ان اصولوں کی ٹریننگ دی۔ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ کرام بہترین زندگی کے ان چالیس بہترین اصولوں کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ میں نے اس دن سے ان اصولوں پر عبادت کی طرح عمل شروع کر دیا گو میں ابھی تک ان پر مکمل عملدرآمد نہیں کر سکا لیکن مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توفیق میں ضرور اضافہ کرے گا اور میں کسی نہ کسی دن آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے وضع کردہ ان اصولوں پر عمل میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ یہ چالیس اصول کیا ہیں آپ وہ اصول اور ان اصولوں کی جدید سائنسی توجہیات ملاحظہ کیجیے ۔مجھ سے اگر تشریح میں کوئی غلطی ہو جائے تو مجھے معاف کر دیجیے گا میرے لیے دعا بھی فرمائیے گا۔
(۱)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر اور اشراق عصر اور مغرب اور مغرب اور عشا کے دوران سونے سے باز رہا کرو۔ اس فرمان میں بے شمار طبی حکمتیں پوشدہ ہیں مثلاً آج میڈیکل سائنس نے انکشاف کیا کہ کرۂ ارض پر فجر اور اشراق کے دوران آکسیجن کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہم اگر اس وقت سو جائیں تو ہم اس آکسیجن سے محروم ہو جاتے ہیں اور یوں ہماری طبیعت میں بوجھل پن آ جاتا ہے ۔ ہم آہستہ آہستہ چڑچڑے اور بیزار ہو جاتے ہیں۔ عصر سے مغرب اور مغرب سے عشا کے درمیان بھی آکسیجن کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہم اگراس وقت بھی سو جائیں تو ہمارا جسم آکسیجن کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور ہم دس مہلک بیمایوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، دمہ بھی ان دس بیماریوں میں شامل ہے۔ چنانچہ آپ یہ اوقات جاگ کر گزاریں آپ پوری زندگی صحت مند رہیں گے۔ میرا تجربہ ہے ہم اگر ان تین اوقات میں چہل قدمی کریں تو ہماری طبیعت میں بشاشت آ جاتی ہے ۔
(۲)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بدبودار اور گندے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔یہ حکم بھی حکمت سے لبالب ہے بدبو انسان کو ڈپریس کرتی ہے جب کہ خوشبو ہماری توانائی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ انسان اگر روزانہ دس منٹ بدبو دار اور گندے لوگوں میں بیٹھنا شروع کر دے تو یہ بیس دنوں میں ڈپریشن کا شکار ہو جائے گا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شاید اسی لیے بدبودار لوگوں سے پرہیز کا حکم دیا۔آپ بھی یہ کر کے دیکھیں۔ آپ کا مزاج بدل جائے گا۔
(۳) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کے درمیان نہ سوئیں جو سونے سے قبل بری باتیں کرتے ہیں۔یہ فرمان بھی حکمت کے عین مطابق ہے۔ آج سائنس نے ڈسکور کیاکہ نیند سے قبل ہماری آخری گفتگو ہمارے خوابوں کا موضوع ہوتی ہے اور یہ خواب ہمارے اگلے دن کا موڈ طے کرتے ہیں۔ ہم اگر برا سن کر سوئیں گے تو ہم برے خواب دیکھیں گے اور ہمارے برے خواب ہمارے آنے والے دن کا موڈ بن جائیں گے ۔ہم خوابوں کے طے کردہ موڈ کے مطابق دن گزار تے ہیں چنانچہ نیند سے قبل ہماری آخری محفل اچھی ہونی چاہیے۔ ہمارا اگلا دن اچھا گزرے گا۔
(۴)حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: تم بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ۔یہ فرمان بھی عین سائنسی ہے ۔ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں۔دایاں اور بایاں۔ دایاں حصہ مثبت اور بایاں منفی ہوتا ہے۔ ہم جب اپنے جسم کو دائیں ہاتھ سے فیڈ کرتے ہیں تو ہماری مثبت سوچ مضبوط ہوتی ہے اور ہم جب اپنے بدن کو بائیں ہاتھ سے کھلاتے ہیں تو ہماری منفی سوچ طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے۔ آپ مشاہدہ کر لیں آپ کو بائیں ہاتھ سے کھانے والے اکثر منفی سوچ والے ملیں گے۔ یہ آپ کو ہمیشہ شکوہ شکایت غیبت اور دوسروں کو نقصان پہنچاتے نظر آئیں گے۔
(۵)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہ سے کھانا نکال کر نہ کھاؤ۔یہ فرمان بھی سائنس سے درست ثابت ہوتا ہے۔ ہمارے منہ میں دس کروڑ سے ایک ارب تک بیکٹیریا ہوتے ہیں۔یہ بیکٹیریا مہلک جراثیم بن جاتے ہیں۔یہ جراثیم ہمارے کھانے میں مل جاتے ہیں ۔ یہ کھانا معدے میں جاتا ہے تو معدے کے غدود اُن جراثیم کو مار دیتے ہیں یوں یہ ختم ہو جاتے ہیں لیکن جب ہم جراثیم ملے کھانے کو منہ سے نکال لیتے ہیں تو ان جراثیم کو آکسیجن مل جاتی ہے ۔یہ آکسیجن سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ان جراثیم کی تعداد کھربوں تک پہنچا دیتی ہے۔ یہ جراثیم معدے کے غدودوں سے بھی طاقتور ہوتے ہیں ۔ہم جب منہ سے نکلے لقمے کو دوبارہ منہ میں رکھتے ہیں تو یہ لقمہ معدے میں پہنچ کر زہر بن جاتا ہے اور یہ زہر ہمارے پورے نظام ہضم کو تباہ کر دیتا ہے۔ آپ کو زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص صحت مند نہیں ملے گا جسے منہ سے لقمہ نکال کر کھانے کی عادت ہو جب کہ آپ کو ہونٹ بھینچ کر اور آواز پیدا کیے بغیر کھانے والے لوگ ہمیشہ صحت مند ملیں گے۔
(۶)ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ کے کڑاکے نہ نکالا کرو۔ سائنس کا کہنا ہے ہم میں سے جو لوگ انگلیوں کے کڑاکے نکالتے رہتے ہیں ان کے جوڑ کھلنا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ جلد آرتھریٹس کا شکار ہو جاتے ہیں ۔یہ جوڑوں کے درد کی شکایت بھی کرتے ہیں۔
(۷)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوتا پہننے سے قبل اسے جھاڑ لیا کرو ۔ہماری زندگی کے عام واقعات میں کیڑے مکوڑے، بچھو، چھپکلیاں، چھوٹے سانپ اور بھڑیں ہمارے جوتوں میں پناہ لے لیتی ہیں۔ ہمار ے بچے بھی جوتوں میں کیل کانٹے اور بلیڈ پھینک دیتے ہیں چنانچہ ہم جب جوتا پہنتے ہیں تو ہمارے پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں یا پھر ہمیں کیڑے مکوڑے کاٹ لیتے ہیں لہٰذا جوتا پہننے سے قبل اسے جھاڑ لینا ہمیشہ فائدہ مند رہتا ہے۔
(۸)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو۔یہ فرمان بھی درست ہے آسمان میں ایک وسعت ہے یہ وسعت ہمیشہ ہماری توجہ کھینچ لیتی ہے۔ ہم جب بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں ہماری توجہ بٹ جاتی ہے۔ہمیں توجہ واپس لانے میں ٹھیک ٹھاک وقت لگتا ہے۔ نماز کے لیے یکسوئی درکار ہوتی ہے ہم جب نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہم سجدے اور رکوع بھول جاتے ہیں چنانچہ حکم دیا گیا نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو۔ یہ فارمولہ تخلیقی کاموں کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر لکھاری لکھتے، مصور تصویر بناتے اور موسیقار دھن بناتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ لے تو اس کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے یہ اپنا کام مکمل نہیں کر پاتا شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کا زیادہ تر تخلیقی کام بند کمروں میں مکمل ہوا۔ یہ کھلی فضا میں پروان نہیں چڑھا۔بیتھون کی سمفنیاں ہوں ڈاونچی کا لاسٹ سپر ہو یا پھر ٹالسٹائی کا وار اینڈ پیس دنیا کا ہر ماسٹر پیس بند کمرے میں تخلیق ہوا۔ آپ تخلیق کا آئیڈیا لینا چاہتے ہیں تو آپ کھلے آسمان کے نیچے کھلی فضا میں واک کریں آپ آئیڈیاز سے مالا ہول ہو جائیں گے لیکن آپ اگر ان آئیڈیاز پر کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کمرے میں بند ہو جائیں ،آپ کمال کر دیں گے۔آپ کو انبیا، اولیا اور بزرگان دین بھی بند غاروں میں مراقبے کرتے ملیں گے یہاں تک کہ گوتم بودھ کو نروان بھی ایک ایسے درخت کے نیچے ملا تھا جس سے آسمان دکھائی نہیں دیتا تھا وہ درخت اتنا گھنا تھا کہ وہ بارش تک روک لیتا تھا۔
(۹)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رفع حاجت کی جگہ (ٹوائلٹ میں)مت تھوکو۔ یہ حکم اپنے اندر دو حکمتیں رکھتا ہے ۔ ٹوائلٹ میں تھوکنے سے بعد میں آنے والوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور دوسرا ٹوائلٹس میں لاکھوں قسم کے جراثیم بھی ہوتے ہیں۔ ہم جب تھوکنے کے لیے منہ کھولتے ہیں تو یہ جراثیم ہمارے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ہمارے لعاب دہن میں پرورش پاتے ہیںیہ معدے اور پھیپھڑوں میں پہنچتے ہیں اورپھر یہ ہمیں بیمار کر دیتے ہیں۔آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی ہماری ناک جراثیم کو پھیپھڑوں تک نہیں جانے دیتی۔ ہماری ناک سے صرف کیمیکلز جسم میں داخل ہوتے ہیں جراثیم زیادہ تر منہ سے بدن میں اترتے ہیں اور ان کا بڑا سورس(ذریعہ) ٹوائلٹس ہوتے ہیں چنانچہ آپ ٹوائلٹ میں لمبی لمبی سانس لینے، تھوکنے،کچھ گنگنانے، آوازیں دینے اور موبائل فون پر بات کرنے سے پرہیز کریں۔ آپ کی صحت اچھی رہے گی۔
(۱۰)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑی کے کوئلے سے دانت صاف نہ کرو۔ ہم میں سے بے شمار لوگ کوئلے سے دانت صاف کرتے ہیں۔ کوئلے سے ہمارے دانت وقتی طور پر چمک جاتے ہیں لیکن یہ بعد ازاں مسوڑے بھی زخمی کر دیتاہے ،دانتوں کی جڑیں بھی ہلا دیتا ہے اور یہ منہ میں بو بھی پیدا کرتا ہے۔ لکڑی کا کوئلہ سیدھا سیدھا کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتا ہے ۔یہ ہائی جینک بھی نہیں ہوتا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پرہیز کا حکم دیا۔
(۱۱)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ بیٹھ کر کپڑے تبدیل کیا کرو۔ہم میں سے اکثر لوگ شلوار پتلون یا پائجامہ پہنتے وقت اپنی ٹانگ پھنسا بیٹھتے ہیں اور گر پڑتے ہیں ۔ہم میں سے ہر شخص زندگی میں کبھی نہ کبھی اس صورت حال کا شکار ضرور ہوتا ہے بالخصوص ہم بڑھاپے میں شلوار یا پتلون بدلتے وقت ضرور گرتے ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے شاید اس قسم کے حادثوں سے بچنے کے لیے یہ حکم جاری فرمایاتھا۔
(۱۲)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے دانتوں سے سخت چیز مت توڑا کرو۔ ہم لوگ اکثر بادام اخروٹ یا نیم پکا گوشت توڑنے کی کوشش میں اپنے دانت تڑا بیٹھتے ہیں۔ دانت ایکٹو زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید اسی لیے دانتوں کو سخت چیزوں سے بچانے کا حکم دیا۔
خوراک تہذیب کا تیسرا بڑا عنصر ہوتی ہے۔ آپ اگر کسی قوم کسی خاندان یا کسی شخص کی تہذیب کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو آپ صرف اتنا دیکھ لیں وہ کیا کھا رہا ہے اور وہ کیسے کھا رہا ہے۔ آپ کو مزید تحقیق کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین زندگی کے چالیس اصولوں میں سات اصول صرف کھانے سے متعلق ہیں۔میں دو اصول پیچھے لکھ چکاہوں، باقی پانچ یہ ہیں۔
(۱۳)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گرم کھانے کو پھونک سے ٹھنڈا نہ کرو، پنکھا استعمال کر لیا کرو۔ یہ فرمان بھی ہائی جین پر بیس کرتا ہے۔ہم جب گرم کھانے کو پھونک مارتے ہیں تو ہمارے منہ کے بیکٹیریا کھانے کو زہریلا بنا دیتے ہیں۔یہ حرکت تہذیب اور شائستگی کے منافی بھی ہے۔
(۱۴)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاتے ہوئے کھانے کو سونگھا نہ کرو۔ کھانے کو سونگھنا بدتہذیبی بھی ہوتی ہے اور کھانے کی خوشبو ہماری ناک کے اندر موجود سونگھنے کے خلیوں اور پھیپھڑوں کی دیواروں کو بھی زخمی کر دیتی ہے ہمیں چھینک بھی آ سکتی ہے اور یہ چھینک سارے کھانے کو برباد کرسکتی ہے۔
(۱۵)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے کھانے پر اداس نہ ہوا کرو۔ہم عموماً کھانے کی مقدار اور کوالٹی پر اداس ہو جاتے ہیں۔ ہم ہمیشہ کھانا کھاتے وقت دوسروں کی پلیٹ کی طرف دیکھتے ہیں۔یہ عادت ہمارے اندر ناشکری پیدا کرتی ہے۔ ہم اگر اپنے کھانے کو اللہ کا رزق سمجھیں اس پر شکر کریں تو ہمارے اندر برداشت بھی بڑھے گی اور صبر اور شکر کی عادت بھی ڈولپ ہو گی۔ یہ عادت ہماری زندگی کو بہتر بنا دے گی۔
(۱۶)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہ بھر کر نہ کھاؤ ۔ہمارا منہ خوراک کے ہاضمے کا آدھا کام کرتا ہے، باقی آدھا کام معدہ سرانجام دیتا ہے۔ہم جب منہ بھر لیتے ہیں تو زبان اور دانتوں کو اپنا کام کرنے کے لیے جگہ نہیں ملتی ہم جلدی جلدی نگلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یوں ہمارے معدے کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے ۔معدہ یہ ذمے داری پوری نہیں کر پاتا ہم بدہضمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چھوٹا لقمہ لیتے تھے، دیر تک چباتے تھے اور آدھا معدہ بھرنے کے بعد ہاتھ کھینچ لیتے تھے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم پوری زندگی صحت مند رہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی یہ عادت اپنا لی چنانچہ مدینہ کے طبیب بے روزگار ہو گئے اور وہ کھجوروں کی تجارت کرنے لگے۔
(۱۷)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اندھیرے میں مت کھاؤ ۔ اس فرمان کی دو وجوہات ہیں۔ اندھیرے میں کھانے سے کھانے میں کیڑے مکوڑے ملنے کا خدشہ ہوتا ہے اور دوسرا روشنی کا کھانے کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ہمیں روشنی میں کھایا ہوا کھانا زیادہ انرجی دیتا ہے ۔یہ وہ واحد وجہ ہے جس کی بنا پر دنیا بھر میں ڈنر کے وقت ہال اور کمرے کی تمام لائیٹس آن کر دی جاتی ہیں، یہ ممکن نہ ہو تو میز پر موم بتیاں جلا دی جاتی ہیں۔ انگریز اس انتظام کو کینڈل لائیٹ ڈنر کہتے ہیں یہ روایت ہزاروں سال سے چلی آ رہی ہے اور یہ انتہائی مفید ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی روشنی میں کھانے کا حکم دے کر اس روایت کی تائید فرمائی۔
(۱۸)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسروں کے عیب تلاش نہ کرو۔ ہم جب دوسروں میں عیب ڈھونڈتے ہیںتو ہم چغلی غیبت اور منافقت جیسی روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماریاں ہمیں حسد جیسے مہلک مرض میں مبتلا کر دیتی ہیں اور یوں ہم ذہنی جسمانی اور روحانی تینوں سطحوں پر علیل ہو جاتے ہیں چنانچہ ہم اگر صرف دوسروں میں عیب تلاش کرنا بند کر دیں تو ہم حسد، منافقت، غیبت اور چغل خوری جیسے امراض سے بچ جائیں گے، ہم صحت مند زندگی گزاریں گے ۔
(۱۹)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقامت اور اذان کے درمیان گفتگو نہ کیا کرو۔ اللہ کائنات کا سب سے بڑا بادشاہ ہے، اذان اس بادشاہ کی طرف سے بلاوا ہوتا ہے اور اقامت شرفِ باریابی کی اجازت چنانچہ یہ دونوں اوقات پروٹوکول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو پروٹوکول کی خلاف ورزی اچھی نہیں لگتی ۔ہم اگر دنیاوی بادشاہوں کے پروٹوکو ل کا خیال رکھتے ہیں تو پھر ہمیں دنیا کے سب سے بڑے بادشاہ کے پروٹوکول کا سب سے زیادہ احترام کرنا چاہیے۔
(۲۰)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت الخلاء میں باتیں نہ کیا کرو۔ اس کی وجہ جراثیم ہیں۔ہم پچھلے صفحے میں اس کا تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوستوں کو بہت اہمیت دیا کرتے تھے لہٰذاحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصے بیان نہ کیا کرو۔ دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصوں سے دوستوں کی دل آزاری بھی ہوتی ہے اور دوست بدنام بھی ہوتے ہیں چنانچہ اس عادت بد سے پرہیز دوستی کے لیے بہت اہم ہے۔ (۲۱)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوست کو دشمن نہ بناؤ۔ یہ فرمان نفسیات اور معاشرت دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہمارے دوست ہماری تمام کمزوریوں سے واقف ہوتے ہیں یہ جب دشمن بنتے ہیں تو یہ دنیا کے خوفناک ترین دشمن ثابت ہوتے ہیں چنانچہ ہمیں زندگی میں کبھی کسی دوست کو دشمن بناناچاہیے اور نہ کبھی کسی دوست کا دشمن بننا چاہیے۔
(۲۲)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوستوں کے بارے میں شکوک نہ پالو۔ شک دوستی کے لیے زہر ہوتا ہے ہم جب دوستوں کے بارے میں مشکوک ہو تے ہیں تو دوستی کا دھاگہ کمزور ہو جاتا ہے چنانچہ شک سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔
(۲۳) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلتے ہوئے بار بار پیچھے مڑ کر نہ دیکھو۔ چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنا ایک نفسیاتی بیماری ہے ۔یہ بیماری خوفزدہ ڈرے اور سہمے ہوئے لوگوں میں عام ہے۔ ہم جب چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہم اس بیماری کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ہماری توجہ بھی بٹ جاتی ہے، ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے، ہماری رفتار بھی آدھی رہ جاتی ہے اور ہم بلاوجہ دوسرے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کر لیتے ہیں۔
(۲۴)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیاں مار کر نہ چلو۔ ایڑیاں مار کرچلنا یا چلنے کے دوران دھمک یا آواز پیدا کرنا تکبر کی نشانی ہے اور تکبر مسلمانوں کو سوٹ نہیں کرتا۔ ہمارے پاؤں کا ہمارے دماغ کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ایڑیاں مارنے سے ہمارے دماغ کی چولیں ہل جاتی ہیں ہم دماغی لحاظ سے کمزور ہو جاتے ہیں۔ آپ کو ایڑیاں مار کر چلنے والے جلد یا بدیر دماغی امراض کی ادویات کھاتے ملیں گے۔
(۲۵)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے بارے میں جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹ دنیا کی سب سے بڑی معاشرتی برائی اور گناہوں کی ماں ہے۔ہم اگر صرف جھوٹ بند کر دیں تو معاشرہ ہزاروں برائیوں سے پاک ہوسکتا ہے۔
(۲۶)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر کراور صاف صاف بولا کرو تا کہ دوسرے پوری طرح سمجھ جائیں۔ جھوٹ کے بعد غلط فہمی معاشر ے کی سب سے بڑی برائی ہے۔ ہم جب گفتگو میں واضح نہیں ہوتے تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ غلط فہمیاں معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں چنانچہ ہم جب بھی بولیں بلند واضح اور صاف بولیں۔
(۲۷)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکیلے سفر نہ کیا کرو۔ یہ فرمان بھی حکمت سے بھرپور ہے ۔اکیلا آدمی خوفزدہ بھی رہتا ہے، پریشان بھی اور یہ عموماً حادثوں کا شکاربھی ہو جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا سفر کے دوران اکیلے آدمی زیادہ لٹتے ہیں ،زیادہ جلدی بیمار ہوتے ہیں اور یہ زیادہ غلط فیصلے کرتے ہیں چنانچہ جب بھی سفر کریں ایک یا دو لوگوں کو ساتھ شامل رکھیں بالخصوص عورت کو کبھی اکیلے سفر نہ کرنے دیں۔
(۲۸)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فیصلے سے قبل مشورہ ضرور کیا کرو۔ انسان۱۶؍کیمیکلز کا مجموعہ ہے۔ یہ کیمیکلز ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں۔ہم جب بھی تنہا فیصلے کرتے ہیں، ہم موڈز کے تابع فیصلے کرتے ہیں اوریہ عموماً غلط ہوتے ہیں چنانچہ فیصلے سے قبل مشورہ ضروری ہے اور مشورہ ہمیشہ سمجھ دار کی بجائے تجربہ کار شخص سے کرنا چاہیے، آپ کو کبھی نقصان نہیں ہوگا۔
(۲۹)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی غرور نہ کرو۔ غرور ایک ایسی بری عادت ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا ۔میں نے پوری زندگی کسی مغرور شخص کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا ۔یہ غیر طبعی موت مرتے ہیں اورہمیشہ بے عزتی اور ذلت وراثت میں چھوڑتے ہیں۔
(۳۰)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیخی نہ بگھارو۔ یہ بھی کمال اصول ہے۔ میں نے آج تک کسی شیخی خور کو باعزت نہیں دیکھا ۔ہم عزت بڑھانے کے لیے شیخی مارتے ہیں اور ہمیشہ پرانی عزت بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔
(۳۱)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گدا گروں کا پیچھا نہ کیا کرو۔ ہم میں سے بے شمار لوگ فقیر کو دس بیس روپے دے کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں یہ واقعی حق دار تھا یا نہیں۔ یہ عادت ہمیں شکی بھی بنا دیتی ہے اور یہ صدقے اور خیرات سے بھی دور کر دیتی ہے۔
(۳۲) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہمان کی کھلے دل سے خدمت کرو۔ یہ عادت ہماری شخصیت میں کشش پیدا کر دیتی ہے۔ آپ کو مہمان نوازوں میں ہمیشہ مقناطیسی کشش ملے گی، آزما کر دیکھ لیں۔
(۳۳)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غربت میں صبر کیا کرو۔ یہ فرمان بھی کیا شاندار فرمان ہے۔ صبر بہت بڑی دولت ہے ، یہ دولت کبھی کسی انسان کو غریب نہیں رہنے دیتی۔ آپ صابر ہو جائیں آپ کے حالات دنوں میں بدل جائیں گے، آپ یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔
(۳۴)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھے کاموں میں دوسروں کی مدد کیا کرو۔ اچھائی نیکی ہوتی ہے اور نیکی میں دوسروں کا ساتھ دینے والے بھی جلد نیک ہو جاتے ہیں۔ آپ صرف نیک لوگوں کے معاون بن جائیں ،آپ نیکوں سے بھی آگے نکل جائیں گے۔
(۳۵)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی خامیوں پر غور کیا کرو اور توبہ کیا کرو۔تحقیق بتاتی ہے ہم اگر اپنی کسی ایک خامی پر قابو پا لیں تو ہم میں دس خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں، آپ یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔
(۳۷)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برا کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرو۔ یہ بھی آزما کر دیکھیں ۔یہ عادت آپ کے دشمنوں کی تعداد کم کر دے گی۔
(۳۸)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جو دیا ہے اس پر خوش رہو۔ میرا تجربہ ہے ہم دوسرے پرندے کی کوشش میں ہاتھ کا پرندہ بھی اڑا بیٹھتے ہیں ہمیں جو مل جائے ہم اگر اسے انجوائے کرنا سیکھ لیں تو یہ دنیا جنت ہو جاتی ہے۔
(۳۹)حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ نہ سویا کرو ،زیادہ نیند یادداشت کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ بھی طبی لحاظ سے درست ہے۔ نیند موت کی پچھلی اسٹیج ہے یہ بڑھ جائے تو ہمارے برین سیل مرنے لگتے ہیں چنانچہ سات گھنٹے سے کم اور آٹھ گھنٹے سے زیادہ نیند نہیں لینی چاہیے ۔
(۴۰)حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: روزانہ کم از کم سو بار استغفار کیا کرو۔ یہ عادت بھی عبادت ہے آپ کر کے دیکھیں، آپ کو نتائج حیران کر دیں گے۔
Huzoor ﷺ Ki Zindagi Ke 40 Usool
Duniya bhar mein kamyab zindagi ke jo behtareen principles aaj sikhaye ja rahe hain, woh mere Nabi ﷺ ki Hayat-e-Tayyiba ka nichor hain.
Az: Javed Chaudhry
Main ne barson pehle angrezi ki ek tibbi kitaab mein behtareen zindagi ke 40 principles parhe. Main ne woh safhaat copy karke apne paas rakh liye. Gaahe-ba-gaahe unhein parhta aur un par amal ki koshish karta raha. Das saal pehle jab main ne Tafaseer aur Ahadees ka mutaala shuru kiya to mujhe pata chala ke yeh 40 principles kisi medical institute ya Europe aur America ke self-help centers ne develop nahi kiye, balkay yeh tamam Huzoor ﷺ ki Hayat-e-Tayyiba ka nichor hain, jo Seerat-un-Nabi ﷺ se akhaz kiye gaye hain.
Rasool-e-Akram ﷺ ne apni poori zindagi Sahaba ko in usoool ki training di. Sahaba-e-Kiraam in 40 behtareen usoool ki chalti phirti tasveer thay. Us din se main ne in par ibaadat ki tarah amal shuru kar diya. Go ke main abhi tak mukammal amal nahi kar saka, magar mujhe yaqeen hai ke Allah Ta‘ala meri taufeeq mein izafa farmayega aur main kisi din in par poora amal kar paunga. Yeh rahe woh 40 usoool:
(1) Huzoor ﷺ ne farmaya: Fajr aur Ishraq, Asr aur Maghrib, aur Maghrib aur Isha ke darmiyan sone se parhez karo.
In auqaat mein oxygen ki miqdaar ka science bhi aaj tasdeeq karta hai. In waqton mein jaagna aur chehal-qadmi sehat ke liye behtareen hai.
(2) Huzoor ﷺ ne farmaya: Badbodaar aur ganday logon ke saath na baitha karo.
Badboo insan ko depress karti hai jab ke khushboo energy barhati hai.
(3) Huzoor ﷺ ne farmaya: Un logon ke paas na soya karo jo sone se pehle buri baatein karte hon.
Sone se pehli guftagu khwaabon aur aglay din ke mood ko tay karti hai.
(4) Huzoor ﷺ ne farmaya: Baen haath se na khao.
Daen haath se khana positive soch ko mazboot karta hai.
(5) Huzoor ﷺ ne farmaya: Munh se nikaala hua luqma dobara na khao.
Is se bacteria barh kar sehat ko nuqsaan pohanchate hain.
(6) Huzoor ﷺ ne farmaya: Ungliyon ke karrakay na nikala karo.
Is se joints khul jaate hain aur arthritis ka khatra hota hai.
(7) Huzoor ﷺ ne farmaya: Joota pehnay se pehle use jhaar liya karo.
Is se chot aur zehreelay keeron se bachao hota hai.
(8) Huzoor ﷺ ne farmaya: Namaz ke dauran aasman ki taraf na dekho.
Yeh tawajjoh bhatka deta hai; namaz aur creative kaam dono mein yaksooi zaroori hai.
(9) Huzoor ﷺ ne farmaya: Bait-ul-khala mein na thooka karo.
Yeh jagah germs se bhari hoti hai jo sehat ke liye nuqsaan-deh hain.
(10) Huzoor ﷺ ne farmaya: Lakri ke koylay se daant saaf na karo.
Yeh masooron ko zakhmi karta aur badboo paida karta hai.
(11) Huzoor ﷺ ne farmaya: Hamesha baith kar kapray tabdeel karo.
Is se girnay aur chot se bachao hota hai.
(12) Huzoor ﷺ ne farmaya: Daanton se sakht cheezain na toro.
Daant zindagi ka qeemti sarmaya hain.
Khana aur Tehzeeb
(13) Garam khanay ko phoonk se thanda na karo.
Yeh hygiene ke khilaaf hai.
(14) Khanay ko soongha na karo.
Yeh bad-tehzeebi aur sehat dono ke liye nuqsaan-deh hai.
(15) Apne khanay par udaas na ho.
Shukar se sabr aur sukoon paida hota hai.
(16) Munh bhar kar na khao.
Chhota luqma, zyada chabana sehat ki bunyaad hai.
(17) Andheray mein na khao.
Roshni mein khana zyada energy deta hai.
Akhlaq aur Muashrat
(18) Dusron ke aib talaash na karo.
Is se hasad, gheebat aur nifaq paida hota hai.
(19) Azaan aur iqamat ke darmiyan baat na karo.
Yeh Allah ke protocol ka ehtaraam hai.
(20) Bait-ul-khala mein baat na karo.
Germs aur bemariyon se bachao ke liye.
(21) Doston ke baray mein jhootay qissay bayan na karo.
Is se dosti toot jaati hai.
(22) Dost ko dushman na banao.
Dost jab dushman banay to sab se khatarnaak hota hai.
(23) Doston par shak na karo.
Shak dosti ka zeher hai.
(24) Chalte hue baar baar peeche na dekho.
Yeh khauf aur ghair-yakeeni ki nishani hai.
(25) Eeriyan maar kar na chalo.
Yeh takabbur aur dimaghi kamzori ka sabab banta hai.
(26) Jhoot na bolo.
Jhoot tamam buraiyon ki maa hai.
(27) Thehar kar, saaf aur wazeh bolo.
Wazahat se ghalat-fahmiyan khatam hoti hain.
(28) Akelay safar na karo.
Sath safar hifazat aur behtar faislay deta hai.
(29) Faislay se pehle mashwara karo.
Mashwara ghalati se bachata hai.
(30) Kabhi ghuroor na karo.
Ghuroor ka anjaam hamesha bura hota hai.
(31) Shekhi na baghaaro.
Shekhi izzat kam kar deti hai.
(32) Gada-garon ka peecha na karo.
Is se shak aur bakheelpan paida hota hai.
(33) Mehmaan ki khulay dil se khidmat karo.
Mehmaan-nawazi shakhsiyat mein kashish paida karti hai.
(34) Gurbat mein sabr karo.
Sabr sab se bari daulat hai.
(35) Achay kaamon mein madad karo.
Neki mein saath dene wala khud bhi naik ban jaata hai.
(36) Apni khamiyon par ghaur aur tauba karo.
Ek khami door ho to das khoobiyan paida hoti hain.
(37) Buraai karne walon ke saath bhi niki karo.
Dushman kam ho jaate hain.
(38) Allah ne jo diya hai us par khush raho.
Qanaat zindagi ko jannat bana deti hai.
(39) Zyada na soya karo.
7 se 8 ghantay ki neend behtareen hoti hai.
(40) Rozana kam az kam 100 martaba istighfar karo.
Yeh ibadat bhi hai aur roohani sukoon ka zariya bhi.
Natija:
Yeh 40 usoool sirf naseehat nahi, balkeh mukammal, modern aur logical lifestyle system hain — jo aaj bhi science, psychology aur successful living ke har benchmark par poore utarte hain.