اَوقاف کی اَہمیت وہمہ گیریت (تاریخ کے جھرونکے سے)
علامہ افروز قادری چریاکوٹی
—
اَوقاف کی اَہمیت وہمہ گیریت
(تاریخ کے جھرونکے سے)
از:مولانامحمدافروز قادری چریاکوٹی
’وقف‘ ایک متعدد الجہات (Multidimensional) عمل ہے جس کی برکتیں اِسلام کی ابتدائی صدیوں میں توخوب خوب دیکھنے میں آئیں لیکن جس طرح آج اِسلام کے دیگربہت سے شعبے کسمپرسی کے شکار ہیں اسی طرح نظامِ وقف کو بھی ہم نے بالکل معطل اور بے دست وپاکرکے اس سے اپنی آنکھیں موند لی ہیں۔ ہم تاریخِ عالم کا مطالعہ نہیں کرتے، نہ سہی لیکن کم از کم اپنے گھر کی خبر توہمیں ہونی ہی چاہیے۔ یہ سن کر آپ کی حیرتیں اِنتہا کو پہنچ جائیں گی کہ فرنگیوں نے جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے ہندوستان میں اپنا قدم جمانا چاہا تواُن کے مقاصد کی بازیابی میں (دیگر اُمور کے ساتھ ) جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی تھی وہ مسلمانوں کا ’نظامِ وقف‘ تھا کیوں کہ اُس وقت اہل اِسلام کا سارا دارو مدار وقف ہی کے اوپر تھا خصوصاً مدارسِ اِسلامیہ کے جملہ لوازمات واخراجات وقف ہی کے رہین منت تھے لہٰذا فرنگیوں نے پہلا اِقدام یہ کیا کہ اپنی شاطر انہ چال سے وقف کے نظام کو بالکل تربتر کرکے رکھ دیا اور ساری معافیات ضبط کرلیں جس کا نتیجہ یہ ہواکہ مدارس کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا،طلبہ نانِ شبینہ کو ترس گئے اور اَربابِ دانش وبینش کی جان کے لالے پڑ گئے۔
یقینایہ ایک افسوس کن خبرہے لیکن اس خبر کا اس سے زیادہ افسوسناک پہلویہ ہے کہ اُس وقت سے لے کر آج تک پھر ہم نے کبھی وقف کی دوبارہ بحالی (Re-establishment) کی کوئی جدوجہد نہیں کی اور نہ کبھی اس تعلق سے سنجیدہ ہوکر سوچاکہ ہمارا نظامِ وقف فرنگیوں کی آنکھ کا کاٹاکیوں ثابت ہواتھا!۔(گو آج بھی ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ہزارہا ہزار کی تعداد میں اَوقاف ’لاوارث ‘ پڑے ہوئے ہیں اور حالات کی ستم ظریفی پرماتم کناں ہیں کیوں کہ نہ توکوئی ان کی فریاد پر کان دھرنے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی ان کا حق دلا نے کے لیے-الامان والحفیظ- حقائق آگے آئیں گے ان شاء اللہ) اِسلام کے نظام وقف کی اہمیت اورہمہ گیریت کو اُجاگر کرنے اور مسلمانوں کو اپنے درخشندہ ماضی سے مربو ط کرنے کے حوالے سے ذیل کی چند سطریں آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوں۔
اِسلام نے مسلمانوں کو معاشی و معاشرتی ترقی و اُٹھان کے لیے جہاں بہت سے طریقوں سے آشنا کیا اُن میں ایک وقف بھی ہے۔ وقف کو اِسلام کے اِمتیازات و خصائص میں شمار کیا گیا ہے اور پھر وقف کی اہمیت و ہمہ گیریت اور اس کی ناگزیر ضرورت سے کوئی دور اندیش اور عاقبت شناس اِنکار بھی نہیں کرسکتا کیوں کہ اس کی پشت پر صدیوں کی بوجھل شہادتیں موجود ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے :
لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتیّٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران:۳؍۹۲)
تم اس وقت تک نیکی نہیں پاسکتے جب تک اپنی محبوب اور پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں نہ دے دو۔
یہی آیتِ کریمہ در اصل وقف کی بنیاد (Base) بنی ہے جس پر عمل اور اس کا لحاظ اِیمانی تقاضہ ہے۔ پیغمبر اِسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ موت کے ساتھ ہی تمام اَعمال منقطع ہوجاتے ہیں صرف تین عمل ایسے ہیں جن کا ثواب پس ِمرگ بھی برابر ملتا رہتا ہے جن میں ایک صدقۂ جاریہ بھی ہے ۔ اور یہ ’وقف‘ صدقۂ جاریہ کی بہترین اور اعلیٰ قسم ہے۔ ہم نے اس فرمانِ پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام کوزندگی میں نہ معلوم کتنی بار سنا اور پڑھاہوگا لیکن شاید کبھی اس کی گہرائی میں اُتر کر ہم نے اس پر غوروفکرکرنے کی زحمت گوارانہیں کی۔
وقف کی تعریف اور اس کی اہمیت:
شریعتِ مطہرہ کی اِصطلاح میں اپنی کوئی چیز یا اُس کا فائدہ کسی خاص مقصد خیر کے لیے مخصوص کردینے کو وقف کہا جاتاہے۔ جس طرح صدقہ کردینے سے وہ شے آپ کی نہیں رہتی تاہم نیت پر اُس کا ثواب‘ نامۂ اعمال میں لکھاجاتا رہتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح وقف کی گئی ملکیت کا ثواب بھی باعتبارِ نیت و اِخلاص اِنسان کے نامۂ اعمال میں ہمیشہ کے لیے منتقل ہوتا رہتا ہے اور آپ کو پتاہے کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ وہ عمل محبوب ہے جو تسلسل کے ساتھ کیاجائے خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔حدیث پاک کی شہادت دیکھیں :
إن أحب الأعمال إلی اللّٰہ ما دام وإن قل ۔(متفق علیہ)
وقف ایک ایسی عبادت ہے جو مسلمانوں کی معاشی و معاشرتی زندگی کو قوت و توانائی عطا کرتی ہے۔ اگر مسلمان اس کو اس کی صحیح روح کے ساتھ جاری وساری کرلیںتو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے معاشی و معاشرتی مسائل حل نہ ہوجائیں۔
وقف کی اسی اہمیت و ضرورت اور اس کے ہمہ جہت فوائد کے پیش نظر مسلمانوں نے اپنے دورِ عروج میں شہروں اور قصبوں میں سرا ئے،مدرسے اور شفا خانے قائم کیے۔ جذامیوں، مجنونوں اور معذو رو ں کے لیے پناہ گاہیں تعمیر کرائیں علاوہ بریںکھربوں مالیت پر مبنی وہ اِملاک وقف کیں جو آج بھی ملت کا ایک بڑا اَثاثہ ہیں۔
قانون اسلام کی ہمہ گیریت :
اِسلام اجتماعیت کا دین ہے یہ جہاں فرد کے مطالبات پورے کرتاہے وہیں کل اُمتِ مسلمہ کے مسائل کا جامع حل بھی پیش کرتاہے۔ اس پر پورے طورپر عمل پیرا ہوکر اہلِ اِسلام دنیا و آخرت میں عزت و سرخروئی حاصل کرسکتے ہیں۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جواہلِ ایمان واسلام کے درمیان تعاون وتکافل کی ہر اُس راہ کو ہموار کرتاہے جو ساری بھلا ئیو ں کی جامع اورجملہ اچھائیوں سے مالامال ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
وَ تَعَاوَنُوا عَلَی البِرِّ وَ التَّقْویٰ وَ لاَ تَعَاوَنُوا عَلَی الاِثْمِ وَ العُدْوَانِ o (سورۂ مائدہ:۵؍۲)
اور نیکی اور پرہیزگاری(کے کاموں)پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم(کے کاموں)پرایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
برادرانِ گرامی! اِنسانوں کے اندر مختلف قسم کی قوتیں اور صلاحیتیںموجود ہیں ہر کسی کے اندر ایک طرح کا حوصلہ و خروش نہیں ہوتا۔ اعمال جدا ہوتے ہیں، عقلوں میں تفاوت ہوتاہے اور جدو جہد کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں۔ کسی پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل کے دروازے وا کردیتاہے تووہ بے حساب پالیتاہے پھر اس کے یہاں رزق کی فراوانی اور مال کی بہتات ہوتی ہے اور کچھ لوگوں پر (آزمائش و اِبتلااور کچھ خاص حکمت کے پیش نظر) درِ رزق تنگ فرما دیتا ہے اور آمدنی کے سارے ذرائع بند کردیتاہے۔ خواہ یہ اس کے تگ و دونہ کرنے سے ہو خواہ عقل ودانش کی کمی کے باعث یا کسی جسمانی رکاوٹ کے سبب۔
آپ دیکھیں ناکہ اسی دنیا میں چھوٹے بچے بھی سانس لیتے ہیں اور اسی میں گونگے اورمعذور بھی جنھیں براہِ راست ایک حرف اَدا کرنے کی بھی قدرت نہیں ہوتی اور وہ بظاہر قدرت کی بوقلمونیت کی تعریف کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بلاشبہہ حکمت وقدرت پوشیدہ ہے۔ اللہ سے کون پوچھے گا مگرہاں ان سے ضرورپوچھ گچھ ہوگی۔
آپ کو پتاہے کہ مال زندگی گزارنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے اسی لیے پروردگارِ عالم نے ان مالوں کے کمانے اور خرچ کرنے کا ایک ضابطہ اور نظام دیاہے کہ کس طرح انھیں حا صل کرنا ہے اور پھر کس طرح ان میں سے صرف کرناہے۔ یہ نظامِ الٰہی‘ زندگی و موت ہر موقع پر رہبری کرتاہے۔ زندگی میں ایک عقل مند آزاد مرد اپنے مال کو شریعت کی حدود میں رہ کر خرید و فروخت، رہن واِجارہ، وصیت وہبہ اور وقف وغیرہ میں لگاتاہے جب کہ پس مرگ اس کے بچے ہوئے مال کواس کے اَقربا و ورثا پر تقسیم کردیاجاتاہے۔ اس طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے فرض کردہ میراث کی تقسیم ہوتی ہے۔
اٰبَائُکُمْ وَاَبْنَائُکُمْ لاَ تَدْرُونَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَہُمْ نَفعاً فَرِیْضَۃً مِنَ اللّٰہِ ِانَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیمًا حکِیمًا (سورۂ نسا:۴؍۱۱).
تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ فائدہ پہنچانے میں ان میں سے کون تمہارے قریب تر ہے یہ (تقسیم) اللہ کی طرف سے فریضہ (یعنی مقرر)ہے بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
دوسری جگہ فرمایا :
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُولَہُ یَدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الاَنْہٰرُ خٰلِدِینَ فِیہَا وَذٰلِکَ الفَوزُ العَظِیمُ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہ وَرَسُولَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خٰلِدًا فِیہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُہِینٌ (النسا:۴؍۱۳،۱۴)
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی فرمانبرداری کرے اسے وہ بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے اسے وہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کے لیے ذلت انگیز عذاب ہے۔
وقف کا اِسلامی تصور : رفیقانِ گرامی! تعاون کی سب سے اعلیٰ صورت اور لوگوں کے ساتھ رحم ومروّت کا خوبصورت ترین طریقہ یہ ہے کہ کمزور مخلوق پرخاص توجہ دی جائے اور ان کی فلاح وبہبود کا ہرممکن سامان کیا جائے کیوں کہ متمول اور مخیر لوگوں کے مالوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کا بطورِ خاص حصہ رکھاہے۔ یہ حق زکوٰۃ کی شکل میں بھی ہے اور صدقات وخیرات کی شکل میں بھی۔ یاد رہے کہ اِسلام میں احسان کے بڑے معانی ہیں اوراس کو متعدد طریقوں سے استعمال کیا جاسکتاہے ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
لَیْسَ البِرُّ اَنْ تُوَلُّوا وُجُوہَکُمْ قِبَلَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ البِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالیَومِ الاٰخِرِ وَالمَلاَئِکَۃِ وَالکِتَابِ وَالنَّبِیِّینَ وَاٰتَی المَالَ عَلٰی حُبِّہِ ذَوِی القُرْبیٰ وَالیَتٰمیٰ وَالمَسٰکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَاٰتَی الزَّکوٰۃَ وَالمُوفُونَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوا وَالصّٰبِرِینَ فِیِ البَاْسَائِ وَالضَّرَّائِ وَحِیْنَ البَأسِ اُولئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَاُولئِکَ ہُمُ المُتَّقُونَ (سورۂ بقر:۲؍۱۷۷)
نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور(اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اللہ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور(غلاموں کی) گردنوں(کو آزاد کرانے)میں خرچ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں اور سختی (تنگد ستی )میں اور مصیبت(بیماری)میں اور جنگ کی شدت(جہاد)کے وقت صبر کرنے والے ہوں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔
تودراصل اِسلام کے اندراِحسان و صلہ کرنے کے حوالے سے ’وقف‘کابڑامقام ہے۔یہ ایک ایسی صورت ہے جو جہاں کفا لت و نگہ داشت کے سارے گوشے سمیٹے ہوئے ہے وہیں اس کے ذریعے معاشرے کی بہت سی ناگزیر ضرورتوں ، مانگوںاور حادثاتی اُمور کا بروقت مداوا ہوسکتاہے۔اسے بروئے کار لانے کے بعد اندازہ ہوتاہے کہ مال کے ذریعے معاشرے کی اِجتماعی ضرورتیں کیسے پوری کی جاتی ہیںاور اس کی وجہ سے زندگی کتنی پرسکون ہوجاتی ہے اور سارا معاشرہ اُخوت وبھائی چارگی اور لطف ومہربانی کی لڑی میں کس طرح منسلک ہوجاتاہے!۔
یہ ایک ایسا طریقہ ہے کہ جس سے فقیر و محتاج کی دکھتی ہوئی رگوں پر ہاتھ رکھاجاسکتاہے اور ان کی ضرورتوں کی تکمیل کرکے اُن سے حزن واَلم کا بادل چھانٹا جاسکتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ وقف کتنی اہم اہم ضرورتوں کا مداوا ہے۔
یہ ایک ناقابل انکار سچائی ہے کہ جب سے وقف کی اہمیت امیرو کبیرلوگوں کے ذہنوں سے محو ہوئی تومعاشرہ بری طرح زبوں حالی کا شکار ہوااور آج حال یہ ہے کہ کوئی وصیت و وقف کا نام تک لینے والا نہیں اس کے سارے نشانات ذہن وفکر سے مٹتے چلے جا رہے ہیں مگر یہ سبق ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ زکوٰۃ اور اَوقاف اِسلام کے دوایسے اہم اِقتصادی اِدارے ہیں جن کی بہتر کارکردگی مسلمانوں کی فلاح کی ضامن ہوسکتی ہے لیکن افسوس کہ سب سے زیادہ انہی دواِداروں کے بارے میں غفلت وبے اعتنائی برتی جاتی ہے۔
برادرانِ گرامی! وقف اس اَمر کا باعث بنتا ہے کہ مال کا اَثر اپنے ذاتی منافع کے دائرے سے باہر نکلے۔ وقف کو شریعت نے واجب نہیں قرار دیابلکہ یہ ایک رضاکارانہ عمل ہے تاکہ دوسروں کو اپنے مال سے بہرہ مند کیا جاسکے۔ یاد رکھیں کہ وقف افضل ترین صدقہ، عظیم ترین عمل اور خرچ کیے جانے والے مال میں سب سے بہترین مال ہے اور جب وقف کے پیچھے اللہ کی قربت ورضا کے حصول اور بندوں کی نفع رسانی کا مقصدخیرپوشیدہ ہو تواس وقف کی برکت و اُجرت بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ دنیا کے اندر وقف کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ فقراو مساکین اور دوست اَحباب کے ساتھ نیکی واِحسان ہوجاتا ہے،اور پھر آخرت میں اس پر بے پایاں اَجرمرتب ہوتاہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پروردگارِ عالم کا قرب نصیب ہوجاتاہے۔
آپ ذراسوچیں کہ دنیا کے اس گھر میں ہمیںکتنا جیناہے۔ پوری زندگی مال جمع کرنے میں کھپ جاتی ہے مگر پھر بھی سیری نہیں ہوتی ا ور دمِ رخصت ان میں سے ساتھ تو کچھ بھی نہیں جاتا لہٰذا دانش مندی یہی ہے کہ اپنے مال سے ہم آبرومندانہ طریقے پر دنیا بھی گزاریں اور کچھ اللہ واسطے وقف بھی کردیں جس کا سلسلۂ ثواب ہماری قبرکی اندھیریوں میں روشنی اور عرصۂ محشرکی ہولناکیوں میں آسانی پیدا کرسکے۔
کسی نے بڑی پیاری بات کہی کہ وقف ایک ایسابرتن ہے جس میں لوگوں کی خیرات جمع ہوتی ہیں۔ پھر جب وہاں سے چشمۂ خیرات پھوٹتاہے تو اُس کے فیوض و برکات کا دھارا دور دراز تک کے شہروں اورلوگوں کو سیراب کردیتاہے اس سے جہاں خاص خاص کام پورے ہوتے ہیں وہیں عامۃ الناس کی مختلف ضرورتوں کی اس سے تکمیل بھی ہوتی ہے۔
وقف: در اصل مال، قول اور عمل کے ذریعے اِحسان کرنے کا نام ہے۔ وقف کی وجہ سے تحفظِ مال کو ضمانت مل جاتی ہے، اس سے تسلسل کے ساتھ نفع اندوزی کی جاتی ہے اور زمانوں تک اس سے اِستفادہ کیا جاتارہتاہے۔
اَوقاف: اَربابِ اقتدار کی ذمے داریوں کویک جسم کر دیتا ہے تاکہ وہ پوری تن دہی اور دیانت داری سے اپنی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَابْتَغِ فِیمَا اٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الاٰخِرَۃَ وَلاَ تَنْسَ نَصِیبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیکَ وَلاَ تَبْغِی الفَسَادَ فِی الاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ المُفْسِدِینَ (سورۂ قصص:۲۸؍۷۷)
اور تو اس(دولت)میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر، اور دنیا سے(بھی)اپنا حصہ نہ بھول اور تو (لوگوں سے ویسا ہی)احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں(ظلم، اِرتکاز اور استحصال کی صورت میں) فساد انگیزی(کی راہیں)تلاش نہ کر بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
برادرانِ ملت!اِسلام کی تاریخ وقف و اَوقاف کی زرّیں مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ہر شہر اور ہر زمانے میں اہلِ خیر و ثروت حضرات نے وقف کے قیام پر زور دیااور اس کے فروغ و توسیع میں کارِ نمایاں انجام دیا۔ آج بھی ان اوقاف میں سے بہت سے وقف موجود ہیں۔
اَوقاف عہد بہ عہد:
اِسلام کے اِبتدائی اَیام ہی سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنے مال کے ایک خاص حصے کو وقف کے کاموں میں لگادیاکرتے تھے، اور یوں ہی اپنے گھر بار کا کوئی حصہ بھی وقف کے لیے مخصوص کردیاکرتے تھے۔ اور پھر اِسلام میں سب سے پہلا وقف تو خود پیغمبراِسلام اور شارعِ دین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا تھا۔ امام ابودائود علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تین مخصوص زمینیں تھیں: بنونضیر، خیبر، اور فدک۔ بنونضیر کی زمینوں کی آمدنی کو آپ اپنی ضروریات پر خرچ کرتے تھے اور فدک کی زمینوں کو آپ نے مسافروں کے لیے وقف کردیا تھا، اور خیبرکی زمینوں کی آمدنی کے آپ نے تین حصے کردیے تھے، دوحصے آپ نے مسلمانوںکے لیے وقف کردیے تھے اور ایک حصہ اَزواجِ مطہرات کے لیے۔ اور اَزواجِ مطہرات کے خرچ سے جو آمدنی بچتی اس کو آپ فقرا ے مہاجرین پر خرچ کرتے تھے۔
امام دائود نے اس کے علاوہ اور بھی کئی اَسانید سے احادیث ذکر کی ہیں جن میں یہ تصریح ہے کہ خیبر کی مفتوحہ زمینوں کی آمدنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ضروریات کے لیے وقف تھیں۔
یہ دیکھیں کہ اَمیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیرونیکی کے طریقوں کا پوچھتے ہوئے عرض کرتے ہیں: یارسول اللہ! مجھے جنگ خیبر کے موقع پر کچھ ایسی چیزیں ملی ہیںکہ اتنی عمدہ چیزیں مجھے کبھی نہیں ملیں، تو میں اُن کا کیا کروں؟۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اصل پونجی وقف کرکے اس کے منافع صدقے کرتے رہو؛ مگر یاد رہے کہ پھر وہ وقف نہ توبیچا جاسکتاہے، نہ ہبہ کیا جاسکتاہے اور نہ ہی اس میں وراثت چل سکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے فقرا، اَقربا، غلاموں،ضعیفوں ، مسافروں اور راہِ خدا میں صدقہ کردیا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ اپنے عہد خلافت میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے جب وقف کوتحریری شکل دینا چاہی تو انصارومہاجرین صحابہ کے کچھ لوگوں کوبلوایا اور ان کی موجودگی میں وقف نامہ مرتب فرمایا۔ جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کارِ خیرکی خبرجنگل کے آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی، اور لوگوں میں وقف کا مذاق عام ہوگیا۔
یہ دیکھیں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ہیں جو مدینہ کے اندر سب سے زیادہ اَمیر کبیر انصاری صحابی تھے۔ ان کے کل مال واَسباب میں انھیں اپنا’حا‘نامی کنواں بہت زیادہ عزیز تھا جو ٹھیک مسجد نبوی کے سامنے ہوتاتھا۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاکراس کا پاکیزہ وشیریں پانی نوش فرمایا کرتے تھے۔ حضرت انس بن مالک کی روایت کے مطابق جب یہ آیت نازل ہوئی :
لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتیّٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران:۳؍۹۲)
یہ آیت سن کر حضرت ابوطلحہ اُٹھے اور حاضر دربارِ رسالت ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ! اللہ کا یہ حکم ہے کہ ’’تم اس وقت تک نیکی نہیں پاسکتے جب تک اپنی محبوب اور پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں نہ دیدو‘‘اور میرے مالوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ مجھے بیرحاہے جسے میں اللہ واسطے صدقہ کررہاہوں۔ امید ہے کہ اللہ اس کی نیکیوں سے مجھے شادکام فرمائے گا اور اس کا اَجر میرے لیے اپنے پاس آخرت میں محفوظ فرمادے گا۔ سو آپ اسے جس طرح چاہیں رکھیں۔
ان کی یہ دریا دلی دیکھ کر حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ، کیاخوب ہے، (طلحہ !)یقینا تیرا سودہ نفع بخش ہے،تیری باتیں میں نے سن لی ہیں؛ لیکن میری خواہش ہے کہ تو اسے اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام وقف کردے۔ ابو طلحہ نے عرض کیا! میں اسے سرکار کی مرضی کی مطابق ہی کروں گا؛ چنانچہ ابوطلحہ نے اسے اپنے اقارب اپنے چچازاد بیٹوں کے نام وقف کر دیا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اپنا ایک گھر‘ فقرا ومساکین،اور دور قریب کے قرابت داروں کے نام اللہ واسطے وقف کردیاتھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہیں وقف کیں ، اور انھیں راہِ خدا( میں جہاد کرنے )کے لیے فراہم کیا۔ امہات المومنین میں حضرت عائشہ صدیقہ، ام سلمہ، صفیہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہن نے وقف کیے تھے۔
یوں ہی حضرات عثمان غنی، علی مرتضیٰ، زبیربن العوام، معاذبن جبل، زید بن ثابت ، سعد بن ابی وقاص، سعد بن عبادہ، ابواروی دوسی، جابر بن عبد اللہ، عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم، اور اسمابنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے بھی (اپنی اپنی بساط کے مطابق) وقف کیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں شاید ہی ایسا کوئی ہو کہ جس نے قدرت کے بعد اللہ کی راہ میں کچھ نہ کچھ وقف نہ کیا ہو۔ یوں ہی حضرت محمد بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدری صحابہ میں سے کوئی مہاجر وانصار ایسا نہ تھا جس نے حسب مقدور راہِ خدا میں کچھ نہ کچھ وقف نہ کیا ہو۔ تفصیل کے لیے قاضی القضاۃ ابوبکر احمد بن عمروشیبانی معروف بہ خصاف علیہ الرحمہ(م۲۶۱ھ) کی معرکۃ الا ٓرا کتاب ’اَحکام الاوقاف‘ ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ مکہ معظمہ کے اکثر مکانات وقف کردہ ہواکرتے تھے۔
پھر اس کے بعد مسلمانوں میں اہل ثروت و دولت پیدا ہوئے جنھوں نے بڑے بڑے اوقاف قائم کیے، اور پختہ قسم کے محلات تعمیر کیے، مسجدیں بنائیں،اور مدارس کے جال بچھادیے، یوں ہی جابجاسراے خانوں کا اہتمام کیا۔ اگر باریک بینی سے غور کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ ان نیک مخیرین ومتمولین نے اپنے مالوں کو بہترین مصارف میں اِستعمال کیا اور محض رضاے مولا کے لیے انھوں نے یہ عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ چوںکہ ان کے اندر احساسِ ذمہ داری بیدار تھا سو انھوں نے اپنی ذات سے بالاتر ہوکر پورے معاشرے کی فلاح وبہبود (اور رفاہِ عامہ)کے لیے خدمات انجام دیں؛ تاکہ قوم وملت کی اِنفرادی واِجتماعی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان ہوسکے۔
وقف بمقابلہ صدقہ وخیرات :
کچھ اہل علم کی رائے یہ ہے کہ وقف کی مشروعیت ایسے مصالح اورضروریات کے پیش نظر وجود میں آئی ہے کہ جن کا موازنہ ومقابلہ کسی طرح صدقات وغیرہ سے نہیں کیا جاسکتا، اور جتنی ضرورتیں وقف سے پوری ہوسکتی ہیں وہ ہر طرح کے صدقات سے مل کر بھی پوری نہیں کی جاسکتیں؛ کیوں کہ ایسا اکثر دیکھنے میں آیاہے کہ کسی نے خوب مال خرچ کیا اور جی بھر کے فقرا ومساکین کی جھولیاں بھریں۔ پھر جب حالات ناسازگار ہوئے اور مال کا سوتہ خشک ہوگیااور فقرا و مساکین دوبارہ اپنی حاجتیں لے کر آئے تونامراد ہوکر خالی ہاتھ انھیں واپس جاناپڑا۔ اور اگر وہی مال فقیروں، محتاجوں، اور مسافروں کے نام وقف کردیاجاتا توکتنا اچھاہوتاکہ اس سے ایک زمانہ متمتع ہوتا؛کیوں کہ وقف میں ہوتایہ ہے کہ اصل ِمال کوباقی رکھ کر اس سے حاصل ہونے والے منافع اور آمدنی سے لوگوں کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔
مالِ کثیر کی ذخیرہ اندوزی سے موجودہ دو ایک نسلوں کوتوفائدہ پہنچا یاجاسکتا ہے؛ لیکن آئندہ نسلیں اس سے متمتع نہیں ہوسکتیں۔ جب کہ وقف کے ذریعہ یہ عین ممکن ہے کہ موجودین بھی اس سے فائدہ اُٹھائیں اور آنے والی صدیاں بھی آبرومندانہ طریقے پر اس سے متمتع ہوں۔
وقف کی ناگزیریت وہمہ گیریت:
یہ بھی یاد رہے کہ وقف ایک ہمہ گیر اقدام ہے، اور اس کا اَجر بہت زیادہ ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف فقراء ومساکین تک ہی محدودہے ؛ لیکن وقف کے اس سے کہیں زیادہ افضل اور اہم طریقے بھی ہیں۔ وقف کے ذریعہ دین اسلام کی نشرواشاعت، پیغام اسلام کی ترسیل وتبلیغ،مدارس دینی کا عروج و فروغ ، یوںہی مسلمان علاقوں اور مسلم مملکتوں میں علمی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
وقف کی برکت سے اِسلامی آثار وسرمائے حیاتِ جاوداں پاگئے اور تاریخ اسلام کا دامن عظیم وجلیل علما وفقہا سے مالامال ہوگیا۔ تو وقف کے اندر ملی مصالح کے ساتھ اُمت مسلمہ کی بہت سی ضرورتوں کا سامان بھی موجود ہے۔نیز وقف کی مدد سے مسلمانوں کی سرگرمیوں،ان کی فلاح وبہبوداور ان کی تہذیب وثقافت کا گراف بھی بلند کیا جاسکتاہے۔
مسجدوں کا جال:
وقف کی اہمیت کا جائزہ اس جہت سے بھی لیں کہ آج پوری دنیا میں جومسجدوں کا جال بچھا ہوا ہے، وہ کس وجہ ہے؟ صرف اور صرف وقف کی وجہ سے۔ وقف کی آمدنی کتاب اللہ کی حفاظت وصیانت، اور اس کی نشرو اِشاعت کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔یوں ہی قرآنی دروس ، سنت نبویہ کی ترویج اور دیگر اسلامی علوم وفنون کے فروغ میں بھی صرف کی جاسکتی ہے۔
وقف اور رفاہِ عامہ:
اوقاف کے ذریعے معاشرے کی اُٹھان ، اور اس کے افرادکی عروج و ترقی کے بہت بڑے بڑے کام کیے جاسکتے ہیں۔ وقف کے ذریعہ اجتماعی،جسمانی، اور تعلیمی خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ ضرورت ہو تودارالصِّحت اور ہسپتال کی بنا رکھی جائے جہاں محتاجوں فقیروں کی بہتر طریقے پر دیکھ ریکھ کی جاسکے اور ان کے دکھ درد میں ہاتھ بٹایا جاسکے۔یوں ہی ایسے مکانات، پناہ گاہیں اور سرائیں بنائی جائیں جہاں یتیموں، بیوائوں اور بے سہارا بوڑھوں کی کفالت وحفاظت آبرومندانہ طریقے پر ممکن ہوسکے۔ یوں ہی مہمان خانے، اور ہوٹل تعمیر کیے جائیں جہاں راہ بھولے ، مسافر اور خانہ بدوش پناہ لے سکیں۔ جابجااِمدادی کیمپس کھڑے کیے جائیں جہاںزخمی اور حالات کے ستائے ہوے مسلمانوںکا مداوا ہوسکے۔ یوں ہی کچھ ایسے صندوق بنائے جائیں جن سے تنگ دستوں کا بوجھ ہلکاکیا جاسکے اور بے سہاروں کا قرض اُتارا جاسکے۔کچھ ایسے فنڈ اکٹھے کیے جائیں جن سے مفلوک الحال نوجوان (لڑکوں اور لڑکیوںکووالدین اور معاشرے کا بوجھ بننے سے پہلے پہلے) عزت وآبرو کے ساتھ شادی کے بندھن میں جوڑا جاسکے۔ نیزلاوارث مردوں کی تجہیز وتکفین اور گور کنی وغیرہ کے اِنتظامات کیے جاسکیں۔
وقف کی برکات:
برادرانِ گرامی قدر! اِسلام اپنی تاریخ وثقافت میں بڑا درخشندہ اورممتاز ہے؛ جس دور میں مسلمانوں نے اپنے اوقاف سے مدارس ومساجد تعمیر کیں، اور طالبانِ علوم دینیہ اور ضرورت مندوں کی بہترین طریقے پر کفالت کی تو اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ شہرتِ اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوگیا اور حکمت و دانش کی روشنی دوردراز شہروں ملکوں تک جاپہنچی۔ اور دوسری طرف علم وفکر کی پرورش بھی ہوئی،اہل حاجت کی ضرورتیں بھی پوری ہوئیں اور اَصل مال بھی علی حالہٖ باقی رہا۔ جس کی برکت سے وہ غیروں کے دست نگر ہونے سے بے نیاز ہوگئے، اوراپنے وقار وبھرم کو برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے عزت کی زندگی گزاری۔
مال کی حقیقت:
انسان کا حقیقی مال وہ نہیں جو اس کے ہاتھ میں ہے ؛ بلکہ وہ ہے جو اس نے اپنے رب کے ہاں ذخیرہ ہونے کے لیے آگے بھیج دیا۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ لَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادیٰ کَمَا خَلَقْنَاکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکْتُمْ مَا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَائَ ظُہُورِکُمْ (سورۂ انعام:۶؍۹۴)
اور بیشک تم(روزِ قیامت) ہمارے پاس اسی طرح تنہا آؤگے جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ (تنہا)پیدا کیا تھا اور (اموال و اولاد میں سے)جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آ ؤگے۔
حدیث صحیح میں آتا ہے کہ ابن آدم (دم واپسیں) کہتاہے :
مالی مالی، وہل لک من مالک إلا ما أکلت فأفنیت أو لبست فأبلیت أو تصدقت فأبقیت وما سوی ذلک فذاہب وتارکہ للناس ۔(صحیح مسلم:۱۸؍۴۹۵حدیث: ۷۶۰۹… سنن ترمذی: ۹؍۱۴۳ حدیث: ۲۵۱۳ … سنن نسائی: ۱۱؍ ۴۵۶ حدیث: ۳۶۲۸ … مصنف عبدالرزاق:۴؍۳۱حدیث:۶۸۶۸…مستدرک حاکم:۹؍۱۹۹ حدیث: ۳۹۲۸حدیث:۳۹۲۸)
یعنی میرا مال، میرا مال؛ حالاں کہ تمہارا مال تو وہی تھا جو تم نے کھاکر ختم کردیا۔ یا پہن کر بوسیدہ کردیا۔ یا صدقہ وخیرات کرکے اسے آباد کردیا۔اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ بہر حال ہاتھ سے جانے والاہے اور لوگ اسے بطورِ ترکہ آپس میں تقسیم کرلیں گے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے :إذا مات ابن آدم انقطع عملہ إلا من ثلاث صدقۃ جاریۃ أو علم ینتفع بہ بعدہ أو ولد صالح یدعو لہ ۔(سنن ترمذی:۵؍۳۸۹حدیث: ۱۴۳۲… سنن نسائی: ۱۲؍ ۱ حدیث: ۳۶۶۶… صحیح ابن حبان: ۱۳؍ ۲۷حدیث:۳۰۸۰)
یعنی جب کوئی آدمی مرتاہے توتین عمل کے علاوہ سارے اعمال کا رشتہ اس سے منقطع ہوجاتاہے۔ صدقہ جاریہ۔ یا اس کے بعد باقی رہنے والا کوئی نفع بخش علم۔ یا اس کی دعا گو اولاد۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إن مما یلحق المؤمن من عملہ وحسناتہ بعد موتہ: علما نشرہ، وولدا صالحا ترکہ، ومصحفا ورثہ، أو مسجدا بناہ، أو بیتا لابن السبیل بناہ، أو نہرا أجراہ، أو صدقۃ أخرجہا من مالہ فی صحتہ و حیاتہ تلحقہ بعد موتہ ۔
سنن ترمذی:۱؍۲۹۲حدیث: ۲۴۹… شعب الایمان: ۷؍۴۵۱حدیث:۳۲۹۴… صحیح ابن خزیمہ:۹؍۱۲۵حدیث:۲۲۹۳ …جمع الجوامع سیوطی:۱؍۷۹۶۸
یعنی ایک مومن کو اس کے انتقال کے بعدجن عمل اور نیکی سے فائدہ پہنچتاہے وہ یہ ہیں:اس نے کسی علم کی نشرو اشاعت کی ہو۔نیک صالح اولاد چھوڑی ہو۔کسی کو قرآن دے دیا ہو۔یا کسی مسجد کی تعمیر کردی ہو۔ یا مسافروں کے لیے کوئی گھر بنوادیا ہو۔یا کوئی نہر جاری کردی ہو۔یا اس نے اپنی صحت وحیات میں اپنے مال سے صدقہ وخیرات نکالا ہو۔
انسان جب اس دنیا سے رخصت ہوتاہے تو وہ بڑا غنی اور مالدار ہوتاہے؛ لیکن جب آخرت کے مراحل شروع ہوتے ہیں تو وہ بالکل فقیرو قلاش ہوجاتاہے؛ کیوں کہ اس نے اِس دنیا میں رہ کر اُس دنیا کے لیے آگے کچھ بھیجاہی نہ تھا، اور کام تو اُسے ہی آنا جو وہاں پہنچ چکا۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
لَیْسَ عَلَیْکَ ہُدَاہُمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِکُمْ وَ مَا تُنْفِقُونَ اِلاَّ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لاَ تُظْلَمُوْنَo (البقرہ:۲؍۲۷۲)
ان کو ہدایت دینا آپ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے، اور تم جو مال بھی خرچ کرو سو وہ تمہارے اپنے فائدے میں ہے، اور اللہ کی رضاجوئی کے سوا تمہارا خرچ کرنا مناسب ہی نہیں ہے، اور تم جو مال بھی خرچ کرو گے (اس کا اجر) تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
لہٰذا اس سلسلے میں ہمیں سنجیدگی سے غور کرلیناچاہیے؛ کہیں آگے کف افسوس ملنا بھاری نہ پڑ جائے۔
ایک بڑی ایمان افروز حدیث ہے جس میں آقاے گرامی وقار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
من احتبس فرسا فی سبیل اللّٰہ إیمانا باللّٰہ وتصدیقا بوعدہ، فإن شعرہ و روثہ وبولہ فی میزان حسناتہ ۔ (صحیح بخاری:۱۰؍۲۹۰حدیث:۲۸۵۳… سنن نسائی: ۱۱؍ ۴۱۲حدیث:۳۵۹۷… مسند ابویعلی موصلی:۱۳؍۳۱۵ حدیث: ۶۴۳۳… صحیح ابن حبان:۱۹؍۳۵۶ حدیث:۴۷۵۹… مستدرک حاکم:۶؍۶۲حدیث:۲۴۱۲… شرح السنۃ بغوی: ۵؍ ۳۰۴)
یعنی جس نے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے راہِ خدا میں کسی گھوڑے کو باندھ دیا(یعنی وقف کردیا) تو اس کے بال، لید،اور پیشاب (کا اَجربھی )اس کے نامہ اعمال میں درج کیا جاتارہے گا۔
ماشاء اللہ، ذرا سوچیں کہ ایک گھوڑے کو وقف کرنے کا اِتنا اَجر ہے تو جس نے اس سے زیادہ اور اس سے بڑھ چڑھ کر وقف کیا تو پھراس کے اَجر وثواب کا کیا پوچھنا!۔ وقف کی اہمیت وعظمت جان لینے کے باوجود اب بھی اس سے غفلت برتنا اور وقف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لینایقینا محرومی اور نامرادی کی بات ہے!۔
وقف اور دشمنانِ اسلام:
آپ دیکھیں کہ آج اہل کتاب اور اَرباب کفر وشرک اپنے باطل عقائد ونظریات کے نشرواِشاعت میں کتنے سر گرم ہیں۔ یہودونصاریٰ کی سرگرمیوںپر کڑی نظر رکھنے والوں پر مخفی نہ ہوگاکہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں گھس کر اوران میں گھل مل کر انھیں کس طرح دین سے دور کررہے ہیں اور عیسائیت کی راہ پر بکٹٹ چلوا رہے ہیں۔وہ لوگ کتنی تیزی سے وقفی اِقامت گاہیں، اسکول، ہسپتال،اور دواخانے تعمیر کرتے چلے جارہے ہیں۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ وہ بھوکوں کو کھانا، ننگوں کو کپڑا،اوربیماروں کودوا فراہم کرکے مسلمانوں کی توجہات مسلسل اپنی طرف مبذول اور ان کے دل میں اپنے لیے جگہ بناتے جارہے ہیں۔اور ان کی سرگرمیوں کی اطلاع رکھنے والا خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ ان سب رفاہی پروگراموں کے پیچھے صرف وقف کے منافع کام کر رہے ہیں، اور یہ وقف دراصل چند نصرانیوں نے گرجا گھروں کے لیے قائم کیے تھے۔ آپ صرف ’’فاتیکان‘‘ کے اوقاف کو لے لیںکہ مختلف ملکوں میں اس کے بے شمار بینک، کمپنیاں، اور بڑی بڑی نفع بخش تجارتیں ہمہ وقت سرگرم عمل ہیں۔
اس کے بالمقابل مسلمانوں کا ایسا کوئی بھی بڑا رفاہی اِدارہ نہیں اور اگر کہیں برائے نام کوئی چلا بھی تو اتنے ضرورت مند مسلمان نکل آئے کہ چند ہی مہینوں میں مالیاتی خسارے پرپہنچ کر اس کاکام تمام ہوگیا، ظاہر ہے جہاں لاکھوں کروڑوں کے حساب سے اہل حاجت ہوں وہاں ان کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اوقاف بھی تو اسی تناسب سے ہونے چاہئیں!۔
وقف عہد مغلیہ میں:
ہندوستان میں مغلیہ عہد سے وقف کے اِنتظام اورانصرام پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے۔ سلاطین واُمرا کی جانب سے علما وطلبہ کے لیے جائیدادیں وقف تھیںجن کی آمدنیاں‘ ان کے خورد ونوش اور تعلیمی مصارف کے لیے کفیل تھیں اور اس طرح ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم عام اور مفت ہواکرتی تھی ؛ نیز علما اور طلبہ بھی اپنے اپنے متعلقین کے لیے کسب معاش سے مطمئن ہوکر فراغت وسکونِ خاطر کے ساتھ درس وتدریس میں مشغول رہتے تھے۔ اوقاف کی برکات کے باعث نہ تو منتظمین مدارس کو چندوں کی اپیل کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی، نہ ہی طلبہ کودست نگر سمجھ کر طالب علمی کو عزتِ نفس کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔
اوقاف کے علاوہ سلاطین واُمرا نقد وظائف کے ذریعہ سے بھی اہل علم کی اعانت کرتے تھے۔ مدارس اور درسگاہوں کا ملک میں پھیلاہوا یہ عظیم الشان سلسلہ کیونکر ٹوٹا اور یہ مدارس ومکاتب کیونکر تباہ کیے گئے؟ اس سوال کے جواب کے لیے بارہویں صدی ہجری اور اٹھارہویں صدی عیسوی کی ہندوستانی سیاسی تاریخ کا مختصراًجائزہ لیتے ہیں۔
فرنگیوں کی تباہ کاریاں:
ایسٹ انڈیا کمپنی کے آدھمکنے سے پہلے تک ہندوستان میں یہی نظامِ تعلیم جاری تھا۔ دہلی، آگرہ، لاہور، ملتان، جونپور، لکھنو، خیر آباد ،پٹنہ، اجمیر، سورت، دکن، مدراس، بنگال اور گجرات وغیرہ کے بہت سے مقامات علم وفن کے مرکز تھے۔ اور تعلیم کا تمام تر دار ومدار ان ہی اَوقاف پر تھا جو اس مقصد کے لیے مخصوص کیے گئے تھے؛ لیکن جب دھیرے دھیرے ایسٹ انڈیا کمپنی کے قدم جم گئے توپھر پرانے قانون اور قدیم نظام تعلیم کو منسوخ کردیاگیا، جن قدیم مصارف کے لیے سلاطین واُمرا نے طویل مدت سے بڑے بڑے اوقاف مقرر کیے تھے‘ کمپنی کی حکومت نے ان تمام اوقاف کو ۱۸۳۸ء میں ضبط کرلیا۔ وظائف تو حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی موقوف ہو چکے تھے۔ اس کاروائی کا مسلمانوں کی علمی زندگی پر کیا اثر پڑا ،اس کی نسبت ہنٹر لکھتا ہے :
سینکڑوں پرانے خاندان تباہ ہوگئے اور مسلمانوں کا تعلیمی نظام جس کادار ومدار ان ہی اوقا ف و معافیات پر تھا، تہ وبالاہوکر رہ گیا۔ اور مسلما نو ں کے تعلیمی ادارے مسلسل لوٹ کھسوٹ کے باعث یک قلم مٹ گئے۔
ہنٹر کا یہ مذکورہ تجزیہ صرف ایک دور افتادہ صوبہ بنگال کی بابت ہے،جس کوا س زمانہ کے لحاظ سے کوئی خاص تعلیمی فوقیت اور مرکزیت حاصل نہ تھی، بتایا جاتاہے کہ وہاں کوئی اَسی ہزار مدرسے چل رہے تھے، اور تعلیمی اخراجات کے لیے کوئی پینتالیس لاکھ روپے سالانہ آمدنی کے اوقاف موجود تھے، تو اندازہ فرمائیںکہ ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں بالخصوص ان مقامات میں جن کو تعلیمی مرکزیت اور تفوق حاصل تھا‘ کس قدر اوقاف رہے ہوں گے!۔