روزہ اور خون کی چانچ
Tauhid Ahmad Tarablusi
Research Scholar
روزہ اور خون کی چانچ
الحمد لله الذي أنزل القرآن، والصلاة والسلام على صاحب الفرقان، وعلى آله وأصحابه العرفان.
أما بعد،
دور جدید میں میڈیکل سائنس نے خوب ترقی کر لی ہے، بیماریوں کی تشخیص کے لیے مختلف طریقے اپنائے جا رہے ہیں، ان میں سے ایک طریقہ خون کی چانچ بھی ہے۔
شریعت مطہرہ میں خون نکلوانے پر روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، صحابی رسول حضرت ابن عباس -رضی الله تعالی عنه- روایت کرتے ہیں:
"أن النبي -صلى الله عليه وسلم- احتجم وهو محرم، واحتجم وهو صائم".
"رسول الله -ﷺ- نے حجامت کروائی اور آپ حالت احرام میں تھے، اور آپ نے پچھنا لگوایا اور آپ حالت روزہ میں تھے"۔
چنان چہ صحابہ کرام -رضی الله تعالی علیھم اجمعین- حالت صیام میں حجامت کروایا کرتے تھے، اور اسے مفسد صوم نہیں مانتے تھے، امام زہری -رحمہ الله تعالی- فرماتے ہیں:
"كان ابن عمر يحتجم، وهو صائم في رمضان وغيره، ثم تركه لأجل الضعف".
"حضرت ابن عمر -رضی الله تعالی عنھما- حجامت کراتے اور وہ رمضان اور غیر رمضان کے روزہ سے ہوتے، پھر آپ نے کمزوری کے سبب سے حجامت کرانا ترک کر دیا"۔
حضرت ام علقمہ فرماتی ہیں:
"كنا نحتجم عند عائشة -رضي الله تعالى عنها-، فلا تنهى".
"ہم حضرت عائشہ -رضی الله تعالی عنہا- کے پاس [حالت روزہ میں] حجامت کراتی تھیں، وہ منع نہ فرماتیں"۔
حقیقتاً روزہ جسم میں منفذ کے ذریعے کسی چیز کے داخل کرنے پر ٹوٹتا ہے، حضرت ابن عباس اور عکرمہ -رضی الله تعالی عنھم- فرماتے ہیں:
"الصوم مما دخل، وليس مما خرج". [صحیح بخاری].
"روزہ داخل ہونے والی چیز سے ٹوٹتا ہے، خروج کرنے والی چیز سے نہیں"۔
یہ بھی پیش نظر رہے کہ یہ حکم اغلب ہے، حکم کل نہیں ہے، بھت سے معاملات ایسے ہیں جن میں خروج کے سبب سے روزہ ٹوٹتا ہے، جیسے ناکح الید ہونا، جان بوجھ کر قیء کرنا وغیرہ۔
المختصر مذہب آئمہ ثلاثہ؛ ابو حنیفہ، مالک، شافعی -رحمھم الله تعالی- میں حجامت سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، اسی پر جانچ کے لیے خون نکلوانے کا بھی قیاس ہے، یہ جانچ ہر مرض کو محیط ہے۔
یکم جون/2019، بروز سنیچر
مصنف کا پروفائل
Tauhid Ahmad Tarablusi
Research Scholar
ابوالفواد توحید احمد ترابلسی ابن عبید الرحمن صاحب 9 مارچ 1986 کو اکبرپور سدھارتھ نگر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اپنے آبائی مقام جامدہ شاہی، یوپی میں الجامعۃ العلیمیہ سے درس نظامی میں گریجویشن/فضیلت حاصل کی۔ جبکہ پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کے لیے وہ 2011 میں ;کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ طرابلس، لیبیا منتقل ہوئے، جہاں سے انہوں نے 2018 میں معہد، کلیہ اور تمهیدیہ مکمل کیا۔مئی 2018 سے 2021 تک، وہ دارالعلوم اہل سنت حبیب الرضا، گونڈا، یوپی میں استاد رہے۔ فی الحال، مئی 2024 سے، وہ سنی دعوت اسلامی کے مرکزی ادارے جامعہ غوثیہ نجم العلوم میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔<ان کے عظیم کاموں میں مسند الربیع بن صبیح البصری، ;مسند امام کہمس بن الحسن البصری اور مسند عون بن کہمس القیسی البصری کی عربی میں تدوین اور ترتیب شامل ہے۔اردو زبان میں، ان کی کتابوں میں ;غازی ;فتح مبینبچوں پر شفقت رسولگناہوں سے اجتناب، قرآنی نقطہ نظر سےکیا دہن نبوت سے نکلی ہر بات وحی الٰہی ہے؟ اربعین تدبر قرآن;، ;اربعین حق طریق;، ;دین آسان ہے اتحاد امت اور احادیث نبویہ اور شیخ الانبیاء حضرت نوح (علیہ السلام) شامل ہیں۔ان کتابوں کے علاوہ، تقریباً ایک درجن مضامین شائع ہو چکے ہیں، جبکہ سو سے زائد غیر مطبوعہ عربی اور اردو کتابیں اشاعت کے منتظر ہیں۔