Minara Masjid Minara Masjid

سلام اس پر ہوا مجروح جو بازارِ طائف میں

| February 8, 2026 3 min read 7 views

سلام اس پر ہوا مجروح جو بازارِ طائف میں

سلام اس پر ہوا مجروح جو بازارِ طائف میں

از: مفتیہ فاطمہ عزیز مؤمناتی

کارِ دعوت ونبوت کا دسواں سال ہے دس سال کی محنت کے بعد بھی مکہ کے سردار اور عوام اس بات کے لیے تیار نہ ہوئے کہ اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی اختیار کریں، اس کے رسول کی اطاعت قبول کریں اور مکہ کو دعوتِ الٰہی کا مرکز بنا دیں بلکہ اب تو وہ داعی حق کو ہی ختم کردینے کا سوچ رہے ہیں ۔مشفق چچا ابو طالب کا سہاراتھا وہ رخصت ہوچکے ہیں، پچیس سالہ رفاقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے تھی وہ بھی ختم ہوچکی ہے اب کدھر کا رخ کریں؟ مکہ نے اپنے بہترین ہیرے آپ کی گود میں ڈال دیے ہیں، لیکن اب تو اس مسکن کی تلاش ہے جہاں خداے واحد کی بندگی کی بنیاد پر ایک نیا معاشرہ قائم ہو اور ساری دنیا پر اس کے خالق کی حکومت قائم کرنے کا سامان ہو۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سوچتے ہیں اور وہاں کا رخ کرتے ہیں مکہ سے قریب یہی شہر ہے زمین زرخیز، پانی وافر، باغات سے مالا مال، شاید کہ وہاں کے سردار اور اُمرا اس دعوت کو قبول کرلیں۔

راستہ دشوار گزار پہاڑیوں اور وادیوں سے بھرا ہوا، گرمی کا موسم ہے اور وہ بھی عرب کی تپتی ہوئی گرمی۔ ۵۰ سال کی عمر ہے جوانی کا زمانہ نہیں کہ دشوار سفر آسان ہوجائے، سفر کے لیے سواری کا بندوبست بھی اب ممکن نہیں کہ ساری دولت کارِ دعوت میں صرف ہوچکی ہے چنانچہ پیادہ پادو چپلوں پر سارا راستہ طے ہورہا ہے، ساتھ حضرت زید بن حارثہ ہیں، منہ بولے بیٹے اور راہ حق کے نوجوان ساتھی۔

طائف پہنچ کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بنو ثقیف کے تین سرداروں عبدیالیل، مسعود اور حبیب کے پاس جاتے ہیں اور ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہیں، دس سال مکہ میں ٹھکراے جانے کے بعد امیدیں طائف سے ہوسکتی تھیں وہ چکنا چور ہوجاتی ہیں جب امارت ودولت اور اقتدار کے نشے میں یہ تینوں سردار اس دعوت کو ٹھکرا دیتے ہیں ان کے جواب سننے کے لائق ہیں ٹوٹے ہوئے دل کے لیے پہلا تیر یہ تھا۔

کیا اللہ کو تمہارے سوا رسول بنانے کے لیے کوئی اور نہیں ملا کہ جسے سواری کے لیے گدھا تک میسرنہیں۔

دوسرے نے اپنا سیاسی نظریہ پیش کیا: کعبہ کے پردے تار تار ہوجائیں گے اگر اللہ نے تمہیں اپنا رسول بنایا۔

تیسرے نے منطق چھانٹی: میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا کیوں کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہوتو میں اس کا مستحق نہیں کہ تم سے بات کروں اور اگر نہیں ہوتو میری ذلت ہے کہ کسی جھوٹے سے بات کروں۔

زخمی دل کے ساتھ سرداروں کی محفل سے نکل کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باہر آتے ہیں تو طائف کے سردار شہر کے لچے لفنگے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا دیتے ہیں،یہ اوباش آپ پر پتھروں کی بارش کردیتے ہیں، تاک تاک کر آپ کے ٹخنوں اور ایڑیوں پر پتھر مارتے ہیں جب چوٹوں کی تکلیف سے مجبور ہوکر آپ بیٹھ جاتے ہیں توآپ کو پکڑ کر کھڑا کردیتے ہیں، دو میل راستہ پر اسی طرح سنگ باری کے نتیجے میں آپ زخموں سے چور اور لہو لہان ہوجاتے ہیں اور بالآخر طائف کی بستی سے نکل کر ایک باغ میں پناہ لیتے ہیں، ذرا یہ منظر دیکھیے کس کا دل ہے کہ شق نہ ہوجائے۔

زخموں سے گھٹنے چور ہوگئے، پنڈلیاں گھاؤ ہوگئیں، کپڑے لال ہوگئے، نو عمر رفیق (حضرت زید) نے سڑک سے بے ہوشی کی حالت میں جس طرح بن پڑا اٹھا یا، پانی کے کسی گڑھے کے کنارے لایا، جوتیاں اتارنی چاہیں توخون کے گون سے وہ تلوے کے ساتھ اس طرح چپک گئی تھیں کہ ان کا چھڑانا دشوار تھا۔ (النبی الخاتم، ۵۸)

یہ کیسا دن ہے کہ جو سب کے لیے تھا اور سب کے لیے ہے، قیامت تک کے لیے ہے، کیسا دردناک نظارا ہے اس کو سب واپس کررہے تھے،بات اسی پر ختم نہیں ہوگئی کہ انہوں نے جو پیش کیاتھا اس کو صرف رد کردیا، بلکہ آگ میں پھاندنے والوں کی جو کمریں پکڑ کر گھسیٹ رہاتھا وہی کمر کے بل گرایا جارہاتھا۔ (النبی الخاتم: ۵۰)

ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر اُحد کے دن سے بھی سخت دن کوئی گزرا ہے؟ فرمایا: تیری قوم کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچیں سو پہنچیں، مگر سب سے بڑھ کر سخت دن وہ تھا جب میں نے طائف میں عبدیالیل کے سامنے دعوت رکھی اور اس نے رد کردیا۔ (محسن انسانیت: ۱۹۶)

طائف کا سفر، ٹوٹا ہوا دل، زخموں سے چور جسم،زندگی کا سب سے زیادہ سخت دن یہ سارے مناظر نگاہوں میں رکھیے اور اب یہ بھی دیکھیے کہ زبان پر کیا الفاظ ہیں؟

الٰہی! اپنی بے زوری وبے بسی اور بے سروسامانی کا شکوہ تجھ سے ہی کرتا ہوں، دیکھ انسانوں میں ہلکا کیاگیا، لوگوں میں یہ کیسی سبکی ہورہی ہے۔ اے سارے مہربانوں میں سب سے زیادہ مہربان مالک! میری سن۔ درماندہ اور بے کسوں کا رب تو ہی ہے، تو ہی میرا مالک ہے۔ مجھے تو کن کے سپرد کرتا ہے، کیا اس حریف بیگانہ کے جو مجھ سے ترش روئی روا رکھتا ہے یا تونے مجھ کو،میرے سارے معاملات کو دشمنوں کے قابو میں دے دیا ہے؟ پھر بھی اگر تو مجھ سے ناراض نہیں، تو مجھے ان باتوں کی کیا پروا کچھ بھی ہو میری سماعی تیری عافیت کی گود میں اور تیرے وجہ کریم کی وہ جگمگاہٹ جس سے آندھریاں روشنی بن جاتی ہیں، میں اس نور کی پناہ میں آتا ہوں کہ اس سے دنیا وآخرت کا سدھارہے۔ مجھ پر تیرا غضب ٹوٹے اس سے تیرے سائے میں آتا ہوں۔ منانا ہے، منانا ہے، اس وقت تک منانا ہے جب تک تو راضی نہ ہو ۔زور ہے نہ قابو ہے ،مگر اعلیٰ وعظیم اللہ ہے۔

دل کی اس کیفیت کو آپ نے دیکھ لیا، دعوت کی لگن اور اس کی خاطر طائف کا یہ سفر…اپنے رب پر بھروسہ اور اس کی رضا کی تلاش، یہ رنگ تو ہویدا ہیں ہی، اب وہ رنگ اور ہیں جو دراصل آپ کو دکھانا مقصود ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باغ میں بیٹھتے ہیں، آپ کے یہ الفاظ سن کر نوجوان ساتھی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں:

یارسول اللہ!ان ظالموں کے لیے بد دعا کردیجیے۔ رحمت مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان لوگوں کے لیے کیوں بد دعا کروں اگر یہ لوگ خدا کے اوپر ایمان نہیں لاتے تو مجھے امید ہے کہ ان کی نسلیں ضرور خداے واحد کی پرستار ہوں گی۔

ایک لکھنے والے کے الفاظ میں:

یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان رحمت ورأفت تھی، خلق خدا پر لامتناہی شفقت اور صبر واستقامت کی حیرت انگیز مثال تھی۔ مخلوق کے لیے بے پناہ تڑپ، پیغام حق پر انتہائی یقین اور اس پیغام کو دنیا تک پہنچانے کاجو نادر نمونہ اس ارشاد میں ملتا ہے، سرگزشت عالم میں کوئی دوسری نظیر نہیں آتی۔ عالم انسانیت کے دوسرے برگزیدہ وجود کے قدم ہائے مبارک شفقت علی الخلق کے اس بلند ترین مقام تک نہ پہنچ سکے۔ (رسول رحمت: ۵۲ از ابوالکلام آزاد)

باغ سے نکل کر مکہ کی راہ لیتے ہیں اور اس مقام تک پہنچتے ہیں جہاں سے احرام باندھا جاتا ہے،یہاں جبرئیل امیں تشریف لاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں: اللہ نے وہ سب کچھ سن لیا ہے جو آپ کی قوم نے آپ سے کہا اور آپ کی دعوت کا جو جواب دیا۔

اے محمد! اللہ نے آپ کے پاس یہ پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے جو چاہیں اسے حکم دیں۔ پہاڑوں کا فرشتہ سلام کرتے ہوئے عرض کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے: اے محمد آپ کو پورا اختیار ہے ارشاد ہوتو ان دونوں پہاڑوں کو اٹھا کر جن میں طائف محصور ہے اس شہر کو پیس کر رکھ دوں ۔ذرا دیکھیے! جس کے گھٹنے توڑے گئے۔ ٹخنے چور کیے گئے۔ اب اس کے قابو میں کیا نہیں ہے؟ اور جو اختیار دیاگیا کیا وہ پھر چھینا گیا؟ جسے پتھر کے ٹکڑوں سے پٹوایاگیااسی کو اختیار دیاگیا کہ وہ پہاڑوں سے اس کا جواب دے سکتا ہے اور بآسانی دے سکتا ہے۔ اب دیکھ جسے جبال ملے، ملک الجبال ملا وہ اپنی قوت سے کیا کام لیتا ہے، جنہوں نے اس کو ہلکا کیاتھا کیا ان پر ان کی زندگی کو وہ بھاری کرے گا چاہتا تو یہ کرسکتا تھا اور اس کو حق تھا کہ جنہوں نے اس پر پتھراؤ کیاتھا، ان کو سنگسار کردے۔ (النبی الخاتم، ۶۵۔ ۶۷)

لیکن وہی تاریخ جس نے قوم نوح کے طوفان، قوم عاد کی آندھی، قوم ثمود کی چنگھاڑ اور کڑک، قوم لوط کی پتھروں کی بارش اور موسیٰ کے دریا کے واقعات کو ریکارڈ کیا ہے اسی تاریخ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب بھی محفوظ رکھا ہے پہاڑوں کے فرشتہ سے فرمایا جارہا ہے:

’’میں مایوس نہیں ہوں کہ ان کی پشتوں سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرے جو اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ بنائیں۔

کتنی خوب صورت ودل رُبا ہے یہ تصویر!اس پر دل کیوں نہ آئے، محبت کا کیسا ابلتا ہوا چشمہ ہے کیسی فراوانی ہے رحمت کی، کتنی شفقت ہے اپنے رب کے بندوں پر، امید کی کتنی محفوظ چٹان ہے جس پر دعوت کی کشتی لنگر انداز ہے ۔اپنوں سے تو سب ہی محبت کرتے ہیں دشمنوں سے کتنے محبت کرتے ہیں۔ اچھی بات کا تو سب ہی اچھا جواب دیتے ہیں کتنے ہیں جو گالیوں اور پتھروں کا جواب دعاؤں سے دیتے ہیں؟ جذبہ انتقام نہیں نفرت نہیں، غضب نہیں، غصہ نہیں، مایوسی نہیں، گالیاں نہیں اپنے اوپر زعم اور غرور نہیں۔ طاقت کا غلط استعمال نہیں بلکہ دل سوزی ہے ،ہمدردی ہے، شفقت و رحمت ہے، زندگی کا پیغام ہے، طاقت کا اگر کہیں استعمال ہے تو کم سے کم ہے۔ بقدر ضرورت ہے صرف اس لیے کہ اب طاقت کے استعمال کیے بغیر فتنہ کا استیصال ممکن نہیں نہ کہ اس لیے کہ فتنہ اور پھیل جائے۔ سب سے بڑھ کر فکر اگر کسی بات کی ہے سوزو تڑپ اگر کسی چیز کے لیے ہے تو صرف اسی لیے کہ دل مسخر ہوں، اپنے رب کے آگے جھک جائیں ایسے لوگ پیدا ہوں جو دعوتِ حق پر لبیک کہیں، آج نہ ہوں تو کل ہوں۔

                             {…}

از: مفتیہ فاطمہ عزیز مؤمناتی

 

کارِ دعوت ونبوت کا دسواں سال ہے دس سال کی محنت کے بعد بھی مکہ کے سردار اور عوام اس بات کے لیے تیار نہ ہوئے کہ اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی اختیار کریں، اس کے رسول کی اطاعت قبول کریں اور مکہ کو دعوتِ الٰہی کا مرکز بنا دیں بلکہ اب تو وہ داعی حق کو ہی ختم کردینے کا سوچ رہے ہیں ۔مشفق چچا ابو طالب کا سہاراتھا وہ رخصت ہوچکے ہیں، پچیس سالہ رفاقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے تھی وہ بھی ختم ہوچکی ہے اب کدھر کا رخ کریں؟ مکہ نے اپنے بہترین ہیرے آپ کی گود میں ڈال دیے ہیں، لیکن اب تو اس مسکن کی تلاش ہے جہاں خداے واحد کی بندگی کی بنیاد پر ایک نیا معاشرہ قائم ہو اور ساری دنیا پر اس کے خالق کی حکومت قائم کرنے کا سامان ہو۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سوچتے ہیں اور وہاں کا رخ کرتے ہیں مکہ سے قریب یہی شہر ہے زمین زرخیز، پانی وافر، باغات سے مالا مال، شاید کہ وہاں کے سردار اور اُمرا اس دعوت کو قبول کرلیں۔

راستہ دشوار گزار پہاڑیوں اور وادیوں سے بھرا ہوا، گرمی کا موسم ہے اور وہ بھی عرب کی تپتی ہوئی گرمی۔ ۵۰ سال کی عمر ہے جوانی کا زمانہ نہیں کہ دشوار سفر آسان ہوجائے، سفر کے لیے سواری کا بندوبست بھی اب ممکن نہیں کہ ساری دولت کارِ دعوت میں صرف ہوچکی ہے چنانچہ پیادہ پادو چپلوں پر سارا راستہ طے ہورہا ہے، ساتھ حضرت زید بن حارثہ ہیں، منہ بولے بیٹے اور راہ حق کے نوجوان ساتھی۔

طائف پہنچ کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بنو ثقیف کے تین سرداروں عبدیالیل، مسعود اور حبیب کے پاس جاتے ہیں اور ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہیں، دس سال مکہ میں ٹھکراے جانے کے بعد امیدیں طائف سے ہوسکتی تھیں وہ چکنا چور ہوجاتی ہیں جب امارت ودولت اور اقتدار کے نشے میں یہ تینوں سردار اس دعوت کو ٹھکرا دیتے ہیں ان کے جواب سننے کے لائق ہیں ٹوٹے ہوئے دل کے لیے پہلا تیر یہ تھا۔

کیا اللہ کو تمہارے سوا رسول بنانے کے لیے کوئی اور نہیں ملا کہ جسے سواری کے لیے گدھا تک میسرنہیں۔

دوسرے نے اپنا سیاسی نظریہ پیش کیا: کعبہ کے پردے تار تار ہوجائیں گے اگر اللہ نے تمہیں اپنا رسول بنایا۔

تیسرے نے منطق چھانٹی: میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا کیوں کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہوتو میں اس کا مستحق نہیں کہ تم سے بات کروں اور اگر نہیں ہوتو میری ذلت ہے کہ کسی جھوٹے سے بات کروں۔

زخمی دل کے ساتھ سرداروں کی محفل سے نکل کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باہر آتے ہیں تو طائف کے سردار شہر کے لچے لفنگے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا دیتے ہیں،یہ اوباش آپ پر پتھروں کی بارش کردیتے ہیں، تاک تاک کر آپ کے ٹخنوں اور ایڑیوں پر پتھر مارتے ہیں جب چوٹوں کی تکلیف سے مجبور ہوکر آپ بیٹھ جاتے ہیں توآپ کو پکڑ کر کھڑا کردیتے ہیں، دو میل راستہ پر اسی طرح سنگ باری کے نتیجے میں آپ زخموں سے چور اور لہو لہان ہوجاتے ہیں اور بالآخر طائف کی بستی سے نکل کر ایک باغ میں پناہ لیتے ہیں، ذرا یہ منظر دیکھیے کس کا دل ہے کہ شق نہ ہوجائے۔

زخموں سے گھٹنے چور ہوگئے، پنڈلیاں گھاؤ ہوگئیں، کپڑے لال ہوگئے، نو عمر رفیق (حضرت زید) نے سڑک سے بے ہوشی کی حالت میں جس طرح بن پڑا اٹھا یا، پانی کے کسی گڑھے کے کنارے لایا، جوتیاں اتارنی چاہیں توخون کے گون سے وہ تلوے کے ساتھ اس طرح چپک گئی تھیں کہ ان کا چھڑانا دشوار تھا۔ (النبی الخاتم، ۵۸)

یہ کیسا دن ہے کہ جو سب کے لیے تھا اور سب کے لیے ہے، قیامت تک کے لیے ہے، کیسا دردناک نظارا ہے اس کو سب واپس کررہے تھے،بات اسی پر ختم نہیں ہوگئی کہ انہوں نے جو پیش کیاتھا اس کو صرف رد کردیا، بلکہ آگ میں پھاندنے والوں کی جو کمریں پکڑ کر گھسیٹ رہاتھا وہی کمر کے بل گرایا جارہاتھا۔ (النبی الخاتم: ۵۰)

ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر اُحد کے دن سے بھی سخت دن کوئی گزرا ہے؟ فرمایا: تیری قوم کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچیں سو پہنچیں، مگر سب سے بڑھ کر سخت دن وہ تھا جب میں نے طائف میں عبدیالیل کے سامنے دعوت رکھی اور اس نے رد کردیا۔ (محسن انسانیت: ۱۹۶)

طائف کا سفر، ٹوٹا ہوا دل، زخموں سے چور جسم،زندگی کا سب سے زیادہ سخت دن یہ سارے مناظر نگاہوں میں رکھیے اور اب یہ بھی دیکھیے کہ زبان پر کیا الفاظ ہیں؟

الٰہی! اپنی بے زوری وبے بسی اور بے سروسامانی کا شکوہ تجھ سے ہی کرتا ہوں، دیکھ انسانوں میں ہلکا کیاگیا، لوگوں میں یہ کیسی سبکی ہورہی ہے۔ اے سارے مہربانوں میں سب سے زیادہ مہربان مالک! میری سن۔ درماندہ اور بے کسوں کا رب تو ہی ہے، تو ہی میرا مالک ہے۔ مجھے تو کن کے سپرد کرتا ہے، کیا اس حریف بیگانہ کے جو مجھ سے ترش روئی روا رکھتا ہے یا تونے مجھ کو،میرے سارے معاملات کو دشمنوں کے قابو میں دے دیا ہے؟ پھر بھی اگر تو مجھ سے ناراض نہیں، تو مجھے ان باتوں کی کیا پروا کچھ بھی ہو میری سماعی تیری عافیت کی گود میں اور تیرے وجہ کریم کی وہ جگمگاہٹ جس سے آندھریاں روشنی بن جاتی ہیں، میں اس نور کی پناہ میں آتا ہوں کہ اس سے دنیا وآخرت کا سدھارہے۔ مجھ پر تیرا غضب ٹوٹے اس سے تیرے سائے میں آتا ہوں۔ منانا ہے، منانا ہے، اس وقت تک منانا ہے جب تک تو راضی نہ ہو ۔زور ہے نہ قابو ہے ،مگر اعلیٰ وعظیم اللہ ہے۔

دل کی اس کیفیت کو آپ نے دیکھ لیا، دعوت کی لگن اور اس کی خاطر طائف کا یہ سفر…اپنے رب پر بھروسہ اور اس کی رضا کی تلاش، یہ رنگ تو ہویدا ہیں ہی، اب وہ رنگ اور ہیں جو دراصل آپ کو دکھانا مقصود ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باغ میں بیٹھتے ہیں، آپ کے یہ الفاظ سن کر نوجوان ساتھی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں:

یارسول اللہ!ان ظالموں کے لیے بد دعا کردیجیے۔ رحمت مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان لوگوں کے لیے کیوں بد دعا کروں اگر یہ لوگ خدا کے اوپر ایمان نہیں لاتے تو مجھے امید ہے کہ ان کی نسلیں ضرور خداے واحد کی پرستار ہوں گی۔

ایک لکھنے والے کے الفاظ میں:

یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان رحمت ورأفت تھی، خلق خدا پر لامتناہی شفقت اور صبر واستقامت کی حیرت انگیز مثال تھی۔ مخلوق کے لیے بے پناہ تڑپ، پیغام حق پر انتہائی یقین اور اس پیغام کو دنیا تک پہنچانے کاجو نادر نمونہ اس ارشاد میں ملتا ہے، سرگزشت عالم میں کوئی دوسری نظیر نہیں آتی۔ عالم انسانیت کے دوسرے برگزیدہ وجود کے قدم ہائے مبارک شفقت علی الخلق کے اس بلند ترین مقام تک نہ پہنچ سکے۔ (رسول رحمت: ۵۲ از ابوالکلام آزاد)

باغ سے نکل کر مکہ کی راہ لیتے ہیں اور اس مقام تک پہنچتے ہیں جہاں سے احرام باندھا جاتا ہے،یہاں جبرئیل امیں تشریف لاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں: اللہ نے وہ سب کچھ سن لیا ہے جو آپ کی قوم نے آپ سے کہا اور آپ کی دعوت کا جو جواب دیا۔

اے محمد! اللہ نے آپ کے پاس یہ پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے جو چاہیں اسے حکم دیں۔ پہاڑوں کا فرشتہ سلام کرتے ہوئے عرض کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے: اے محمد آپ کو پورا اختیار ہے ارشاد ہوتو ان دونوں پہاڑوں کو اٹھا کر جن میں طائف محصور ہے اس شہر کو پیس کر رکھ دوں ۔ذرا دیکھیے! جس کے گھٹنے توڑے گئے۔ ٹخنے چور کیے گئے۔ اب اس کے قابو میں کیا نہیں ہے؟ اور جو اختیار دیاگیا کیا وہ پھر چھینا گیا؟ جسے پتھر کے ٹکڑوں سے پٹوایاگیااسی کو اختیار دیاگیا کہ وہ پہاڑوں سے اس کا جواب دے سکتا ہے اور بآسانی دے سکتا ہے۔ اب دیکھ جسے جبال ملے، ملک الجبال ملا وہ اپنی قوت سے کیا کام لیتا ہے، جنہوں نے اس کو ہلکا کیاتھا کیا ان پر ان کی زندگی کو وہ بھاری کرے گا چاہتا تو یہ کرسکتا تھا اور اس کو حق تھا کہ جنہوں نے اس پر پتھراؤ کیاتھا، ان کو سنگسار کردے۔ (النبی الخاتم، ۶۵۔ ۶۷)

لیکن وہی تاریخ جس نے قوم نوح کے طوفان، قوم عاد کی آندھی، قوم ثمود کی چنگھاڑ اور کڑک، قوم لوط کی پتھروں کی بارش اور موسیٰ کے دریا کے واقعات کو ریکارڈ کیا ہے اسی تاریخ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب بھی محفوظ رکھا ہے پہاڑوں کے فرشتہ سے فرمایا جارہا ہے:

’’میں مایوس نہیں ہوں کہ ان کی پشتوں سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرے جو اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ بنائیں۔

کتنی خوب صورت ودل رُبا ہے یہ تصویر!اس پر دل کیوں نہ آئے، محبت کا کیسا ابلتا ہوا چشمہ ہے کیسی فراوانی ہے رحمت کی، کتنی شفقت ہے اپنے رب کے بندوں پر، امید کی کتنی محفوظ چٹان ہے جس پر دعوت کی کشتی لنگر انداز ہے ۔اپنوں سے تو سب ہی محبت کرتے ہیں دشمنوں سے کتنے محبت کرتے ہیں۔ اچھی بات کا تو سب ہی اچھا جواب دیتے ہیں کتنے ہیں جو گالیوں اور پتھروں کا جواب دعاؤں سے دیتے ہیں؟ جذبہ انتقام نہیں نفرت نہیں، غضب نہیں، غصہ نہیں، مایوسی نہیں، گالیاں نہیں اپنے اوپر زعم اور غرور نہیں۔ طاقت کا غلط استعمال نہیں بلکہ دل سوزی ہے ،ہمدردی ہے، شفقت و رحمت ہے، زندگی کا پیغام ہے، طاقت کا اگر کہیں استعمال ہے تو کم سے کم ہے۔ بقدر ضرورت ہے صرف اس لیے کہ اب طاقت کے استعمال کیے بغیر فتنہ کا استیصال ممکن نہیں نہ کہ اس لیے کہ فتنہ اور پھیل جائے۔ سب سے بڑھ کر فکر اگر کسی بات کی ہے سوزو تڑپ اگر کسی چیز کے لیے ہے تو صرف اسی لیے کہ دل مسخر ہوں، اپنے رب کے آگے جھک جائیں ایسے لوگ پیدا ہوں جو دعوتِ حق پر لبیک کہیں، آج نہ ہوں تو کل ہوں۔

                             {…}

 

Salaam us par hawa majrooh jo bazaar-e-Taif mein
Az: Muftiya Fatima Aziz Mo’minati

Kar-e-da‘wat-o-nubuwwat ka daswaan saal hai. Das saal ki mehnat ke baad bhi Makkah ke sardaar aur awaam is baat ke liye tayyar na hue ke Allah Wahda-hu La-Shareek ki bandagi ikhtiyar karein, us ke Rasool ki itaat qubool karein aur Makkah ko da‘wat-e-Ilahi ka markaz bana dein. Balkeh ab to woh Da‘i-e-Haq ko hi khatam kar dene ka soch rahe hain.
Mushfiq chacha Abu Talib ka sahara tha, woh ruksat ho chuke hain. Pachees saala rifaqat Hazrat Khadija رضی اللہ عنہا se thi, woh bhi khatam ho chuki hai. Ab kidhar ka rukh karein? Makkah ne apne behtareen heere aap ki god mein daal diye hain, lekin ab to us maskan ki talaash hai jahan Khuda-e-Wahid ki bandagi ki bunyaad par ek naya mu‘ashra qaim ho aur saari duniya par us ke Khaliq ki hukoomat qaim karne ka samaan ho. Nabi-e-Kareem ﷺ sochte hain aur wahan ka rukh karte hain—Makkah se qareeb yahi shehar hai: zameen zarkhez, pani wafir, baghaat se maal-a-maal. Shayad ke wahan ke sardaar aur umra is da‘wat ko qubool kar lein.

Raasta dushwar-guzar pahariyon aur wadiyon se bhara hua; garmi ka mausam, aur woh bhi Arab ki tapti hui garmi. Pachaas saal ki umar hai—jawani ka zamana nahin ke dushwar safar aasan ho jaye. Safar ke liye sawari ka bandobast bhi ab mumkin nahin ke saari daulat kar-e-da‘wat mein sarf ho chuki hai. Chunancha paidal, paon mein chappal pehne, saara raasta tay ho raha hai. Saath Hazrat Zaid bin Haritha hain—munh-bole betay aur raah-e-Haq ke naujawaan saathi.

Taif pohanch kar Huzoor ﷺ Banu Saqif ke teen sardaron—Abd-Yaleel, Mas‘ood aur Habeeb—ke paas jate hain aur un ke samne apni da‘wat pesh karte hain. Das saal Makkah mein thukraye jane ke baad umeedein Taif se ho sakti thin; woh chakhna-choor ho jati hain jab imarat-o-daulat aur iqtidar ke nashe mein yeh teenon sardaar is da‘wat ko thukra dete hain. Un ke jawab sunne ke qabil hain—toote hue dil ke liye pehla teer yeh tha:

“Kya Allah ko tumhare siwa Rasool banane ke liye koi aur nahin mila, ke jise sawari ke liye gadha tak mayassar nahin?”

Doosre ne apna siyasi nazriya pesh kiya:
“Ka‘bah ke parde taar-taar ho jayenge agar Allah ne tumhein apna Rasool banaya.”

Teesre ne mantiq chhaanti:
“Main tum se harگز baat nahin karunga; kyun ke agar tum waqai Allah ke Rasool ho to main is qabil nahin ke tum se baat karun, aur agar nahin ho to meri zillat hai ke kisi jhoote se baat karun.”

Zakhmi dil ke saath sardaron ki mehfil se nikal kar aap ﷺ bahar aate hain to Taif ke sardaar shehar ke lache-lafange logon ko aap ﷺ ke peechhe laga dete hain. Yeh awbaash aap par pathron ki barish kar dete hain—taak-taak kar aap ke takhnon aur eeriyon par pathar marte hain. Jab choton ki takleef se majboor ho kar aap baith jate hain to woh aap ko pakar kar khara kar dete hain. Do meel raaste par isi tarah sang-bari ke nateeje mein aap zakhmon se choor aur lahoo-lahan ho jate hain, aur bil-aakhir Taif ki basti se nikal kar ek bagh mein panah lete hain. Zara yeh manzar dekhiye—kis ka dil hai ke shaq na ho jaye?

Zakhmon se ghutne choor ho gaye, pindliyan ghaav ho gayin, kapre laal ho gaye. Nau-umar rafiq (Hazrat Zaid) ne sark se be-hoshi ki halat mein, jahan tak bun pada, uthaaya; pani ke kisi gadday ke kinare laya. Jootiyan utarni chahen to khoon ke goon se woh talway ke saath is tarah chipak gayi thin ke un ka chhurana dushwar tha.
(An-Nabi al-Khatim, 58)

Yeh kaisa din hai—jo sab ke liye tha aur sab ke liye hai; qayamat tak ke liye hai. Kaisa dardnaak nazara hai: jis ko sab wapas kar rahe the. Baat yahin par khatam nahin hui ke unhon ne jo pesh kiya tha us ko sirf rad kar diya; balkeh aag mein phandne walon ki jo kamrein pakar kar ghaseet raha tha, wahi kamar ke bal giraaya ja raha tha.
(An-Nabi al-Khatim, 50)

Ek martaba Hazrat Aisha رضی اللہ عنہا ne poocha: “Ay Allah ke Rasool! Kya aap par Uhud ke din se bhi sakht din koi guzra hai?”
Farmaya: “Teri qaum ki taraf se jo takleefein pohanchin so pohanchin; magar sab se zyada sakht din woh tha jab main ne Taif mein Abd-Yaleel ke samne da‘wat rakhi aur us ne rad kar di.”
(Mohsin-e-Insaniyat, 196)

Taif ka safar—toota hua dil, zakhmon se choor jism, zindagi ka sab se zyada sakht din—yeh saare manazir nigahon mein rakhiye. Ab yeh bhi dekhiye ke zaban par kya alfaaz hain:

“Ilahi! Apni be-zori-o-be-basi aur be-saro-samaani ka shikwa tujh se hi karta hoon. Dekh, insanoon mein halqa kiya gaya; logon mein yeh kaisi sabki ho rahi hai. Ay sab se zyada meharban Malik! Meri sun. Darmandah aur be-kasoon ka Rabb tu hi hai; tu hi mera Malik hai. Mujhe tu kin ke hawale karta hai—kya us hareef-e-beganah ke jo mujh se tarsh-roo‘i rawa rakhta hai, ya tu ne mujhe, mere saare mu‘amlaat ko dushmanon ke qaboo mein de diya hai? Phir bhi agar tu mujh se naraz nahin, to mujhe in baaton ki kya parwa. Kuch bhi ho, meri samai teri aafiyat ki god mein aur tere Wajh-e-Kareem ki woh jagmagahat—jis se andheriyan roshni ban jati hain—main us noor ki panah mein aata hoon ke jis se duniya-o-aakhirat ka sudhaar hai. Mujh par tera ghazab toote—us se tere saaye mein aata hoon. Manana hai, manana hai; is waqt tak manana hai jab tak tu raazi na ho. Zor hai na qaboo; magar A‘la-o-Azeem Allah hi hai.”

Dil ki is kaifiyat ko aap ne dekh liya—da‘wat ki lagan aur us ki khatir Taif ka yeh safar… apne Rabb par bharosa aur us ki raza ki talaash. Yeh rang to hoida hain hi; ab woh rang aur hain jo dar-asal aap ko dikhana maqsood hai.

Huzoor ﷺ bagh mein baithte hain. Aap ke yeh alfaaz sun kar naujawaan saathi Hazrat Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہ arz karte hain:
“Ya Rasool Allah! In zalimon ke liye bad-dua kar dijiye.”
Rehmat-e-Mujassam ﷺ ne farmaya:
“Main in logon ke liye kyun bad-dua karun? Agar yeh log Khuda par iman nahin late, to mujhe umeed hai ke in ki naslein zaroor Khuda-e-Wahid ki parastaar hongi.”

Ek likhne wale ke alfaaz mein:
Yeh Huzoor ﷺ ki shaan-e-rehmat-o-ra’fat thi—khalq-e-Khuda par la-mehdood shafqat aur sabr-o-isteqaamat ki hairat-angez misaal. Makhlooq ke liye be-panah tarap, paigham-e-Haq par intehai yaqeen, aur is paigham ko duniya tak pohanchane ka jo nadir namoona is irshaad mein milta hai, sarguzasht-e-aalam mein koi doosri nazir nahin aati. Aalam-e-insaniyat ke doosre barguzida wajood ke qadam-haaye-mubarak shafqat ‘ala-l-khalq ke is buland-tareen maqam tak nahin pohanch sake.
(Rasool-e-Rehmat, 52 — Abul Kalam Azad)

Bagh se nikal kar Makkah ki raah lete hain aur us maqam tak pohanchte hain jahan se ehram bandha jata hai. Yahan Jibreel-e-Ameen tashreef late hain aur arz karte hain:
“Allah ne woh sab kuch sun liya hai jo aap ki qaum ne aap se kaha, aur aap ki da‘wat ka jo jawab diya.”
“Ay Muhammad! Allah ne aap ke paas paharon ka farishta bheja hai—jo chahein usay hukm dein.”

Paharon ka farishta salam karta hua arz karta hai aur ijazat talab karta hai:
“Ay Muhammad! Aap ko poora ikhtiyar hai—irshaad ho to in dono paharon ko utha kar, jin mein Taif mehsoor hai, is shehar ko pees kar rakh doon.”

Zara dekhiye! Jis ke ghutne torey gaye, takhne choor kiye gaye—ab us ke qaboo mein kya nahin? Aur jo ikhtiyar diya gaya, kya woh phir chheena gaya? Jisay pathron ke tukron se pitwaya gaya, usi ko ikhtiyar diya gaya ke woh paharon se jawab de sakta hai—aur aasani se de sakta hai. Ab dekhiye: jise jiba’al mile, Malik-ul-Jiba’al mila—woh apni quwwat se kya kaam leta hai. Jin hon ne us ko halqa kiya tha, kya un par un ki zindagi ko woh bhaari karega? Chahta to yeh kar sakta tha, aur usay haq tha ke jin hon ne us par pathrao kiya tha, unhein sangsaar kar de.
(An-Nabi al-Khatim, 65–67)

Lekin wahi tareekh—jis ne Qaum-e-Nooh ka toofan, Qaum-e-‘Aad ki aandhi, Qaum-e-Thamood ki chinghaar aur kadak, Qaum-e-Loot par pathron ki barish, aur Musa ke darya ke waqiaat ko record kiya—usi tareekh ne Muhammad Rasool Allah ﷺ ka yeh jawab bhi mehfooz rakha hai. Paharon ke farishte se farmaya ja raha hai:

“Main mayoos nahin hoon ke in ki pushton se Allah Ta‘ala aise log paida kare jo Allah Wahda-hu La-Shareek ki bandagi karein aur us ke saath kisi ko shareek na banayein.”

Kitni khoobsurat aur dil-rubaa tasveer hai! Is par dil kyun na aa jaye? Mohabbat ka kaisa ubalta hua chashma—rehmat ki kaisi farawani! Apne Rabb ke bandon par kitni shafqat, umeed ki kitni mehfooz chattaan jahan da‘wat ki kashti langar-andaaz hai. Apnon se to sab hi mohabbat karte hain—dushmanon se kitne mohabbat karte hain? Achhi baat ka to sab hi achha jawab dete hain—kitne hain jo gaaliyon aur pathron ka jawab du‘aon se dete hain?

Na jazba-e-intiqam, na nafrat, na ghazab, na ghussa, na mayoosi; na gaaliyan, na apne upar za‘am-o-ghuroor. Taaqat ka ghalat istemal nahin—balkeh dil-sozi, humdardi, shafqat-o-rehmat, zindagi ka paigham. Taaqat ka agar kahin istemal hai to kam-se-kam—ba-qadr-e-zaroorat; sirf is liye ke baghair quwwat ke fitna ka isteesaal mumkin nahin, na ke is liye ke fitna aur phail jaye. Sab se barh kar fikr agar kisi baat ki hai, soz-o-tarap agar kisi cheez ke liye hai, to sirf is liye ke dil musakhkhar hon, apne Rabb ke aage jhuk jayein; aise log paida hon jo da‘wat-e-Haq par labbaik kahein—aaj na hon to kal hon.

Credits & Acknowledgements

Article Writing: از: مفتیہ فاطمہ عزیز مؤمناتی
Post By: Maula Ali Research Center
Share This

Related Mazameen