جن اعمال کا ثواب مسلسل ملتا رہتا ہے
جن اعمال کا ثواب مسلسل ملتا رہتا ہے
ازقلم : از:مفتی محمد صدیق ہزاروی
عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال اذا مات الانسان انقطع عملہ الا من ثلاث صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح یدعولہ (مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے البتہ تین باتوں میں (جاری رہتا ہے) صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
پیدائش سے لے کر موت تک کا وقت دارالعمل ہے اور قبر سے نکل کر میدان محشر میں جانے اور اس کے بعدکو دارالجزاء کہا جاتا ہے درمیان میں عالم برزخ ہے جو درحقیقت انتظار کا عالم ہے۔
جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادت خداوندی بتایاگیا اس لیے دنیوی زندگی یعنی دارالعمل میں انسان کو عبادات کا مکلف بنایاگیا ہے اور اس کے لیے اسے وہ تمام قوت وطاقت عطا کی گئی جو عبادت کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اسے جسمانی طاقت، عقل ودانش کی دولت اور اختیار کی نعمت عطا کرنے کے بعد عبادات کا مکلف بنایا لیکن جب انسانی جسم سے روح کا رشتہ منقطع ہوجاتا ہے تو عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے کیوںکہ اس وقت انسان دارالعمل سے عالم برزخ کی طرف کوچ کر جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس وقت بھی اسے محروم نہیں رکھتا اور اسے ثواب ملتا رہتا ہے اگر اس نے وہ کام کیے ہوں جن کا اس حدیث شریف میں ذکر کیا گیا یعنی وہ اعمال کا مکلف نہ رہنے کے باوجود ثواب کی دولت سے بہرہ مند ہوتا رہتا ہے۔
ان تین اعمال میں سے پہلا عمل صدقہ جاریہ ہے۔صدقہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک صدقہ وقتی ہوتا ہے مثلاً واجب صدقے کی صورت میں غربا ومساکین کو یا نفلی صدقے کی صورت میں عام مسلمانوں کو کھانا کھلایا تو اس کا ثواب اسے ضرور ملتا ہے بشرطیکہ شہرت اورریا کاری کے بجائے رضائے الٰہی مقصود ہو لیکن یہ ثواب ایک مرتبہ مل جاتا ہے۔ ثواب ملنے کا سلسلہ جاری نہیں ہوتا۔ دوسری قسم صدقہ جاریہ ہے اس کا ثواب جاری رہتا ہے ۔صدقہ جاریہ اس صدقے کو کہتے ہیں جس سے مسلسل نفع اندوزی ہوتی رہے مثلاً مسجد بنائی، مسجد میں پنکھا لگایا، چٹائی بچھائی یا اس طرح کی دیگر اشیا جن سے نمازیوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ دینی مدرسہ بنایا، کسی طالب علم کو یا کسی بھی مستحق صاحب ذوق کو دینی کتب خرید کردیں، کنواں کھدوا کر وقف کردیااور کسی گزرگاہ پر پانی کی سبیل بنادی تاکہ آنے جانے والے لوگ اس سے پانی پئیں غرضیکہ ہر وہ کام جس سے مخلوق خدا کو ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے صدقہ جاریہ ہے۔ جب تک لوگ اس سے مستفید ہوتے رہیں گے اس شخص کے نامہ اعمال میں ثواب لکھا جاتا رہے گا اگرچہ وہ دنیا سے رخصت ہوگیا ہو۔اس لیے ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اپنا روپیہ پیسہ ان کاموں پر خرچ کریں جن سے انسانیت بلکہ مخلوق خدا کو فائدہ پہنچے۔ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاخیر الناس من ینفع الناسترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔ بعض کام اگرچہ ذاتی طور پر بڑے اچھے کام ہوتے ہیں اور مسلمان ان کاموں پر لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ جاریہ میں نہیں آتے جب کہ ان کے مقابل بعض ایسے کام ہیں جہاں مال خرچ کرنے کی سخت ضرورت بھی ہوتی ہے اور صدقہ جاریہ کا ثواب بھی ملتا ہے لیکن عام طور پر ان سے روگردانی کی جاتی ہے اور ایسی جگہوں پر مال خرچ کرنے کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
اس میں کیاشک ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعت تسکینِ جان کا سبب ہے، محبت رسول کریم صلی الہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آئینہ دار ہے، ان محافل کا انعقاد روحانی جلا کا باعث ہے اور اپنے آقا سے رشتہ محبت وعقیدت قائم کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن ان پر لاکھوں روپئے خرچ کردینااور جہاں اسی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کی تعلیم کااہتمام ہو ان مدارس کو نظرانداز کردینا قطعاً دانش مندی نہیں۔ دینی اداروں کا قیام اور ان میں علم حاصل کرنے والے طلبہ کے قیام وطعام، کتب اور دیگر ضروریات کا اہتمام کرنا صدقہ جاریہ بھی ہے اور دین اسلام کے فروغ کا باعث بھی لہٰذا اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جو تنظیمیں اور جماعتیں فروغ دین اور اصلاح اُمت کے لیے کوشاں ہیں ان سے تعاون کرنا، اسلامی لٹریچر چھپوا کر تقسیم کرنا بھی ہماری خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔
دوسرا عمل جس کا ثواب انسان کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے وہ علم ہے جس سے اُمت مسلمہ کو نفع حاصل ہوتا رہے اگرچہ اس میں بنیادی طور پر وہ علوم شامل ہیں جن کاآخرت کے سنوارنے سے تعلق ہے لیکن ان فنون کو بھی اس میں شامل کیا جاسکتا ہے جن کے ذریعے انسانی زندگی کی آسانی کا سامان پیدا ہوتا ہے ایسی مصنوعات تیار ہوتی ہیں جن سے انسانیت نفع اندوز ہوتی ہے کیوںکہ جہاں حقوق العباد کی ادائیگی اور ان سے آگاہی ضروری ہے وہاں حقوق العباد کی ادائیگی اور ان حقوق سے متعلق علم حاصل کرنا اور اسے پھیلانا بھی لازمی ہے۔
رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے محض علم کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کے ساتھ ینتفعکے الفاظ ارشاد فرما کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچے کیوںکہ اس صورت میں یہ عمل جاری ہوگا اور اس کا ثواب بھی جاری ہوگا۔اگر کوئی شخص علم حاصل کرکے اسے اپنی ذات تک محدود رکھتا ہے خود اس پر عمل پیرا ہوتا ہے لیکن دوسروں کو اس کے علم سے فائدہ نہیں پہنچتا تو وہ اس بشارت میں شامل نہیں۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ بعض اہل علم اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتے اور جب کوئی حاجت منداُن سے مسئلہ دریافت کرتا ہے تو وہ عدیم الفرصتی کا بہانہ بنا کر جان چھڑالیتے ہیں۔
علم کو نفع بخش بنانے کی صورت یہ ہے کہ درس وتدریس، تعلیم وتعلم، تبلیغ واصلاح اور تصنیف وتالیف کے ذریعے اس علم سے دوسروں کو نفع بھی پہنچایا جائے اور یوں اس علم کو باقی بھی رکھا جائے۔
صاحب علم دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے لیکن وہ اپنے شاگردوں، اپنی تصانیف اور استفادہ کرنے والوں کی صورت میں زندہ رہتا ہے اور مسلسل ثواب حاصل کرتا رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص عالم نہیں ہے لیکن وہ علمی مرکز قائم کرکے کسی تعلیمی ادارے میں کتب فراہم کرکے فروغ علم میں شریک ہوتا ہے تو اسے بھی اس علم کا ثواب ملتا رہتا ہے جو اس نے اس ادارے یا کتب کی صورت میں چھوڑا ہے اور ایک عرصے تک لوگ اس سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔
تیسرا عمل جس کاثواب مسلمان کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے اس کی نیک اولاد ہے اگرچہ نیک اولاد بذات خود اپنے نیک کاموں کی وجہ سے باپ کے لیے ثواب کا باعث ہوتی ہے کیوںکہ باپ کی تربیت وہ عمل ہے جواولاد صالح ہونے کا سبب ہے یعنی باپ کی تربیت نے اسے نیک بنایا اب چونکہ ان نیک اعمال کا سبب ماںباپ کی تربیت ہے لہٰذا اس بنیاد پر جب تک وہ نیک اعمال کرتا ہے ان کو ثواب ملتا رہے گا لیکن اس کے ساتھ ’’یدعولہ‘‘ کی قید لگا کر آپ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ نیک اولاد اپنے ماںباپ کے لیے دعا مانگتی ہے، ان کے لیے فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کا اہتمام کرتی ہے اور اس طرح بھی اس کو ثواب ملتا رہتا ہے۔
یہاں اس بات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ اعمال کا ثواب صرف ایمان واسلام کی صورت میں ملتا ہے لہٰذا یہاں اگرچہ لفظ انسان مطلق فرمایا جو کافر اور مسلمان سب کو شامل ہے لیکن الانسان میں الف لام سے خاص انسان کی طرف اشارہ کیاگیا یعنی انسان کامل اور وہ یقینا مسلمان ہی ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں وہ لوگ جو علم حاصل کرکے لوگوں کو عقائد باطلہ کی ترغیب دیتے ہیں اور یوں ان کو گمراہی کے راستے پر ڈالتے ہیں وہ جس قدر تبلیغ واشاعت کا کام کریں اس بشارت میں شامل نہیں کیوںکہ ان کا علم نفع بخش ہونے کی بجائے ضرر رساں ہوتا ہے۔نیز جو لوگ فوت شدہ مسلمانوں کے لیے دعا کا انکار کرتے ہیں اور ان کے خیال میں یہ بے مقصد بات ہے اور میت کو خود اپنی زندگی میں عمل کرناچاہیے تھااور اس طرح کے حیلے بہانے تلاش کرکے ایصال ثواب سے روگردانی کرتے ہیں وہ قرآن وسنت سے بے خبر ہیں۔ قرآن وسنت کو اپنی خواہشات اور بدعات پر مبنی عقائد سے مقدم رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ جو عقیدہ قرآن وسنت سے متصادم ہو وہ بدعت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Jin A‘maal Ka Sawaab Musalsal Milta Rehta Hai
Qalam: Mufti Muhammad Siddiq Hazarvi
Hazrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ se riwayat hai ke Rasool Allah ﷺ ne farmaya:
“Jab insan mar jata hai to us ke a‘maal ka silsila munqati‘ ho jata hai siwaye teen cheezon ke: sadaqah jariyah, ya woh ‘ilm jisse faida uthaya jaye, ya neik aulad jo us ke liye dua kare.”
(Mishkat-ul-Masabih)
Hazrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ se marwi hai ke Rasool Allah ﷺ ne farmaya: jab aadmi mar jata hai to us ke ‘amal ka silsila khatam ho jata hai, lekin teen cheezon mein yeh jari rehta hai: sadaqah jariyah, faida dene wala ‘ilm, aur neik aulad jo us ke liye dua kare.
Paidaish se le kar maut tak ka waqt Dar-ul-‘Amal hai, aur qabr se nikal kar Maidan-e-Hashr mein jana aur us ke baad ka marhala Dar-ul-Jaza kehlata hai. Darmiyani halat ‘Aalam-e-Barzakh hai jo asal mein intezar ka ‘aalam hai.
Jinnon aur insaanon ki takhleeq ka maqsad ‘ibadat-e-Khudaawandi bataya gaya hai. Isi liye dunyawi zindagi, jo Dar-ul-‘Amal hai, mein insaan ko ‘ibadat ka mukallaf banaya gaya, aur is ke liye use woh tamam quwwatein aur salahiyatein ata ki gayin jo ‘ibadat ki adaigi ke liye zaroori hain۔
Allah Ta‘ala ne insaan ko jismani quwwat, ‘aql-o-danish aur ikhtiyar ki ni‘mat dene ke baad ‘ibadat ka mukallaf banaya. Lekin jab rooh ka jism se rishta munqati‘ ho jata hai to ‘amal ka silsila khatam ho jata hai, kyun ke is waqt insaan Dar-ul-‘Amal se ‘Aalam-e-Barzakh ki taraf rukh kar leta hai. Magar Allah Ta‘ala apne fazl-o-karam se usay is marhalay par bhi mehroom nahi karta, balkay agar us ne woh kaam kiye hon jin ka zikr is hadith mein aaya hai, to use maut ke baad bhi sawaab milta rehta hai.
Pehla ‘Amal: Sadaqah Jariyah
Sadaqah do qisam ka hota hai:
- Sadaqah Waqti:
Jaise wajib sadaqat (ghuraba o masakeen ko dena) ya nafl sadaqah ke taur par logon ko khana khilana. Is ka sawaab zaroor milta hai, bashart ke niyyat riya aur shohrat ke bajaye sirf raza-e-ilahi ho. Lekin yeh sawaab ek martaba milta hai, musalsal jari nahi rehta. - Sadaqah Jariyah:
Is ka sawaab lagataar milta rehta hai. Sadaqah jariyah se murad woh kaam hain jin se log musalsal faida uthate rahen. Misal ke taur par:- Masjid banana
- Masjid mein pankha lagana, chatai bichana
- Deeni madrasah qaim karna
- Talib-e-‘ilm ko deeni kutub khareed kar dena
- Kunwaan khudwa kar waqf karna
- Aam raaste par pani ki sabeel banana
Yani har woh kaam jis se makhlooq-e-Khuda ko mustaqil faida pohanche, sadaqah jariyah hai. Jab tak log is se faida uthate rahenge, us shakhs ke naamah-e-a‘maal mein sawaab likha jata rahega, chahe woh duniya se rukhsat ho chuka ho.
Is liye humein chahiye ke apna maal un kaamon par kharch karein jin se insaniyat, balkay poori makhlooq-e-Khuda ko faida pohanche. Rasool Allah ﷺ ne farmaya:
“Khair-un-naas man yanfa‘-un-naas”
Behtareen insaan woh hai jo logon ko faida pohanchaye.
Baaz kaam zahiri taur par bohat ache lagte hain aur log unpar laakhon rupay kharch kar dete hain, lekin woh sadaqah jariyah mein shamil nahi hote. Is ke bar‘aks kuch aise kaam hain jahan sakht zaroorat bhi hoti hai aur sadaqah jariyah ka sawaab bhi milta hai, magar aam taur par unhein nazarandaz kar diya jata hai.
Naat-e-Rasool ﷺ yaqeenan taskeen-e-jaan ka sabab hai, muhabbat-e-Rasool ﷺ ki ‘aks-bandi karti hai, aur aisi mehfilen roohani jila ka zariya hoti hain. Lekin sirf in par laakhon rupay kharch kar dena aur wahin Rasool Allah ﷺ ke deen ki ta‘leem dene walay madaris ko nazarandaz kar dena danishmandi nahi. Deeni idaron ka qiyam, talaba ke qiyam-o-ta‘aam, kutub aur deegar zarooriyat ka intezam karna na sirf sadaqah jariyah hai balkay Islam ke farogh ka zariya bhi hai.
Isi tarah woh tanzeemen aur jama‘atein jo farogh-e-deen aur islah-e-ummat ke liye kaam kar rahi hain, un se ta‘awun karna, Islami literature chapwa kar taqseem karna bhi bari ahmiyat rakhta hai.
Doosra ‘Amal: Faida Dene Wala ‘Ilm
Doosra ‘amal jiska sawaab maut ke baad bhi jari rehta hai woh ‘ilm hai jisse ummat ko faida pohanche. Is mein bunyadi taur par woh ‘uloom shamil hain jo aakhirat ki islah se ta‘alluq rakhte hain, lekin woh funoon bhi shamil kiye ja sakte hain jin se insani zindagi asaan hoti ho aur jin ke zariye insaniyat ko faida pohanchta ho.
Rasool Allah ﷺ ne sirf ‘ilm ka zikr nahi farmaya balkay “yanfa‘u bihi” ke alfaaz istemal farmaye, jo is baat ki taraf ishara hai ke woh ‘ilm doosron ke liye faida mand ho. Agar koi shakhs ‘ilm hasil kare, khud us par ‘amal kare, lekin doosron ko us ka faida na pohanchaye, to woh is basharat mein shamil nahi.
Ilm ko faida bakhsh banane ke liye:
- Dars-o-tadrees
- Ta‘leem-o-ta‘allum
- Tableegh-o-islah
- Tasneef-o-ta’leef
ke zariye use aam karna zaroori hai. ‘Aalim duniya se chala jata hai, lekin apne shagirdon, apni tasaneef aur mustafeed hone walon ke zariye zinda rehta hai aur musalsal sawaab pata rehta hai.
Agar koi shakhs khud ‘a alim na ho lekin kisi ‘ilmi markaz ka qiyam kare, ta‘leemi idaron ko kutub faraham kare, to woh bhi is ‘ilm ke sawaab mein shareek hota hai.
Teesra ‘Amal: Neik Aulad
Teesra ‘amal jiska sawaab maut ke baad bhi milta rehta hai, neik aulad hai. Neik aulad apne neik ‘amal ke zariye walidain ke liye sawaab ka sabab banti hai, kyun ke us ki tarbiyat walidain ne ki hoti hai. Is liye jab tak woh neik ‘amal karti rahegi, walidain ko bhi us ka ajr milta rahega.
Hadith mein “yad‘u lahu” ki qaid laga kar is taraf bhi ishara kiya gaya ke neik aulad apne walidain ke liye dua karti hai, fatihah khwani aur isaal-e-sawaab ka ehtimam karti hai, jis se unhein mazeed ajr milta rehta hai.
Yeh baat bhi yaad rakhni chahiye ke ‘amal ka sawaab sirf imaan aur Islam ki halat mein milta hai. Is liye yahan “insaan” se murad kamil momin hai. Isi tarah jo log ‘ilm hasil kar ke batil ‘aqaid ki tashheer karte hain aur logon ko gumraahi ki taraf le jate hain, woh is basharat mein shamil nahi, kyun ke un ka ‘ilm faida bakhsh nahi balkay nuqsan deh hota hai.
Jo log mayyit ke liye dua aur isaal-e-sawaab ka inkar karte hain aur ise be-faida kehte hain, woh Qur’an-o-Sunnat se na-waqif hain. Har Musalman par lazim hai ke apne ‘aqaid ko Qur’an-o-Sunnat par pesh kare. Jo ‘aqeeda in se mutasadam ho, woh bid‘at hai.
Allah Ta‘ala humein Qur’an-o-Sunnat ki ta‘leemat par ‘amal karne ki taufeeq ata farmaye. Aameen.