Minara Masjid Minara Masjid

Hazrat Abu Zar Ghifari

| February 5, 2026 3 min read 9 views

حضرت ابوذِرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

حضرت ابوذِرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

آپ کا اسم گرامی جندب بن جنادہ بن سفیان بن عبید بن حرام بن غفار تھا۔ آپ کی والدہ کا نام رملہ بنت وقیعہ غفاریہ تھا۔بعض لوگوں نے آپ کا نام بریر بھی لکھا ہے لیکن پہلا نام صحیح ہے، کنیت ابوذر تھی۔میدانِ بدر کے قریب مدینہ منورہ کی راہ میں صفراء نامی ایک بستی تھی، یہی بستی آپ کامسکن تھا۔ آپ کے قبیلہ کی رہائش دو پہاڑوں کے درمیان تھی جن میں سے ایک پہاڑی کا نام مُسلَح تھا اور دوسری کا نام مُحزٰی۔روایتوں میں آتاہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف آرہے تھے، ان پہاڑوں کے قریب پہنچے تو ان کا نام پوچھا۔ جب لوگوں نے ان کے نام بتائے تو آپ کو ان کے نام پسند نہ آئے۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا:یہاں کون سے قبیلے آباد ہیں تو آپ کو بتایا گیا کہ یہاں دو قبیلے آباد ہیں، ایک کا نام نار (آگ) ہے اور دوسرے کانام بنی حراق (جلنا)ہے۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا: یہ کس قبیلے کی شاخیں ہیں تو بتایا گیا کہ یہ بنو غفار کے قبیلے کے ہیں۔ پھر آپ نے اس راستے سے گزرنا مناسب نہ سمجھا اور ‘صفراء ‘بستی کی دائیں جانب سے ہو کرگزر گئے۔

پیشہ:آپ کے خاندان کا پیشہ تو ڈاکہ زنی تھا لیکن آپ ابتدا ہی سے اس پیشہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے اور محنت مزدوری کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے۔ آپ ایامِ جاہلیت میں بھی عبادت گزار تھے۔ چوںکہ آپ کا قبیلہ اس شاہ راہ پر آباد تھا جو یمن سے لے کر شام تک چلی گئی تھی اور اسی شاہ راہ پر عرب کے تمام تجارتی قافلے آیا جایا کرتے تھے لہٰذا جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی نبوت کا اعلان کیا تو بہت جلد آپ کی خبر آنے جانے والوں کے ذریعہ بنوغفار میں پہنچ گئی۔

حلیہ:آپ کا قد لمبا تھا، نحیف و کمزور تھے۔ رنگ گندم گوں اور نقش تیکھے تھے۔ حضرت ابوذرغفاری کا بھائی اُنیس مکہ مکرمہ آرہا تھا۔ عمرو بن عبسہ آپ کے اَخیافی بھائی ہیں۔ آپ نے اُنیس سے کہاکہ سنا ہے ، ایک آدمی نے مکہ میں اپنی نبوت کا اعلان کیاہے، ذرا اس سے ملاقات کرکے پورے حالات کا پتہ کرتے آنا۔جب آپ کا بھائی مکہ مکرمہ سے واپس پہنچا تو آپ نے دریافت کیا۔ اس نے بتایا کہ قریش میں سے محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم)نامی ایک شخص اپنے آپ کو خدا کا رسول کہتا ہے۔ میں نے جب اس سے ملاقات کی تو اس نے کہا۔ خدا تعالیٰ کو ایک جانو، اس کا کوئی شریک نہیں، بتوں کی عبادت چھوڑ دو، کسی کو تکلیف نہ دو، برے کام نہ کرو اور خدا کی عبادت کرو اور خلق خدا کی خدمت کرو۔

حضرت ابوذرغفاری نے فرمایا:کچھ اس سے آگے بھی بتاؤ تو اس نے کہا:میں اس سے آگے کچھ نہیں جانتا۔ تو آپ نے فرمایا:تو نے میرے دل کو مطمئن نہیں کیا، میں خود مکہ مکرمہ جاکر حالات دریافت کروں گا۔ چنانچہ کچھ زادِ راہ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔مکہ مکرمہ پہنچ کرپتہ چلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پورے قریش میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ چکی ہے۔ حالات اتنے نازک تھے کہ آپ کے متعلق کسی سے کچھ پوچھنا اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ چنانچہ آپ نے کسی سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا اور خانہ کعبہ میں آکر بیٹھ رہے کہ شاید کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ خود بخودحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوجائے اور کسی مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سارا دن گزر گیا لیکن مقصود کو نہ پہنچ سکے۔

چونکہ بنو ہاشم خانہ کعبہ کے متولی تھے اور اس وقت ہمارے پیارے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب اس منصب پر فائز تھے لہٰذا رات کو خانہ کعبہ کا دروازہ بند کرنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک مسافر بیٹھا ہے۔حضرت علی نے پوچھا:تم مسافر ہو؟ حضرت ابوذرنے کہا: ہاں۔ حضرت علی نے فرمایا:میرے ساتھ چلو۔ چنانچہ آپ حضرت علی کے ساتھ چلے گئے۔ رات کو کھانا اور ٹھکانا دونوں مل گئے۔ صبح پھر خانہ کعبہ میں آگئے۔ پھر سارا دن گزر گیا لیکن گوہر مراد ہاتھ نہ آیا۔ دوسری رات پھر حضرت علی نے دیکھا کہ وہی مسافر آج بھی بیٹھا ہے۔ پوچھا کیا مسافر کو اپنی منزل نہ ملی؟ کہنے لگے:نہیں۔ وہ پھر ان کو اپنے ساتھ لے گئے اور حسب سابق مہمان کا حق ادا کیا لیکن دونوں راتیں بالکل خاموشی سے گزریں ۔ نہ تو حضرت علی نے ان سے پوچھا کہ تم کو ن ہو، کہاں سے اورکس کام سے آئے ہو اور نہ ہی حضرت ابوذرنے ان سے کچھ کہا۔ تیسرے روز پھر خانہ کعبہ میں چلے آئے اور پھر سارا دن گزر گیا۔ تیسری رات حضرت علی نے دیکھا کہ وہی مسافر بیٹھا ہے۔ کہنے لگے:کیا ابھی بھی منزل کانشان نہیں ملا؟کہنے لگے:نہیں۔ تو آپ نے فرمایا:آؤ پھر میرے ساتھ چلو۔ چنانچہ وہ آپ ان کے پیچھے ہو لیے۔ راستے میں حضرت علی نے پوچھا:آپ کس مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں؟ تو حضرت ابوذرنے کہا :اگر راز داری کا وعدہ کرو تو عرض کروں۔ حضرت علی نے کہا:وعدہ ہی سمجھو۔ حضرت ابوذرنے کہا: میں نے سنا تھا کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیاہے، ان کا پتہ کرنے آیا ہوں، اگر آپ کچھ جانتے ہوں تو میری راہنمائی کریں۔حضرت علی نے کہا:میں ان کو بڑی اچھی طرح جانتاہوں، آپ میرے ساتھ آجائیں، میں آپ کو ان کی خدمت میں پہنچا دوں گا۔

حضرت علی نے یہ بھی کہا:’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم او ران کے متبعین آج بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں۔ قریش کی دشمنی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، تم نے بہت اچھا کیا جو کسی سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نہ پوچھا ورنہ لوگ تمہیں بھی پیٹ دیتے۔ اب بھی ذرا احتیاط سے آنا۔ تم میرے پیچھے اتنے فاصلہ پر آؤ کہ اگر کوئی رستہ میں مل جائے تو اسے یہ گمان نہ ہو کہ تم میرے پیچھے آرہے ہو۔ اگر راستہ صاف ہو تو خیروگرنہ خدانخواستہ کوئی راستہ میں مل گیا تو میں اس طرح جوتا اُتار کر صاف کرنے لگوں گا جیسے کوئی کنکر وغیرہ جوتے میں آگیا ہو اور اتنے میں تم سیدھے نکل جانا، میرے پاس نہ ٹھہرنا۔‘‘

بار گاہِ نبوت میں حاضری

بالآخر اسی احتیاط سے چلتے ہوئے آپ بارگاہِ نبوت میں پہنچ گئے۔ چہرہء انور دیکھتے ہی فوراً بول اُٹھے:ھذا الوجہ لیس بکذاب(یہ مبارک چہرہ کسی جھوٹے آدمی کانہیں ہوسکتا) پھر گفتگو شروع ہوئی۔میرے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے اِسلام کی دعوت پیش کی جس کاخلاصہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک سمجھو، وہ اپنی ذات و صفات میں یکتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، اچھے کام کرو، نیکی پھیلاؤ،برائی سے بچو اور برائی سے لوگوں کو روکو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تھوڑا سا قرآن سنایا۔ اس کے بعد انہوں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔روایتوں کے مطابق حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پانچویں مسلمان تھے۔

آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت

اسلام کی دعوت پیش کرنے کے بعدحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نصیحت فرمائی :

’’ابوذر!اس وقت اسلام بڑے سخت دور سے گزر رہا ہے۔ مسلمانوں کو اذیت ناک تکلیفیں دی جارہی ہیں۔ ہماری تعداد اس وقت بہت تھوڑی ہے۔ ہماری حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔کفار بدکردار کے دل میں جو آتا ہے، کر گزرتے ہیں اور جتنا کسی کو چاہتے ہیں، مار تے پیٹتے ہیں لہٰذا تم اپنے ایمان کو ظاہر نہ کرو اور چپ چاپ اپنے قبیلے میں چلے جاؤ۔ وہاں جاکر اسلام کی تلقین کرو اور جو قرآن تم نے مجھ سے سیکھا ہے، یہ لوگوں کو سکھاؤ۔جب اسلام کا بول بالا ہوجائے، مسلمانوں کی تعداد بڑھ جائے، اس وقت میرے پاس چلے آنا۔‘‘

ایمان کی حرارت

حضرت ابوذرغفاری نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو سنا اور عرض کیا:حضور!میں یہاں سے چلا جاؤں گا، اپنے قبیلے میں رہوں گا، اسلام کی تلقین کروں گا اور جب اسلام کاغلبہ ہوگا اس وقت حاضر خدمت ہوں گا لیکن آپ اپنے حکم میں تھوڑی سی تبدیلی کرلیں۔میرا دل چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ میں جاکر ایک دفعہ بلند آواز سے لوگوں کوقرآن سناؤں، اس کی اجازت فرمائیں۔آپ نے فرمایا:مار کھاؤ گے،خاموش رہو۔ کہنے لگے:آج واقعی مار کھانے کو دل بے قرار ہے۔چنانچہ آپ نے اجازت دے دی۔حضرت ابوذرغفاری کاشانۂ نبوت سے نکل کر سیدھے خانہ کعبہ پہنچے۔قریشی سردار اور نوجوان سبھی دارالندوہ میں بیٹھے تھے کہ یک لخت قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔ سانپ کی طرح بل کھاگئے اور خانہ کعبہ میں پہنچے۔ دیکھا کہ ایک نوجوان قرآن پڑھ رہا ہے، اس پر ٹوٹ پڑے۔ مار پیٹ کے نتیجہ میں لباس تارتار ہوا اور چہرہ گلنار۔ جسم کا بند بند درد سے چیخ اٹھا لیکن اس بندۂ مومن کی زبان اور لب قرآن کی تلاوت میں مصروف رہے۔کہیں سے حضرت عباس بن عبدالمطّلب آپہنچے تو ان کو دیکھ کر پہچان لیا اور کہا کہ یہ تو بنو غفار کا آدمی ہے۔یہ تمہارا تجارتی راستہ بندکردیں گے اور بھوکے مرجاؤ گے۔ بہرحال انہوں نے چھڑا دیا۔ بارگاہِ نبوت میں پہنچے، لباس اور جسم خون آلود اور دل ایمانی قوت سے بھرا ہوا تھا۔ لباس تار تار اور جسم داغدار تھا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا:میں نے نہ کہا تھاکہ خاموشی سے نکل جاؤ۔اب پتھر گرم کرکے جسم پر ٹکور کرو۔ عرض کیا ع

دل ہمہ داغ داغ شد   پنبہ کجا کجا نہم

اور ساتھ ہی عرض کیا:یا حضرت!ابھی دل کے ارمان پوری طرح نہیں نکلے، کل کے لیے پھر اجازت مرحمت فرمائیں۔ چنانچہ ان کا شوق دیکھ کر رسالت ِمآب نے پھر اجازت دے دی۔کل کی نسبت آج کچھ ایمان سوا تھا۔ اسلام کی اس خار دار وادی میں قدم بے دھڑک اُٹھنے لگے۔ دل کا سوز اور زبان کا جوش دونوں اپنی جوانی پر تھے۔ کل کی مار خدا ہی جانے اس اسلام کے دیوانے کو کتنے مراحل طے کرا گئی تھی۔ آج سیدھے دارالندوہ ہی پہنچے جہاں قریشی سرداروں اور نوجوانوں کا جمگھٹا رہتا تھا۔ جسم پر وہی کل والا خون آلود اور تار تار لباس تھا۔ جسم پر جگہ جگہ نئے نئے زخم لگے ہوئے تھے لیکن چال میں ایک وقار تھا اور گلے میں سوز۔قرآن کے الفاظ، لہجہ عربی اور دل ایمان سے معمور، فضا میں قرآن کی آواز بلند ہوئی اور وہ آواز جو مومنوں کے کانوں میں رس گھولتی تھی، کفار اشرار کے کانوں میں زہر گھول گئی۔ بے اختیار اٹھ کھڑے ہوئے اور فضا میں دو آوازیں برابر سنائی دیتی رہیں۔ ایک قرآن کی آواز اور دوسری مار پیٹ اور گالی گلوچ کی آواز۔ آج جسم پہلے کی نسبت خوب لہولہان ہوا تھا۔ دل کی حسرتیں پوری ہوگئیں۔ شاداں و فرحاں قرآن پڑھتے گئے۔ آج پھر حضرت عباس کوپتہ چلا تو آپ دارالندوہ میں آئے۔ اُن کو چھڑایا اور قریش کو کہا: خدا تمہارا برا کرے،اگر تمہاری تجارت بند ہوگئی تو کتنے دن جیو گے۔ اپنی شاہ رگ پر چھری نہ رکھا کرو۔ جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سارا جسم لہولہان تھا۔ آج دل مطمئن تھا،طبیعت سیر ہوچکی تھی اور اس مار کے دوران خدا ہی بہتر جانے، آپ کو کتنے راز منکشف ہوئے۔

کفر اور ایمان کا مزاج

ذرا غور کرو،کفر کتنا ڈرپوک اور بزدل ہے اور ایمان کتنا جری اور دلیر۔ یہ ایک ہی شخص کی زندگی کے دو نمونے ہیں۔ صرف ایک دن پہلے طبیعت پرکفار کا اتنا خوف مسلط ہے کہ کسی سے ڈر کے مارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتے تک نہیں۔ مبادا کوئی تکلیف نہ پہنچے اور دوسرے دن جب مسلمان ہوگئے تو اتنی جراء ت پیداہوگئی کہ طبیعت بے اختیار ہونے لگی اور اس کا انجام؟.اس سے بالکل بے پرواہ ہوگئی۔

واپسی

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں چند روز رہنے کے بعد اپنے قبیلے میں واپس آگئے اور جو حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا،اس کی تعمیل میں دن رات کوشاں رہے۔ تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کے قبیلے کے کئی آدمی مسلمان ہوکربارگاہِ نبوت میں پہنچتے رہے اوراس ایمانی شان سے پہنچتے کہ میرے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے بے اختیار دعانکل جاتی:غَفَّارٌ غَفَرَاللّٰہ لَہَا (بنو غفار کو اللہ معاف کرے)لیکن وہ سراپا عشق و سرمستی خود پورے سترہ سال تک مہجوری کی بھٹی میں پڑے رہے اور خالص کندن بن کردمکے اور جگمگائے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:جب اسلام کا بول بالا ہوجائے، اس وقت میرے پاس آنا۔ پھر ابوذرخندق کے بعد حاضر خدمت ہوئے۔

ابوذرغفاری کون تھے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے تیرہ سال پہلے ان کے دل میں ایمان کا بیج بویا تھا، آج وہ ایک تناور درخت بن چکا تھا، اس کے پھل پک کرتیار ہوچکے تھے۔حضرت ابوذرغفاری کون تھے؟ اس بھری پُری دنیا میں ایک غریب الدیار، ایک مسافر جس کی نگاہوں میں دنیا کی بے ثباتی اور دل میں دنیا سے بے رغبتی کاایک لازوال تصور تھا۔ وہ ابوذرجس کے خاندان کا پیشہ ڈاکہ زنی تھا، وہ آج دنیائے انسانیت کا تاجدار تھا۔ غریبوں، تنگدستوں، محتاجوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کی دستگیری کرنے والا،جو ہاتھ میں آئے غریبوں پر خرچ کردینے والا اور دوسروں کے پاس جائز ذرائع سے پیدا شدہ حلال کی دولت بھی دیکھ کر ان سے اُلجھ جانے والا کہ اس دولت کو اپنے پاس رکھتے ہی کیوں ہو۔ اس کی ساری دولت کو غریبوں پر خرچ کردوتاکہ دنیا میں کوئی آدمی غریب نہ رہے۔

حضرت ابوذرکا مقام

حضرت ابوذرغفاری جتنی دیر بعد آئے،اتنے ہی درست آئے ۔ سارا گھر خدامِ نبوت میں شامل ہوگیا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگ گئے۔ان کی بیوی اُمہات المومنین کی خدمت میں پہنچ گئیں۔ صدقہ کے اونٹ کچھ جمع ہوچکے تھے۔ رسالت ِمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:صدقے کے اونٹ کون چرائے گا؟ حضرت ابوذراٹھ کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ بھر کر دیکھا۔ مطلب یہ تھا کہ سترہ سال کی طویل جدائی کے بعد ملے ہو تو اب پھر جدا ہونے کو دل چاہ رہا ہے۔ عرض کیا:حضرت!میرا بیٹا اونٹ چرائے گا۔ اگر کاشانۂ نبوت کی گلہ بانی نصیب ہوجائے تو تاجِ خسرو سے سوا ہے۔بہرحال ان کے بیٹے ذرّ بمعہ اپنی بیوی لیلیٰ کے اونٹ لے کر چراگاہ میں آگئے۔ یہ چراگاہ مدینہ منورہ کی مشہور چراگاہ غابۃ تھی جو کہ مدینہ منورہ سے شمال کی طرف تین چار میل کے فاصلے پر تھی۔ انہی اونٹوں میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اونٹ بھی تھے۔ بلکہ آپ کی مشہور زمانہ اونٹنی عضباء بھی انہی میں تھی۔

عیینہ بن حسن بن حذیفہ بن بدر کو پتہ چلا کہ مدینہ کی چراگاہ میں مسلمانوں کے بہت سے اونٹ چرتے ہیں اور رکھوالا صرف ایک آدمی ہے۔ وہ بنو غطفان کی ایک جماعت لے کر چراگاہ پرحملہ آور ہوا۔ اس نے حضرت ابوذرکے بیٹے ذرّکو قتل کردیا،ان کی بیوی لیلیٰ کواٹھا لیا اور اونٹ ہانک کر لے گیا۔ چراگاہ سے نکلتے ہی سلمہ بن اکوع نے اسے دیکھ لیا کہ چرواہے کو قتل کرکے اونٹ لے جارہا ہے۔ سلمہ بڑے بلند آواز تھے۔ ایک پہاڑی پر چڑھ کر بلند آواز سے مدینہ کی طرف منہ کرکے پکارا کہ جلدی آجاؤ غطفانی حملہ کرکے اونٹ لے جارہے ہیں۔ چنانچہ ان کی آواز مدینہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر گونجنے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر لے کر تعاقب کیا۔ اونٹ چھڑا لیے اور غطفانیوں کا مالِ غینمت لے آئے۔ذرکی بیوی اورحضرت ابوذرغفاری کی بہو لیلیٰ بھی واپس آگئیں۔

مدینے پہنچ کر لیلیٰ نے کہا:یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)!میں (قید کے دوران)آپ کی اونٹنی عضباء پر سوار رہی ہوں، میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس اونٹنی پر نجات دی تو میں اس کو خدا کی راہ میں ذبح کروں گی۔ اب کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا:تو نے اس کو بہت برا بدلہ دیا۔ وہ تو تجھے بچائے اور تو اس کو ذبح کرلے اور پھر یہ بھی تو دیکھو، وہ میری اونٹنی ہے، تمہاری نہیں۔ اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کی نذر ماننا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

ملازمت ِنبوی

جنگ ِخندق کے بعد حضرت ابوذرغفاری تمام جنگوں میں ہم رکاب رہے۔ د ن رات آپ کی صحبت میں رہتے۔پھر ایک روز ایک فیصلہ کن جنگ کی تیاری ہونے لگی اور یہ جنگ تھی:غزوہ تبوک جوکہ ۹؍ ہجری میں پیش آئی۔ اس جنگ کا پس منظر یہ تھا کہ ہرقل نے مسلمانو ں کی فتوحات کا سلسلہ سن لیا اور خوف زدہ ہو کر جنگ کی تیاری کرنے لگا کہ کہیں ہم پرمسلمان حملہ نہ کریں۔ ادھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو جب شاہِ روم کی جنگی تیاریوں کا علم ہوا تو آپ نے بجائے ا س کے کہ اس حملے کا انتظار کرتے، اس کے ملک میں اس کی مدافعت کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ دشمن کی فوج ایک لاکھ سے زیادہ تھی اور وہ بھی تربیت یافتہ فوج۔ سفر نہایت دور دراز کا تھا۔ موسم انتہائی گرم تھا، باغوں کے پھل پکے ہوئے تھے۔ پچھلا ذخیرہ خوراک ختم ہوچکا تھا اور سفر پر جانے سے آئندہ کا پھل ضائع ہوجانا یقینی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس لڑائی کانام جیش العسرۃ (تنگ دستی کا لشکر)پڑ گیا ۔

ایسے موقع پر مومن مخلص ہی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب نکل سکتے تھے۔ منافقوں سے اس کی کوئی توقع نہ تھی۔ منافقوں کی اکثریت تو مختلف بہانے بناکر مدینہ منورہ سے نکل ہی نہ سکی اور کچھ منافق ساتھ نکلے تاکہ یہ پتہ نہ چل جائے کہ سارے منافق ہی پیچھے رہ گئے ہیں لیکن راستہ سے واپس ہونے لگے۔ کوئی ایک منزل سے کوئی دو منزل سے لیکن مخلص مسلمانوں میں سے کوئی آدمی بھی پیچھے نہ رہا۔ ماسوائے ان تین آدمیوں کے جن کو خدا تعالیٰ کی مشیت نے ہی پیچھے رکھ لیا تھا۔ مسلمانوں کے لشکر کی کل تعداد تیس ہزار تھی۔سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزانہ شام کو رپورٹ مل جاتی کہ اس منزل پر فلاں فلاں آدمی پیچھے رہ گیا ہے۔ تو آپ فرماتے:چھوڑ دو اس کو، اگر اس میں کوئی بھلائی ہے تو وہ تم سے آملے گا اور اگر منافق ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اس سے نجات بخشی۔

حضرت ابوذرغفاری بھی پیچھے رہ گئے

پھر ایک دن یہ رپورٹ پیش ہوئی کہ ابوذرپیچھے رہ گئے ہیں۔ (جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا اونٹ کمزور اور لاغر تھا، وہ تھک گیا تو آپ نے کچھ دیر سستانے کے لئے چھوڑ دیا لیکن دوسرے دن تک بھی سفر کے قابل نہ ہوا تو اسے جنگل ہی میں چھوڑ دیا او رپالان او رسامان سر پراُٹھایا اور پیدل سفر کرتے ہوئے لشکر سے آملے)چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات کہی جو پہلے کہتے تھے۔ پھر ایک منزل پرآپ نے پڑاؤ کیا توکسی نے کہا:یارسول اللہ!کچھ گرد اُڑتی نظر آرہی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی آدمی آرہا ہے۔ آپ نے دعا فرمائی:یا اللہ!ابوذرہو۔ جب لوگوں نے غور سے دیکھا توکہنے لگے: اللہ کی قسم!وہ ابوذرہی ہیں۔ تو زبانِ رسالت سے یہ اَلفاظ صادر ہوئے کہ’’اللہ ابوذرپر رحم کرے۔یہ خدا کی راہ میں اکیلا سفر کرتاہے اور اکیلا ہی مرے گا اور قیامت کواکیلا ہی اٹھے گا۔‘‘اور پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ اس پیشین گوئی کا ایک ایک لفظ پورا ہوا۔

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ان کی طبیعت کچھ ایسی مجروح ہوئی کہ مدینہ کی گلیاں اور بازار کاٹ کھانے کو دوڑتے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والی کوئی چیز دیکھتے تو بے اختیار ہو کر روتے اور اتنا روتے کہ بے حال ہوجاتے ۔ آخر آپ کی بیوی اُمّ ذر اور دوسرے لوگوں نے بھی مشورہ دیا کہ آپ مدینہ منورہ چھوڑ کر کسی اور جگہ چلے جائیں چنانچہ آپ شام کے علاقہ میں چلے گئے۔

قرآنِ مجید میں ہے:وَیَسـٔلونَکَ ماذا یُنفِقونَ قُلِ العَفْوَ (سورۃ البقرۃ) (لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ آپ کہیںکہ تمہاری ضروریات سے جو زائد ہو، وہ فی سبیل اللہ خرچ کردو) اسلام کے ابتدائی عہد میں چوںکہ غربت زیادہ تھی اس لیے حکم دیا گیا تھاکہ ضروری اخراجات کے بعد باقی جو بچے وہ غریبوں کو دے دیا کرو لیکن بعد میں جب فراخی و رفاہیت کا زمانہ آیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے سونے چاندی پر چالیسواں حصہ زکوٰۃ فرض کردی اورباقی اُنتالیس حصے صاحب ِمال کو اللہ تعالیٰ نے دے دیے۔ چنانچہ صحابہ کرام مال میں سے زکوٰۃ اداکرتے اور باقی مال اپنے تصرف میں لاتے لیکن حضرت ابوذراپنے اسی پرانے مسلک پر سختی سے کاربند رہے اور جب دوسروں کو مسئلہ بتاتے تو بھی یہی کہتے کہ جو ضرورت سے بچ رہے، وہ خدا کی راہ میں دے دو ۔ اس بارے میں وہ اپنے سے بڑے صحابہ کی مخالفت کی بھی پرواہ نہ کرتے نہ ہی فتویٰ اور تقویٰ کا فرق ملحوظ رکھتے۔ حالانکہ فتویٰ اور چیز ہے اور تقویٰ اور چیز ہے!

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اَجلہ صحابہ کرام سے ہیں۔ بڑے عابد ، زاہد، اور شب زندہ دار تھے۔ پوری اُمت کے علاوہ صحابہ کرام بھی ان کااحترام ملحوظ رکھتے اور ان کے مسلک کو لازمی نہ سمجھتے ہوئے بھی ان سے اُلجھنا پسندنہ کرتے۔

شام سے واپسی

شام سے واپس آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت ابوذرغفاری حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔حضرت امیرمعاویہ ان دنوں حضرت عثمان غنی کی طرف سے شام کے گورنر تھے۔ آپ کے پاس حضرت ابوموسیٰ اشعری بھی تشریف فرماتھے۔ ان دنوں حضرت عبدالرحمن بن عوف کی وفات ہوئی تھی اور انہوں نے جتنی دولت اپنے ترکہ میں چھوڑی تھی، اس کا ہر جگہ چرچا تھا۔ حضرت امیر معاویہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے حضرت ابوذر غفاری کی موجودگی میں حضرت عبدالرحمن بن عوف کی دولت کے متعلق سوال کیا اور کہا کہ ’’بتاؤ! تمہارے خیال میں جو عبدالرحمن نے اتنی دولت جمع کر رکھی تھی ، یہ صحیح ہے یا غلط ، جائز تھی یا ناجائز؟‘‘حضرت ابوموسیٰ اشعری نے کہا اگر حضرت عبدالرحمن اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر رہے ہوں تو پھر آخر کیا حرج ہے، ٹھیک ہے۔ یہ جواب چوںکہ حضرت ابوذر غفاری کے مسلک کے خلاف تھا لہٰذا آپ اپنا عصا اُٹھا کر ان کو مارنے کے لیے دوڑے۔حضرت امیر معاویہ نے بیچ بچاؤ کرکے ان کوبچا لیا اور پھر حضرت ابوذرغفاری سے کہا کہ جو کچھ آپ نے کیا صحیح نہیں تھا اور جو آپ نے ایک نظریہ قائم کر لیا ہے، وہ بھی صحیح نہیں ہے۔اس معاملے میں آپ دیگر صحابہ کرام سے اتفاق کریں اور پھر یہ بھی سوچیںکہ اگر ساری دولت ہی دینا درست ہو تو زکوٰۃ اور زکوٰۃ کے تمام مسائل تو محض بے فائدہ ہوگئے۔ اس مسئلہ میں چونکہ حضرت امیرمعاویہ سے اختلاف ہوگیا اور پھر یہ اختلاف بڑھتا گیابالآخر حضرت ابوذرنے کہا کہ جب تک تم شام میں ہو، خدا کی قسم میں شام میں نہیں رہوں گا۔

حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری کیفیت حضرت عثمان غنی کوکولکھ کر بھیج دی۔ آپ نے ہدایت بھیجی کہ ابوذرغفاری سے بالکل نہ اُلجھو۔ وہ ایک متقی بزرگ ہیں، ان کے احترام کو ملحوظ رکھو۔ لیکن چونکہ وہ قسم اٹھا چکے ہیں کہ جب تک تم یہاں ہو میں شام میں نہیں رہوں گا لہٰذا ان کو میرے پاس مدینہ منورہ بھیج دو۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط سن کر حضرت ابوذر مدینہ واپس آگئے لیکن طبیعت میں وہی سادگی رہی۔ مدینہ منورہ میں بھی اپنے خیالات کی تبلیغ کرنے لگے۔ حضر ت عثمان نے کہا کہ جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے، ہم آپ کا بے حد احترام کرتے ہیں اور آپ کواپنے لیے ایک مسلک منتخب کر لینے پر بھی حق بجانب سمجھتے ہیں لیکن جہاں تک اس مسئلہ کا عوام سے تعلق ہے، آپ کا دوسروں کومجبورکرنا صحیح نہیں ہے اور نہ ہی آپ کو اس رائے کی تبلیغ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔امیرالمومنین کا نظریہ سمجھ کر حضرت ابوذرغفاری نے کہاکہ بہتر یہ ہے کہ آپ مجھے مدینہ سے باہر کسی جگہ سکونت کرنے کی اجازت دے دیں جہاں عوام مجھ سے نہ مل سکیں اور نہ میں ان کو تبلیغ کرسکوں۔چنانچہ حضرت عثمان نے ان سے کہا کہ آپ ‘ربذہ’ چلے جائیں۔ربذہ مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک جگہ تھی جہاں بالکل معمولی سی آبادی تھی لیکن اس زمانہ میں وہ بالکل بے آباد ہوچکی تھی۔

۳۱ یا۳۲ ہجری میں حضرت ابوذرغفاری مقامِ ربذہ میں بیمار پڑگئے اور بیماری زیادہ بڑھ گئی تو پاس چوںکہ ایک غلام اور ایک بیوی تھی، ان کو فکر دامن گیر ہوئی کہ اگر خدا نخواستہ ان کی وفات ہوگئی تو ان کے کفن دفن کابندوبست کیسے ہوگا۔ چنانچہ آپ نے اس بات کو بھانپ لیا، کہنے لگے:جب میری موت ہوجائے تو میرے جنازہ کو رستے پر رکھ دینا۔ مسلمانوں کاایک قافلہ آئے گا ، انہیں کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوذرغفاری کا یہ جنازہ پڑا ہے، اسے دفن کرتے جاؤ۔

چنانچہ آپ کی وفات ہوگئی۔ بیوی اور غلام نے مل کر غسل دیا اور کفن دے کر جنازہ راستے پرلارکھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ عراقیوں کی جماعت کے ہمراہ عمرہ کرنے کے لیے تشریف لارہے تھے تو انہوں نے ایک عورت کو راہ پر کھڑے دیکھا تو پوچھا کون ہے؟ اس نے کہا:اُمّ ذر۔ آپ نے پوچھا:ابوذرکہاں ہیں؟ انہوں نے کہا:یہ ان کا جنازہ پڑا ہے، اسے دفن کرتے جاؤ۔عبداللہ بن مسعود دھاڑیں مار مار کر روئے اور جنازہ پڑھ کر اُن کو دفن کیا او رپھر اپنے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی بتائی کہ ابوذرتو خدا کی راہ میں اکیلا سفر کرتا ہے۔ اکیلا ہی مرے گا اور اکیلا ہی اٹھایا جائے گا۔رضی اللہ عنہ وا رضاہ

مصادر:یہ مضمون بخاری شریف، سیرت ابن ہشام، تقریب، اکمال، تہذیب اور اخبار سے اَخذ کیا گیاہے۔

Hazrat Abu Zar Ghifari رضي الله تعالى عنه ka ism-e-girami Jundab bin Janadah bin Sufyan bin Ubaid bin Haram bin Ghifar tha. Aap ki walida ka naam Ramla bint Waqi‘ah Ghifariyah tha. Kuch logon ne aap ka naam Bareer bhi likha hai, lekin pehla naam hi zyada sahih hai. Aap ki kunniyat Abu Zar thi.

Maidan-e-Badr ke qareeb Madinah Munawwarah ke raaste mein Safra naam ki aik basti thi, wahi aap ka maskan tha. Aap ke qabeelay ki rehaish do paharon ke darmiyan thi: aik ka naam Muslah aur doosray ka naam Muhza tha. Riwayaat mein aata hai ke jab Rasool Allah ﷺ Badr ki taraf tashreef la rahe thay aur in paharon ke qareeb pohanchay to un ke naam poochay. Jab logon ne naam bataye to aap ﷺ ko pasand na aaye. Phir daryaft farmaya ke yahan kaun se qabeelay abaad hain. Bataya gaya ke aik ka naam Naar (aag) aur doosray ka Bani Haraq (jalna) hai. Phir poocha ke ye kis qabeelay ki shaakhein hain. Jawab mila ke ye Banu Ghifar ke qabeelay se hain. Is par Rasool Allah ﷺ ne us raaste se guzarna munasib na samjha aur Safra basti ke daen janib se guzar gaye.


Pesha

Aap ke khandaan ka pesha daaka zani tha, lekin Hazrat Abu Zar ibtida hi se is peshe ko nafrat ki nigah se dekhte thay aur mehnat mazdoori karke apne baal bachon ka pait paalte thay. Aap ayaam-e-jahiliyat mein bhi ibadat guzaar thay. Chunke aap ka qabeela us shaah-raah par abaad tha jo Yemen se le kar Shaam tak jati thi aur jahan se Arab ke tijarti qaafile aate jaate thay, is liye jab Rasool Allah ﷺ ne Makkah mein apni nabuwwat ka elan farmaya to aap ki khabar bohat jald Banu Ghifar tak pohanch gayi.


Huliya

Aap ka qad lamba tha, jism dubla patla, rang gandum goon aur naqsh teekhay thay. Hazrat Abu Zar ke bhai Unays Makkah aa rahe thay. Amr bin Abasah aap ke akhiyafi bhai thay. Hazrat Abu Zar ne Unays se kaha: “Suna hai ke Makkah mein aik shakhs ne nabuwwat ka elan kiya hai, zara ja kar mulaqat karo aur poore halaat maloom karke aana.”

Unays jab wapas aaye to bataya ke Quraish mein Muhammad ﷺ naam ka aik shakhs khud ko Allah ka Rasool kehta hai aur kehta hai: Allah ko aik jaano, us ka koi shareek nahi, buton ki ibadat chhor do, kisi ko takleef na do, buray kaam na karo, Allah ki ibadat aur makhlooq ki khidmat karo.

Hazrat Abu Zar ne farmaya: “Is se aage bhi batao.” Unays ne kaha: “Is se zyada mujhe ilm nahi.” Is par Hazrat Abu Zar ne kaha: “Tum ne mere dil ko mutmain nahi kiya, main khud Makkah ja kar tahqiq karoon ga.”


Makkah ka Safar

Kuch zaad-e-raah le kar Makkah rawana hue. Wahan pohanch kar maloom hua ke Quraish Rasool Allah ﷺ ke shadeed mukhalif ho chuke hain aur kisi se aap ﷺ ke mutalliq poochna apni jaan ko khatray mein daalne ke barabar hai. Is liye Hazrat Abu Zar ne kisi se poochna munasib na samjha aur Khanah Ka‘bah mein aa kar baith gaye ke shayad khud ba khud mulaqat ho jaye. Magar pehla din yun hi guzar gaya.

Raat ko jab Hazrat Ali رضي الله عنه darwaza band karne ke liye rukay to unhon ne aik musafir ko dekha. Pocha: “Tum musafir ho?” Jawab mila: “Haan.” Hazrat Ali ne apne saath le gaye, khana aur thikana diya. Teen raatain isi tarah guzar gayin. Aakhir teesri raat Hazrat Ali ne pocha ke kis maqsad se aaye ho. Hazrat Abu Zar ne raazdaari ka wada le kar apna maqsad bataya. Hazrat Ali ne farmaya ke main Rasool Allah ﷺ ko achi tarah jaanta hoon aur tumhein un ki khidmat mein pohancha doon ga, lekin ehtiyaat zaroori hai.


Bargah-e-Nabuwwat mein Hazri

Is ehtiyaat ke saath Hazrat Abu Zar Rasool Allah ﷺ ki bargah mein pohanch gaye. Chehra-e-anwar dekhte hi kaha:
“Haza al-wajh laisa bi-kazzab”
(Ye chehra kisi jhoote ka nahi ho sakta)

Rasool Allah ﷺ ne Islam ki da‘wat di aur thora sa Qur’an sunaya. Hazrat Abu Zar ne foran Kalima padh liya. Riwayaat ke mutabiq aap paanchwein Musalman thay.


Emaan ki Hararat

Rasool Allah ﷺ ne farmaya ke abhi apna Islam zahir na karo aur apne qabeelay mein ja kar da‘wat do. Magar Hazrat Abu Zar ne ijazat chahi ke aik martaba Khanah Ka‘bah mein buland awaaz se Qur’an sunana chahte hain. Aap ﷺ ne pehle mana farmaya, lekin phir ijazat de di.

Hazrat Abu Zar ne Khanah Ka‘bah mein Qur’an ki tilawat shuru ki to Quraish ne sakht maar peet ki. Khoon beh gaya magar zaban Qur’an se na ruki. Doosray din phir isi jazbay ke saath tilawat ki aur dobara sakht tashaddud bardasht kiya. Is par Rasool Allah ﷺ ne farmaya ke main ne mana kiya tha, magar Hazrat Abu Zar ka dil iman se bhar chuka tha.


Wapsi aur Tableegh

Kuch din Rasool Allah ﷺ ki sohbat mein reh kar apne qabeelay mein wapas gaye aur 17 saal tak wahan da‘wat aur taleem ka kaam karte rahe. Banu Ghifar ke kai afraad Musalman hue. Baad mein Ghazwa-e-Khandaq ke baad Madinah Munawwarah aaye.

Hazrat Abu Zar duniya se be-ragbat, ghareebon ke madadgar aur sadgi ki zinda misaal thay. Aap ka khayal tha ke zarurat se zyada maal Allah ki raah mein kharch kar dena chahiye.


Aakhri Zindagi

Akhir kar Ameer-ul-Momineen Hazrat Usman Ghani رضي الله عنه ke daur mein aap Rabzah chale gaye. 31 ya 32 Hijri mein wahi beemar hue aur wahi wafat paayi. Aap ne pehle hi keh diya tha ke mera janaza raaste par rakh dena, Musalman qafila aaye ga aur dafan kar dega.

Hazrat Abdullah bin Mas‘ood رضي الله عنه ne aap ka janaza padhaya aur Rasool Allah ﷺ ki peshgoi yaad dilayi ke Abu Zar tanha safar kare ga, tanha wafat paaye ga aur qiyamat ke din bhi tanha uthaya jaye ga.

Radiyallahu Anhu wa Radaah


Masadir:
Bukhari Sharif, Seerat Ibn-e-Hisham, Taqreeb, Ikmaal, Tahzeeb aur deegar kutub-e-tareekh.

Credits & Acknowledgements

Presented By: مولانامحمدجابرخاں مصباحی 
Post By: Maula Ali Research Center
Share This

Related Mazameen