Minara Masjid Minara Masjid

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے

| February 5, 2026 3 min read 9 views

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے
قبول اسلام اورتبلیغِ اسلام کی کہانی خودان کی زبانی
نام ونسب:
آپ کا اسمِ گرامی طفیل اور لقب ذوالنور ہے۔ سلسلۂ نسب یوں ہے: طفیل بن عمرو بن طریف بن العاص بن ثعلبہ بن سُلیم بن فہم بن غنم بن دوس بن عُدْثان بن عبداللہ بن زہران بن کعب بن حارث بن کعب بن عبداللہ بن نصر ابن الازوازدی دوسی۔
حضرت طفیل بن عمرو دوسی دورِ جاہلیت میں قبیلۂ دوس کے سردار اور عرب کے ممتاز شرفا میں سے تھے آپ کا شمار گنتی کے اصحابِ مروت وانسانیت میں تھا۔آپ کے گھرپر چولہے سے ہانڈی نہیں اترتی تھی اور رات میں آنے والے کسی مسافر پر آپ کا دروازہ بند نہیں ہوتا تھا۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتے، خوف زدہ کو امان دیتے اور پناہ جو کو پناہ دیتے۔ مزید برآں آپ ایک صاحبِ عقل اورماہر ادیب تھے۔
حضرت طفیل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی بستی کو (جو تہامہ میں آباد تھی) چھوڑ کر مکہ مکرمہ روانہ ہوئے اس وقت رسولِ کریم صلوات اللہ علیہ وسلامہ اور کفارِ قریش کے مابین اختلاف اور رسہ کشی جاری تھی۔رسولِ کریم صلوات اللہ علیہ وسلامہ اپنے رب کی طرف بلا رہے تھے آپ کا ہتھیار ایمان اور حق پر ثابت قدمی تھاجب کہ کفار قریش ہر قسم کے ہتھیار سے لیس ہوکر آپ کی دعوت کا مقابلہ کررہے تھے اور ہر طرح سے لوگوں کو آپ کی دعوت پر لبیک کہنے سے روک رہے تھے۔ حضرت طفیل نے اپنے دل میں سوچا کہ میں بغیر کسی تیاری اور بغیر قصد وارادے کے معرکے کی گہرائی میں اتر گیا ہوں کیوں کہ آپ اس مقصد کے تحت مکہ نہیں آئے تھے نہ اس سے قبل نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور کفار قریش کا خیال آپ کے دل میں گزرا تھا۔ یہیں سے حضرت طفیل بن عمرودوسی رضی اللہ عنہ کی ناقابل فراموش داستان شروع ہوتی ہے۔ ہم اسے ضرور سنیں اس لیے کہ وہ بہت عجیب وغریب داستان ہے۔
حضرت طفیل کی کہانی انہی کی زبانی

فرماتے ہیں: میں مکہ آیا جوں ہی سردارانِ قریش نے مجھے دیکھا میرے پاس آپہنچے میرا پرتپاک استقبال کیا اور بڑی عزت افزائی کی۔ پھر قریش کے سردار میرے پاس اکٹھا ہوگئے اور بولے کہ طفیل!تم ہمارے شہر میں آئے ہوئے ہو۔ یہ شخص جس کا گمان ہے کہ وہ نبی ہے اس نے ہمارے معاملے کو تباہ وبرباد کردیا، ہمارا شیرازہ منتشر کردیا اور ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ہمیں اندیشہ ہے کہ ہم جن مصائب سے دو چار ہیں کہیں وہ تم اور تمہاری قوم کے لیڈروں تک نہ پہنچ جائیں لہٰذا اس سے بات مت کرنا اور ہر گز اس کی کوئی بات نہ سننا کیوں کہ اس کی باتوں میں جادو ہے۔ وہ باپ اور بیٹے، بھائی بھائی اور میاں بیوی کے مابین تفرقہ ڈال دیتا ہے۔
حضرت طفیل کہتے ہیں: بخدا! وہ لوگ مجھ سے آپ کے متعلق عجیب وغریب باتیں بتاتے رہے اور آپ کے عجیب وغریب کردار کے متعلق مجھے اور میری قوم کو اندیشے میں مبتلا کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے عزمِ مصمم کرلیا کہ میں ان کے قریب نہ جاؤں گا،نہ ان سے کلام کروں گااور نہ ان کی کوئی بات سنوں گا۔ صبح جب خانۂ کعبہ کے طواف اور اُن بتوں سے تبرک حاصل کرنے کے لیے گیا جن کا ہم قصد کرتے اور تعظیم کرتے تھے تومیں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی کہ کہیں محمد کی کوئی بات میرے کانوں تک نہ پہنچ جائے لیکن جب میں مسجد میں داخل ہوا توآپ اس وقت کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۔یہ نماز ہماری نماز سے مختلف تھی اورآپ ہماری عبادت سے مختلف عبادت میں مصروف تھے۔ اس منظر نے مجھے اپنا اسیر بنالیا اور آپ کی عبادت نے میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میں بغیر قصد وارادے کے آہستہ آہستہ آپ سے قریب ہونے لگا یہاں تک کہ بالکل قریب ہوگیا۔ آپ کے کلام کا کچھ حصہ میرے کانوں میں پڑ گیا تو میںنے خوبصورت کلام سنا اور اپنے دل میں کہا اے طفیل! تیری ماں تجھ سے محروم ہوجائے تو تو عقل مند شاعر ہے اور تجھ پر کلام کا حُسن وقبح پوشیدہ نہیںہے لہٰذا اس شخص کی باتیں سننے سے کون سا امر مانع ہے؟ اگر اس کی باتیں اچھی لگیں تو قبول کرلوں گا اور اگر بری لگیں تو چھوڑ دوں گا۔
حضرت طفیل فرماتے ہیں: میں رُکا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ میں بھی آپ کے پیچھے ہولیا جب آپ گھر میں داخل ہوئے میں آپ کے پاس گیا اور کہا: اے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)! آپ کی قوم نے آپ کے تعلق سے اس طرح کی باتیں کہی ہیں بخدا! وہ لوگ مجھے آپ کے بارے میں ڈراتے اور دھمکاتے رہے یہاں تک کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی کہ کہیں آپ کی باتیں میرے کانوں میں پہنچ نہ جائیں لیکن اللہ کو منظور تھا کہ میں آپ کی باتیں سنوں۔ بہر حال میں نے آپ کے کلام کو حسین پایا آپ اپنی بات مجھ پر پیش کیجیے۔
آپ نے میری درخواست پر اپنا کلام پیش کیا اور سورۂ اخلاص وسورۂ فلق کی تلاوت فرمائی۔ بخدا اس سے پہلے اتنا عمدہ کلام میں نے نہیں سنا تھا اور نہ اس سے بہتر بات سنی تھی۔ میں نے آپ کے سامنے اپنے ہاتھ بڑھادیے اور کلمۂ شہادت پڑھ کر داخلِ اسلام ہوگیا۔
حضرت طفیل رضی اللہ عنہ مزیدبیان کرتے ہیں: میں ایک عرصے تک مکہ میں مقیم رہا اور دین کی تعلیمات سیکھتا رہا اور قرآن کی کچھ سورتیں یاد کرلیں۔ جب میں نے اپنی قوم کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میرے قبیلے میں میری اطاعت کی جاتی ہے۔ میں ان کے پاس جارہا ہوں انہیں دعوتِ اسلام پیش کروں گا۔ اللہ کی بارگاہ میں دعا کیجیے کہ میرے لیے کوئی نشانی بنادے تاکہ دعوتِ اسلام میں وہ میری معاون ہو۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا کی: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ لَّہٗ آیَۃً اے اللہ! اس کے لیے نشانی بنادے۔
پھر میں اپنی قوم کی طرف چل پڑا جب میں ان کی بستیوں کے قریب ایک مقام پر پہنچاتو میری آنکھوں کے درمیان چراغ کی مانند ایک نور پیدا ہوگیا۔ میں نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی اے اللہ! اس نور کو میرے چہرے کے علاوہ کہیں اور کردے اس لیے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ میری قوم کے لوگ کہیں گے کہ باپ دادا کے دین کو چھوڑنے کی سزا اسے مل گئی ہے۔ چنانچہ وہ نور میرے سر کے بالائی حصے پر آگیا لوگ اس نور کو میری چوٹی پر قندیل کی طرح معلق دیکھتے تھے اور میں گھاٹی سے ان کی طرف اُتر رہاتھا۔ جب میں پہنچا تومیرے بوڑھے والد میرے پاس آئے۔ میں نے کہا آپ مجھ سے دور ہوجائیں اس لیے کہ اب آپ کا اور میرا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ میرے والد نے کہا بیٹے!ایسا کیوں؟ میں نے کہا میں اسلام کی آغوش میں پناہ لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا پیرو ہوچکا ہوں۔ میرے والد نے کہا اے میرے بیٹے! جو تمہارا دین ہے وہی میرا دین ہے۔ میں نے کہا جائیے غسل کرکے صاف ستھرے کپڑے پہنیے۔ انہوں نے جاکر غسل کیا پھر میرے پاس آئے میں نے اُن پر اسلام پیش کیا اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر میری بیوی میرے پاس آئی میں نے کہا مجھ سے دور ہوجا ،میرا اور تیرا کوئی رشتہ نہیں۔ بیوی بولی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ اسلام نے میرے اور تمہارے درمیان تفریق پیدا کردی ہے میں اسلام لاکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا پیرو بن گیا ہوں۔ بیوی نے کہا میرا بھی دین وہی ہے جو آپ کا ہے۔ حضرت طفیل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا جاکر ذوالشریٰ(قبیلہ ٔ دوس کابت جس کے پاس سے پہاڑکاپانی گرتاتھا)کے پانی سے غسل کرکے آ۔ بیوی نے کہا آپ پر میرے ماں باپ قربان! کیا آپ ذوالشری کے تعلق سے خوف کررہے ہیں۔ میں نے کہا ہلاکت ہو تیرے اور ذوالشری کے لیے ،جا وہاں لوگوں سے دور ہٹ کر غسل کرلے، میں اس بات کی ضمانت لیتا ہوں کہ یہ گونگا پتھر تیرا کچھ بگاڑ نہ سکے گا۔
حضرت طفیل دوسی آگے فرماتے ہیںکہ یہ سن کر وہ گئی اور غسل کرکے آگئی میں نے اس پر اسلام کو پیش کیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر میں نے قبیلۂ دوس کو اسلام کی دعوت پیش کی مگر انہوں نے میری دعوت پر لبیک نہ کہا بلکہ تاخیر کی سوائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے کہ آپ نے بہت جلد اسلام قبول کرلیا۔
پھرمیں دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکہ حاضر ہوا میرے ساتھ حضرت ابوہریرہ بھی تھے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے طفیل! دوسرے لوگوں کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں پر پردے اور کفر شدید ہے اوراہلِ دوس پرفسق ونافرمانی غالب آچکی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، وضو فرما کر نماز ادا فرمائی اور اپنے دست ہائے مبارک آسمان کی جانب اٹھا دیے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے حضور کو اس حالت میں دیکھا تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ میری قوم کے لیے دعاے ہلاکت نہ فرمادیں جس سے وہ سب ہلاک وبرباد ہوجائیں۔ میں نے کہا: ہائے میری قوم! لیکن اس کے برعکس ہوا کہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام یوں مصروف دعا ہوئے: اَللّٰہُمَّ اِہْدِ دَوْسًا، اَللّٰہُمَّ اِہْدِ دَوْسًا،اَللّٰہُمَّ اِہْدِ دَوْسًا اے اللہ! قبیلۂ دوس کو ہدایت عطا فرما۔اے اللہ! قومِ دوس کو ہدایت سے سرفراز فرما۔اے اللہ! دوس کو ہدایت نصیب فرما۔ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت طفیل رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا:اپنی قوم کے پاس جاؤ، ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو اورانہیں اسلام کی دعوت پیش کرو۔
حضرت طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اہلِ دوس کو سرزمینِ دوس پر اسلام کی دعوت دیتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔اس دوران جنگِ بدر، جنگِ اُحد اور جنگِ خندق گزر گئیں۔ اب جب میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے ساتھ دوس کے ایسے اسّی گھرانے تھے جو اسلام کی دولت سے مشرف ہوچکے تھے اور وہ اسلام پرجم چکے تھے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے خوش ہوئے اور مسلمانوں کے ساتھ ہمیں بھی خیبر سے ملا ہوا مال غنیمت عطا فرمایا۔ پھر ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!آپ ہمیں اپنے غزوات کا میمنہ (دایاں حصہ) بنالیجیے اور ہمارے شعار کو مبرور فرمادیجیے۔
حضرت طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رہا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ! مجھے عمرو بن حممہ کے دو ہاتھ والے بت کی طرف بھیج دیجیے تاکہ میں اسے جلادوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کو اس کی اجازت عطا فرمائی۔ آپ اپنی قوم کے کچھ افراد کو لے کر اُس بت کے پاس گئے جب آپ نے اسے جلانے کا ارادہ کیا تو عورتیں بچے اس بت کی دفاع میں اکٹھا ہوگئے اور اس بات کا انتظار کرنے لگے کہ ان پر بجلی آگرے اگر وہ ذوالکفین کو ضرر پہنچائے لیکن حضرت طفیل بت پرستوں کی موجودگی میںاس بت پر ٹوٹ پڑے اور بت کے اندر آگ لگادی اوراس وقت آپ یہ رجز یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
یَاذَاالْکَفّْیْنِ لَسْتُ مِنْ عِبَادِکَا
مِیََْلادُنَا اَقْدَمُ مِنْ مِیْلادِکَا
اِنّیْ حَشَوْتُ النّٰارَ فِیْ فُؤَادِکَا
ترجمہ: اے دو ہاتھوں والے صنم! اب میں تیرا پجاری نہیں ہوں۔ میری پیدائش تیری پیدائش سے قدیم ہے میں نے تیرے دل میں شعلے بھڑکا دیے۔
اس آگ نے صرف اُس بت کو تہس نہس نہیں کیا بلکہ اُس کے ساتھ قبیلۂ دوس کے دل سے شرک وکفر کو بیخ وبُن سے اُکھاڑ دیا۔ پوری قوم اسلام کے دامنِ پناہ میں آگئی۔اس کے بعد حضرت طفیل بن عمرودوسی بارگاہِ رسول میں مستقل رہنے لگے یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔جب خلافت کی ذمے داری یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر آئی تو اپنی جان، تلوار اور اولاد کو خلیفۂ رسول کی اطاعت میں لگادیا۔ جب فتنۂ ارتداد نے سر اٹھایا توآپ اسلامی لشکر کے ساتھ مسیلمہ کذاب سے جنگ کے لیے نکلے آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے حضرت عمرو بھی تھے۔
آپ یمامہ کے راستے میں تھے کہ آپ نے خواب دیکھا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر بیان کرو۔ ساتھیوں نے دریافت کیا کہ آپ نے کیا خواب دیکھا ہے؟ آپ نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ میرا سرمونڈ دیاگیا ہے اور ایک پرندہ میرے منہ سے نکلا ہے۔ ایک عورت نے مجھے اپنے پیٹ میں داخل کرلیا ہے اور میرے بیٹے عمرو مجھ سے جلد بازی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وہ میرے اور ان کے درمیان حائل ہوگیا۔ ساتھیوں نے کہاکہ سب خیرہے۔ حضرت طفیل بولے لیکن بخدا! میں نے تو اس کی تعبیر یہ نکالی ہے کہ سر مونڈنے سے مراد یہ ہے کہ اُسے جسم سے جدا کردیا جائے گا۔ منہ سے پرندے کے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ میری روح نکل جائے گی اور عورت جس نے مجھے اپنے پیٹ میں داخل کرلیا ہے وہ زمین ہے جس میں مجھے دفن کیا جائے گا۔ مجھے اُمید ہے کہ میں شہید ہوں گا اور میرے بیٹے کا مجھ سے مطالبہ کرنے کامطلب یہ ہے کہ وہ شہادت طلب کررہے تھے جس سے میں سرفراز ہونے والا ہوں لیکن انہیں شہادت بعد میں ملے گی‘‘۔
جنگِ یمامہ میں اس جلیل القدر صحابی نے بڑے مصائب بردا شت کیے یہاں تک کہ اُسی سرزمین پرزخم خورہ شہید ہوگئے۔ آپ کے صاحب زادے حضرت عمرو جنگ میں مصروف رہے یہاں تک کہ زخموں سے چور چور ہوگئے اور دا ہنی ہتھیلی کٹ گئی ۔آپ اپنے والد اور ہاتھ کو یمامہ کی سرزمین پر چھوڑ کر مدینہ واپس آگئے۔
خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپ ان کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر فاروق کی خدمت میں کھانا پیش کیاگیا۔ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر تھے آپ نے قوم کو کھانے کے لیے بلایا۔ حضرت عمرو بن طفیل کنارے چلے گئے حضرت عمر فاروق نے فرمایا: شاید آپ اپنے ہاتھ پر نادم ہوکر کھانے سے کنارہ کش ہوئے ہیں۔ حضرت عمرو نے کہا: امیر المؤمنین!آپ نے صحیح فرمایا۔ امیر المؤمنین نے فرمایا: بخدا میں اس کھانے کو ہاتھ نہ لگاؤں گا جب تک کہ تم اپنے کٹے ہوئے ہاتھ سے اسے مس نہ کردو۔ بخدا! قوم میں سوائے آپ کے کوئی ایسا شخص موجود نہیں ہے جس کا بعض جسم (ہاتھ) جنت میںہو۔
جب سے آپ کے والد آپ سے جدا ہوئے تھے اس وقت سے شہادت کے آثار آپ پر نمایاں تھے۔ جب جنگِ یرموک ہوئی توآپ اس میں شریک ہوئے اور اس وقت تک لڑتے رہے یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش فرمالیا اس طرح آپ کے والد کی تمنا پوری ہوئی۔اللہ رب العزت حضرت طفیل بن عمرودوسی پر رحمتوں کی بارش نازل فرمائے کہ آپ شہید ہوئے اور آپ کے صاحبزادے بھی شہید ہوئے۔
ْٓٓحضرت طفیل بن عمرودوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فطرتاشاعر وادیب تھے۔یہاں آپ کے کہے ہوئے چنداشعارملاحظہ کریں۔آپ نے قریش کومخاطب کرتے ہوئے اس وقت فرمایاجب انہوں نے اسلام قبول کرلینے کے بعدآپ کودھمکی دی۔
الاابلغ لدیک بنی لوی
علی الشنآن والغضب المردّی
بان اللّٰہ رب الناس فرد
تعالیٰ جدہ عن کل ند
وان محمداعبدارسولا
دلیل ھدی وموضح کل رشد
وان اللہ جللہ بھاء
واعلیٰ جدہ فی کل جد

کتابیات

۱) اُسد الغابۃ: ج۳، ص ۶۹
۲) صور من حیاۃ الصحابہ ازص ۲۶تا۳۴
۳) المدیح النبوی ص ۴۶

{…}

Qubool-e-Islam aur Tableegh-e-Islam ki Kahani (Khud Unki Zubani)


Naam o Nasab

Aap ka ism-e-giraami Tufail aur laqab Zun-Noor hai. Nasab yoon hai:
Tufail bin Amr bin Tareef bin Al-Aas bin Sa‘labah bin Sulaim bin Fahm bin Ghanam bin Daus bin Udsaan bin Abdullah bin Zahran bin Ka‘b bin Haris bin Ka‘b bin Abdullah bin Nasr bin Al-Azd Dosi.

Hazrat Tufail bin Amr Dosi Raziallahu Anhu daur-e-jahiliyat mein qabeela-e-Daus ke sardaar aur Arab ke mumtaz shurafa mein se thay. Aap sahib-e-murowwat, sahib-e-insaniyat aur sahib-e-aql o adab thay. Aap ke ghar ka choolha kabhi bujhta na tha, musafir par darwaza band na hota. Bhookon ko khana, khauf-zadaa ko aman aur panah talab karne walon ko panah dena aap ki aadat thi. Aap ek maahir adeeb aur danishmand shakhsiyat thay.


Makkah ka Safar

Hazrat Tufail Raziallahu Anhu apni qaum ki basti (jo Tihama mein aabad thi) chhor kar Makkah Mukarramah rawana huay. Us waqt Rasool-e-Kareem ﷺ aur kuffar-e-Quraish ke darmiyan sakht ikhtilaaf tha. Rasoolullah ﷺ apne Rab ki taraf da‘wat de rahe thay, jab ke Quraish har tareeqe se logon ko roak rahe thay.

Hazrat Tufail apne dil mein sochte thay ke main bina kisi iraade ke is muamlay mein daakhil ho gaya hoon. Yahin se unki zindagi ki la-zawaal aur la-faramosh dastaan shuru hoti hai.


Hazrat Tufail ki Zubani

Aap farmate hain:
“Main Makkah pohoncha to Quraish ke sardaron ne mera garam-joshi se isteqbaal kiya. Phir unhon ne kaha: ‘Aye Tufail! Is shakhs se baat na karna jo apne aap ko Nabi kehta hai. Us ki baaton mein jaadu hai, wo baap-betay, bhai-bhai aur miyan-biwi ke darmiyan tafreeq daal deta hai.’

Unki baaton se main itna mutasir hua ke maine pakka irada kar liya ke na Muhammad ﷺ ke qareeb jaunga aur na unki baat sununga.”

Subah jab main Baytullah ke paas gaya to maine apne kaanon mein rooi daal li. Lekin jab Rasoolullah ﷺ ko namaz parhte dekha to unki ibadat ne mujhe apna aseer bana liya. Be-ikhtiyar qareeb hota chala gaya aur Qurani kalaam ka kuch hissa mere kaanon tak pohonch gaya. Maine dil mein kaha: “Aye Tufail! Tu aqalmand aur shaair hai, phir sunne mein harj kya hai?”


Qubool-e-Islam

Main Rasoolullah ﷺ ke ghar tak gaya aur arz ki:
“Aye Muhammad ﷺ! Aap ki qaum ne mujhe dara diya tha, lekin maine aap ka kalaam bohat haseen paya. Apna paighaam mujhe pesh kijiye.”

Aap ﷺ ne Surah Ikhlaas aur Surah Falaq tilawat farmayi. Wallah! Maine us se zyada khoobsurat kalaam na pehle suna tha aur na baad mein. Main ne foran kalima padha aur Islam qubool kar liya.


Noor ki Nishani aur Tableegh

Jab main apni qaum ki taraf lautne laga to Rasoolullah ﷺ ne mere liye dua farmayi:
“Allahumma ij‘al lahu aayah.”

Meri aankhon ke darmiyan roshni zahir hui jo baad mein meri choti par aa gayi. Log use qandeel ki tarah dekhte thay.

Mere walid ne Islam qubool kiya, phir meri biwi ne bhi. Us ke baad maine qaum-e-Daus ko da‘wat di, magar ibtida mein sirf Hazrat Abu Hurairah Raziallahu Anhu ne foran Islam qubool kiya.


Rasoolullah ﷺ ki Dua

Jab main dobara Rasoolullah ﷺ ki khidmat mein haazir hua to aap ﷺ ne qaum ke liye bad-dua ke bajaye yeh dua farmayi:
“Allahumma ihdi Dausan.”
Teen martaba ye dua farmayi aur mujhe narmi aur hikmat ke sath tableegh ka hukm diya.


Qaum ka Islam aur Fatah

Aakhirkaar Daus ke assi gharanay Islam mein daakhil huay. Rasoolullah ﷺ ne khushi ka izhar farmaya aur humein ghanimat mein hissa ata kiya.

Fatah-e-Makkah ke baad Hazrat Tufail Raziallahu Anhu ne but Zul-Kaffain ko jala diya aur yeh ashaar parhay:

Ya zal-kaffaini lastu min ‘ibaadika  
Meelaaduna aqdamu min meelaadika  
Inni hashawtu an-naara fi fu’aadika

Is se sirf but hi nahi, balkeh qaum ke dilon se shirk bhi mit gaya.


Shahadat

Fitna-e-Irtidad ke daur mein aap Musailima Kazzab ke khilaf jung-e-Yamamah mein shaheed huay. Aap ke betay Hazrat Amr bin Tufail ne bhi baad mein shahadat ka jaam nosh farmaya.


Adabi Maqaam

Hazrat Tufail bin Amr Dosi Raziallahu Anhu fitratan shaair aur adeeb thay. Quraish ko mukhatib karte huay aap ne yeh ashaar farmaye:

Ala ablagh ladayka Bani Luway  
Bi-anna Allah Rabbun fard  
Wa-anna Muhammadan ‘abduhu wa rasooluh  
Daleel-e-huda wa muwaddih kull-e-rushd

Kutubiyat

  1. Usd-ul-Ghabah, Jild 3, Safha 69
  2. Suwar min Hayat-is-Sahabah, Safha 26–34
  3. Al-Madiyh-un-Nabawi, Safha 46

Allah Rabb-ul-Izzat Hazrat Tufail bin Amr Dosi Raziallahu Anhu aur unke farzand par be-shumar rehmatain nazil farmaye. Aameen.

Share This

Related Mazameen