دعوت وتبلیغ بھی ایک آرٹ ہے
دعوت وتبلیغ بھی ایک آرٹ ہے
پیش کش:صادق رضامصباحی
دماغ سے کوئی اسلام قبول نہیں کرتا :
٭لوگ مذہب کودماغ سے سمجھناچاہتے ہیںاوربہت زمانے سے دماغ سے سمجھارہے ہیں۔بڑی کتابیں لکھی ہیںدماغی توضیحات کی مگرمیرے بھائی!جس منڈی میں جومال پہلے سے زیادہ ہووہی مال لے کرجائو گے توکون پوچھے گابلکہ منڈی میںجس مال کی کمی ہووہ لے کے جائوتب لوگ پوچھیں گے۔یہ تودماغوں کی منڈی ہے روزدوسوسقراط مرتے ہیںاورپچاس بقراط روزپیداہوتے ہیں۔ آپ یہاں عقل کافلسفہ لے کرجارہے ہواوردماغ کی بات لے کے جارہے ہو؟نہیں سمجھے گی یہ دنیاتمہاری بات۔آ ج بھی اگرتم عشقِ مصطفی (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) لے کے جائو،محبت لے کے جائو، دل لے کے جائودنیاآج بھی دل کی دولت کوتسلیم کرلے گی۔اورا س کی ایک وجہ یہ بھی میںآپ کوبتائوں ،آج بھی اگرآپ کبھی یورپ میں ،امریکہ میںیاافریقہ میں جائوتوآپ کو حیرت ہوگی۔ہمارے دوستوںنے لٹریچرس سے لائبریریاںبھردی ہیں مگران لٹریچرس کوپڑھ کرکوئی مسلمان نہیں ہوتابلکہ مراقش ، قبرص، انگلینڈ اور پیرس کے کچھ صوفیاہیںجوذکروغیرہ کی محفلیں منعقدکراتے ہیںان کے ہاتھ پرہزاروں مسلمان ہورہے ہیں ۔ کس بات سے ؟حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کی مشہورکتاب شفاشریف کامکمل ترجمہ ابھی لندن کے صوفیاکی ایک جماعت نے انگلش میں کیاہے ،اس کی تخریج کی ہے اوراحادیث کے حوالے سے مرصع بھی کیاہے توآج جواسلام پھیل رہاہے یہ تصوف کے ذریعے سے ،صوفیاے کرام کی محنتوں کے ذریعے سے پھیل رہاہے جس طرح حضرت خواجہ اورداتاکے زمانے میں پھیلا تھا ۔
تویہ جوآپ کی دعوت ہے بلاشبہہ اسلام کوجہاں دلائل سے آراستہ کرنے کی بات ہے۔ پڑھیے بھی مگردماغ آپ کے دل پرغالب نہ ہونے پائے دل کوزندہ رکھیے رفتارتیزہوجائے گی۔
اقبال فلسفی تھانا؟فلسفے کی ڈگری لی تھی اورفلسفہ تودماغ کی بات ہوتی ہے مگراس کے باوجودوہ دل کاقائل ہے ۔دونوں منزل پرجاتے ہیںدونوں امیرِکارواں ہیںمگرعقل حیلے کے ساتھ پہنچتی ہے اورعشق کھینچ کے لے جاتاہے ،بے تابانہ لے جاتاہے ،منزلیں سمیٹ دیتاہے تو آپ عشق کی راہوں کے مسافرہیں محبتِ رسو ل کے امین ہیں ۔آپ جب اللہ کے رسول کانام لیں گے تووہ زبان کی ادائیگی نہیں دل کی دھڑکنوںکے ساتھ ہوگی اورآنسوئوں کے ثبوت کے ساتھ ان کانام ہوگااس لیے اس مقدس قافلے کوآگے بڑھائیے اوریہ مت سوچیں کہ آپ کامجمع اتناہے اورکس کاکتناتھا۔ایک بات میں آپ کوبتادوں اوراس بات کواچھی طرح ذہن میں رکھیں کہ اسلام میں ہمیشہ کیفیتوں کی قیمت رہی ہے کمیتوں کی قیمت نہیں رہی ہے ۔یہاں قوالیٹیز (Qualities)اکسیپٹیبل (Acceptable)ہے قوانٹیٹیز (Quantities) کاسیٹوزنہیں ۔ انقلابات ہمیشہ کیفیتوںنے پیداکیے ہیں،کمیتوں نے نہیں پیداکیے ہیں۔ایک دیوانہ انقلاب لا سکتا ہے اورایک صاحب عقل سر پٹک سکتاہے مگرکوئی انقلاب برپانہیں کرسکتا۔دنیاکاہرانقلاب دیوانوں کے ساتھ آیاہے ۔
(مفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کی تقریرسے اقتباس)
٭٭٭
دعوتِ دین میں جھجک کیسی؟
٭جن اصولوں کو حق مانا ہے ان کی تبلیغ اور نشر واشاعت ماننے والے پر خود بخود لازم ہوجاتی ہے۔ایسا ماننا کس کام کا ہے جو صرف سینے میں راز بن کر رہ جائے ایسی دوستی کس کام کی جس کا کسی وقت بھی اظہار نہ ہو۔ انسانوں کے گروہ در گروہ مسلمان کے چاروں طرف آباد ہوں، خدا اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام سے بے خبر اور بے نیازہوں اور اس بے خبری اور بے نیازی میں گروہ در گروہ آگ کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہوں لیکن مسلمان ان کے درمیان بے نیاز اپنی روز مرہ کی ضروریات میں مگن ہو۔ تبلیغِ حق کا کام تو ایسا وسیع الا طر اف ہے کہ مومن کی توجہ کا ہر وقت مطالبہ کرتا ہے ہر وقت ضرورت ہے کہ مومن اس کام میں چیونٹی کی طرح منہمک اور مچھلی کی طرح مضطرب ہو، اس کی نیکی جرأت مند، مضبوط، حوصلہ مند اور آگے بڑھنے کا داعیہ رکھتی ہو۔ بزدل، کمزور،بے حوصلہ اور پسپا ہونے والی نہ ہو۔ یہ وہ کام ہے جس میں انبیا ئے کرام علیہم السلام کی عمریں گزری ہیں جو دنیا کا سب سے زیادہ باوقار کام ہے۔ آدمی کو معززبنانے والا اور اس کا رتبہ اونچا کرنے والا ہے۔ آخر لوگ دنیا کے بدتر سے بدتر کام کرتے ہیں اور کرتے ہوئے ذرا نہیں جھجکتے، ڈگڈی مجمعوں کے اندر کھڑے ہوکر بجاتے ہیں ،کھلے ہال کمروں میں برسرِ عام تھرک تھرک کر ناچتے ہیں، بند رنچاتے ہیں اور سانپ نیولے لڑاتے ہیں اور ان کاموں میں ذرا جھجک محسوس نہیں کرتے تو آخر دعوتِ دین اور تبلیغِ حق کا کام ہی ایسا کیوں ہو جس پر آدمی شرمائے، لجائے اور کسی کے سامنے دعوتِ حق رکھتے ہوئے اس طرح گھبرائے جس طرح کسی جرم کا ارتکاب کیا جارہا ہو۔ یہ اگر جرم ہے تو پھر اس کے مجرموں نے تو دنیا میں ہمیشہ معزز ترین مقام حاصل کیا ہے۔(ترجمان القرآن ڈاٹ کام)
تبلیغ کافن
٭اسلام سے تعلق جس طرح مسلمان سے اس کی نشرو اشاعت اور تبلیغ کا مطالبہ کرتا ہے اسی طرح تبلیغِ دین کا کام اس سے یہ فن جاننے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ جن نظریات پر آدمی ایمان لایا ہے ان کو دوسرے لوگوں کے سامنے اس طرح پیش کرنا کہ ان کے لیے قابل قبول ہوں اور اگر وہ انہیں قبول نہ کریں تو کسی عصبیت میں مبتلا بھی نہ ہوجائیں۔ یہ بھی ایک آرٹ ہے جسے حکمتِ تبلیغ کہا جاتا ہے۔ اس کی نہایت عمدہ مثالیں اس کام کو کرنے والوں کے یہاں بے شمار پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بتوں کو پاش پاش کردیتے ہیں، سب کے نذرانے اٹھا اٹھا کر ایک بڑے بُت کے سامنے ڈھیر کردیتے ہیں، اسی کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیتے ہیں اور پھر ان بتوں کے پرستاروں کے جواب میں کہہ دیتے ہیں کہ اسی بڑے کا کام ہوگا اسی سے پوچھ لو۔ یہ سارا عملِ شکست وریخت ذوقِ بُت شکنی پورا کرنے سے زیادہ توحید باری تعالیٰ پر بہترین دلیل کے طورپر پیش کیا جاتا ہے لیکن اس حکمت سے کہ انہی بتوں کے پرستار اس امر کااعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ جن کو ہم پوجتے ہیں وہ بولتے نہیں ہیں، وہ سنتے نہیں ہیں، وہ کچھ جانتے نہیں ہیں، وہ حرکت تک نہیں کرسکتے چنانچہ نتیجہ خود بخود سامنے آجاتا ہے کہ پھر آخر وہ حاجات کیسے پوری کرسکتے ہیں۔ یہ دلیل ایسی وزنی ہے کہ مخالف گروہ در گروہ ہیں اور مقابل میں تنہا ایک فرد ہے لیکن دلیل کا وزن سب کو گنگ اور پست کردیتا ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام سے ان کے ساتھی قیدی خواب کی تعبیر پوچھتے ہیں تو وہ محض تعبیر بتاکر ہی خاموش نہیں رہ جاتے بلکہ تعبیر کا علم دینے والے اپنے مالک کابھی عمدہ تعارف کراتے ہیں اور اس طرح اپنا حقِ تبلیغ ادا کردیتے ہیں۔ دوسرے کے مطلب کی بات کہتے ہوئے اپنے مطلب کی بات ایسی حکمت سے کہہ دینا جو سننے والے کو اجنبی اور غیر مانوس معلوم نہ ہو یہی وہ حکمت ہے جس کا مطالبہ اسلام ہر مسلمان سے کرتاہے۔(ایضاً)
داعی ایک طبیب کی طرح ہے
٭دراصل داعی اورمرشدکی حیثیت ایک طبیب کی ہے جس طرح طبیب کافرض منصبی یہ ہے کہ وہ نباضی یادوسرے آلات کے ذریعے بیماری کی صحیح کیفیت کااندازہ کرنے کے بعدہی علاج تجویز کرے اوراسے مناسب دواکے ساتھ مناسب غذااورپرہیزبتائے تاکہ مرض سے جلدازجلدچھٹکارہ پاجائے اوراس کی صحت وتندرستی بحال ہو۔اسی طرح ایک داعی اورمرشدکے لیے ضروری ہے کہ وہ جس کے ساتھ دعوت وارشادکاعمل کرے پہلے اس کے حالات کاگہری نظرسے جائزہ لے اورپھراس کے مناسب حال ترغیب ،ترہیب یادونوںسے ملاجلاطریقۂ دعوت اختیارکرے اورجس طرح طبیب مریض کے حالات کاصحیح جائزہ لیے بغیردردِشکم کے مریض کواگربخارکی دوادے اوردست کے مریض کومسہل دوائیں استعمال کرائے تومرض میں کمی اورافاقہ کے بجائے مریض کی جان پربھی بن سکتی ہے اور’’مرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی ‘‘جیسی صورت حال پیداہوسکتی ہے اسی طرح داعی اورمرشداگرمدعو اورمسترشدکے حالات کے خلاف یانامناسب طریقۂ دعوت وارشاداپنائیں اورغلط نسخۂ دعوت وہدایت تجویزکریں توحالات سنگین ہوسکتے ہیںاوراس کے راہ راست پرآنے کے بجائے گمراہ ہونے اورراہِ حق سے منحرف ہوجانے کی زیادہ امیدہے ۔
اسی لیے داعی پرلازم ہے کہ وہ دعوت وارشادکے عمل میں نرمی کے ساتھ افہام وتفہیم کاطریقہ اپنائے اورابتداہی میں سختی اوربائیکاٹ کی راہ نہ اپنائے۔
(دعوت نمبر،صفحہ؍۱۰۰،مضمون :مولانانفیس احمدمصباحی)
Da‘wat o Tableegh bhi aik Art hai
Pesh-kash: Sadiq Raza Misbahi
Dimagh se koi Islam qubool nahin karta
Log mazhab ko dimagh se samajhna chahte hain aur bohat arsay se dimagh se samjha rahe hain. Bari bari kitaabein likhi gayi hain dimaghi tauzeehat ki, magar mere bhai! Jis mandi mein jo maal pehle se zyada ho, wahi maal le kar jaoge to kaun poochega? Balkay mandi mein jis maal ki kami ho, woh le kar jao to log poochte hain.
Yeh dimaghon ki mandi hai—roz do sau Socrates martay hain aur pachaas Buqraat roz paida hotay hain. Aap yahan ‘aql ka falsafa’ le kar ja rahe ho aur dimagh ki baat le kar ja rahe ho? Nahin samjhegi yeh duniya tumhari baat.
Aaj bhi agar tum Ishq-e-Mustafa ﷺ le kar jao, muhabbat le kar jao, dil le kar jao—duniya aaj bhi dil ki daulat ko tasleem kar legi. Is ki aik wajah aur bhi hai: aaj bhi agar tum Europe, America ya Africa jao to hairat hogi. Hamare doston ne literature se libraries bhar di hain, magar un literatures ko parh kar koi Muslim nahin hota. Balkay Morocco, Cyprus, England aur Paris ke kuch Sufiya hain jo zikr ki mehfilein munaqqid karte hain—un ke haath par hazaaron log Muslim ho rahe hain. Kis cheez se?
Hazrat Qazi Iyaz رحمۃ اللہ علیہ ki mashhoor kitaab Shifa Sharif ka mukammal English tarjuma London ke Sufiya ki aik jama‘at ne kiya hai—takhreej bhi ki aur ahadees ke hawalon se murassa‘ bhi kiya. Aaj jo Islam phel raha hai, tasawwuf ke zariye phel raha hai—Sufiya-e-Kiram ki mehnaton se—bilkul usi tarah jaise Hazrat Khwaja aur Data ke zamane mein phela tha.
To yeh jo aap ki da‘wat hai—bila-shuba Islam ko dalaail se aarasta karna zaroori hai. Parhiye bhi, magar dimagh aap ke dil par ghalib na hone paye. Dil ko zinda rakhiye—raftaar tez ho jaye gi.
Iqbal falsafi tha na? Falsafay ki degree li thi—falsafa to dimagh ki baat hoti hai—magar is ke bawajood woh dil ka qaail hai. Donon manzil par jatay hain, donon ameer-e-kaarwan hain: magar ‘aql’ heelay ke saath pohanchti hai aur ‘ishq’ kheench kar le jata hai—be-taabaana le jata hai—manzilein samet deta hai.
To aap ishq ki raahon ke musafir hain, muhabbat-e-Rasool ﷺ ke ameen hain. Aap jab Allah ke Rasool ﷺ ka naam lenge to woh sirf zaban ki adaigi nahin hogi—dil ki dharkanon ke saath hogi, aansuon ke saboot ke saath hogi. Is liye is muqaddas qafile ko aagay barhaiye. Yeh na sochiye ke aap ka majma‘ kitna hai aur kis ka kitna tha.
Aik baat yaad rakhiye: Islam mein hamesha kaifiyat ki qeemat rahi hai—kameeyat ki nahin. Yahan qualities acceptable hain, quantities ka set-off nahin. Inqilaabat hamesha kaifiyaton ne paida kiye hain—kameeyaton ne nahin. Aik deewana inqilab la sakta hai; aik sahib-e-‘aql sar patak sakta hai magar inqilab barpa nahin kar sakta. Duniya ka har inqilab deewanon ke saath aaya hai.
(Mufakkir-e-Islam Allama Qamar-uz-Zaman A‘zami ki taqreer se iqtibas)
Da‘wat-e-Deen mein jhijhak kaisi?
Jin usoolon ko haq maana hai, un ki tableegh aur nashr-o-ishaat maanna walay par khud-ba-khud laazim ho jati hai. Aisa maanna kis kaam ka jo sirf seene mein raaz ban kar reh jaye? Aisi dosti kis kaam ki jis ka kabhi izhar hi na ho.
Insanon ke giroh-dar-giroh Musalman ke chaaron taraf aabad hon—Khuda aur Rasool ﷺ ke ahkaam se be-khabar aur be-niyaz—aur is be-khabri mein giroh-dar-giroh aag ki taraf barhtay ja rahe hon, aur Musalman un ke darmiyan apni roz-marra zaruriyat mein magan ho—yeh kaise mumkin hai?
Tableegh-e-Haq ka kaam itna wasee‘-ul-atraf hai ke momin ki tawajjoh har waqt talab karta hai. Har waqt zaroorat hai ke momin is kaam mein cheenti ki tarah manhamik aur machhli ki tarah muztrib ho. Is ki neki juraat-mand, mazboot, hosla-mand aur aagay barhnay ka da‘iya rakhti ho—buzdil, kamzor aur paspa honay wali na ho.
Yeh woh kaam hai jis mein anbiya-e-kiram ‘alayhim-us-salaam ki umrein guzri hain—jo duniya ka sab se ba-waqar kaam hai. Aadmi ko mu‘azzaz banata hai aur rutba buland karta hai.
Aakhir log duniya ke bad-tar se bad-tar kaam karte hain aur zara nahin jhijhaktay—dugdugi bajatay hue majma‘on mein kharay hotay hain, khulay halls mein bar-sar-e-aam naachtay hain, bandar nachatay hain, saanp-nevalay laratay hain—aur koi sharm mehsoos nahin hoti. Phir da‘wat-e-deen aur tableegh-e-haq hi aisa kaam kyun ho jahan aadmi sharmaye, lajaye aur is tarah ghabraye jaise koi jurm kar raha ho? Agar yeh jurm hai to phir is ke mujrim hamesha duniya mein sab se mu‘azzaz maqam par rahe hain.
Tableegh ka fun
Islam se ta‘alluq jis tarah Musalman se nashr-o-ishaat aur tableegh ka mutalba karta hai, isi tarah tableegh-e-deen ka kaam us se yeh fun jaan’ne ka bhi mutalba karta hai. Jin nazariyat par aadmi iman laaya hai, unhein doosron ke saamne is andaaz se pesh karna ke woh un ke liye qabil-e-qubool hon—aur agar woh qubool na karein to kisi ‘asabiyat mein mubtala bhi na hon—yeh bhi aik art hai. Isay hikmat-e-tableegh kehte hain.
Is ki be-shumaar misaalein milti hain. Hazrat Ibrahim ‘alayhis-salaam buton ko pash-pash kar dete hain, sab ke nazranay aik baray but ke saamne dher kar dete hain, us ke kandhay par kulhaari rakh dete hain—aur phir poojariyon se kehte hain: “Isi baray ka kaam hoga, isi se pooch lo.” Yeh amal sirf but-shikni ka shauq nahin, balkay Tauheed-e-Bari Ta‘ala par behtareen daleel ban jata hai—kyun ke poojari khud iqraar kar lete hain ke jinhein hum poojte hain woh bolte nahin, suntay nahin, jaantay nahin, harkat tak nahin kar sakte. Natija khud-ba-khud saamne aa jata hai: phir woh hajaat kaise poori kar sakte hain?
Hazrat Yusuf ‘alayhis-salaam se qaidiyon ne khwab ki ta‘beer poochi—aap sirf ta‘beer bata kar khamosh nahin rehte, balkay ta‘beer ka ilm dene walay apne Malik ka ta‘aruf bhi karwate hain—yun apna haq-e-tableegh ada kar dete hain. Doosray ke matlab ki baat kehte hue apni baat aisi hikmat se keh dena ke sun’nay walay ko ajnabi mehsoos na ho—yehi woh hikmat hai jiska mutalba Islam har Musalman se karta hai.
Da‘i aik tabeeb ki tarah hai
Dar-asal da‘i aur murshid ki haisiyat aik tabeeb ki hoti hai. Jis tarah tabeeb nabz ya dusray aalaat se marz ki sahi kaifiyat ka andaza laga kar hi ilaaj tajweez karta hai—munasib dawa, ghiza aur parhez batata hai—taake marz se jald nijaat mile aur sehat bahal ho—usi tarah da‘i aur murshid par laazim hai ke jis se da‘wat-o-irshad kare, pehle us ke halaat ka gehra jaiza le, phir us ke mutabiq targhib, tarheeb ya dono ka murakkab tareeqa ikhtiyar kare.
Agar tabeeb dard-e-shikam ke mareez ko bukhaar ki dawa de ya dast ke mareez ko mus’hil de—bina sahi jaizay ke—to afaqa ke bajaye jaan ko khatra ho sakta hai: “marz barhta gaya jyon-jyon dawa ki.” Isi tarah agar da‘i aur murshid, mad‘oo aur mustarshid ke halaat ke khilaaf ya na-munasib tareeqa ikhtiyar karein, ghalat nuskha-e-da‘wat tajweez kar dein—to halaat sangeen ho sakte hain aur raah-e-raast par aane ke bajaye gumraahi ka imkaan barh jata hai.
Is liye da‘i par laazim hai ke da‘wat-o-irshad mein narmi, afhaam-o-tafheem aur hikmat ka raasta ikhtiyar kare—ibtida hi se sakhti aur boycott ki raah na apnaye.
(Da‘wat, Shumara: Safha 100 — Mazmoon: Maulana Nafees Ahmad Misbahi)