طلبِ شفاعت کے متعلق ایک اہم فتویٰ
Tauhid Ahmad Tarablusi
Research Scholar
طلبِ شفاعت کے متعلق ایک اہم فتویٰ
فتویٰ: ڈاکٹر علی جمعہ محمد مفتی اعظم مصر
ترجمہ، تحقیق، تخریج: فہیم احمد ثقلینی ازہری
سوال: آیت کریمہ ’’ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاؤک فاستغفروا اللہ واستغفرلہم الرسول لوجدوا اللہ تواباً رحیماً‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو بخشش ومغفرت کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضری دیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ حکم آپ کی حیات ظاہری تک ہی محدود تھا یا پھر تاقیامت اس کا حکم باقی ہے۔ بینوا توجروا۔
بسم اللہ الرحمن الرحمن، نحمدہ ونصلی علیٰ حبیبہ الکریم
الجواب:مذکور فی السوال آیت کریمہ مطلق ہے۔ اس میں کسی طرح کی نصی یا عقلی قید نہیں ہے کہ یہ حکم صرف حیات مبارکہ تک ہی خاص ہو۔ اس آیت کریمہ میں رب تعالیٰ نے مومنین کو جو حکم دیا ہے یہ حکم تاقیامت باقی وساری اور جاری وثابت ہے۔ اس آیت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اسے آپ کی حیات دنیویہ تک محدود رکھے۔ اس آیت شریفہ کا ترجمہ یہ ہے ’’اور وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کریں توآپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں پھر اللہ سے معافی مانگیں اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔‘‘
یہ قاعدہ معروف ومسلم ہے کہ ’’العبرۃ لعموم اللفظ لا بخصوص السبب‘‘عموم لفظ کااعتبار ہوتا ہے خصوصیت سبب کا اعتبار نہیں اور جو یہ دعویٰ کرے کہ یہ حکم آپ کی حیات مبارکہ تک خاص تھا۔ ’’فعلیہ یأتی بالدلیل‘‘ تو اس شخص پر اپنے دعویٰ کی تائید میں دلیل لانا ضروری ہے اور قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ ’’ان المطلق یجری علی اطلاقہ‘‘ کہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے اور مطلق کسی دلیل کا محتاج نہیںہوتا ہے کہ وہ اصل ہے اور مقید وہ ہے جسے دلیل کی احتیاج ہو یہ مفسرین کرام کا راجح مذہب ہے۔
اکثر مفسرین کرام نے اس آیت کے بعد مندرجہ ذیل واقعہ کو بطور دلیل پیش کیا ہے مثلاً امام ابن کثیر دمشقی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کریمہ کے بعد اس واقعہ کو نقل کیا ہے ۔’’علما کی ایک جماعت نے اس واقعے کو اپنی اپنی مصنفات ومؤلفات میں بطور دلیل تحریر کیا ہے علما کی اس جماعت میں شیخ ابوالنصر الصباغ نے اپنی کتاب ’’الشامل‘‘ میں حضرت عتبی سے یہ واقعہ روایت کیا ہے کہ امام محمد بن عبداللہ عتبی نے کہا میں مسجد نبوی میں روضۂ اقدس کے قریب بیٹھا ہوا تھا ایک اعرابی حاضر ہوا اور روضۂ اقدس کی معطر خاک شریف اپنے سر پر ڈالتے ہوئے عرض کی ،بڑے اچھے انداز میں سلام عرض کیا اور بڑی حسین دعا مانگی اور عرض کرنے لگا یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی جس میں تمام اولین وآخرین کا علم جمع ہے اور اپنی کتاب میں فرمایا اور اس کا ارشاد برحق ہے ’’ولو انہم اذ ظلموا انفسہم الخ‘‘ میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کی شفاعت طلب کرتے ہوئے آپ کی بارگاہ ناز میں حاضر ہوا ہوں ۔یہی وہ دربار ہے جہاں کی حاضری پر اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے پھر روضۂ اقدس کی طرف متوجہ ہوکر درج ذیل اشعار پڑھنے لگا:
(۱)……یا خیر من دفنت بالقاع اعظمہ
فطاب من طیبہن القاع والاکم
(۲)……انت النبی الذی ترجیٰ شفاعتہ
عند الصراط اذا مازلت القدم
(۳)……نفسی الفداء لقبرٍ انت ساکنہ
فیہ العفاف وفیہ الجود والکرم
ترجمہ:(۱) اے زمین میں دفن ہونے والوں میں سب سے افضل واعلیٰ شخصیت، آپ کی خوشبو سے میدان اور فضائیں معطر ہیں۔
(۲) جب پل صراط پر پاؤ ڈگمگائیں گے تو آپ ہی وہ معظم نبی ہیں جن کی شفاعت کی امید لگائی جاتی ہے۔
(۳) میری جان اس روضۂ اقدس پر فدا ہو جہاں آپ محوِ آرام ہیں اس میں پاکیزگی اور اسی میں سراپا جودوکرم ہے۔
پھر وہ اعرابی اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر چلاگیا۔میں (عتبی) کسی شک وشبہے کے بغیر کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہاتو وہ مغفرت حاصل کرکے چلاگیا اور اس سے زیادہ فصیح وبلیغ کوئی درخواست نہیں سنی گئی۔
اس کے بعد امام محمد بن عبداللہ عتبی کا اپنا عینی مشاہدہ اور اضافی بیان ہے کہ اس کے بعد مجھے نیند آگئی تو مجھے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا ’’یاعتبی اِلحق الاعرابی فبشرہ ان اللہ غفرلہ‘‘ اے عتبی جلدی سے اس اعرابی سے ملو اور اسے یہ خوشخبری دے دو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ہے۔ اس واقعے میں خواب سے استدلال کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ بتانامقصود ہے کہ امام ابن کثیر نے اس کو آیت کی تفسیر میں بطور دلیل پیش کیا ہے اور کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں کیا ہے یہ قابل غور ہے۔ ثانیاً اس اعرابی کا یہ اعتقاد تھا کہ بعد وصال بھی اس آیت کریمہ کا حکم باقی ہے۔ ثالثاً یہ کہ امام عتبی نے اعرابی کو اس فعل سے منع نہیں کیا کہ بعد وصال حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر گناہوں کی مغفرت طلب کرنا منع ہے۔
اکثر فقہائے کرام نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کے استحباب پر استدلال کیا ہے کہ روضۂ اقدس کی زیارت مستحب ہے اور اس وقت اس آیت کریمہ کی تلاوت کرنا چاہیے۔ اس آیت کریمہ کے تعلق سے مذاہب اربعہ ملاحظہ فرمائیں۔
مذہب حنفی: زیر بحث آیت کریمہ کے متعلق ائمہ احناف کا مذہب یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کا حکم تاقیامت باقی وثابت ہے اورروضۂ اقدس کی زیارت کے دوران اس آیت کریمہ کا پڑھنا مستحب ہے۔ روضۂ اقدس کی زیارت کے آداب کے متعلق ائمہ احناف فرماتے ہیں ’’ثم یقف عند رأسہ صلی اللہ علیہ وسلم کا الاول ویقول اللہم انک قلت وقولک الحق۔ ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاء وک ‘‘ مواجہہ شریف کے سامنے کھڑے ہوکر عرض کرے یا اللہ !تیرا ارشاد حق ہے کہ اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت کریں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیںگے۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، لجنۃ برئاسۃ نظام الدین بلخی ج۱، ص۲۶۶، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
مذہب مالکی: زیر بحث مسئلہ میں ائمہ مالکیہ کا موقف یہ ہے کہ جیسا کہ امام ابن الحاج العبدری المالکی لکھتے ہیں کہ روضۂ اقدس پر حاضری دے تو آپ کو خدا کی بارگاہ میں واسطہ ووسیلہ بنائے ۔وہ گناہوں اور خطاؤں کو معاف کرانے کی جگہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کی برکت اور عظمت کے سامنے ہمارے گناہوں اور خطاؤں کی کوئی اوقات نہیں ہے تو اس شخص کے لیے بشارت ہے جس نے آپ کے روضۂ اقدس کی زیارت کی اور خدا کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کو وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کرے یا الٰہ العالمین مجھے اپنے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم نہ فرما اور جس شخص نے اس کے برخلاف اعتقاد کیا تو وہ محروم الفیض اور شفاعت سے نا امید ہے۔ کیا اس کم نصیب اور ناعاقبت اندیش نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا ’’ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاؤک… الخ‘‘ تو جو شخص روضۂ اقدس پر حاضری دیتے وقت آپ کو وسیلہ بنائے گا تو ضرور اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے غلاموں سے یہ وعدہ فرمایا ہے جو میرے حبیب کی بارگاہ میں توبہ کے لیے حاضری دے گا تواللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔ کسی بھی صحیح العقیدہ مومن کو اس میں شک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب سے بغض وعناد رکھنے والے کے لیے اور منکردین کے لیے شک کی جگہ ہے۔ نعوذ باللہ من الحرمان۔ (المدخل للامام ابن الحاج العبدری المالکی ج۱؍ص۲۶۰، مطبوعہ دارالتراث بیروت)
مذہب شافعی : ائمہ شوافع میں معروف ومشہور حضرت امام نووی شارح صحیح مسلم اس سلسلے میں روضۂ اقدس کی زیارت کے آداب میں رقم طراز ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مواجہہ شریف کے سامنے حاضر ہو اور آپ کی ذات مبارکہ کو اللہ کی بارگاہ میں وسیلہ بنائے اور خدا کی بارگاہ میں شفاعت کا طلب گار ہو اور دوران حاضر ی سب سے بہتر قول وہ ہے جس کو امام ماوردی اور قاضی ابو الطیب کے علاوہ ہمارے تمام اصحاب شوافع نے امام عتبی سے اعرابی والا واقعہ نقل کیا (جو ابھی ماسبق میں گزرا) المجموع للامام النووی ج۸؍ ص:۲۵۶ مطبوعہ مطبعۃ المنیریہ بمصر)
مذہب حنبلی:ائمہ حنابلہ میں مشہور ومعروف امام شیخ ابن قدامہ حنبلی مقدسی فرماتے ہیں کہ مواجہہ شریف کے سامنے قبلہ کی جانب بیٹھ کر کے کھڑا ہو اوردست بستہ باادب عرض کرے ’’السلام علیک یا ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علیک یا نبی اللہ اشہد ان لاالہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ‘‘ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے سارے احکام ہم تک پہنچائے اور امت کی خیر خواہی کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دیا اور لوگوں کو حکمت وموعظت کے ذریعہ رب کی طرف بلایا آپ پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیںاور برکتیں نازل ہوں ۔اس کے بعد درود ابراہیمی پڑھے پھر یہ آیت کریمہ تلاوت کرے ’’ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاؤک‘‘ یا الٰہ العالمین تیرا فرمان حق ہے۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گناہوں کی مغفرت کے لیے حاضر ہوں اور شفاعت کا طلبگار ہوں۔ یا اللہ! میری مغفر ت فرما۔ پھر اس کے بعد ماں باپ عزیزو اقارب دوست واحباب اور جملہ مسلمین ومومنین کے لیے دعائے خیر کرے۔ (المغنی، للامام عبداللہ بن احمد بن قدامۃ الحنبلی المقدسی،۳؍ ۲۹۸، داراحیا التراث العربی بالقاہرہ بمصر)
اس کے علاوہ امام مصطفی بن سعد بن عبدہ الرحیبانی حنبلی فرماتے ہیں کہ روضۂ اقدس کی زیارت کے دوران اس آیت شریفہ کا ورد کرنا مستحب ہے اس کے علاوہ دوران زیارت یوں عرض کرے۔ (امام ابن قدامہ حنبلی کی مذکورہ بالا روایت) ’’مطالب اولیٰ النہی للامام مصطفی بن عبدہ الرحیبانی، ۲؍۴۴۱، مطبوعہ المکتب الاسلامی بالقاہرہ مصر‘‘)
خلاصہ: مذکورہ بالا ائمہ کرام ،علمائے عظام کے اقوال سے یہ امر روزِ روشن کی طرح آشکاراہوگیا کہ روضۂ اقدس کی زیارت کے دوران اس آیت کریمہ کا پڑھنا مستحب ہے اورائمہ کرام کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت کریمہ تا قیامت باقی وثابت ہے۔ امت محمدیہ کے علما وائمہ کا سلفاً وخلفاً یہی مذہب ہے۔ اس کا انکار کم عقل، یتیم العلم اور محروم الفیض ہی کرسکتا ہے ۔بعد از وصال ظاہری حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا استغفار عقلاً، نقلاً یا شرعاً ممتنع نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے ’’حیاتی خیر لکم تحدثون وتحدث لکم ووفاتی خیر لکم تعرض علی اعمالکم فما رأیت من خیر حمدت اللہ ومارأیت من شر استغفرت اللہ لکم‘‘ اے میرے غلامو! میری حیات تمہارے لیے باعث خیر ہے کہ تم پر احکام شریعت بیان کیے جاتے ہیں اور میری وفات بھی تمہارے لیے باعث خیر ہے کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش ہوں پس خیر کو دیکھنے پر اللہ کی تعریف کروں گاا ور شر کو دیکھنے پر تمہارے لیے اللہ سے استغفار کروں گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
(فتاویٰ کاترجمہ مکمل ہوااس پرحاشیہ ہدیہ قارئین ہے)
واقعۂ عتبی کی تحقیق: حضرت امام محمد بن عبداللہ عتبی کی جانب منسوب واقعہ اصولی اور فنی اعتبار سے صحیح ہے اور قابل اعتبار واستناد ہے اور ہر عصر وزمانے میں ثقہ رواۃ نے اسے اپنی اپنی مؤلفات میں تخریج کیا ہے۔ چند ائمہ اعلام اور معتبر کتب کے حوالے ہدیۂ قارئین ہیں:
امام بیہقی نے شعب الایمان ۳؍ ۴۹۵، ۷؍۷۱۸ میں، امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۲؍۳۰۶ میں، امام قرطبی نے اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن ۵؍۲۶۵ میں، امام نسفی نے اپنی تفسیر مدارک التنزیل ۱؍۲۳۴ میں، امام ابن بشکوال نے ’’القربۃ الی رب العالمین بالصلاۃ علیٰ سید المرسلین ص۱۶‘‘ میں امام نووی نے ’’ایضاح‘‘ ص۴۵۴، میں اور البحر المحیط ۳؍ ۶۹۴ میں تخریج کیا ہے۔
تخریج الحدیث: امام قاضی عیاض مالکی اندلسی نے ’’کتاب الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ۱؍۱۹‘‘ میں، امام بزار نے اپنی مسند ’’کشف الاستار ۱؍۳۷۹‘‘ میں، امام ہیتمی نے ’’مجمع الزوائد ۹؍۲۴‘‘ میں، امام حارث نے اپنی مسند ۲؍۸۸۴میں، امام ابن کثیر نے ’’البدایۃ والنہایۃ ۵؍۲۷۵‘‘ میں، اس کی تخریج کی ہے۔ امام دیلمی نے ’’مسند الفردوس بما ثور الخطاب ۱؍۱۸۳‘‘ رقم الحدیث ۶۸۶ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔امام عبداللہ بن عدی نے ’’الکامل فی معرفۃ ضعفاء المحدثین ۳؍۷۶، رقم الحدیث ۹۵۳‘‘ میں، امام عجلونی نے ’’کشف الخفا ومزیل الالباس ۱؍۴۴۲‘‘ میں امام ویلمی نے ’’مسند الفردوس بما ثور الخطاب ۲؍۱۳۷، رقم ۱۱۷۸‘‘ میں حضرت انس بن مالک سے مختلف الفاظ کی تغییر کے ساتھ روایت کی ہے۔
بکر بن عبداللہ مزنی سے درج ذیل محدثین نے اس روایت کو ’’مرسلاً‘‘ رویات کیا ہے۔
امام ہیتمی نے ’’مجمع الزوائد ۲؍ ۸۸۴‘‘ میں، امام ابن سعد نے ’’الطبقات الکبری ۲؍۱۹۴‘‘ میں، امام عجلونی نے ’’کشف الخفا ومزیل الالباس ۱؍۴۴۲، رقم ۱۱۷۸، میں اس روایت کی تخریج کی ہے۔ انتہیٰ۔
امام ابوبکر ہیتمی نے مجمع الزوائد میں تعاقب کرتے ہوئے کہا کہ اس حدیث کی سند کے جملہ رجال صحیح ہیں اور امام ابو زرعہ عراقی نے ’’طرح التثریب ۳؍۲۹۷‘‘ میں کہا ’’اسنادہ جید‘‘ اس حدیث کی سند جید ہے اور امام مناوی نے ’’فیض القدیر ۳؍۴۰۱‘‘ میں اس حدیث کی تصحیح کی ہے اور کہا تعجب ہے اس شخص پر جس نے یہ گمان کیا کہ یہ حدیث ’’حدیث مرسل‘‘ ہے۔ ان کے علاوہ علما ومحدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔ ان محدثین میں امام نووی، امام ابن التن، امام قرطبی، قاضی عیاض اورحافظ ابن حجر عسقلانی ہیں۔ انتہیٰ۔
حضرت امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ کا وہ مکالمہ جو خلیفۂ وقت ابوجعفر منصور سے مسجدنبوی میں ہواتھا وہ بھی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ زیر بحث آیت کریمہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات دنیویہ تک ہی محدود نہ تھی بلکہ اس کا حکم تاقیامت باقی ہے اور حضرت امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ کا عقیدہ اور مذہب بھی یہی ہے ۔اس واقعے کو حضرت امام علامہ فقیہ محدث ابوعبداللہ محمد بن موسیٰ بن نعمان مزالی مراقشی نے اپنی کتاب ’’مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام علیہ الصلاۃ والسلام فی الیقظۃ والمنام‘‘ صفحہ ۲۵ پر تحریر کیا ہے۔
خلیفۂ وقت ابوجعفر منصور نے امام دارالہجرۃ حضرت انس بن مالک سے مسجد نبوی میں مناظرہ کیا تو امام مالک نے خلیفہ سے کہا اے خلیفۂ وقت! آپ مسجد میں بآواز بلند گفتگو نہ کریں اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے صحابہ کرام کوادب سکھاتے ہوئے فرمایا ’’یا ایہا الذین آمنوا لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجہروا لہ بالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون‘‘( سورۃ الحجرات آیت۲) ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ ان کے سامنے بلند آواز سے بولو جیسے ایک دوسرے سے بلند آواز سے بات کرتے ہو ورنہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی ایک جماعت کی مدح کرتے ہوئے فرمایا: ان الذین یغضون اصواتہم عند رسول اللہ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقویٰ لہم مغفرۃ واجر عظیم‘‘( سورہ الحجرات آیت۳) ترجمہ: بے شک جولوگ رسول اللہ کے سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے پرکھ لیا ہے ان ہی کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے اور کچھ لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرہم لایعقلون‘‘( سورۃ الحجرات آیت ۴) ترجمہ: بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں اور اے خلیفۂ وقت! ذہن نشین رہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت وعزت اور توقیر وتعظیم بعد از وصال ظاہری ایسے ہی لازم وضروری ہے جیسے آپ کی حیات دنیویہ میں تھی۔ خلیفہ ابوجعفر منصور نے امام مالک کی اس گفتگو کے سامنے سر تسلیم جھکادیا اورعرض کرنے لگا اے امام مالک! یہ ارشاد فرمائیے کہ میں جب دعا مانگوں تو چہرہ کس طرف کروں؟ روضۂ اقدس کی طرف یا کعبہ کی طرف۔ امام مالک نے فرمایا آپ اپنا رخ اس ذات اقدس کی طرف سے کیوں موڑتے ہیں جوقیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کے اور آپ کے جد امجد سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کے وسیلہ ہیں؟ اس لیے آپ بوقت دعا اپنا چہرہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف کریں اور کعبہ کی طرف پشت کریں۔ اللہ تعالیٰ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت آپ کے حق میں قبول فرمائے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا ہے ’’ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاؤک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدواللہ تواباً رحیماً‘‘ (سورۃ النساء آیت ۶۴)
اس واقعے کو حضرت امام قاضی عیاض مالکی اندلسی نے اپنی کتاب ’’الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ۲؍۴۱ میں، امام قسطلانی نے ’’مواہب لدنیہ‘‘ میں، امام ابوالیمن ابن عساکر نے ’’اتحاف الزائر ص:۱۵۳میں، امام عزبن جماعہ نے ہدایۃ السالک ۳؍ ۱۳۸ میں نقل کیا۔
امام زرقانی نے شرح مواہب لدنیہ میں اس واقعے کا انکار کرنے والوں کا ردکرتے ہوئے فرمایا ’’یہ عجیب سینہ زوری ہے کیونکہ اس واقعے کی روایت امام ابوالحسن علی بن فہر نے اپنی کتاب ’’فضائل مالک‘‘ میں سندِ حسن سے کی ہے۔امام قاضی عیاض مالکی نے ’’کتاب الشفا‘‘ میں اپنی سند کے ساتھ متعدد ثقہ رواۃ اور معتبر مشائخ سے اس روایت کی تخریج کی ہے تو یہ کہاں سے جھوٹ ہوگیا؟ حالانکہ اس کی سند میں کوئی راوی ’’وضاع‘‘ یا ’’کذاب‘‘ نہیں ہے۔ انتہیٰ کلام الامام الزرقانی۔
امام عز الدین بن جماعۃ اپنی کتاب ہدایۃ السالک ۳؍۲۳ میں فرماتے ہیں ’’اسی طرح اس واقعے کو دو حافظوں نے روایت کیا۔ امام ابن بشکوال نے القربۃ الیٰ رب العالمین بالصلوۃ علیٰ سید المرسلین میں اور امام قاضی عیاض مالکی نے کتاب الشفامیں۔ مزید فرماتے ہیں کہ اس شخص کی بات قابل توجہ نہیں جس نے خواہش نفس کی اتباع میں یہ قول کیا کہ امام مالک کا یہ واقعہ ’’موضوع‘‘ ہے اس کی خواہش نفس نے اسے ہلاک کردیا۔ انتہیٰ کلام الامام عز بن جماعۃ
امام خفا جینسیم الریاض شرح الشفا ۳؍۳۹۸ میں فرماتے ہیں: امام قاضی عیاض مالکی کی بھلائی کے لیے ہے انہوں نے اس واقعہ کو ’’سندصحیح‘‘ سے بیان کیا ہے کہ میں نے یہ واقعہ اپنے متعدد اساتذہ سے سنا ہے۔ انتہیٰ کلام الامام خفاجی
زیر بحث مسئلہ میں دیوبندی مسلک کا نظریہ اور موقف واضح کردینا مناسب ہے۔ اس سلسلے میں ممتاز دیوبندی پیشوا مولانا اشرف علی تھانوی کا نظریہ یہ ہے کہ ’’مواہب لدنیہ میں بہ سند امام ابو منصور صباغ اورابن النجار اور ابن عساکر اورابن الجوزی رحمہم اللہ تعالیٰ نے محمد بن حرب ہلالی سے روایت کیا ہے کہ میں قبر مبارک کی زیارت کرکے سامنے بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور زیارت کرکے عرض کیا کہ یا خیر الرسل! اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایک سچی کتاب نازل فرمائی جس میں ارشاد ہے ’’ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاؤک فاستغفروا اللہ واستغفرلہم الرسول لوجدوا اللہ تواباً رحیماً‘‘ اور میں آپ کے پاس اپنے گناہوں سے استغفار کرتا ہوا اور اپنے رب کے حضور میں آپ کے وسیلے سے شفاعت چاہتا ہوا آیا ہوں پھر دو شعر پڑھے اور اس محمد بن حرب کی وفات ۲۲۸ھ میں ہوئی ہے۔ غرض زمانہ خیر القرون کا تھا اور کسی سے اس وقت نکیر منقول نہیں پس حجت ہوگیا۔ (نشر الطیب فی مولد سید الحبیب، ص: ۲۵۴)
مولانا قاسم نانوتوی دیوبندی بانیِ دارالعلوم دیوبند اس آیت کریمہ کے بعد لکھتے ہیں: ’’کیوںکہ اس میں کسی کی تخصیص نہیں ہے آپ کے ہم عصر ہوں یا بعد کے امتی ہوں اور تخصیص ہوتو کیوںکر ہوآپ کا وجود تربیت تمام امت کے لیے یکساں رحمت ہے کہ امتیوں کا آپ کی خدمت میں آنا اوراستغفار کرنا اور کرانا جب ہی متصور ہے کہ قبر میں زندہ ہوں‘‘ (آب حیات، ص: ۴۰)
مفتی محمد شفیع دیوبندی پاکستانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’یہ آیت اگر چہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجائے اورآپ اس کے لیے دعائے مغفرت کردیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اور آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیاوی حیات کے زمانہ میں ہوسکتی تھی اسی طرح آج بھی روضۂ اقدس پر حاضری اسی کے حکم میں ہے‘‘ ۔ اس کے بعد مفتی صاحب نے عتبی کی مذکور الصدر حکایت بیان کی ہے۔ (تفسیر معارف القرآن، جلد دوم، ص:۴۶۰۔ ۴۵۹، مطبوعہ ادارۃ المعارف، کراچی)
معروف دیوبندی عالم مولانا محمد سرفراز گکھڑوی پاکستانی لکھتے ہیں: ’’عتبی کی حکایت اس میں مشہور ہے اور تمام مذاہب کے مصنفین نے مناسک کی کتابوں میں اورمورخین نے اس کا ذکر کیا ہے اور سب نے اس کو مستحسن قرار دیا ہے اسی طرح دیگر متعدد علمائے کرام نے قدیماً وحدیثاً اس کو نقل کیا ہے۔
مولانا ظفر احمد عثمانی امام عتبی کا واقعہ ذکر کرکے آخر میں لکھتے ہیں ’’پس ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ کا حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی باقی ہے‘‘ (اعلاء السنن، ج۱۰؍ ص۲۳۰)
ان اکابرین امت، علمائے کرام، محدثین عظام اورائمہ اعلام کے بیان سے معلوم ہوا کہ روضۂ اقدس پر حاضر ہوکر شفاعت ومغفرت کی درخواست کرنا قرآن کریم کی آیت کے عموم سے ثابت ہے۔ امت مسلمہ کے تمام علما وائمہ کا یہی موقف ہے اور یہی اعتقاد ہے اور عملی طورسے بھی ثابت ہے بلکہ امام تقی الدین سبکی شفاء السقام میں رقم طراز ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس معنی میں صریح ہے اور امام عتبی کا واقعہ خیر القرون میں ہوا مگر کسی سے انکار ثابت نہیں جو اس کے صحیح ہونے پرایک واضح دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو روضۂ اقدس کی زیارت نصیب فرمائے اور آپ کی شفاعت ان تمام مومنین کو نصیب فرمائے جو اس آیت کریمہ کو تاقیامت حق وثابت مانتے ہیں۔ آمین بجاہ حبیبہ الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔
مصنف کا پروفائل
Tauhid Ahmad Tarablusi
Research Scholar
ابوالفواد توحید احمد ترابلسی ابن عبید الرحمن صاحب 9 مارچ 1986 کو اکبرپور سدھارتھ نگر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اپنے آبائی مقام جامدہ شاہی، یوپی میں الجامعۃ العلیمیہ سے درس نظامی میں گریجویشن/فضیلت حاصل کی۔ جبکہ پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کے لیے وہ 2011 میں ;کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ طرابلس، لیبیا منتقل ہوئے، جہاں سے انہوں نے 2018 میں معہد، کلیہ اور تمهیدیہ مکمل کیا۔مئی 2018 سے 2021 تک، وہ دارالعلوم اہل سنت حبیب الرضا، گونڈا، یوپی میں استاد رہے۔ فی الحال، مئی 2024 سے، وہ سنی دعوت اسلامی کے مرکزی ادارے جامعہ غوثیہ نجم العلوم میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔<ان کے عظیم کاموں میں مسند الربیع بن صبیح البصری، ;مسند امام کہمس بن الحسن البصری اور مسند عون بن کہمس القیسی البصری کی عربی میں تدوین اور ترتیب شامل ہے۔اردو زبان میں، ان کی کتابوں میں ;غازی ;فتح مبینبچوں پر شفقت رسولگناہوں سے اجتناب، قرآنی نقطہ نظر سےکیا دہن نبوت سے نکلی ہر بات وحی الٰہی ہے؟ اربعین تدبر قرآن;، ;اربعین حق طریق;، ;دین آسان ہے اتحاد امت اور احادیث نبویہ اور شیخ الانبیاء حضرت نوح (علیہ السلام) شامل ہیں۔ان کتابوں کے علاوہ، تقریباً ایک درجن مضامین شائع ہو چکے ہیں، جبکہ سو سے زائد غیر مطبوعہ عربی اور اردو کتابیں اشاعت کے منتظر ہیں۔