اسلوبِ دعوت اورداعی کانصاب

اسلوبِ دعوت اورداعی کانصاب

Tauhid Ahmad Tarablusi

Research Scholar

Author

اسلوبِ دعوت اورداعی کانصاب

ازقلم : طاہرحمید

کسی بھی چیزکی موثریت میں لوگوں کے سامنے اس کی پیشگی کا اسلوب بڑافعال کردار ادا کرتا ہے۔ دعوت ایک نظام ہے اور خیر وشر کی ساری عمارتیں اس کے سہارے کھڑی ہیں۔ خیر کی دعوت کا اسلوب موثر اور کارگر ہوجائے تو تمدن کی اقدار پر صالحیت غالب آجاتی ہے اور اگر شر اپنے اسلوب کو مزین کرکے پیش کردے اور تاریکی کے پردوں میں مصنوعی، فانی اور باطل روشنیوں کا شہر آباد کرلے تو کلچر پر اس کا غلبہ ہوجائے گا۔ سورہ احزاب کی آیہ کریمہ میں قرآن مجید نے اسلوب دعوت کے تین ضروری عناصر کا ذکر کیا ہے اور آیت کے اختتام پر سراجاً منیرا کے الفاظ لائے گئے ہیں جن کا ایک مفہوم یہ بھی بنتا ہے کہ تقاضاہائے دعوت کو پورا کرنے اور اسلوب دعوت کے تشکیلی عناصر پر ہمہ پہلو عمل معاشرے کی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی ثقافتی اقدارِ حیات پر وہ اثرات مرتب کرے گا جن سے کفر، شیطنت، طاغوتیت اور باطل کی تاریکیوں کے سب پردے چاک ہوجائیں گے، ہر طرف حق کی برکھا نور بن کر برسے گی اور پورا عالم بقعہ نور بن جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یا ایہا النبی اناارسلنک شاہدا ومبشراً ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجاً منیرا۔ (الاحزاب، ۳۳، ۴۵،۴۶)
ترجمہ: اے (محبوب) نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈر سنانے والا اور اللہ کی طرف اس کے اذن سے بلانے والا اور چمکنے والا سورج بناکر بھیجا ہے۔‘‘

لہٰذا اس آیت کریمہ کی روشنی میں عظیم داعی کے دعوتی منہاج کے تشکیلی عناصر تین ہیں۔
۱۔ شاہدیت   ۲۔مبشریت   ۳۔ نذیریت
شاہدیت کا تقاضا ہے کہ داعی اپنی دعوت پر گواہ ہو۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے سراپا کے ظاہر وباطن سے اس کی دعوت جھلکے۔ وہ اپنی دعوت کو محض زبان سے اس طرح پیش نہ کرے کہ اس کا عمل خود اس قول کا رفیق نہ ہوپائے۔ یہ موثر دعوت کے اسلوب تقدیم کے سراسر خلاف ہے۔ موثر نظام دعوت کا اسلوب پیشگی اس بات کا بڑی شدت سے متقاضی ہے کہ داعی اپنی دعوت پر گواہ ہو۔ اس کے قول وعمل ، احوال واطوار، قیام وجلوس اور خوردونوش کے اعمال سے لے کر اس کی ہرحرکت  جب تک اس کی دعوت کا مظہر نہیں بنتی وہ اپنی دعوت پر گواہ نہیں ہوسکتا اور دعوت اس وقت تک دعوت نہیں بنتی، جب تک اس پر شہادت نہ ہو۔

اسلوب دعوت میں مبشریت کے عنصر کا تقاضا ہے کہ داعی دعوت کو پیش کرتے وقت رحمت کے پہلو غالب رکھے۔ یاس وقنوطیت میں دبے لوگوں کو امید وآس کی حقیقتوں سے آشنا کردے۔ اپنے رب کی رحمتوں کا تذکرہ یوں کرے کہ گھپ اندھیروں میں کھڑی انسانیت وہیں کھڑے کھڑے فضل الٰہی کی روشنیوں کے میناروں کا مشاہدہ کرلے۔

اسلوب دعوت میں شان نذیریت یہ چاہتی ہے کہ باطل حق کی گرج سے لرزہ براندام ہوجائے اکھڑ، اجڈ اور گنوار جہالت کی کیسی ہی دبیز تہوں میں دبے ہوئے کیوں نہ ہوں اسلوب دعوت کا تقاضائے نذیریت ان کے رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ اس کی موثریت پر زد نہ پڑنے دی جائے یعنی اس کو مناسب حال ومقام کے ساتھ ساتھ مناسب وقت پر استعمال کیا جائے۔ یہی عنصر داعی سے تقاضا کرتا ہے کہ ظالم جابر حکمران کے سامنے وہ بلا جھجک کلمہ حق کہہ کر عظیم جہاد کرے اس طرح کہ فرعونی محلات میں بھی اللہ کے ڈر کی صدا لگانے سے اسے کوئی باز نہ رکھ سکے۔

اسلوب دعوت کے یہ عناصر بروئے کار لاکر ہی نبوی ومصطفوی دعوت کے نظام کو معاشرے میں جاری وساری کیا جاسکتا ہے اور اس کی اثر اندازی کی پیمائش اس روشنی سے کی جائے گی جو اس نظام کے داعیوں کے قول وعمل اور فکر ونظر سے شعاعوں کی صورت میں نکل کر معاشرے میں پھیل رہی ہوگی جس کا نظام دعوت اور اس کی حکمت سراجاً منیراصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جتنی زیادہ قریب ہوگی وہ معاشرے میں تبدیلی کے لیے اتنا موثر ہوگا۔

موثر دعوت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں اور داعی بھی کردار کے ان تقاضوں سے بہرہ ور ہو جو اس کی دعوت کو موثر بناتے ہیں۔ داعی کے کردار کے حوالے سے مکی دور کی ابتدائی سورتیں ، سورۂ مزمل اور سورہ ٔمدثر اپنے اندر ایک پورا نصاب رکھتی ہیں کہ داعی کے اوصاف کیا ہونے چاہیے ان کی ذات وکردار میں کیا محاسن ہونے چاہیے۔
یہاںسورئہ مزمل کی چندآیات پرگفتگوکی جاتی ہے۔
ان لک فی النھارسبحاً طویلاً
ترجمہ: بے شک دن میں توتم کوبہت سے کام ہیں
یہاں اموردنیاکے انتظام وانصرام کاتذکرہ فرمایاکہ داعی کی  زندگی معمولات زندگی سے خالی یاترک پرمشتمل نہیںہوتی بلکہ وہ اپنی تمام ترذمے داریوں اورحقوق العبادکی ادائیگی سے بھی غافل نہیںہوتابلکہ دنیاوی ذمے داریوں کی ادائیگی کامناسب واحسن انتظام وانصرام بھی داعی کے کردارکاایک اہم جزوہے ۔

واذکراسم ربک ترجمہ:اوراپنے رب کانام یادکرو
ذکرِکثیرداعی کے لیے ایک اسلحے اورہتھیارکی حیثیت رکھتاہے کہ یہ جہاںایک طرف داعی کے اندراس کی دعوت کارنگ پیداکرتاہے وہاں دوسری طرف رب ذوالجلال کے ساتھ اسے متعلق رکھتاہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوجب فرعون کے پاس دعوت حق دے کربھیجاگیاتوارشادفرمایاولاتنیافی ذکری یعنی اے موسیٰ میرے ذکرمیںسستی نہ کرناکیونکہ ذکرکثیردراصل مذکورسے وابستہ ہونے اورداعی کے تعلق کوزندہ وتازہ رکھنے کاذریعہ ہے جوذکرربانی کرتے کرتے ذکرحال تک پہنچ جاتاہے۔
رب المشرق والمغرب لاالہ الاھوفاتخذہ وکیلا
ترجمہ:وہ مشرق ومغرب کارب ہے اس کے سواکوئی معبودنہیںتوتم اسی کواپناکارسازبنائو۔
دعوت کاکام کرنے والوںکے لیے توکل اورتفویض بہت بڑی نعمت ہے۔ اگرداعی میں توکل ہوگاتووہ کبھی بھی نفسیاتی امراض کاشکارنہ ہوگااوراس کاحال یہ ہوگاکہ  یاایھاالنفس المطمئنۃ ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ یعنی اے اطمینان کرنے والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ جااس طرح کہ تواس سے راضی اوروہ تجھ سے راضی ۔
یہ اطمینان اوررضائے الٰہی کی کیفیتِ توکل، داعی کوحاصل ہوگی۔
واصبرعلیٰ مایقولونترجمہ:اور(کافروںکی )باتوں پرصبرکرو
راہِ حق کی مشکلات پرصبرکرناداعی کاشیوہ ہے کہ داعیِ حق کی راہ میں لوگ رکاوٹیںکھڑی کریں گے ،طعنے گالیاں اورزیادتیاں ا س کے راستے میں آئیں گی ۔انبیاکے ساتھ بھی یہی ہوامگراس سب کے باوجودداعی کوچاہیے کہ وہ اپناکام ترک نہ کرے اورنہ ہی صبرکادامن اپنے ہاتھ سے چھوڑے ۔اقامت دین کاکام کرنے والے گالی اورغصے کاجواب گالی اورطعنے سے نہ دیں ۔مخالفین کاکام گالیاںدینااورطعنے واذیتیں دیناہے مگرداعی کاکام خوش خلقی اورخیرخواہی ہے کہ وہ مشکلات کے پہاڑہی کیوںنہ ہوںمگرانہیںوہ خندہ پیشانی سے سامناکرے اورصبرواستقامت کے ساتھ دعوت کاکام آگے بڑھائے جائے ۔
اسی طرح سورئہ مزمل کی ایک اورآیت کریمہ واھجرھم ھجراً جمیلاً(۷۳:۱۰)
جہاں مخالفین رکاوٹ بنیں توداعی کوہجرِجمیل کاراستہ اپناناہوگاکہ شرافت اوروـضع داری سے ان سے علیحدگی اختیارکرلے۔الجھنے سے توانائیاں اورصلاحیتیں بربادہوں گی ۔یہی تعلیم ہمیں سیرتِ نبوی سے ملتی ہے کہ لوگوںنے آپ پر ظلم کیا،جنگیں ہوئیں،مصائب وآلام آئے، آپ نے اپناوطن چھوڑامگرآپ نے مخالفین کے لیے بددعاتک نہیںکی کہ داعی کی شان یہ ہے کہ وہ دعوت دین کے کام کے اندرانتقام اوربے صبری پرنہ آئے ۔داعی کازیورصبراورہجرِجمیل ہے کہ اس کی برکت یہ ہے کہ داعی دینِ حق کاسپاہی ہے اس لیے داعی پرحملہ دین پرحملہ ہے ۔ دین حق کے داعیوںکودفاع ضرورکرناچاہیے کہ آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں بھی غزوات ہوتے رہے مگرانتقام میںحدسے نہ بڑھے کہ مخالفین حق سے دنیاوآخرت میںانتقام اللہ لے گا۔دین کاکام اوردعوتِ حق کاکام کردارطلب کام ہے جب تک داعی مطلوبہ کرداراورصفات سے متصف نہ ہوگااس کی تمام ترمحنت نتیجہ خیزنہ ہوگی۔
دعوتِ دین کاکام کرنے والے اپنی طبیعتوں سے کچاپن ختم کریں۔کھری اورسچی باتیںکرناہی اہل حق کاشیوہ ہے۔داعی جب تک حق پرقائم نہیںہوتااس کی زندگی نتیجہ خیزی سے خالی ہوتی ہے ۔یہ نتیجہ خیزی ثقاہت، صداقتِ قول اورحضورِقلب سے آئے گی اور حضورِقلب کاذریعہ قیامِ لیل ہے۔

 

Tauhid Ahmad Tarablusi

مصنف کا پروفائل

Tauhid Ahmad Tarablusi

Research Scholar

ابوالفواد توحید احمد ترابلسی ابن عبید الرحمن صاحب 9 مارچ 1986 کو اکبرپور سدھارتھ نگر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اپنے آبائی مقام جامدہ شاہی، یوپی میں الجامعۃ العلیمیہ سے درس نظامی میں گریجویشن/فضیلت حاصل کی۔ جبکہ پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کے لیے وہ 2011 میں ;کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ طرابلس، لیبیا منتقل ہوئے، جہاں سے انہوں نے 2018 میں معہد، کلیہ اور تمهیدیہ مکمل کیا۔مئی 2018 سے 2021 تک، وہ دارالعلوم اہل سنت حبیب الرضا، گونڈا، یوپی میں استاد رہے۔ فی الحال، مئی 2024 سے، وہ سنی دعوت اسلامی کے مرکزی ادارے جامعہ غوثیہ نجم العلوم میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔<ان کے عظیم کاموں میں مسند الربیع بن صبیح البصری، ;مسند امام کہمس بن الحسن البصری اور مسند عون بن کہمس القیسی البصری کی عربی میں تدوین اور ترتیب شامل ہے۔اردو زبان میں، ان کی کتابوں میں ;غازی ;فتح مبینبچوں پر شفقت رسولگناہوں سے اجتناب، قرآنی نقطہ نظر سےکیا دہن نبوت سے نکلی ہر بات وحی الٰہی ہے؟ اربعین تدبر قرآن;، ;اربعین حق طریق;، ;دین آسان ہے اتحاد امت اور احادیث نبویہ اور شیخ الانبیاء حضرت نوح (علیہ السلام) شامل ہیں۔ان کتابوں کے علاوہ، تقریباً ایک درجن مضامین شائع ہو چکے ہیں، جبکہ سو سے زائد غیر مطبوعہ عربی اور اردو کتابیں اشاعت کے منتظر ہیں۔

Link copied to clipboard!