Minara Masjid Minara Masjid
May 2, 2026

Maula Ali Research Center ka qiyam: ek aham pesh raft

News Editor محسن رضا ضیائی
مولا علی ریسرچ سینٹرکا قیام: ایک اہم پیش رفت
( مینارہ مسجد، محمد علی روڈ، ممبئی )
محسن رضا ضیائی
پروفیسر: لیڈی حوابائی جونیئر کالج،کیمپ،پونے
9921934812
کسی بھی معاشرے میں دینی، علمی اور فکری روایات کو پروان چڑھانے میں اشاعتی اور قلمی اداروں کا کردار نہایت ہی اہم ہوتا ہے، کیوں کہ اگر کتابیں موجود نہ ہوں اور انھیں شائع کرنے والے ادارے نہ ہوں تو قوم نہ صرف تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے ، بلکہ جہالت کے قعرِ عمیق میں جا گرتی ہے۔ اسی لیے انھیں معاشرے کی ہدایت و رہنمائی اور تعمیر و ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔
لہٰذا اس طرح کے اشاعتی اور قلمی اداروں کا قیام مسلم معاشرے میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جہاں سے مختلف موضوعات پر کتب و رسائل تیار کیے جائیں اور انھیں قوم و ملت تک پہنچایا جائے، اس لیے کہ موجودہ دور میں مسلم معاشرہ جن فتنوں اور چیلنجوں سے دوچار ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آئے دن نت نئے فتنے پیدا ہو رہے ہیں، جو اپنے باطل عقائد و نظریات سے لوگوں کے ایمان و عقیدے پر شب خون مار رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ جہاں تقریر و خطابت کا سہارا لے رہے ہیں، وہیں کتب و رسائل کے ذریعے پڑھے لکھے طبقے کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔اس مشن کی تکمیل کے لیے ان کے پاس متعدد اشاعتی ادارے قائم ہیں، جہاں سے وہ اپنے گمراہ کن عقائد و نظریات کی بھر پور ترویج و اشاعت کر رہے ہیں۔
ایسے فتنہ پرور عناصر کا علمی رد و ابطال نہایت ضروری ہے، تاکہ عوام کے سامنے ان کی اصل حقیقت لائی جا سکے اور لوگوں کو ان کے دامِ تزویر میں پھنسنے سے بچایا جا سکے۔
اسی طرح الحادی فتنوں اور ان کی ریشہ دوانیوں کا مدلل اور مؤثر جواب دینا بھی امت کی اہم ذمہ داری ہے۔
الحمدللہ!
مینارہ مسجد، ممبئی کے منتظمین قابلِ مبارک باد ہیں، جنھوں نے عصرِ حاضر کی اس اہم ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا اور قلمی و تصنیفی کاموں کے اہم مقصد سے مولا علی ریسرچ سینٹر کا قیام عمل میں لایا، جو یقیناً لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔
اس سینٹر کے چند اہم مقاصد ہیں، جوحسبِ ذیل ہیں:
(1)  اپنے اسلاف و اکابر کی کتب کو سہل اور جدید انداز میں شائع کرنا۔
(2) اُردو اور مروجہ زبانوں میں عربی و فارسی کتب و رسائل کے تراجم و حواشی تیار کرنا۔
(3) سینٹر کی تمام مطبوعات کو ملک کے ہر تعلیمی ادارے اور لائبریری تک پہنچانا۔
(4) افادۂ عام کے لیے ہندی اور رومن میں بھی کتب و رسائل تیار کرکے غیر اُردو داں طبقے تک پہنچانا۔
اس کے علاوہ بھی دیگر اہداف و مقاصد ہیں، جنھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے قابل اور ماہر قلم کاروں کی ایک مستحکم ٹیم شب و روز مصروفِ عمل ہے، جو تحقیق و تصنیف کا گراں بہا کام انجام دے رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب تک مختلف زبانوں میں کئی علمی وتحقیقی اور درسی کتب منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جو ملک کے بیشتر دینی و عصری اداروں اور لائبریریوں کی زینت بن چکی ہیں۔
بڑی ناسپاسی ہوگی اگر اس ادارے میں دینی و اشاعتی خدمات انجام دینے والے علما و قلم کاروں کا ذکر نہ کیا جائے، جن میں خاص طور پر قابلِ ذکر حضرات یہ ہیں:
(1) حضرت مولانا مظہر حسین علیمی صاحب
(2) حضرت مولانا مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی صاحب
(3) حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلیسی صاحب
یہ تینوں حضرات تصنیف و تالیف کے میدان میں اپنی مثال آپ ہیں، جن کے اشہبِ قلم سے نکلے ہوئے متعدد کتب و رسائل آج اہلِ علم کی آنکھوں کا سرمہ بنے ہوئے ہیں اور انھیں علمی و فکری غذا فراہم کر رہے ہیں۔ایسے باصلاحیت اور فعال قلم کاروں کی بدولت یہ سینٹر روز افزوں شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے۔
ان کے علاوہ حافظ محمد بلال اشرفی، حافظ محمد عمیر اشرفی اور حافظ محمد فیض اشرفی جیسے متحرک افراد بھئ ہیں، جو اس سینٹر کا حصہ بن کر مختلف دینی، علمی، قلمی اور اشاعتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سینٹر کے جملہ اخراجات و انتظامات مینارہ مسجد ٹرسٹ کے تحت انجام پاتے ہیں، جو نہ صرف ممبئی شہر کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مینارۂ نور ثابت ہوا ہے، جس نے خیر القرون کی مساجد کی یاد تازہ کر دی ہے۔یہ دیگر مساجد کے ذمہ داران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ بھی مساجد کے حقیقی کردار کو سمجھیں اور وہاں سے دینی، علمی، قلمی، سماجی، ثقافتی اور اشاعتی خدمات انجام دے کر تلافیٔ ما فات کی کوشش کریں۔
مؤرخہ 19 اپریل 2026ء بمطابق 1 ذی القعدہ 1447ھ بروز اتوار، سفرِ ممبئی کے دوران ناچیز نے مولا علی ریسرچ سینٹر کا وزٹ کیا، جہاں رفیقِ محترم جواں سال قلم کار حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب سے کافی دیر تک اہم اور حساس مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اس دوران موصوف نے مولا علی ریسرچ سینٹر کی چند اہم مطبوعات عنایت فرمائیں :
 (1) جامع الفتاویٰ
(مصنف: مفتی سید عبد الفتاح گلشن آبادی)
(تحقیق و تخریج : مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی)
یہ مفتی سید عبد الفتاح حسینی قادری گلشن آبادی(ناسک، مہاراشٹر) کے فتاویٰ جات کا ایک عطر بیز مجموعہ ہے، جو آپ کے وصال کے تقریباً ایک سو چالیس سالوں کے طویل عرصے کے بعد زیورِ طبع سے آراستہ ہوا ہے۔ یہ 660؍ صفحات پر مشتمل فتاویٰ جات پر ایک تحقیقی اور تفصیلی کتاب ہے۔ مفتی سید عبد الفتاح علیہ الرحمہ نے اس میں بہت سے مشکل مسائل کو زیرِ بحث لایا ہے اور بڑی آسانی سے قرآن و احادیث اور فقہ و فتاویٰ کی عظیم کتابوں کی روشنی میں بہترین حل دریافت فرمایا ہے۔
یہ کتاب خاص طور سے علما، ائمہ اور طلبۂ کرام کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔
مفتی صاحب  کا تعلق شہرِ ناسک سے تھا،جہاں رہ کر آپ نے دین و سنیت کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ فقہ و فتاویٰ میں بھی وقیع خدمات انجام دیں۔ اخیر عمر میں آپ نے ممبئی میں قیام فرمایا، اور یہی پر آپ کا وصال بھی ہوا۔ منارہ مسجد کے بیسمنٹ کے مغربی سمت آپ کا مزارِ پُر انوارواقع ہے۔
(2) غاية الجود بمعرفة وحدة الوجود
( مصنف: قطبِ کوکن، امامِ ربانی فقیہ مخدوم علی بن احمد مہائمی شافعی)
(تحقیق و ترجمہ: مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی)
یہ کتاب فقیہ اعظم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی شافعی کی تصنیفِ لطیف ہے، جو گرچہ ایک مختصر رسالہ ہے لیکن اپنے اندر کئی ایک علمی و تحقیقی بحثوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ خاص طور سے وحدۃ الوجود ہر قرن و صدی میں ایک اختلافی مسئلہ رہا ہے۔ اغیار کی طرف سے بھی اِس کے رد و انکار پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ لیکن فقیہ اعظم علیہ الرحمہ نے نہایت ہی ایجاز و اختصار کے ساتھ وحدۃ الوجود کو واضح دلیلوں سے ثابت فرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کو بھی طشت از بام فرمادیا ہے۔یہ رسالہ اپنے موضوع اورمنہج کے لحاظ سے بہت اہم ہے جس کا مطالعہ مسئلۂ وحدۃ الوجود کی باریکیوں کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔
(3) شرح سید الاستغفار
( مصنف: قطبِ کوکن، امامِ ربانی فقیہ مخدوم علی بن احمد مہائمی شافعی)
(تحقیق و ترجمہ: مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی)
یہ ادعیہ و اذکار پر ایک گراں بہا کتاب ہے، جس کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسے حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی نے ترتیب دیا ہے۔ اِس کتاب میں بخاری شریف میں موجود ایک دعا جسے’’سید الاستغفار‘‘کہاجاتا ہے، اس کی مختصر شرح ہے، جسے مخدوم فقیہ علی مہائمی نے نہایت ہی جامع اور رقت آمیز انداز میں پیش کیا ہے۔
اگر اِس کتاب کے اذکار و ادعیہ کو پڑھا جائیں تو یقیناً اس کے برکات و حسنات حاصل ہوں گے۔
(4) ضمیر الانسان
(مصنف : سید ابراہیم بن سید محمد قادری حسینی مدنی کلیانی)
(ترجمہ و تحقیق: مفتی فاروق خاں مہائمی مصباحی)
یہ کتاب حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے احوال و آثار پر لکھی ہوئی ایک مستند دستاویزی کتاب ہے، جسے حضرت سید ابراہیم بن سید محمد قادری حسینی مدنی کلیانی نے تصنیف کیا ہے۔آپ تیرہویں صدی عیسوی کے ایک زبردست عالم تھے، جنہوں نے کلیان،مہاراشٹر میں آنکھ کھولی اور وہیں پر پردہ بھی فرمایا۔ کلیان اسٹیشن سے دو کلو میٹر کی دوری پر آپ کا مزارِ اقدس واقع ہے۔
(5) نکاحِ مصطفےٰ : شہوت یا حکمت
( مصنف: مفتی فاروق خاں مہائمی مصباحی)
یہ علمی و عقلی دلائل سے مزین اور احادیث ِ مصطفےٰ ﷺسےمبرہن نہایت وقیع رسالہ ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کے نکاح پر اعتراض کرنے والوں کو علمی اور سنجیدہ انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ رسول اللہ ﷺ کے نکاح کے مختلف فوائد اور پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ خاص طور پر آپ کے نکاح کے پسِ پردہ جو حکمتیں پوشیدہ تھیں، انہیں احادیث اور دیگر دلائل کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔
یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نکاح سے متعلق مستشرقین اور بعض غیرمسلم اہلِ قلم کی جانب سے مختلف قسم کے اعتراضات اور اشکالات پیش کیے گئے ہیں، جن کا مقصد غلط فہمیوں کو جنم دینا ہے۔
اِس رسالے کا مطالعہ نکاحِ مصطفےٰ ﷺ کے تعلق سے نہ صرف ذہن و فکر کو صاف کرے گا بلکہ غیروں کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کا جواب دینے کےبھی قابل بنائے گا۔
مندرجہ بالا سطور میں ہم نے ان کتابوں کا مختصر تعارف اور اجمالی تجزیہ پیش کیا ہے، حالاں کہ ان کے فنی محاسن، علمی مباحث اور موضوع و مواد پر مزید تفصیل سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
سینٹر کی جملہ مطبوعات کی خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر کام اسلاف و اکابر کی کتابوں پر ہوا ہے، جن میں ترجمہ ،تحقیق، تدوین، حواشی اور تزئین شامل ہے۔ یقیناً یہ اسلا ف شناسی کا واضح ثبوت ہے ، اِس اہم اور نمایاں خدمات پر پھر سے مینارہ مسجد کے ذمہ داران خاص طور عبد الوہاب اشرفی، جاوید پاریک،  آصف میمن اور سلیمان سوریہ اور اس کے تمام سرگرم افراد کی خدمت میں گلہاے تہنیت و تبریک پیش ہیں، جنھوں نے امت کی طرف سے فرضِ کفایہ اداکرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اُٹھائی ہے۔
ان کے علاوہ مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب نے اپنی  تین اہم تحقیقی کتب بھی ہمیں پیش کی جن کا مختصر تعارف یہ ہے :
(6) مسند الربیع بن صبیح السعدی البصری
(جمع و تدوین: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی)
یہ کتاب حضرت ابو حفص ربیع بن صبیح السعدی البصری کی مسانید و مرویات پر مشتمل ایک ضخیم علمی دستاویز ہے۔ آپ کو برصغیر (ہندوستان) میں ابتدائی محدثین میں شمار کیا جاتا ہے، بلکہ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس خطے کے پہلے محدث ہونے کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہے۔حضرت ربیع بن صبیح السعدی البصری علیہ الرحمہ تبعِ تابعین میں سے اور ثقہ و صدوق محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نہ صرف ایک عظیم عالمِ حدیث تھے بلکہ عابد، زاہد اور مجاہدِ اسلام بھی تھے۔ اسی جذبۂ جہاد کے تحت آپ مجاہدین کے ایک قافلے کے ساتھ سندھ تشریف لائے اور یہیں سنہ 160ھ میں آپ کا وصال ہوا۔اس خطے میں اشاعتِ حدیث کے اولین علمبردار کے طور پر بھی آپ کو یاد کیا جاتا ہے۔
امام ذہبی نے اپنی مشہور کتاب سیر اعلام النبلاء میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’تُوُفِّيَ بِالسِّنْدِ سَنَةَ سِتِّينَ وَمِائَةٍ‘‘
(آپ کا انتقال سندھ میں سنہ 160ھ میں ہوا۔)
آپ کے شاگردوں میں حضرت سفیان ثوری، حضرت عبد اللہ بن مبارک اور ابو داؤد طیالسی  جیسے جلیل القدر محدثین شامل ہیں۔یہ کتاب علمی، تحقیقی اور تاریخی ہر اعتبار سے نہایت اہمیت کی حامل ہے جس کا مطالعہ علم میں اضافےکا باعث  ہوگا۔
(7) مسند کہمس بن الحسن القیسی البصری
(جمع و تدوین: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی)
یہ کتاب حضرت کہمس بن الحسن القیسی البصری  کے احوال، آثار اور مرویات پر مشتمل ایک مفصل تاریخی و تحقیقی تصنیف ہے، جو 368 ؍صفحات پر محیط ہے۔
آپ ایک بلند پایہ محدث ہیں۔ آپ نے متعدد تابعین اور محدثین سے احادیث روایت کیں جس کی ائمۂ جرح و تعدیل نے تصدیق کی اور آپ کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے، جن میں امام احمد، امام ابو داؤد اور امام ابن ابی خثیمہ رحمہم اللہ جیسے اکابر محدثین بھی شامل ہیں۔
آپ نہایت متقی اور پرہیزگار انسان تھے اور ہمہ وقت خوف و خشیتِ الٰہی میں مستغرق رہتے تھے۔امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب تنبیہ المغترین میں لکھا ہے کہ:
حضرت کہمس بن حسن چالیس سال تک روتے رہے، صرف اس بات کے خوف سے کہ ایک دن انہوں نے اپنے ہمسائے کی مٹی سے بغیر اجازت ہاتھ دھو لیے تھے۔آپ اُس وقت ہندوستان (سندھ) تشریف لائے جب محمد بن قاسم یہاں وارد ہوئے۔ آپ نے ان کے ہمراہ راجہ داہر کے خلاف جہاد میں بنفسِ نفیس شرکت کی، اور اس جنگ میں راجہ داہر کو شکستِ فاش ہوئی۔بعد ازاں آپ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہوگئے، جہاں سنہ 149ھ میں آپ کا وصال ہوا اور وہیں آپ مدفون ہیں۔
(8) حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ
(تصنیف: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی)
حضرت نوح علیہ السلام کے واقعات و حالات اور آپ کے اسلوبِ دعوت و تبلیغ پر اُردو زبان میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے، جس میں مصنفِ علام نے نہایت ہی عرق ریزی اور جاں فشانی سے قرآن و احادیث اور دیگر عربی کتب سے مواد اکٹھا کرکے ایک مستند دستاویز تیار کیا ہے۔اِس کتاب پر راقم السطور کی ایک طویل تقریظ بھی ہے۔
یہ کتاب خاص طور سے دعاۃ و مبلغین اور علما و ائمۂ کرام کے لیے ایک شان دار تحفہ ہے کہ وہ اِس کا مطالعہ کریں اور حضرت نوح علیہ السلام کے دعوتی و تبلیغی اسلوب کو اپنائیں۔
 نوٹ: یہ کتابیں اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن ، حیدرآباد، دکن سے شائع ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ اِس ادارے کے جملہ معاونین، محبین اور مخلصین کو دارین کی نعمتیں عطا فرمائے اور اِس ادارے کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم

Share This Update