خاندیس،ناسک کے قاضی القضاۃمولانا عبدالفتاح گلشن آبادی (۱۸۱۹ء- ۱۹۰۵ء) کا شمار اسماعیلی فکر وتحریک کے اولین ناقدین میں ہوتا ہے۔ آپ مولانا فضل رسول بدایونی کے تلامذہ میں آتے ہیں۔ آپ کی کتاب تحفۂ محمدیہ فی رد فرقہ وہابیہ ماہ شوال ۱۲۶۵ھ/ ستمبر۱۸۴۹ء میں فضل الدین کھمکر کے مطبع سے شائع ہوئی ۔ اس میں مصنف نے اسماعیلی فکر وتحریک کے خلاف دہلی، مدراس ، کولکاتا ، ممبئی اور حرمین شریفین کے چاروں مذاہب کے علما کے فتاویٰ جمع کردیے ہیں۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ مولانا عبد الفتاح گلشن آبادی نے اس کتاب میں مجموعی طور پر وہابیت واسماعیلیت کی کلی تردید فرمائی ہے، تاہم اپنے مقصد کے لیے بعض ایسے علما کے فتاویٰ وبیانات بھی نقل کیے ہیں، جن میں صرف وہابیت وغیر مقلدیت کی تردیدہے اور سید احمد رائے بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کا ذکر خیر کیا گیاہے ،بعض حوالے ایسے ہیں جن میں شاہ اسماعیل کا رد وابطال تو ہے لیکن ان کے اندر سید احمد رائے بریلوی کا ذکر بڑے ہی ادب واحترام اور القاب وآداب کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ ان کو اور ان کے اصحاب کو شہید وخلد آشیاں لکھا گیاہے اور اصل فتنے کا بانی مولانا عبدالحق بنارسی، مولانا محمدحسین صادق پوری اور مولاناولایت علی عظیم آبادی کو ٹھہرایا گیاہے، جو تحریک اہل حدیث کے اولین معمار ہیں۔
جامع الفتاویٰ کی چار جلدیں علامہ گلشن آبادی کی علمی وفقہی تحقیقات کا بیش قیمت مرقع ہیں، جن میں اس عہد میں زیر بحث مسائل کا عالمانہ ومحققانہ جواب دیا گیا ہے۔ یہ مجموعہ انیسویں صدی کے فکری واعتقادی مباحث کی تفہیم میں ایک اہم ماخذ کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کی پہلی جلد مولیٰ علی ریسرچ سینٹر ممبئی سے شائع ہوکر آج موصول ہوئی۔ اس کی تحقیق وتدوین اور تعلیق و تخریج کا کام جواں سال عالم دین مفتی فاروق خان مصباحی مہائمی نے انجام دیا ہے اور حق یہ ہے کہ حق ادا کیا ہے۔ موصوف تحقیقی وتعمیری مزاج ایک مثبت وباذوق علمی شخصیت ہیں، جس کا ایک ثبوت ان کی درجن بھر دوسری کتابوں کے ساتھ یہ کتاب بھی ہے۔ فجزاہ اللہ عن الاسلام والمسلمین احسن الجزاء۔
کتاب کی باطنی علمیت ومعنویت کے ساتھ اس کی ظاہری ترتیب و تہذیب اور تزئین و پیش کش بھی دل کش ودیدہ زیب ہے۔ 660 صفحات پر مبسوط بونڈ پیپر پر بڑی سائز میں خوب صورت ڈیزائننگ اور اعلی پرنٹنگ قاری کو دعوت نظارہ دے رہی ہے۔
مولیٰ کریم مصنف کو غریق رحمت کرے اور محقق وناشر کو خدمات مزید کی توفیقات بخشے اور دارین کی سعادتیں ارزانی کرے۔