Minara Masjid Minara Masjid

Qurani “Qul” aur Naat-e-Khatam-ur-Rusul ﷺ

| February 8, 2026 3 min read 11 views

قرآنی قل اورنعتِ ختم الرُسُل

قرآنی قل اورنعتِ ختم الرُسُل

 

از:ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی

 

آخری وحیِ الٰہی، قرآنِ کریم جہاں حیات کا ضابطہ، شریعت کا ماخذ، تمام جائز نقلی وعقلی علوم وفنون کا منبع، خیر وبرکت کا سرچشمہ، ہدایت، شفا اور رحمت ہے وہاں یہی مقدس کلامِ ربانی نبیِ آخر الز ما ں ، ناطقِ قرآن، رسولِ ذی شان حضرت محمد عربی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعت پاک بھی ہے۔

اس قرآنِ عظیم میں ربِ اکبر نے اپنے حبیبِ اعظم اور محبوبِ اکبر سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے محامد ومحاسن اور فضائل ومناقب بھی بیان فرمائے ہیں۔ ان کی۱۔ نورانیت ۲۔ رسالتِ عامہ ۳۔ رحمۃللعالمینی۴۔خاتمیت۵۔عظمت ورفعت۶۔شفاعت ۷۔ اختیارا ت وتصرفات وغیرہ بیان فرمائے ہیں ۸۔نیز ان کی بارگاہ کا ادب سکھایا ہے ۹۔ ان کی رضا اور اطاعت کو اپنی رضا اور اطاعت قرار دیا ہے۔ ان کے ۱۰۔ رخ انور (۱۱) گیسوئے معنبر (۱۲) ان کی اداؤں (۱۳) ان کے خلقِ عظیم کو سراہا ہے اور ان کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ (۱۴) سرکار ابدِ قرار علیہ السلام کے کلام (۱۵) عصر (۱۶) شہر (۱۷) عمر وغیرہ کی قسم یاد فرمائی ہے اور اس طرح بنی نوع انسان کو بتایا کہ یہی وہ ہستی ہے جو سارے جہان سے زیادہ مجھے محبوب ہے اور میری بارگاہ میں سب سے زیادہ قریب ہے اور حق یہ ہے کہ ع

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

مندرجہ بالا باتوں کی تصدیق کے لیے حسب ذیل قرآنی آیا ت ملاحظہ کیجیے:

(۱) قَدْ جَآء َکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ (المائدہ:۱۵)

(۲) وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ (سبأ: ۲۸)

(۳)وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (الانبیا: ۱۰۷)

(۴) مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآاَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ (الاحزاب:۴۰)

(۵)وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (الم نشرح:۴)

(۶) یٰٓاَیُّہاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُم فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ۔ الآیہ (الحجرات:ـ۲)

(۷) لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ (الفتح:۱۸)

(۸) مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (النساء :۸۰)

(۹)وَ الضُّحٰی وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی (الضحیٰ:۱)

(۱۰) یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ (المزمل:۱)

(۱۱) یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ (المدثر:۱)

(۱۲) وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم:۴)

(۱۳)لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ 

 (الاحزاب:۲۱)

(۱۴) لَعَمْرُکَ اِنَّہُمْ لَفِیْ سَکْرَتِہِمْ یَعْمَہُوْنَ (الحجر: ۷۲)

(۱۵) وَ قِیْلِہٖ یٰرَبِ اِنَّ ہٰٓؤُلَآء ِقَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ (الزخرف:ـ۸۸)

(۱۶)اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(العصر: ۱)

(۱۷) لَا اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ وَ اَنْتَ حِلٌّ بِہٰذَا الْبَلَدِ وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۔ (البلد: ۱؍۲؍۳)

ان واضح مقامات کے علاوہ قرآنِ عظیم میں اور بھی کتنے مقامات ہیں جن میں نبیِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صریح نعت موجود ہے لیکن ان کے علاوہ وہ آیتیں اور سورتیں جن کی ابتدا لفظ ’’قُلْ‘‘ سے ہوتی ہے ان میں بھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعتِ پاک موجود ہے۔ ’’قُلْ‘‘ کے تعلق سے استاذِ زمن حضرت مولانا حسن رضا خاں حسنؔ بریلوی علیہ الرحمہ بہت ہی پیارا اور بلیغ شعر فرماتے ہیں:

 

قُلْ کہہ کے اپنی بات بھی منہ سے ترے سنی

اتنی ہے گفتگو تری اللہ کو پسند

اللہ عزوجل اپنے حبیبِ لبیب نبیِ امی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کلام کی قسم یاد فرمارہا ہے لہٰذا یہ بات ثابت ہے کہ اسے ان کی گفتگو بہت پسند ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے حبیبِ اکبر اور اس کی بارگاہ میں سب سے زیادہ قریب تر ہیں۔

قرآنِ حکیم کا اندازِ خطاب اور اس کی بلاغت لاجواب ہے اور ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں بلکہ خالق ومالک اللہ رب العزت کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اس نے جہاں اپنے بہت سارے احکام وفرامین بلا واسطہ اپنے بندوں تک پہنچائے ہیں۔ وہ چاہتا تو مزید دیگر احکام اپنے محبوب سے نہ کہلوا کر یعنی ’’قُلْ‘‘ کے ساتھ خطاب نہ فر ما کر بھی بندوں تک بالواسطہ پہنچاتا لیکن اسے اپنے محبوب رسول کی عظمت دکھانی مقصود تھی لہٰذا انہیں اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان واسطہ بنایا اور بتادیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بارگاہ کے وسیلۂ اعظم ہیں۔ قرآنِ کریم کی جو بھی آیتیں اور سورتیں ’’قُلْ‘‘ سے شروع ہوئی ہیں ان سب میں نبیِ امی علیہ التحیۃ والثناء کی مقدس نعت موجود ہے۔ کلامِ الٰہی میں ۲۹۴ بار لفظ ’’قُلْ‘‘آیا ہے لہٰذا ان ۲۹۴ مقامات میں رسول کریم علیہ السلام کی نعتیں موجود ہیں۔

 ’’قُلْ‘‘ کے ساتھ خطاب فرما کر اللہ رب العزت نے اپنی الوہیت، وحدانیت، حاکمیت وغیرہ نیز اپنے رسول کی عظمتِ شان کی بابت بھی اپنی مخلوق تک اپنے احکامات اپنے انہیں رسول کے ذریعے پہنچائے ہیں اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت وقربتِ الٰہی کے ساتھ ان کے اختیارات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

’’قل‘‘ کے تعلق سے چند سورت اور آیات ملاحظہ کیجیے:

۱۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ الخ

۲۔ قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۔ الخ

۳۔قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ۔ الخ

۱۔ میں اللہ رب العزت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوارہا ہے کہ آپ کہیے کہ میں رب الناس (سب کے رب) کی پناہ میں آیا جو سب کا بادشاہ ہے۔ مالک ہے اور سب کا الٰہ ہے۔ اس سورہ میں خدائے لم یزل اپنی ربوبیت، حاکمیت اور الوہیت کا اظہار فرمارہا ہے حالانکہ وہ خود بلا واسطہ بھی اپنی الوہیت، حاکمیت اور ربوبیت وغیرہ کا اعلان فرما چکا ہے اور مزید فرما سکتا تھا لیکن اسے اپنے حبیب علیہ الصلوۃ و السلام کا تحفظ دکھانا مقصود ہے کہ وہ سارے جہان کے رب کی پناہ میں ہیں پس انہیں کوئی خوفزدہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اس سے بھی رسولِ کونین علیہ التحیۃ والثناء کی بارگاہِ ایزدی میں قرب ومحبوبیت کا اظہا ر ہوتا ہے۔

۲۔ میں اللہ جل مجدہ اپنے رسول علیہ السلام سے اپنی وحدا نیت اور لاشریکی کا اقرار کراکر انہیں کے ذریعے کل مخلوقات سے اپنی وحد ا نیت ولاشریکی کا حکم منوارہا ہے۔ یہاں وہی اظہار واقرار ہے جو کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی صفات اپنے رسول کے توسط سے بندوں تک پہنچا کر ان کی عظمتِ شان ظاہر فرمارہا ہے اور یہاں یہ بھی اشارہ ہے کہ کوئی شخص لاکھ لا الٰہ اللہ کہتا رہے لیکن جب تک محمد رسول اللہ کا اقرار نہیں کرتا اسے موحد ومومن نہیں مانا جائے گا۔

۳۔ میںاللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت اور قدرتِ کاملہ اور رزاقی وغیرہ کی بابت اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام سے کہلوارہا ہے۔ اس سے بھی رسولِ گرامی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبوبیت اور عظمتِ شان یعنی نعتِ پاک ظاہر ہے۔

مزید ملاحظہ کیجیے، ارشادِ ربانی ہے:

۴۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ (آل عمران:ـ۳۱)

گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع پر اللہ تعالیٰ اپنی دوستی اور محبوبیت کو موقوف فرما رہا ہے یعنی غلامی کرو مصطفی کی اور محبوب بن جاؤ اللہ کے۔ اللہ اکبر! یہ ہے رسولِ عربی علیہ التحیۃ والثناء کی شان۔ یہ کیسی عظیم وجلیل نعت ہے۔اللہ تعالیٰ رسول اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی ہی محبت اور اتباع کی بابت انہیں کی زبان مبارک سے کہلوارہا ہے۔ یہ ہے آقا حضور کی بارگاہِ الٰہی میں قرب اور محبوبیت۔

اور پھر ۵۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے یہ کہلوا کر کہ انہیں کی محبت پر ہر شئی یعنی والدین، اولاد، بھائی، خاندان، بیویوں، مال واسباب ومکان وغیرہ کی محبت کو قربان کردینے کا نام ایمان ہے۔ یعنی قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ ۔ الآیہ (سورۂ توبہ:۲۴)

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے

اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

محمد ہے متاعِ عالمِ ایجاد سے پیارا

پدر، مادر، برادر، جان ودل، اولاد سے پیارا

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیزہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

اب وہ آیات دیکھیے جنہیں پڑھ کرکچھ لوگ حضور جانِ نور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا جیسا بشر سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح وہ انہیں معاذ اللہ بے اختیار اور صرف ایک بڑے بھائی کی حیثیت دیتے ہیں اور ظاہر ہے یہ گستاخانِ مصطفی خود کو سرکار علیہ الصلوۃ و السلام کی شفاعت سے بھی محروم کرلیتے ہیں اور انکار کردیتے ہیں۔

۶۔ آیت ملاحظہ کیجیے:ـقُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ۔ (الکہف:۱۱۰)

کیا ان سب پر بھی وحی آتی ہے جو حضور جانِ نور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا جیسا بشر خیال کرتے ہیں۔ یہ تو اللہ عزوجل نے رسولِ کریم علیہ التحیۃ والثناء سے اس لیے کہلوایا کہ ان کے حسن وجمال وسیرت کے کمال اور معجزات وغیرہ دیکھ کر اگلی قوموں کی طرح امتِ مسلمہ بھی معاذ اللہ رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خدا کا شریک اور ساجھی بنا کر ان کی پوجا نہ کرنے لگے جیسا کہ نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنا کر خدا کا شریک بنالیا اور انہیں بھی معبود کا درجہ دے دیا یا دوسرے مشرکین انسانوں ہی میں کچھ کو دیوتا و اوتار بناکر انہیں معبود بنا بیٹھے۔ معاذ اللہ!

حضرت صدر الافاضل علامہ مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: 

’’سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بلحاظ انا بشر مثلکم فرمانا حکمت وہدایت وارشاد کے بطریق تواضع ہے اور جو کلمات تواضع کرنے والے کے علوِ منصب کی دلیل ہوتے ہیں، چھوٹوں کو ان کلمات کو اس کی شان میں کہنا یا اس سے برابری ڈھونڈھنا ترکِ ادب اور گستاخی ہوتا ہے تو کسی امتی کو روا نہیں کہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مماثل ہونے کا دعویٰ کرے۔ یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ آپ کی بشریت بھی سب سے اعلیٰ ہے ہماری بشریت کو اس سے کچھ بھی واسطہ نہیں۔‘‘ (خزائن العرفان)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حقیقت نور ہے لیکن ان کی ایک جہت بشری بھی ہے اور اگر وہ لباسِ بشری میں ظاہر ہوتے تو انسان ان سے مانوس کیسے ہوتے، انہیں معرفتِ الٰہی کیسے حاصل ہوتی، توحید اور دینِ فطرت اسلام کی تبلیغ کیسے ہوتی؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں لیکن خیر البشر ہیں، سید البشر ہیں اور افضل البشر ہیں۔ انہیں کی بشریت سے انسان کو ’’اشرف المخلوقات‘‘ ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے اور انہیں کے نور کی پیشانیِ آدم میں موجودگی کے سبب انہیں فرشتوں سے سجدہ کرایاگیا ہے۔

سرکار ابدِ قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بشریت کے تعلق سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز کیا ہی مبنی برحق حسین وبلیغ اشعار (رباعی) فرماتے ہیں:

اللہ کی سرتابقدم شان ہیں یہ

ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں

ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ

مزید ملاحظہ کیجیے: ۷۔ تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے عذاب کا ڈر ہے۔‘‘ (سورۃ الزمر:۱۳)

ہوسکتا ہے اس آیتِ کریمہ کی روشنی میں کچھ لوگ یہ سوچ لیں کہ معاذ اللہ! اس میں تو نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کوئی فضیلت نہیں ہے لیکن اولاً تو یہاں بالفرض کے ساتھ نافرمانی کی بات ہے اور یہ بندوں کو ڈرانے کے لیے ہے اور بے شک جو نافرمان ہوں گے وہ خود سزا پائیں گے نہ کہ معاذ اللہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کہ وہ تو اللہ کے سب سے زیادہ فرماںبردار ہیں اور ایسے کہ اس کے محبوبِ اکبر ہیں۔

اس سے قبل والی آیت بھی ملاحظہ فرمائیں:

’’تم فرماؤ! مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں، نرا اس کا ہوکر۔ (الزمرـ۱۴)

یہاں اللہ تعالیٰ اپنی لاشریکی کا حکم دے رہا ہے اور اپنے رسول علیہ الصلوۃ و السلام کی مبارک زبان سے کہلوارہا ہے۔

اب یہ آیت دیکھیے: ’’تم فرماؤ! شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہی، پھر تمہیں اس کی طرف پلٹنا ہے۔‘‘ (الزمر: ۲۴)

بے شک مالکِ شفاعت یا مالکِ روز جزا اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس نے اپنے برگزیدہ بندوں کو شفاعت کا اختیار دے رکھا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: شفاعت کے مالک نہیں مگر جنہوں نے رحمن کے پاس قرار کر رکھا ہے۔‘‘ (مریم: ۸۷)

اور دوسری آیت ہے: اور یہ جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے۔‘‘ ہاں شفاعت کا اختیار انہیں ہے جو حق کی گواہی دیں اور علم رکھیں۔‘‘ (الزخرف: ۸۶)

یہ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر علیہما السلام کے لیے ہے۔

اور مزید سورۂ زمر میں ہے کہ:

’’تم فرماؤ! اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، رحمت سے نا امید نہ ہوں۔ بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (الزمر: ۵۳)پس ظاہر ہے کہ حضور نبیِ امی صلی اللہ علیہ وسلم شافعِ محشر ہیں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کیا خوب فرماتے ہیں:

مجرم بلائے آئے ہیں جاؤک ہے گواہ

پھر رد ہوکب یہ شان کریموں کے در کی ہے

خلاصۂ کلام

 

 ’’قُلْ‘‘کے تعلق سے جن آیات میں دوسرے امور کا حکم ہے اور وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کوئی ارشاد نہیں ہے تب بھی اس ’’قل‘‘ بمعنی کہہ دو،یا فرمادو یا کہہ دیجیے یا فرمادیجیے سے بھی آپ کی نعت ِپاک ظاہر ہے۔ پس…

قرآنی قل: نعت ختم الرسل ہے۔

 

Qurani “Qul” aur Naat-e-Khatam-ur-Rusul ﷺ
Az: Dr. Abdul Naeem Azeemi


Aakhri Wahi-e-Ilahi, Qur’an-e-Kareem jahan hayat ka zaabta, shariat ka mabda, tamam jaiz naqli o aqli uloom o funoon ka manba, khair o barkat ka sarchashma, hidayat, shifa aur rehmat hai — wahi muqaddas Kalam-e-Rabbani, Nabi-e-Aakhir-uz-Zamaan ﷺ, Natiq-e-Qur’an, Rasool-e-Zeeshaan Hazrat Muhammad Arabi ﷺ ki Naat-e-Paak bhi hai.

Is Qur’an-e-Azeem mein Rabb-e-Akbar ne apne Habib-e-Aazam aur Mehboob-e-Akbar, Syedna Muhammad Rasool Allah ﷺ ke mahamid o mahasin aur fazail o manaqib bhi bayan farmaye hain:

1) Nooraniyat
2) Risalat-e-Aammah
3) Rehmat-ul-lil-Aalameen
4) Khatmiyat
5) Azmat o Raf‘at
6) Shafa‘at
7) Ikhtiyarat o Tasarrufat
8) Bargah-e-Rasool ka Adab
9) Rasool ki Raza aur Ita‘at ko Apni Raza aur Ita‘at qarar dena
10) Rukh-e-Anwar
11) Gaisu-e-Mo‘ambar
12) Adaein
13) Khulq-e-Azeem ki Sitarish
14) Khatam-e-Paighambar ﷺ ke Kalam
15) ‘Asr
16) Shehar
17) ‘Umr ki Qasam

Yani bani-nau‘ insaan ko bataya gaya ke yehi woh hasti hai jo Rabb ke nazdeek sab se zyada mehboob aur qareen hai.

Ba‘d az Khuda buzurg toee, qissa mukhtasar


Qur’ani Aayaat (Dalail ke taur par):

(1) Qad jaa’akum minallahi noorun wa kitaabum mubeen
(2) Wa maa arsalnaaka illa kaaffatal linnas
(3) Wa maa arsalnaaka illa rehmatallil aalameen
(4) Wa laakin Rasoolallahi wa Khataman Nabiyyeen
(5) Wa rafa‘na laka zikrak
(6) La tarfa‘oo aswaatakum fawqa sawtin Nabi
(7) Laqad raziyallahu ‘anil mu’minin…
(8) Man yuti‘ir Rasoola faqad ata‘allaha
(9) Wa’d-Duha wa’l-Layli iza saja
(10) Ya ayyuhal Muzzammil
(11) Ya ayyuhal Muddaththir
(12) Wa innaka la‘ala khuluqin azeem
(13) Laqad kaana lakum fi Rasoolillahi uswatun hasanah
(14) La‘amruka innahum lafi sakratihim ya‘mahun
(15) Wa qeelihee ya Rabb…
(16) Innal insaana lafi khusr
(17) La uqsimu bihaazal balad…

In wazeh maqamaat ke ilawa bhi Qur’an-e-Azeem mein kai jagah Nabi-e-Kareem ﷺ ki sarihi Naat maujood hai. Khaas taur par woh aayaat aur sooratein jo “QUL” se shuru hoti hain, un sab mein bhi Huzoor ﷺ ki Naat-e-Paak numaya hai.

Ustaaz-e-Zaman, Hazrat Maulana Hasan Raza Khan Hasan Barelvi رحمہ اللہ ka pyara sher:

“Qul keh ke apni baat bhi munh se teray suni
Itni hai guftagu teri Allah ko pasand”

Yani Allah Ta‘ala apne Habib ﷺ ke kalam ko itna pasand farmata hai ke “Qul” ke zariye unhi ki zaban mubarak se apni baat bandon tak pahunchata hai.


“Qul” ka Balaghat aur Maqsad

Qur’an ka andaz-e-khitaab la-jawab hai. Allah Qadir-e-Mutlaq chahta to apne ahkaam bila-wasta bhi bayan farma sakta tha, magar usay apne Rasool ﷺ ki azmat dikhana maqsood thi. Is liye Rasool ﷺ ko apne aur apni makhlooq ke darmiyan waseela-e-aazam banaya.

Qur’an mein 294 martaba “QUL” aaya hai — aur har maqam par Rasool-e-Kareem ﷺ ki Naat ka pehlu maujood hai.


“Qul” se Chand Numaya Misalein

1) Qul a‘oozu birabbin naas…
— Rabb apni rububiyat, hakimiyat aur uloohiyat ka izhar Habib ﷺ ke zariye karwata hai, taake Rasool ﷺ ki hifazat aur qurbat wazeh ho.

2) Qul huwa Allahu ahad
Tauheed ka iqrar Rasool ﷺ ke zariye, jo Kalma-e-Tayyiba ki rooh hai.

3) Qul Allahumma maalikal mulk
Badshahat, qudrat aur razzaqi ka bayan bhi Rasool ﷺ ki zaban mubarak se.

4) Qul in kuntum tuhibboonallaha fattabi‘ooni…
Allah ki muhabbat Rasool ﷺ ke itteba‘ se mashroot hai.

“Ghulami-e-Mustafa ﷺ ikhtiyar karo, Allah ke mehboob ban jao.”

5) Qul in kaana aaba’ukum…
Iman ka matlab: Muhabbat-e-Muhammad ﷺ par har muhabbat qurban.

“Muhammad ki muhabbat deen-e-haq ki shart-e-awal hai
Isi mein ho agar khaami to sab kuch na-mukammal hai”


“Qul innama ana basharum mithlukum” ka Sahih Mafhoom

Is aayat ka maqsad tawheed ki hifazat hai, na ke Rasool ﷺ ki tanqees.
Sadr-ul-Afazil Allama Naeem-ud-Din Muradabadi رحمہ اللہ likhte hain:

“Huzoor ﷺ ka ‘ana bashar’ farmana toazu‘ ke taur par hai. Umti ka apne aap ko Huzoor ﷺ ke barabar samajhna tark-e-adab aur gustakhi hai. Huzoor ﷺ ki bashariyat bhi sab se a‘la hai.”

Huzoor ﷺ bashar hain — magar khair-ul-bashar, sayyid-ul-bashar, afzal-ul-bashar.

A‘la Hazrat Imam Ahmad Raza Barelvi رحمہ اللہ ki ruba‘i:

“Allah ki sar-ta-ba-qadam shaan hain yeh
In sa nahin insaan, woh insaan hain yeh
Qur’an to iman batata hai inhein
Iman yeh kehta hai meri jaan hain yeh”


Shafa‘at aur “Qul”

Shafa‘at ka asal malik Allah hai, magar Shafa‘at ka ikhtiyar us ne apne muqarrab bandon ko ata farmaya — aur Huzoor ﷺ Shafi‘-e-Mahshar hain.

A‘la Hazrat farmate hain:

“Mujrim bulae aaye hain jao ke gawah
Phir rad ho kab yeh shaan kareemon ke dar ki hai”


Khulasa-e-Kalam

“QUL” ke sath aane wali har aayat, chahe zahiran kisi aur hukm par ho — apne andaz se Rasool-e-Kareem ﷺ ki azmat aur muhabbat ko numaya karti hai.

Qur’ani “Qul” — Naat-e-Khatam-ur-Rusul ﷺ hai.

Credits & Acknowledgements

Article Writing: از:ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی
Presented By: مولانا مظہر علیمی صاحب
Post By: Maula Ali Research Center
Share This