Minara Masjid Minara Masjid

Nabi-e-Akram ﷺ ki Samaji KhidmaatAz: Maulana Abdul Hakeem Sharf Qadri (Alaihir-Rahmah)

| February 8, 2026 3 min read 5 views

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی خدمات

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی خدمات

 

از:مولاناعبدالحکیم شرف قادری (علیہ الرحمہ)

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وانک لعلیٰ خلق عظیم اور بے شک آپ خُلق عظیم پر ہیں۔حضرت ملاجیون (استاذ سلطان عالمگیر) فرماتے ہیں کہ اصح یہ ہے کہ خلق عظیم وہ طریقۂ زندگی ہے جس سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو اور مخلوق بھی اور یہ بہت نادر ہے۔

 

نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس طریقۂ زندگی کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہیں ۔آپ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رہتے اس کی بارگاہ میں دعاؤں اور التجاؤں کا سلسلہ جاری رکھتے اوررات ا تنا طویل قیام کرتے کہ پائے مبارک میں ورم آجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے کمبل اوڑھنے والے! رات کو قیام کیجئے مگر تھوڑا وقت (آرام بھی کیا کریں) (۱۔۲؍۷۳)

 

دوسری طرف کھانے پینے اور آرام کرنے کے مختصر وقت کے علاوہ مخلوق خدا کی رہنمائی میں صرف فرماتے ۔غیر مسلموں کواسلام کی دعوت دینا، ان کے شکوک وشبہات دور کرنا ، صحابہ کرام کو قرآن پاک کی تعلیم دینا، ان کی تربیت اور تزکیہ فرمانا، ان کے احوال کی نگرانی فرمانا، آنے والوں کا استقبال کرنااور انہیں دعوت اسلام دینا، مدینہ منورہ میں مجاہدین کے دستے روانہ کرنا اور بعض اوقات بنفس نفیس غزوات میں شرکت فرمانا، صدقات اورچندے کا وصول کرنا اور مستحقین میں تقسیم فرمانا، نماز پنج گانہ، جمعہ اور عیدین میں امامت کرنا اور خطبات میں انہیں احکام اسلامیہ سے باخبر فرمانا، بیماروں کی عیادت کرنا، یتیموں ، بیواؤں اور غلاموں کی خبر گیری فرمانا، حاجت مندوں کی حاجت روائی فرمانا، اہل خانہ کی دیکھ بھال کرنا اور ان کی ضروریات کا پورا کرنا۔ مختصر یہ کہ خدمتِ خلق کے ہر شعبے میں ذمہ داریوں کو نبھانا حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کام ہے۔

 

اس وقت موضوع سخن نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سماجی خدمات ہیں۔ آپ نے اعلان نبوت سے پہلے حلف الفضول میں شرکت فرمائی۔ ہوا یہ کہ شہر ُزبید کا ایک شخص اپنا مال تجارت مکہ معظمہ لایا جو عاص بن وائل سہمی نے خرید لیا اور قیمت ادا نہ کی۔ زبیدی نے اپنے حلیفوں سے مدد کی اپیل کی مگر کسی نے بھی امداد نہ کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر بنو ہاشم، زہرہ اور بنو اسد بن عبدالعزیٰ، عبداللہ بن جدعان کے گھر جمع ہوئے۔ اس اجتماع میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں فیصلہ کیاگیاکہ ہم ظالم کے خلاف مظلوم کی امداد کریں گے طاقت ور سے کمزور کا اور مقیم سے مسافر کا حق دلائیں گے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کاوہ چارٹر تھا جس کے تحت زبیدی کا مال اسے دلایاگیا۔

 

 نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اعلان نبوت کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ آج اسلام میں بھی اگر کوئی مظلوم یا آل حلف الفضول کہہ کر پکارے تو میں مدد دینے کو حاضر ہوں۔

حلف الفضول کا معاہدہ اعلان نبوت سے بیس سال پہلے ماہ ذی قعدہ میں ہوااور بہت سے مظلوم اس سے مستفیض ہوئے۔

 

یہ بھی اعلان نبوت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ قریش کے مختلف قبائل نے بیت اللہ شریف کی تعمیر کے لیے تیاری کی تو ہر قبیلے نے اپنے طور پر پتھر جمع کیے۔ جب تعمیر حجر اسود کے مقام تک پہنچی تو ہر قبیلے کا مطالبہ تھا کہ ہم اسے نصب کریں گے نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ بنو عبدالدار اور بنو عدی نے خون سے بھرے ہوئے پیالے میں ہاتھ ڈبو کر معاہدہ کیا کہ ہم مرجائیں گے لیکن کسی دوسرے قبیلے کو حجر اسود نصب کرنے کا اعزاز حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ چار پانچ دن جھگڑا چلتا رہا آخر ایک دن مسجد میں جمع ہوکر میٹنگ کی کہ اس اختلاف کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟ قریش کے معمر ترین فرد ابو امیہ ابن مغیرہ نے مشورہ دیا کہ اس دروازے سے سب سے پہلے آنے والے شخص کو اختیار دے دو کہ وہ فیصلہ کرے۔

 

اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے سے داخل ہوئے۔ سب بہ یک زبان بول اٹھے’’ ہم اس امین پر راضی ہیں یہ محمد ہیں‘‘۔ جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے صورت حال بیان کی اور فیصلے کی فرمائش کی۔ آپ نے فرمایا :ایک کپڑا لاؤ۔ کپڑا لایاگیا آپ نے حجرِ اسود اس پر رکھ دیااور فرمایا: ہر قبیلہ کپڑے کا ایک کنارا پکڑے اور سب مل کر کپڑے کواٹھاؤ سب نے مل کر کپڑا اٹھایا اورحجر اسود کے مقام تک لے آئے تب آپ نے حجر اسود اٹھا کر اس کے مقام پر نصب کردیا۔ اس طرح آپ کی حکمت عملی سے قریش کے قبائل خوںریز حادثے سے بچ گئے۔

 

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے جب قریش نے بیت اللہ شریف کی تعمیر کی تو آپ اور آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تعمیر کے لیے پتھر اٹھا کر لاتے تھے۔ اس طرح جب ہجرت کی بعد مسجد قبا تعمیر کی گئی تو آپ نے بنفس نفیس اس میں حصہ لیا۔ سب سے پہلا پتھر قبلہ کی طرف آپ نے رکھا۔ دوسرا پتھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ نے رکھا۔ ان کے بعد صحابۂ کرام تعمیر میں مصروف ہوگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے بھاری پتھر اٹھا کر لاتے کہ صحابہ کرام انہیںاٹھانے سے عاجز رہ جاتے اور جب مسجدنبوی شریف تعمیر کی گئی تو آپ نے اس میں بھی عملاً حصہ لیا۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات اہل مدینہ (کوئی آواز سن کر) خوف زدہ ہوگئے۔ لوگ آواز کی طرف گئے تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرف سے تشریف لارہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ خوف اور گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں ہے۔

 

نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اُمہات المؤمنین کی ضروریات کا خاص خیال فرماتے تھے۔ عصر کے بعد ایک ایک اُم المؤمنین کے حجرے میں تشریف لے جاتے اور ان کی خیریت دریافت فرماتے۔ حضرت اسود نے حضرت ام المؤ منین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شانہ اقدس میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: کان یکون فی مہنۃ اہلہ تعنی خدمۃ اہلہ آپ اپنے گھر والوں کے کام کاج اور خدمت میں مصروف رہتے تھے جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو اہل مدینہ کے خدام (برکت اور شفا حاصل کرنے کے لیے برتنوں میں پانی لے کر حاضرہوجاتے آپ ہر برتن میں دست اقدس ڈبودیتے بعض اوقات سرد صبح ہوتی اس کے باوجود ان برتنوں میں دست مبارک ڈالتے (اور کسی کو فیض وبرکت سے محروم نہ فرماتے)۔ 

آپ کے اخلاقِ عالیہ اور لطف وکرم کا یہ عالم تھا کہ بقول حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہل مدینہ کی لونڈیوں میں سے کوئی بچی آپ ہاتھ کاپکڑ کر جہاں چاہتی لے جاتی۔ان ہی سے روایت ہے کہ ایک خاتون کی عقل میں کچھ فتو رتھا۔ اس نے عرض کیا یارسول اللہ! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ آپ نے فرمایا: اے ام فلاں! تم جس گلی میں چاہو ہم تمہارا کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ آپ کو ایک راستے پر لے گئی اور اس نے اپنی درخواست پیش کی۔

 

نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ بیمار کی عیادت کرتے، جنازے کے ساتھ تشریف لے جاتے اور مملوک کی دعوت قبول فرماتے۔ ایک یہودی بچہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمارہوگیا توآپ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اس کے سر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور اسے فرمایا: اسلام لے آ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا وہ بھی پاس ہی تھاباپ نے کہا ابو القاسم (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو وہ اسلام لے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے اسے آگ سے نجات عطا فرمائی۔

اس واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دعوت اسلام کا مشن آپ کی نگاہ سے کسی وقت اوجھل نہیںہوتا تھا۔

 

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ ان کی قبر میں لیٹ گئے اور ان کے لیے دعا فرمائی :اے اللہ! میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما اور ان کی قبر کو کشادہ فرما اپنے نبی کے طفیل اور مجھ سے پہلے انبیا کے طفیل بے شک تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والاہے۔

 

حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ کسی سائل کو انکار نہیں فرماتے تھے۔ ایک خاتون نے بارگاہ رسالت میں چادر لاکر پیش کی جس کے کنارے پر انہوں نے کڑھائی کی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبول فرمالی۔ جب باہر تشریف لائے تو وہ چادر زیب تن فرمائی ہوئی تھی۔ ایک صحابی نے عرض کیا یہ کتنی اچھی چادر ہے مجھے عطا فرمادیں۔ صحابہ کرام نے انہیں کہا آپ نے اچھا نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حاجت تھی اور آپ اسے استعمال میں بھی لے آئے تھے۔ آپ کو پتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (کسی سائل کو) رد نہیں فرماتے۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میں نے چادر پہننے کے لیے نہیں مانگی میں نے تواس لیے مانگی ہے کہ میرا کفن بنے (آپ نے انہیں چادر عطا فرمادی) اور وہ ان کا کفن ہی بنا۔

 

اور اگر کوئی چیز حاضر نہ ہوتی تو قرض لے کر سائل کی حاجت پوری فرمادیتے۔ ایک شخص نے سوال کیا توآپ نے فرمایاکہ اس وقت ہمارے پاس کوئی چیز موجود نہیں ہے، ہمارے نام پر ضرورت کی چیزخرید لو جب مال آئے گا تو ہم ادا کردیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دی۔ یہ بات آپ کو پسند نہ آئی۔ ایک انصاری نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ خرچ کریں اور اس بات کا خوف نہ کریں کہ رب عرش آپ کو کمی آنے دے گا۔ یہ سن کر آپ مسکرائے اور چہرہ انور پر بشاشت کے آثار دکھائی دینے لگے۔

 

ایک سفر میں آپ نے صحابہ کرام کو بکری کا گوشت پکانے کا حکم دیا ایک صحابی نے کہا میں اسے ذبح کروںگا ۔دوسرے نے کہا میںاس کی کھال اتار دوںگا۔ تیسرے نے کہا میں اس کا گوشت پکاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ایندھن اکٹھا کرکے لائیں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یہ کام کرنے کے لیے ہم جو حاضر ہیں۔ فرمایا: ہمیں علم ہے لیکن ہمیں تمہار ے درمیان ممتاز ہوکر بیٹھنا پسند نہیں ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو ناپسند فرماتا ہے جو اپنے دوستوں میں ممتاز ہوکر بیٹھے۔

آپ کی نوازشات سے ہر محتاجِ امداد فیضیاب ہوتا تھا۔ آپ نے ایک کنیز دیکھی جو راستے میں بیٹھی ہوئی رو رہی تھی آپ نے پوچھا کیوں رو رہی ہو؟ اس نے بتایاکہ میرے آقا نے آٹا خریدنے کے لیے دو درہم دیے تھے وہ مجھ سے گم ہوگئے ہیں۔ آپ نے اسے دو درہم عطا فرمادیے۔ کچھ دیر بعد اس طرف سے گزر ہوا تو وہ بدستور بیٹھی رو رہی تھی ۔آپ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ اس نے کہا ڈرتی ہوں کہ دیر سے واپس گھر جانے پر مار پڑے گی۔آپ اس کے ساتھ اس کے مالک کے گھر تشریف لے گئے اور دروازے پر پہنچ کر سلام کہا۔ صاحب خانہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے ماں باپ آپ پر قربان آپ کیسے تشریف لائے؟ آپ نے صورت حال بیان کی تو انہوں نے عرض کیا کہ آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔

 

نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چوںکہ رحمۃ للعالمین ہیں اس لیے آپ کی رحمت اوراحسان سے صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی مستفیض ہوئے۔ آپ کی امانت اور دیانت کے نہ صرف غیر مسلم معترف تھے بلکہ فائدہ بھی اٹھاتے تھے۔ اس کا اندازہ اس امرسے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی امانتیں مشرکین مکہ کے پاس رکھنے کی بجائے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے تو اس وقت بھی مشرکین کی امانتیں آپ کے پاس رکھی ہوئی تھیں۔ آپ نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکہ مکرمہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا اورفرمایا: ایک ایک امانت اس کے مالک کو سپرد کرنے کے بعد مدینہ طیبہ چلے آنا۔ چنانچہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین دن اور تین راتیں مکہ معظمہ میں رہے اور امانتیں ادا کرکے مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔

 

حضرت ثمامہ ابن اثال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشرف بااسلام ہونے کے بعد عمرہ کرنے کے لیے مکہ معظمہ گئے تو مشرکین نے انہیں گرفتار کرلیا اور کہنے لگے ثمامہ! تم صابی ہوگئے؟ یعنی اپنے آباو اجداد کا دین چھوڑ کر نئے دین میں داخل ہوگئے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ میں نے بہترین دین، دین محمد کی پیروی کی ہے۔ حضرت ثمامہ نے یہ بھی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر یمامہ سے غلے کاایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں پہنچے گا۔ یمامہ پہنچ کر پابندی لگادی کہ یمامہ سے غلہ مکہ مکرمہ نہ جانے پائے۔ مکہ معظمہ میں قحط پیداہوگیا مجبور ہوکر مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو لکھا کہ آپ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، آپ نے ہم سے قطعی رحمی کی ہے، آبا کو تلوار سے قتل کیا ہے اور بیٹوں کو بھوک سے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ثمامہ کو حکم دیا تو انہوں نے غلے سے پابندی اٹھالی۔

 

مختصر یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی شان رحمۃ للعالمینی سے اپنوں اور بیگانوں سب کو فیض یاب فرمایا۔ خوش قسمت حضرات نے آپ کی دعوت اسلام کو قبول کیا، اللہ تعالیٰ کے فرماںبردار بندے بنے اور خلق خدا کی خدمت کو اپنی زندگی کا شعار بنالیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین]…[

 

 

Nabi-e-Akram ﷺ ki Samaji Khidmaat
Az: Maulana Abdul Hakeem Sharf Qadri (Alaihir-Rahmah)

“Wa innaka la‘ala khuluqin ‘azeem.”
Aur beshak aap khulq-e-azeem par faiz hain.

Allah Ta‘ala ka irshad hai ke Nabi-e-Akram ﷺ azeem akhlaaq par faiz hain. Hazrat Mulla Jiwan (Ustaad-e-Sultan Aalamgir) farmate hain ke khulq-e-azeem se murad woh tareeqa-e-zindagi hai jisse Allah bhi raazi ho aur makhlooq bhi—aur yeh martaba nihayat naadir hai.

Nabi-e-Akram ﷺ is tareeqa-e-hayat ke a‘la tareen muqaam par faiz thay. Aap hamesha yaad-e-Ilahi mein mashghool rehte, du‘aon aur iltijaaon ka silsila jari rehta, aur raat ka qiyam itna taweel hota ke paye-mubarak mein waram aa jata. Allah Ta‘ala ne farmaya:

“Ya ayyuhal-muzzammil, qumil-laila illa qaleela.”
(Ay chadar orhne wale! Raat ko qiyam kijiye, magar thora aaraam bhi kiya karein.)

Dusri taraf, khane-peene aur aaraam ke mukhtasir auqaat ke siwa, makhlooq-e-Khuda ki rehnumai mein waqt sarf farmate:
— Ghair-muslimon ko da‘wat-e-Islam, unke shukook-o-shubhaat ka izala
Sahaba ko Qur’an ki taleem, tarbiyat aur tazkiya
— Aane walon ka istaqbal aur da‘wat
— Madinah mein mujahideen ke dastay rawana karna, kabhi khud ghazawat mein shirkat
Sadaqat ki wasooli aur mustahiqeen mein taqseem
Namaz-e-panjgana, Juma‘ aur Eiden mein imamat aur khutbat
Beemaron ki ‘iyadat, yateemon, bewaon aur ghulamon ki khabar-geeri
Hajat-mandon ki hajat-rawai, ahl-e-khana ki dekh-bhaal

Mukhtasar yeh ke: Khidmat-e-khalq ke har shoba mein zimmedariyon ko nibhana—yeh Sayed-ul-Aalam ﷺ hi ka kaam tha.


Hulf-ul-Fudool: Insani Huqooq ka Awwaleen Charter

A‘laan-e-Nabuwwat se pehle, aap ﷺ Hulf-ul-Fudool mein shareek hue. Zubaid ka ek tajir apna maal Makkah laya; Aas bin Wa’il Sahmi ne qeemat ada na ki. Madad na mili. Zubair bin Abdul Muttalib ki tehreek par Banu Hashim, Zahrah aur Banu Asad Abdullah bin Jud‘aan ke ghar jama hue—aur yeh faisla hua:

“Zaalim ke khilaf mazloom ki madad, taqat-war se kamzor ka haq.”

Isi charter ke tehat mazloom ko uska haq dilaya gaya. Baad az Nabuwwat bhi aap ﷺ farmate rahe ke aaj bhi agar koi Hulf-ul-Fudool ke naam par pukare to main madad ko haazir hoon.


Hajar-e-Aswad ka Faisla: Hikmat aur Aman

Ka‘ba ki tameer ke dauran Hajar-e-Aswad ki nasb par qabeelon mein tanaza‘ barqarar hua. Khoon-rez jung ka khatra paida ho gaya. Faisla yeh hua ke darwaze se pehle aane wala faisla kare. Allah ki qudrat—pehle aane wale Rasoolullah ﷺ thay. Aap ﷺ ne kapra mangwaya, pathar us par rakhwaya, har qabeelay ko kona pakarne ko kaha; sab ne mil kar uthaya—phir aap ﷺ ne khud usay maqam par nasb kar diya. Khoon-rez hadsa tal gaya.


Tameer-e-Masajid mein Amal-an Shirkat

Qabl-e-Hijrat Ka‘ba ki tameer ho ya baad-e-Hijrat Masjid-e-Quba aur Masjid-e-Nabawi—aap ﷺ ne khud bhari pathar uthaye. Pehla pathar qibla ki janib aap ﷺ ne rakha.


Re‘ayat, Tawazu‘ aur Rehmat

— Madinah mein khauf ki awaaz par pehle khud jaa kar itmiinan diya
Ummahat-ul-Momineen ki khairiyat; ghar ke kaam mein madad
— Namaz ke baad logon ke bartan mein apna dast-e-mubarak daalna—sardi ke bawajood
— Bachiyon aur kamzoron ke saath nihayat narmi
— Beemaron ki ‘iyadat, janazay mein shirkat, ghulam ki da‘wat qubool

“Allah ka Rasool ﷺ apne doston mein imtiyaz pasand nahi farmate thay.”


Sakhaawat aur Insaf

— Sawaali ko kabhi na-na; na ho to qarz le kar bhi madad
Chadar ka waqia: dena—ta ke woh kafan ban sake
Kaneez ke do dirham ghum ho gaye—dirham bhi diye, khud usay ghar tak chhor kar aaye; malik ne khushi mein azad kar diya


Amanat aur Deen-dari

Ghair-muslim bhi aap ﷺ ki amanat-dari par bharosa karte. Hijrat ke waqt bhi amanatein aap ke paas theen—Hazrat Ali ko adaigi ka hukm diya; teen din mein sab amanatein wapas ho gayeen.


Rehmat-ul-Aalameen ka Rang

Yamamah ke ghallay par pabandi se Makkah mein qehat hua—logon ne likha. Aap ﷺ ke hukm par pabandi utha li gayi. Dushman bhi aap ﷺ ki rehmat se mehroom na rahe.


Nateeja:
Nabi-e-Akram ﷺ ne apni shan-e-Rehmat-ul-Aalameen se apnon aur beganon sab ko faiz-yaab kiya. Khush-naseebon ne da‘wat qubool ki, Allah ke farmanbardar bane, aur khidmat-e-khalq ko zindagi ka sh‘aar banaya.

Allah Ta‘ala humein bhi is par chalne ki taufeeq ata farmaye. Aameen.

Credits & Acknowledgements

Article Writing: از:مولاناعبدالحکیم شرف قادری (علیہ الرحمہ)
Post By: Maulana Mazhar Husain Alimi
Share This

Related Mazameen