مسئلہ اسراف وتبذیر تحقیقاتِ رضویہ کی روشنی میں
از: محمد توفیق احسنؔ برکاتی مصباحی
مسئلہ اسراف وتبذیر عالمی سطح پر اُمت مسلمہ کے لیے ایک چیلنج بھرا مسئلہ ہے جو تمام مسلمانوں کے لیے زندگی کی کئی جہات میں پیش قدمی کرنے میں سد راہ ثابت ہورہا ہے اور حد تو یہ ہے کہ اس سے نجات کی کوئی صورت دور دور تک دکھائی نہیں پڑتی، اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ اس خاص مسئلہ کو اس کے تمام گوشوں کے ساتھ واضح کیا جائے اور اس کے مالہ وماعلیہ کے اعتبار سے امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی تحقیقات جلیلہ کی روشنی میں گفتگو کی گنجائش نکالی جائے تاکہ ذرہ بھر اشکال وایراد باقی نہ رہے اور مسئلہ کی شفافیت سے نگاہیں خیرہ ہوں۔
فقیہ اسلام ، مجدد اعظم ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ نے ۱۳۲۷ھ میں طہارت میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے متعلق ایک خاص سوال کے جواب میں ایک تفصیلی وتحقیقی رسالہ ’’برکات السماء فی حکم اسراف الماء‘‘ کے نام سے تحریر فرمایا جو فتاویٰ رضویہ مترجم مطبوعہ گجرات ص: ۶۵۱ تا ۷۶۵، ج:۱؍ پر موجود ہے۔ ۱۱۵؍ صفحات پر مشتمل اس رسالے میںقرآنی آیات، نبوی احادیث وآثار، اقوال ائمہ وفقہا تصریحات شارحین احادیث اور مستند ومعروف کتب لغات سے ۲۹۰ کے قریب حوالہ جات کی کہکشاں جگمگارہی ہے جس میں مذکورہ مسئلہ کا شافی وکافی حل پیش کرنے کے ساتھ عنوان مقالہ کے تمام گوشوں پر تحقیقی انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے اور مسئلہ اسراف وتبذیر کاعمومی اور خصوصی جائزہ لیاگیا ہے جو اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے شاید کہ کہیں اور ملے، اس لیے ر اقم اس پوری بحث کا خلاصہ پیش کررہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
امام احمد رضا قادری نے اسراف کی کل گیارہ صورتیں نکالی ہیں اور پھر دلائل وشواہد ونظائر کی روشنی میں ان پر بحث وتمحیص کے دروا کیے ہیں، وہ گیارہ صورتیں درج ذیل ہیں:
(۱)غیر حق میںصرف کرنا (۲)حکم الٰہی کی حد سے بڑھنا (۳)ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرع مطہر یا مروت کے خلاف ہو (۴) طاعت الٰہی کے غیر میں اٹھانا (۵)حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرنا (۶)غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا (۷)دینے میں حق کی حد سے کمی یا بیشی (۸)ذلیل غرض میں کثیر مال اٹھا دینا (۹)حرام میں سے کچھ یا حلال کو اعتدال سے زیادہ کھانا (۱۰)لائق وپسندیدہ بات میں قدر لائق سے زیادہ اٹھادینا (۱۱) بے فائدہ خرچ کرنا۔
امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں:
’’اقول، اسراف کی تفسیر میں کلمات متعدد وجہ پر آئے (۱) غیر حق میں صرف کرنا، یہ تفسیر سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی، فریابی، سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ اوربخاری نے ادب المفرد میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو حاتم طبرانی، حاکم بافادہ تصحیح، بیہقی نے شعب الایمان میں اور یہ لفظ ابن جریر کے ہیں، ان تمام حضرات نے اللہ تعالیٰ کے قول ولاتبذر تبذیرا کی تفسیر میں فرمایا کہ : التبذیر فی غیر الحق وہو الاسراف یعنی تبذیر ناحق خرچ کو کہتے ہیں، یہی اسراف ہے۔ (تفسیر ابن جریر، مصری ص:۵۰ ج:۱۵)
اور اسی کے قریب ہے کہ وہ تاج العروس میں بعض سے نقل کیا: وضع الشی فی غیر موضعہ یعنی بے جا خرچ کرنا ۔
ابن ابی حاتم نے امام مجاہد تلمیذ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی:
لوانفقت مثل ابی قبیس ذہبا فی طاعۃ اللہ لم یکن اسرافاً ولوانفقت صاعا فی معصیۃ اللہ کان اسرافا۔
(ترجمہ) اگر تو اللہ کی فرماں برداری میں کوہ ابوقبیس کے برابر سونا خرچ کردے تو بھی اسراف نہ ہوگا اور اگر تو ایک صاع بھی اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرے تو اسراف ہوگا (تفسیر کبیر ، ص:۲۱۴، ج:۱۳)
امام احمد رضا نے جب اس مسئلہ کی ابتدا کی تو تنبیہ ۶ کے تحت فرمایا:
’’اسراف بلا شبہ ممنوع وناجائز ہے قال اللہ تعالیٰ: ولا تعسرفوا انہ لایحب المسرفین (بے جا خرچ نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بے جا خرچ کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا) قال اللہ تعالیٰ: ولاتبذرتبذیرا، ان المبذرین کانو اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا۔ مال بے جا نہ اڑا، بے شک بے جا مال اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (القرآن الکریم ۲۶،۲۷؍ ۱۷)اھ
اسراف کی وجہ اول بیان کرنے کے بعد امام احمد رضا نے حاتم کی کثرت داد ودہش کے تعلق سے ایک مکالمہ پیش فرمایا یہ وہی حاتم ہے جس کا نام سخاوت میں ضرب المثل ہے، فرماتے ہیں:
’’کسی نے حاتم کی کثرت داد ودہش پر کہا: لا خیر فی سرف، اسراف میں خیر نہیں، اس نے جواب دیا: لاسرف فی خیر، خیر میں اسراف نہیں۔
’’اقول حاتم کا مقصود تو خدا نہ تھا، نام تھا کما نص علیہ فی الحدیث، تو اس کی ساری داد ودہش اسراف ہی تھی مگر سخائے خیر میں بھی شرع مطہر اعتدال کا حکم فرماتی ہے، قال اللہ تعالیٰ: ولاتجعل ید ک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطہا کل البسط فتقعد ملوما محسورا (فرمان الٰہی ہے: اور تو اپنا ہاتھ اپنی گردن میں باندھ کر نہ رکھ اور نہ اس کو پوری طرح کھول دے ورنہ تو ملامت زدہ، حسرت زدہ ہوکر بیٹھ رہے گا)‘‘ (فتاویٰ رضویہ ص:۰ ۶۹، ج:۱)
آگے کی سطور میں بھی آیات قرآنیہ سے مسئلۂ اعتدال کو مبرہن کیا ہے اور غزوہ تبوک کے موقع پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکمِ تصدق پر حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم کے جذبہ مسابقت والے واقعہ کو بطور شاہد پیش کرکے امام نے لکھا کہ:
’’اور تحقیق یہ ہے کہ عام کے لیے وہی حکم میانہ روی ہے اور صدق توکل وکمال تبتل والوں کی شان بڑی ہے‘‘
اور پھر اسراف کی دوسری صورت کا تذکرہ فرمایا:
(۲)حکم الٰہی کی حد سے بڑھنا، یہ تفسیر ایاس بن معویہ بن قرہ تابعی ابن تابعی ابن صحابی کی ہے ابن جریر اور ابو الشیخ نے سفیان بن حسین سے ابوبشر سے روایت کی کہ لوگوں نے ایاس بن معویہ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا، اور ان سے دریافت کیا کہ اسراف کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ماتجاوزت بہ امر اللہ فہوا اسراف: وہ خرچ جس میں تم اللہ کے حکم سے تجاوز کرو وہ اسراف ہے (ابن جریر، مصر ص۴۲، ج۸)
اور اسی کی مثل اہل لغت سے ابن الاعرابی کی تفسیر کما سیاتی من التفسیر الکبیر۔
تعریفات السید میں ہے:
الاسراف تجاوز الحد فی النفقۃ (نفقہ میں حد سے تجاوز کرنا اسراف ہے) (فتاویٰ رضویہ ص:۶۹۱، ۶۹۲، ج:۱)
اوراسراف کی تیسری صورت کو یوں واضح فرمایا ساتھ ہی حکم بھی بیان کیا، فرماتے ہیں:
(۳)ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرع مطہر یا مروت کے خلاف ہو، اول حرام ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی،
طریقہ محمدیہ میں ہے، الاسراف والتبذیر ملکۃ بذل المال حیث یجب امساکہ بحکم الشرع أوا لمروۃ وہی رغبۃ صادقۃ للنفس فی الافادۃ بقدر مایمکن وھما فی مخالفۃ الشرع حرامان وفی مخالفۃ المروۃ مکرومان تنزیہاً (طریقہ محمدیہ، ص:۲۸، ج:۲)
(ترجمہ) اسراف اور تبذیر مال کو ایسے مقام پر خرچ کرنے کا ملک ہے جہاں اس کو بحکم شرع یا بحکم مروۃ رو کے رکھنا واجب ہے، اور مروۃ یہ رغبت صادقہ ہے نفس کی امکانی حد تک کسی کو فائدہ پہونچانے کے لیے اور یہ دونوں چیزیں مخالفت شرع میں حرام ہیں اور مخالفت مروۃ میں مکروہ تنزیہی ہیں۔
امام احمد رضاقادری نے صورت مذکورہ کو دلائل سے واضح کرنے کے بعد بطور خلاصہ تحریر فرمایا:
’’اقول وباللہ التوفیقآدمی کے پاس جو مال زائد بچا ہے اور اس نے ایک فضول کام میں اٹھادیا جیسے بے مصلحت شرعی مکان کی زینت وآرائش میں مبالغہ، اس سے اسے تو کوئی نفع ہوا نہیں اوراپنے غریب مسلمان بھا ئیوں کو دیتاتو ان کو کیسا نفع پہنچتا تو اس حرکت سے ظاہر ہواکہ اس نے اپنی بے معنی خواہش کو ان کی حاجت پر مقدم رکھا اور یہ خلاف مروت ہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ص:۶۹۳، ج:۱)
چوتھی صورت ووجہ کو یوں بیان فرمایا:
(۴)طاعت الٰہی کے غیر میں اٹھانا۔ قاموس میں ہے: الاسراف التبذیر اوما انفق فی غیر طاعۃ، اسراف فضول خرچی ہے یا غیر طاعت میں خرچ کرنا ہے۔ (قاموس المحیط ص:۱۵۶، ج:۳)
رد المحتار میں اسی کی نقل پر اقتصار فرمایا اقول ظاہر ہے کہ مباحات نہ طاعت ہیں نہ ان میں خرچ اسراف مگر یہ کہ غیر طاعت سے خلاف طاعت مراد لیں تو مثل تفسیر دوم ہوگی‘‘ (رضویہ ص:۶۹۳، ج:۱)
اور اسراف کی پانچویں صورت اس طرح واضح کی:
(۵)حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرنا، کما تقدم فی صدر البحث عن الحلیہ والبحر وتبعہما العلامۃ الشامی اورچھٹی صورت کی وضاحت میں تحریر فرماتے ہیں:
(۶)غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا، نہایہ اثیر ومجمع بحار الانوار میں ہے: الاسراف والتبذیر فی النفقۃ لغیر حاجۃ او فی غیر طاعۃ اللہ تعالیٰ،اسراف اور تبذیر بغیر ضرورت خرچ یا غیر طاعت خداوندی میں خرچ۔
ساتویں صورت میں رقم طراز ہیں:
(۷) دینے میں حق کی حد سے کمی یا بیشی، تفسیر ابن جریر میں ہے: الاسراف فی کلام العرب الاخطاء باصابۃ الحق فی العطیۃ اما بتجاوزہ حدہ فی الزیادۃ واما بتقصیر عن حدہ الواجب، کلام عرب میں اسراف کے معنی عطیہ دینے میں حق کو چھوڑ دینے کے ہیں یا حد سے تجاوز کرنے میں یا حد واجب سے تقصیر کرنے میں‘‘
آگے مزید ارقام فرماتے ہیں:
’’اقول یہ عطا کے ساتھ خاص ہے اور اسراف کچھ لینے دینے میں ہی نہیں، اپنے خرچ کرنے میں بھی ہے‘‘ (ص:۶۹۵، ج:۱)
آٹھویں کے ذیل میں فرماتے ہیں:
(۸)ذلیل غرض میں کثیر مال اٹھا دینا۔ تعریفات السید میں ہے: الاسراف انفاق المال الکثیر فی الغرض الخسیس، اسراف مال کثیر کا گھٹیا مقصد کے لیے خرچ کرنا۔
پھر اس تعریف پر تنقید کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
’’اقول یہ بھی جامع نہیں: بے غرض محض تھوڑا مال ضائع کردینا بھی اسراف ہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ ص:۶۹۵، ج:۱)
خاص کھانے سے متعلق اسراف کی نویں صورت پیش کرتے ہیں:
(۹) حرام میں سے کچھ یا حلال کو اعتدال سے زیادہ کھانا، حکاہ السیدقلیلا‘‘
اوردسویں صورت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
(۱۰) لائق وپسندیدہ بات میں قدر لائق سے زیادہ اٹھا دینا، تعریفات علامہ شریف میں ہے: الاسراف صرف الشی فیما ینبغی زائد علی ما ینبغی بخلاف التبذیر فانہ صرف الشی فیما لاینبغی۔
اسراف جہاں خرچ کرنا مناسب ہو وہاں زائد خرچ کردینا ہے اور تبذیر یہ ہے کہ جہاں خرچ کی ضرورت نہ ہو وہاں خرچ کیا جائے (التعریفات ص۱۰)
آگے علامہ شریف کے ذریعہ بیان کردہ لفظ ینبغی، لاینبغی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’اقول ینبغی کا اطلاق کم از کم مستحب پرآتا ہے اوراسراف مباح خالص میں اس سے بھی زیادہ ہے، مگر یہ کہ جو کچھ لاینبغی نہیں سب کو ینبغی مان لیں کہ مباح کا موں کو بھی شامل ہوجائے ولیس ببعید، اورعبث محض اگرچہ بعض جگہ مباح بمعنی غیر ممنوع ہو مگر زیر لاینبغی داخل ہے تواس میں جو کچھ اٹھے گا اس تفسیر پر داخل تبذیر ہوگا۔‘‘
گیارہویں اورآخری صورت کو یوںنمایاں فرمایا:
(۱۱) بے فائدہ خرچ کرنا، قاموس میں ہے: ذہب ماء الحوض سرفا فاض من نواحیہ (جب حوض کا پانی اس کے کناروں سے بہہ نکلے تو کہتے ہیں کہ پانی سرف چلا گیا)تاج العروس میں ہے:: قال شمر: سرف الماء ماذہب منہ فی غیر سقی ولانفع یقال اروت البئر النخیل وذہب بقیۃ الماء سرفا (شمر نے کہا :سرف الماء کے معنی یہ ہیں کہ پانی سیرابی اور نفع کے بغیر ضائع ہوگیا۔ کہتے ہیں اروت البئر النخیل وذہب بقیۃ الماء سرفا)
تفسیر کبیر وتفسیر نیشاپوری میںہے:
(ترجمہ) جاننا چاہئے کہ اہل لغت کا اسراف کی تفسیر میں اختلاف ہے اس میں دو قول ہیں، ابن العربی نے کہا کہ السرف جو حد ہے اس سے زیادہ خرچ کرنا، شمر نے کہا کہ سرف سے مرادیہ ہے کہ مال کا منفعت کے غیر میں خرچ ہونا‘‘
اسراف کی گیارہ صورتیں بیان کرلینے کے بعد امام احمد رضا فیصلہ کن انداز میں بڑی محقق بات تحریرفرماتے ہیں:
’’ہمارے کلام کا ناظر خیال کرسکتا ہے کہ ان تمام تعریفات میں سب سے جامع ونافع وواضح تر تعریف اول ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ اس عبداللہ کی تعریف ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی گھڑی فرماتے اور جو خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بعد تمام جہان سے علم میںزائد ہے اور جو ابو حنیفہ جیسے امام الائمہ کا مورث علم ہے، رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنہم اجمعین‘ (فتاویٰ رضویہ ،ص: ۶۹۶، ج:۱)
امام احمد رضا قدس سرہ نے تبذیر کے باب میں علما کے دو قولوں کی وضاحت کی ہے (۱)تبذیر اور اسراف دونوں کے معنی ناحق صرف کرنا ہے، امام نے اسی کو صحیح کہا ہے اور یہی قول عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور عامہ صحابہ کا ہے پھر اس کے بعد امام احمد رضا نے ابن جریر، نہایہ اثیر،مختصر امام سیوطی، قاموس المحیط کی عبارتیں بطورحوالہ نقل کی ہیں۔(۲)تبذیرواسراف میں فرق ہے،تبذیرخاص معاصی میںمال بربادکرنے کانام ہے دونوں میں فرق وتبائن کے حوالے سے بھی امام نے ابن جریر، تاج العروس اور عنایۃ القاضی وغیرہا کتابوں سے اقتباس پیش فرماتے ہیں۔
مسئلۂ اسراف وتبذیر سے متعلق امام احمدرضا قدس سرہ کی تحقیقات انیقہ سے استفادہ کرنا، اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا، اسراف وتبذیر کی قباحت وشناعت سے اپنا دامن پاک وصاف رکھنا اور اعتدال ومیانہ روی کے ساتھ زندگی میں ہر عمل خیر کرنا امت مسلمہ کے لیے ہر فرد کے لیے لازمی وضروری ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔آمین۔
Masla-e-Israaf o Tabzeer
Tahqiqqaat-e-Razviyah ki Roshni Mein