Minara Masjid Minara Masjid

Hazrat Asma bint Abu Bakr Siddiq

| February 5, 2026 3 min read 5 views

حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما

جن کی ذات سے اسلام کوبہت تقویت پہنچی

آفتابِ رسالت، ماہتابِ نبوت، جناب احمدِ مجتبیٰ ارواحنا فداہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل عورت کامعاشرے میں کوئی مقام ومرتبہ نہیں تھا مختلف ملکوں میں عورت کو مختلف انداز میں دیکھا جاتاتھا۔ مشرق میں عورت مرد کے دامنِ تقدس کاداغ سمجھی جاتی تھی، روما اس کو گھر کا اثاثہ سمجھتا تھا، یونان اسے شیطان تصور کرتا تھا، تورات اس کو لعنتِ ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغِ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے اوریوروپ اس کو خدا یا خدا کے برابر مانتا ہے لیکن اسلام کانقطۂ نظر ان سب سے مختلف ہے اسلام نے مرد کی طرح عورت کے بھی حقوق متعین فرمائے بلکہ اس صنف نازک کو مرد کے برابر درجہ دے کر مکمل انسانیت قرار دیا۔عورتوں نے بھی مردوں کی طرح عظیم کارنامے انجام دیے اور جس طرح مردوں نے اشاعتِ اسلام میں اپنی قربانیاں پیش کیں اسی طرح عورتیں بھی اشاعت اسلام میں سر فہرست نظر آتی ہیں۔ جن مقدس خواتین نے مذہبی، علمی، عملی اور سیاسی خدمات پیش کیں ان میں ایک اہم نام حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کا ہے۔ اس مضمون میں ہم آپ کی زندگی کے چند درخشاں پہلو پیش کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔

نام ونسب:ـ

آپ کا نام اسماء ، کنیت ذات النطاقین ہے آپ یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں۔ والدہ کا نام قتیلہ بنت عبدالعزیٰ تھا۔آپ ہجرت سے ۲۷؍ سال قبل مکہ شریف میں پیدا ہوئیں۔( ۱)

قبولِ اسلام:

اپنے شوہر حضرت زبیر بن العوام کی طرح انہوں نے بھی قبولِ اسلام میں پہل کی حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ قبولِ اسلام میں حضرت اسماء کا اٹھارہواں نمبر تھا۔( ۲)

فضل وشرف:

رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رفیقِ سفر تھے۔ آپ دوپہر میں ان کے گھر تشریف لے گئے اور ہجرت کر جانے کا خیال ظاہر فرمایا۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے زادِ راہ تیار کیا، دو تین دن کا کھانا ناشتے دان میں رکھا، نِطاق جس کو عورتیں کمر میں لپیٹتی ہیں پھاڑ کر اس سے ناشتے دان کا منہ باندھا۔ یہ وہ عظیم شرف تھا جس کی بنا پر آج بھی آپ کو ذات النطاقین کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے۔( ۳)

جب حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کر گئے تو ابوجہل آپ کے پاس پہنچا اور دریافت کیا کہ تمہارے والد کہاں ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ یہ سن کر ابوجہل نے آپ کو ایسا طمانچہ مارا جس سے آپ کے کان کی بالی زمین پر گر گئی۔ مظلوم خاتون بڑے صبر اور خاموشی کے ساتھ گھر میں چلی گئیں اور ابوجہل بکتا چلّاتا وہاں سے چلا گیا۔ آپ نے فرعونِ قریش کے قہر وغضب کی مطلق پروانہ کی اور ہجرت کے پر خطر راز کو اپنے نہاں خانۂ دل میں محفوظ رکھا۔

ہجرت کے بعد اتفاق سے عرصے تک کسی مہاجر کے یہاں کوئی اولاد نہ ہوئی اس پر یہودِ مدینہ نے یہ مشہورکردیا کہ ہم نے مسلمانوں پر جادو کردیا ہے اور ان کا سلسلۂ نسب منقطع کردیا ہے۔ یہی دن تھے کہ سن ۱؍ ہجری میں حضرت اسماء کے بطن سے حضرت عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے گویا ہجرت کے بعد وہ مسلمانوں کے نومولودِ اول تھے۔ مسلمانوں کو حضرت عبداللہ بن زبیر کی ولادت پر بے انتہا مسرت ہوئی اور انہوں نے فرطِ انبساط میں اس زور سے نعرہائے تکبیر بلند کیے کہ دشت وجبل گونج اٹھے۔ یہودی سخت نادم وشرمسارہوئے کیوں کہ ان کے دجل وفریب کا پردہ چاک ہوگیا۔

حضرت اسماء بچے کو گود میںلے کر بارگاہِ رسول میں حاضر ہو ئیں آپ نے بچے کو اپنی آغوش مبارک میں لیا ایک کھجور اپنے دہنِ مبارک میں لے کر چبائی اور پھر اسے لعابِ دہن کے ساتھ ملا کر ننھے عبد اللہ کے منہ میں ڈالی پھر حضور نے بچے کے لیے دعاے خیر وبرکت فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر جب جوان ہوئے تو حضرت اسماء ان کے پاس رہنے لگیں کیوںکہ حضرت زبیر نے ان کو طلاق دے دی تھی۔

حضرت عبداللہ بن ز بیر نے چوں کہ گھٹی میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لعابِ دہن نوش فرمایاتھا اس لیے جب آپ سنِ شعور کو پہنچے تو فضائل و اخلاق کے پیکرِ مجسم تھے۔

جرأت واستقلال

ادھر سلطنتِ بنو امیہ کافرماں روا (یزید) سرتاپا فسق وفجور میںمبتلا تھا حضرت عبداللہ نے اس کی بیعت سے صاف انکار کردیا۔ مکہ میں اقامت گزیں ہوئے اور وہیں سے اپنی خلافت کی صدا بلند کی چوں کہ آپ کی عظمت وجلالت کا ہر شخص معترف تھا اس لیے تمام دنیاے اسلام نے اس صدا پر لبیک کہا اور ملک کا بڑا حصہ ان کے علَم کے نیچے آگیا لیکن جب عبدالملک بن مروان تخت نشین ہوا تو اس نے اپنی حکمتِ عملی سے بعض صوبوں پر قبضہ کرلیا اور حضرت عبداللہ بن زبیر کے مقابلے کی تیاریاں کیں۔ شامی لشکر نے کعبۂ مقدسہ کا محاصرہ کیا تو حضرت عبداللہ اپنی والدہ کے پاس آئے اس وقت وہ بیمار تھیں۔ حال دریافت کیا تو بولیں کہ بیمار ہوں۔ کہا: آدمی کو موت کے بعد آرام ملتا ہے۔ حضرت اسماء نے فرمایا :ـ شایدتمہیں میری موت کی تمنا ہے لیکن میں ابھی مرنا پسند نہیں کرتی میری تمنا یہ ہے کہ تم لڑ کر قتل کیے جاؤ اور میں صبر کروں یا تم کامیاب ہو اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہنس کر چلے گئے۔ شہادت کا موقع آیا تو دوبارہ ماں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صلح کے تعلق سے مشورہ کیا۔ بولیں: بیٹا! قتل کے خوف سے ذلت آمیز صلح بہتر نہیں اس لیے کہ عزت کے ساتھ تلوار مارنا ذلت کے ساتھ کوڑا مارنے سے بہتر ہے۔ آپ نے والدہ کے حکم کی تعمیل کی اور لڑ کر جامِ شہادت نوش فرمایا۔ حجاج نے ان کی نعش کو سولی پر لٹکا دیا تین روز گزر گئے تو حضرت اسما ء اپنی ایک کنیز کو لے کر اپنے بیٹے کی نعش پر آئیں۔ نعش الٹی لٹکی تھی دل تھام کر اس ہولناک منظر کو دیکھا اور نہایت استقلال سے کہا ’’کیا اس سوار کے گھوڑے سے اترنے کا ابھی وقت نہیں آیا‘‘۔

حجاج کو چھیڑ منظور تھی اس نے ایک شخص کوبھیجا کہ وہ ان کو بلا کر لائے۔ حضرت اسماء نے انکار کردیا اس نے پھر آدمی کو بھیجا کہ ابھی خیریت ہے ورنہ اب جسے بھیجا جائے گا وہ بال پکڑ کر گھسیٹ لائے گا۔ حضرت اسماء نے جواب دیا کہ میں نہیں جاسکتی۔ حجاج نے مجبوراً خود جوتا پہنا اور حضرت اسماء کی خدمت میں آیا اور حسب ذیل گفتگو ہوئی۔

حجاج نے کہا: بتاؤ میں نے دشمنِ خدا کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟

حضرت اسماء نے کہا: تونے ان کی دنیا خراب کردی اور انہوں نے تیری عاقبت خراب کی۔ میں نے سنا ہے کہ تو از راہِ طنز انہیں ذات النطاقین کا بیٹا کہتا ہے قسم خدا کی! ذات النطاقین میں ہی ہوں۔ میںنے ایک نطاق میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ابوبکر کا کھانا باندھاتھا اور دوسرے کو کمر میں لپیٹتی تھی لیکن سن! میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ثقیف میں ایک کذّاب اور ایک ظالم پیداہوگا کذّاب کوتو دیکھ چکی اور ظالم تو ہے۔ حجاج نے یہ حدیث سنی تو چپکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ( ۴)

چند دنوں کے بعد عبدالملک کا حکم پہنچاتو حجاج نے نعش اتروا کر یہود کے قبرستان میں پھنکوادی۔ حضرت اسماء نے نعش اٹھواکر گھر منگوائی اور غسل دلوا کر جنازے کی نماز پڑھی۔ حضرت عبداللہ کا جوڑ جوڑ الگ ہوگیاتھا۔ غسل دینے کے لیے کوئی عضو اٹھایا جاتا تو ہاتھ کے ساتھ چلا آتا تھا لیکن حضرت اسما ء نے یہ کیفیت دیکھ کر صبر کیا کہ خدا کی رحمت ان ہی پارہ پارہ ٹکڑوں پر نازل ہوتی ہے۔

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا دعا کرتی تھیں کہ جب تک میں عبداللہ کی نعش نہ دیکھ لوں مجھے موت نہ آئے۔ آپ کی یہ دعا قبول ہوچکی تھی چنانچہ حضرت ابن زبیر کی شہادت کا ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر سو سال تھی باوجود اس کے آپ کا ایک دانت بھی نہیں گرا تھا اور ہوش وحواس بالکل درست تھے۔ (۵)

اخلاق وعادات:ـ

حضرت اسماء جب مدینۂ منورہ میں مقیم ہوئیں تو چند سال نہایت عسرت وتنگی میں بسر کیے۔ اس وقت آپ کے شوہر حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نہایت مفلس اور تنگ دست تھے اور ان کی ساری متاع لے دے کر ایک گھوڑے اور ایک اونٹ پر مشتمل تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں نخلستانِ بنو نضیر میں کچھ زمین بطور جاگیر عطا فرمائی تھی چنانچہ شروع شروع میں وہ کاشت کرکے اپنی معاش کا سامان پیدا کرتے تھے۔ یہ زمین مدینۂ منورہ سے تین فرسنگ کی مسافت پر تھی۔ حضرت اسماء روزانہ وہاں سے کھجور کی گٹھلیاں جمع کرکے لاتیں، انہیںکوٹ کوٹ کر اونٹ کو کھلاتیں، گھوڑے کے لیے گھاس مہیا کرتیں، پانی بھرتیں، مشک پھٹ جاتی تو اس کو سیتیں۔ ان کاموں کے علاوہ گھر کا دوسرا سب کام بھی خود ہی انجام دیتی تھیں۔ روٹی اچھی طرح نہ پکا سکتی تھیں پڑوس میں چند انصاری خواتین تھیں وہ از راہِِ محبت واخلاص ان کی روٹیاں پکا دیتی تھیں۔(۶)

شروع شروع میں حضرت اسماء غربت وافلاس کے باعث ہر چیز ناپ تول کر خرچ کرتی تھیں۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حضرت اسما ء سے فرمایا:اسماء! ناپ تول کر مت خرچ کیا کرو ورنہ اللہ تبارک وتعالیٰ بھی نپی تلی روزی دے گا۔(۷)

 حضرت اسماء نے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو حرزِ جاں بنالیا اور فراخ دلی سے خرچ کرنے لگیں۔ خدا کی قدرت کہ اسی وقت سے حضرت زبیر کی آمدنی بڑھنے لگی اور قلیل عرصے میں ہی ان کے گھر میں دولت کی فراوانی ہوگئی۔

سخاوت وفیاضی:

 

آسودہ حالی کے بعد بھی حضرت اسماء نے اپنی سادہ وضع ترک نہ کی، ہمیشہ روکھی سوکھی روٹی سے پیٹ بھر تیں اور موٹے کپڑے پہنتیں البتہ اپنی دولت کو نیک کاموں میں بے دریغ خرچ کرتی تھیں۔ جب کبھی آپ بیمار ہوتیں تمام غلاموں کو آزاد کردیتیں۔ اپنے بچوں کو ہمیشہ ہدایت کرتی تھیں کہ مال جمع کرنے کے لیے نہیںہوتا بلکہ حاجت مندوں کی امداد کے لیے ہوتا ہے۔ اگر تم بخل کروگے تو اللہ عزوجل تمہیں اپنے فضل وکرم سے محروم رکھے گا ہاں! جو صدقہ کروگے اور راہِ خدا میں خرچ کرو گے وہ تمہارے کام آئے گا کہ اس ذخیرے کے ضائع ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں۔

حضرت عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ میں نے اپنی ماں سے بڑھ کر کسی کو فیاض نہیں دیکھا۔ ایک ر وایت میں ہے کہ میں نے اپنی خالہ حضرت عائشہ اور والدہ اسماء سے زیادہ سخی نہ دیکھا فرق یہ تھا کہ حضرت عائشہ تھوڑا تھوڑاجمع کرتی تھیں جب کچھ رقم ہوجاتی تھی تو سب کی سب راہِ خدا میں لٹا دیتی تھیں اور حضرت اسما ء جو کچھ پاتی تھیں اسی وقت تقسیم کردیتی تھیں۔

حضرت اسماء راسخ العقیدہ مسلمان تھیں لیکن ان کی والدہ قتیلہ بنت عبدالعزیٰ دولتِ اسلام سے محروم تھیں اسی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ہجرت سے پہلے طلاق دے دی تھی۔ ایک مرتبہ ان کی ماں مدینہ منورہ آئیں اوران سے روپیہ مانگا حضرت اسماء نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت کیا کہ وہ مشرک ہیں کیا ایسی حالت میں ان کی مدد کرسکتی ہوں؟ حضور نے ارشاد فرمایا: ہاں (اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو) ۔(۸)

عبادت وریاضت: 

حضرت اسماء کمال درجے کی عابدہ اور زاہدہ تھیں۔ کثرتِ عبادت کی وجہ سے ان کے تقدس کا عام شہرہ ہوگیاتھا اور طرح طرح کے مریض ان کے پاس دعاے خیر کرانے آتے تھے۔ اگر کوئی بخار کا مریض آتا تھا تو اس کے لیے دعا کرتیں اور پھر اس کے سینے پر پانی چھڑکتیں اللہ تعالیٰ اسے شفا دے دیتا۔ حضرت اسماء نے کئی حج کیے تھے پہلا حج حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ کیاتھا اس میں جو کچھ دیکھا تھا ان کو بالکل یاد تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ایک دفعہ حج کے لیے گئیں اور مزدلفہ میں ٹھہریں تو رات کو نماز پڑھی پھر اپنے غلام سے پوچھا’’ چاند چھپ گیا؟‘‘ اس نے کہا ’’نہیں‘‘۔ جب چاند غروب ہوگیاتو بولیں ’’اب رمی کے لیے چلو‘‘۔ رمی کے بعد پھر واپس آئیں اور صبح کی نماز پڑھی۔ اس نے کہا آپ نے بڑی عجلت کی۔ فرمایا’’ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پردہ نشینوں کو اس کی اجازت دی ہے‘‘۔ جب کبھی مقامِ حجون سے گزرتیں، کہتیں کہ ہم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانے میں یہاں ٹھہرتے تھے اس وقت ہمارے پاس بہت کم سامان تھا ہم نے اور عائشہ اور زبیر (رضی اللہ عنہم) نے عمرہ کیاتھا اور طواف کرکے حلال ہوئے تھے۔ (۹)

علم وفضل: 

حضرت اسماء نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ۵۶؍ حدیثیں روایت کی ہیں جن میں سے ۲۲ ؍صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہیں بقیہ سنن میں موجود ہیں۔(۱۰)

آپ کی روایت کردہ چند احادیث:

 

حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے۔ انہوں نے ایک کسروانی جبہ نکالاجس کاگریبان دیباج کاتھااور دونوں چاکوں میں دیباج کی گوٹ لگی ہوئی تھی اور یہ کہاکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاجبہ ہے جوحضرت عائشہ کے پاس تھاجب حضرت عائشہ کاانتقال ہوگیامیں نے لے لیا۔حضور اسے پہناکرتے تھے اور ہم اسے دھوکر بیماروں کوبغرضِ شفاپلاتے ہیں۔(۱۱)

حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول !میں اگر اپنی سوکن کی موجودگی میں یہ کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے دیاہے حالاں کہ انہوں نے نہیں دیاہے توکیامیرایہ کہنادرست ہے؟نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جوایسی چیز کا دیا جانا ظاہر کرے جودیانہیں گیاہے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے جھوٹ کالباس پہناہو۔(۱۲)

حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ سورج گرہن کے روزحضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (نمازکسوف سے) فارغ ہوگئے تواللہ تعالیٰ کی حمدوثنابیان کی پھرفرمایا:کوئی ایسی چیزنہیں جومیں نے نہیں دیکھی تھی مگر اس جگہ پر دیکھ لی یہاں تک کہ جنت ودوزخ بھی ،اور مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاراامتحان ہوگادجال کے فتنے جیسی آزمائش یااس کے قریب (راوی کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سی بات فرمائی)تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتہ آئے گااس سے کہاجائے گاکہ اس شخص (حضور ) کے متعلق توکیاجانتاہے ؟صاحب ایمان کہے گا:یہ اللہ کے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیںجوہمارے پاس نشانیاں اور ہدایت کے ساتھ تشریف لائے ،ہم نے ان کی تصدیق کی ،ان پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کی ۔اس صاحب ایمان سے کہاجائے گاکہ آرام سے سوجاہمیں معلوم تھاکہ توایمان والاہے ۔اور اگروہ منافق یاشک کرنے والاہوگاتوکہے گا:مجھے نہیں معلوم میں لوگوں کوجوکچھ کہتے ہوئے سنتاتھاوہی کہہ دیتاتھا۔(۱۳ )

 حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہمابیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا:یارسول اللہ ! میری بیٹی کے چیچک نکلی تھی اور اس کے بال جھڑ گئے ہیں اور اب میں نے اس کی شادی کی ہے توکیامیں اس کے بالوں میں مصنوعی بال جوڑدوں؟سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:بالوں میں جوڑ لگانے اور لگوانے والیوں پر اللہ کی لعنت۔(۱۴)

حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)میرے شکم میں تھے اور جب میں (ہجرت کی خاطرمکہ سے)نکلی توپورے دنوں سے تھی اور مدینہ جاتے ہوئے قبامیں قیام کیاتوقبامیں حضرت عبداللہ بن زبیر پیداہوئے ۔ پھر میں انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور میں نے عبداللہ کوحضور کی آغوشِ مبارک میں دے دیاتوآپ نے ایک کھجورمنگوائی اور چباکراسے عبداللہ کے منھ میں ڈال دیا۔اس طرح حضرت عبداللہ کے پیٹ میں جوچیزسب سے پہلے گئی وہ رسولِ کریم کالعاب دہن تھا۔آپ نے انہیں کھجور کی گھٹی دی اور اس کے بعد ان کے لیے دعاکی اور فرمایا:اے اللہ !اس بچے کوبرکت عطافرمااور (ہجرت کے بعدمدینہ میں ) مسلمانوں کے گھر پیداہونے والایہ پہلابچہ تھا۔(۱۵)

حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہاروایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:میں حوض پر موجودہوں گااور تم میں سے ہر آنے والے کودیکھوں گااور کچھ لوگوں کومیرے پاس آنے سے روک دیاجائے گاتومیں کہوں گااے میرے رب!یہ تو میرے لوگ ہیں ،میرے امتی ہیں۔تومجھ سے کہاجائے گاکہ آپ کو معلوم ہے کہ اِن لوگوں نے آپ کے بعدکیاکیاتھا؟یہ لوگ آپ کے بعدہمیشہ جاہلیت کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتے رہے ۔یہ حدیث بیان کرکے حضرت ابوملیکہ کہاکرتے تھے:اے اللہ !ہم اس بات سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں کہ ہم پھر ایڑیوں کے بل پلٹ جائیں اور اپنے دین کے معاملے میں فتنے میں مبتلاہوں۔(۱۶)

اللہ رب العزت آج کی ہماری مسلم خواتین کوان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دینِ متین کی بیش بہاخدمات کی توفیق بخشے۔آمین

حوالہ جات 

 

۱)مجمع الزوائد، حصہ ۹، صفحہ ۲۶۰

۲)حاشیہ کنز العمال، جلد ۳، صفحہ ۳۸۸

۳)بخاری شریف، حدیث: ۵۸۰۷، باب التقنع

۴)مسلم شریف، حدیث: ۶۶۶۰، باب ذکر کذاب ثقیب و مبیرہا

۵) عظماء الاسلام،محمدسعیدمرسی،موسسہ اقرأ قاہرہ

۶)مسلم شریف، حدیث: ۵۸۲۱، باب جواز ارداف المراۃ الاجنبیۃ

۷)بخاری شریف، حدیث: ۱۴۳۴، باب الصدقۃ فی ما استطاع

۸)بخاری شریف، حدیث: ۲۶۲۰، باب الہدیۃ للمشرکین

۹)بخاری شریف، حدیث: ۱۷۹۶، باب متی یحل المعتمر

۱۰)عظماء الاسلام،محمدسعیدمرسی،موسسہ اقرأ قاہرہ

۱۱)مسلم شریف، حدیث: ۵۵۳۰، باب تحریم اناء الذہب و الفضۃ

۱۲)ابو دائود شریف، حدیث: ۴۹۹۹، باب فی المتشبع بما لم یعط

۱۳)بخاری شریف، حدیث: ۹۲۲، باب من قال فی الخطابۃ بعد الثناء اما بعد

۱۴)بخاری شریف، حدیث: ۵۹۳۵، باب الوصل فی الشعر

۱۵)بخاری شریف، حدیث: ۳۹۰۹، باب ہجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ

۱۶)بخاری شریف، حدیث: ۶۵۹۳، باب فی الحوض

{۔۔۔۔۔۔}

 

Jinki Zaat se Islam ko Bohat Taqwiyat Pohnchi

Az: Muzhhar Husain Alimi


Muqaddima
Aaftab-e-Risalat, Mahtab-e-Nubuwwat, Janab Ahmad-e-Mujtaba ﷺ ki tashreef aawri se pehle aurat ka muashray mein koi maqam-o-martaba na tha. Mukhtalif mumalik mein aurat ko mukhtalif andaz se dekha jata tha. Mashriq mein aurat mard ke daaman-e-taqaddus ka daagh samjhi jati thi, Roma use ghar ka asaas samajhta tha, Yunan use shaitan tasawwur karta tha, Torah use laanat-e-abdi ka mustahiq qaraar deti hai, Kaleesa use bagh-e-insaniyat ka kaanta samajhta hai aur Europe use Khuda ya Khuda ke barabar maanta hai.

Lekin Islam ka nuqta-e-nazar in sab se bilkul mukhtalif hai. Islam ne mard ki tarah aurat ke bhi huqooq muta‘ayyan farmae, balke is صنفِ نازک ko mard ke barabar darja de kar mukammal insaniyat qaraar diya. Auraton ne bhi mardon ki tarah azeem kaarnamay anjaam diye aur isha‘at-e-Islam mein apni la-misal qurbanian pesh keen. In muqaddas khawateen mein aik aham naam Hazrat Asma bint Abu Bakr Siddiq RA ka hai. Is mazmoon mein unki zindagi ke chand darakhshan pehlu pesh kiye ja rahe hain.


Naam o Nasab

Aap ka naam Asma hai, kunniyat Zaat-un-Nitaqain hai. Aap Yaar-e-Ghaar Hazrat Abu Bakr Siddiq RA ki sahibzadi hain. Walida ka naam Qutaila bint Abdul Uzza tha. Aap hijrat se 27 saal qabl Makkah Mukarramah mein paida huiں۔


Qubool-e-Islam

Apne shohar Hazrat Zubair bin Awam RA ki tarah aap ne bhi Islam qabool karne mein sabqat hasil ki. Hazrat Zubair RA Ashra-e-Mubashshara mein se hain. Qubool-e-Islam mein Hazrat Asma ka 18waan number tha.


Fazl o Sharaf

Jab Rasool-e-Akram ﷺ ne Makkah se Madinah Munawwarah ki taraf hijrat farmayi to Hazrat Abu Bakr RA rafiq-e-safar the. Hijrat ke mauqe par Hazrat Asma RA ne zada-e-rah tayar kiya aur apna nitaq phaad kar khanay ke thailay ka munh bandha. Isi azeem khidmat ki bina par aap Zaat-un-Nitaqain ke laqab se mashhoor huiں۔

Hijrat ke baad Abu Jahl ne aap se aap ke walid ke bare mein poocha aur na batane par aap ko zor ka thappar maara, jis se kaan ki baali gir gayi. Magar aap ne hijrat ke raaz ko seene mein mehfooz rakha aur sabr-o-istiqamat ki misal qaim ki.

Hijrat ke baad Madinah mein kai arsay tak kisi muhajir ke yahan aulaad paida na hui. Yahood ne propaganda kiya ke hum ne jadoo kar diya hai. Isi dauran 1 Hijri mein Hazrat Asma ke yahan Hazrat Abdullah bin Zubair RA paida hue, jo hijrat ke baad Musalmanon ke pehle nou-moulud the. Rasool-e-Akram ﷺ ne unhein apni aaghosh mein le kar khajoor chaba kar ghutti di aur barakat ki dua farmayi.


Jurat o Istiqlal

Jab Yazeed ki bay‘at ka mutalba hua to Hazrat Abdullah bin Zubair RA ne inkaar kar diya. Makkah mein qiyam ke dauran jab Shaami lashkar ne Ka‘ba ka muhasira kiya to Abdullah apni walida ke paas aaye. Hazrat Asma ne wazeh alfaaz mein farmaya:
“Zillat ki sulah se izzat ki shahadat behtar hai.”

Shahadat ke baad jab unki laash ko sooli par latkaya gaya to Hazrat Asma RA ne kamaal-e-sabr se farmaya:
“Kya is sawar ke ghode se utarne ka waqt abhi nahi aaya?”

Hajjaj bin Yusuf se guftagu mein aap ne be-baaki se haq bayan kiya aur use zalim qarar diya. Kuch din baad laash utarwai gayi, aap ne khud ghar mangwa kar ghusl dilwaya aur janaza ada kiya.

Aap ki dua thi ke Abdullah ki shahadat dekhne se pehle maut na aaye. Yeh dua qubool hui aur shahadat ke ek haftay baad, 100 saal ki umar mein aap ka wisal hua. Is umar mein bhi aap ke hosh-o-hawas bilkul durust the.


Akhlaq o Aadat

Madina Munawwarah mein ibtidaai daur mein aap ne shadeed tangdasti mein zindagi guzari. Khud khajoor ki guthliyan uthana, pani bharna, gharelu kaam karna — sab kuch khud karti thin. Rasool-e-Akram ﷺ ne jab aap ko naap-tol kar kharch karte dekha to farmaya:
“Naap kar kharch na karo, warna Allah bhi naap kar dega.”

Is naseehat ke baad aap ne farakh-dili ikhtiyar ki aur Allah ne rizq mein was‘at ata farmayi.


Sakhawat o Faiyazi

Maaldari ke bawajood sada zindagi ikhtiyar ki. Jab bhi bemar hoti thin, ghulamon ko azaad kar deti thin. Aulaad ko naseehat karti thin ke maal jama karne ke liye nahi, balke zaruratmandon par kharch karne ke liye hota hai.

Hazrat Abdullah bin Zubair RA farmate hain:
“Main ne apni maa se zyada sakhawat kisi mein nahi dekhi.”


Ibadat o Riyazat

Hazrat Asma RA ibadat-o-taqwa mein buland maqam rakhti thin. Kai martaba Hajj ada kiya, pehla Hajj Rasool-e-Akram ﷺ ke saath tha. Bimaron ke liye dua karti thin aur Allah ke fazl se shifa hoti.


Ilm o Fazl

Aap ne 56 ahadith riwayat kiں, jin mein se 22 Sahih Bukhari aur Sahih Muslim mein darj hain. Aap ki riwayat shuda ahadith aqeede, akhlaq aur muasharti rehnumai ka qeemti sarmaya hain.


Dua
Allah Rabb-ul-Izzat aaj ki Musalman khawateen ko Hazrat Asma bint Abu Bakr Siddiq RA ke naqsh-e-qadam par chalne, deen-e-Islam ki khidmat aur sabr-o-istiqamat ikhtiyar karne ki taufeeq ata farmaye.
Aameen.

Credits & Acknowledgements

Article Writing: از: مظہرحسین علیمی
Post By: Maula Ali Research Center
Share This