تجارت میں برکت ہے

تجارت میں برکت ہے

محمد ظہیر احمد بلگامی

Author

تجارت میں برکت ہے

از:محمد ظہیر احمد بلگامی

 اسلام نے اُخروی کامیابی کے لیے جہاں اپنے خالق ومعبود کی عبادت وپرستش کا شعور بخشا ہے وہیں دنیاوی ترقی وخوش حالی کی خاطر کسبِ معاش کا بھی احساس عطا کیا ہے جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:

فَاِذَاقُضِیَتِ الصَّلٰوۃُفَانْتَشِرُوْافِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہِ۔

(پ: ۲۸، سورۂ جمعہ: آیت؍ ۰ا)

ترجمہ: پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔

(کنز الایمان)
 

تجارت میں خیرکثیرہے.
مذکورہ آیتِ مقدسہ میں بندگی کے بعد حصولِ معاش کی طرف رغبت دلائی گئی ہے اور یہ آیتِ شریفہ صنعت وحرفت، زراعت وتجارت وغیرہ طلبِ رزق کے جملہ وسائل وذرائع کو شامل ہے لیکن کسبِ حلال میں خیرِ کثیر کے اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت وفضیلت تجارت کو حاصل ہے جیسا کہ ہادیِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے ’’برکت کے حصوں میں سے نو حصے تجارت میں ہیں ‘ ‘( کیمیا ئے سعادت)
 نیز فرمایا کہ امانت دار اور راست باز تاجر نبیین، صدیقین، شہدا اور صالحین کی صف میں ہوگا ۔(بخاری ومسلم)
 ذکر کردہ دونوں حدیثوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ تجارت، دولت کی فراوانی اور رحمتوں اور برکتوں کی فراہمی کا راز اور مقربین و محبوبینِ بارگاہِ الٰہی کی قربت ومعیت کا سبب ہے جو خوشنودیِ باری تعالیٰ کی عظیم دلیل اور نجات ومغفرت کی کامل ضمانت ہے۔

انبیاے کرام کی سنت
اگر ہم اسلامی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ حقیقت خوب آشکار ہوجائے گی کہ وجودِ انسانی کی اصل حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جانِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک تمام رسلانِ عظام و انبیاے کرام علیہم السلام اپنی محنت ومشقت اور کدو کاوش ہی کی بدولت روزی حاصل کرتے تھے مثلاً حضرت آدم علیہ السلام زراعت وکاشت کاری کیا کرتے تھے، حضرت ادریس علیہ السلام کپڑے سلا کرتے، حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام بکریاں چرایا کرتے تھے، حضرت داؤد علیہ السلام زرہ بنا کر بیچتے تھے، حضرت سلیمان علیہ السلام بوریاں اور ٹوکریاں فروخت کیا کرتے تھے اور تاجدارِ عرب وعجم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابتدا میں بکریاں چرائیں پھر تجارت کی غرض سے یمن وشام کا سفر اختیار کیا۔
صحابۂ کرام کی سنت
اسی طرح اگر اصحابِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تجارت کیا کرتے تھے مثلاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے وقت کے بہت بڑے اور نہایت مشہور تاجر تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کپڑا اور دودھ فروخت کیا کرتے تھے۔ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے۔ 
پوری تاریخِ اسلام ایسے معزز افراد کی سیرتِ مقدسہ سے لبریز اور ان کے تجارتی نقوش سے جگمگارہی ہے لیکن صد حیف کہ آج مسلم طبقہ تجارت کو نہ صرف بنظر حقارت دیکھ رہا ہے بلکہ ا س سے کوسوں دور ہوچکا ہے پھر تجارت ہی کی کیا تخصیص؟ ہر اس کام سے دامن چراتا ہے جس میں محنت ومشقت اور جدوجہد کی ضرورت پڑتی ہے محض آرام طلبی وعیش پسندی اس کا مطمح نظر اور طرۂ امتیاز بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا مثالی عروج روبہ زوال اور ہمارا خوش حال وترقی یافتہ مسلم معاشرہ معاشرتی بدحالی اور اقتصادی زبوں حالی کی بندشوں میں گرفتار ہے اور مسلمانوں کو محنت کی زحمت گوارا نہ ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی غربت وافلاس کی شکایتوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ان اسلامی بھائیوں سے ہی عرض ہے کہ

ہاتھ پہ ہاتھ دھرے شکوۂ قسمت کیسا؟
ضربِ مرداں سے اُگل دیتا ہے پتھر پانی

اور محنت سے نفرت وعداوت اور سستی وکاہلی سے محبت رکھنے والے بعض مسلمان غیروںکی ترقیوں اور کامیابیوں کو دیکھ کر حسرت و یا س کے شکار ہوجاتے ہیں اے کاش! انہیں یہ درس یاد ہوتا کہ من جد وجد (جس نے کوشش کی اس نے پایا) اور یہ پیغام انہوں نے فراموش نہ کیا ہوتا کہ

اپنے ہاتھوں سے بنا تو بھی کوئی قصرِ عظیم
چشمِ حسرت سے کسی محل کی تعمیر نہ دیکھ

بے برکتی کاسبب
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آپ کو میدانِ عمل وتجارت میں اتاردیں اور محنت ومشقت کو اپنی عادت بنالیں اور جو مسلمان مالی اعتبار سے کمزور ومجبور ہوں ان کی مدد واعانت کریں اور ان کے ساتھ ہمدردی وخیر خواہی کا برتاؤ رکھیں اور معاشی اعتبار سے مستحکم ومضبوط بنانے میں کوشاں رہیں تاکہ خود رحمت ونصرتِ خداوندی کے حقدار بنیں کیوںکہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَاکَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہ،ِ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ہمارا کھویا ہوا تشخص دوبارہ پھر قائم ہوسکتا ہے اور ہمارا رکا ہوا کارواں ایک بار پھر بدستور اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوسکتا ہے لیکن یاد رکھیں! حصولِ رزق اور کسبِ معاش وطلبِ مال کی وہ راہیں اختیار نہ کی جائیں جو موجبِ لعنت اور سببِ ملامت ہوں مثلاً کذب بیانیکہ آج عموماً تاجر اپنی تجارت کو فروغ دینے کی خاطر کذب بیانی کا سہارا لیتے ہیں اورمبیع (فروخت کی جانے والی چیز)کی جھوٹی جھوٹی تعریفیں کرکے اور اس کی بے جا اہمیت وافادیت ذکر کرکے زیادہ قیمت کے حصول کے درپے ہوتے ہیں جو شرعاً حرام وگناہ اور بے برکتی کا سبب ہے۔ دھوکہ دہی: یہ عملِ بدبھی ان کی تجارت کا ایک جزوِ لازم بن چکا ہے کہ خریداروں سے میٹھی میٹھی باتیں کرکے اور جھوٹی قسمیں کھاکھا کے اپنے دامِ فریب میں پھانس لیتے، ناپ تول اور پیمائش میں بھی کمی کرکے بیشتر لوگوںکو دھوکہ دیتے ہیں اور دل ہی دل میں اپنی اس نازیبا حرکت پر خوش بھی ہوتے ہیں اور انہیں اس کی بالکل فکر نہیں ہوتی کہ آیا کہ طریقۂ تجارت از روئے شرع جائز بھی ہے یا نہیں؟ منفعت کے علاوہ اور کسی چیز کی طرف قطعاً توجہ نہیں ہوتی ۔نہ نمازوں کا کچھ خیال ہوتا ہے اور نہ ہی گناہوں کا ملال، ان کی اس حالتِ زار اور عادتِ بد کو دیکھ کر یہی کہنا پڑتا ہے کہ  ع

 شرم نبی،خوف خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ذیل میں کچھ ایسی احادیث پیش کی جاتی ہیں جن میں مذکورہ برائیوں کے مرتکب تاجروں کے لیے عبرت ہی عبرت ہے۔
رسولِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تُجار قیامت کے دن فجار (بدکار) اٹھائے جائیں گے مگر جو تاجر متقی ہو اور لوگوں کے ساتھ احسان کرے اور سچ بولے۔ (ترمذی : کتاب البیوع، باب ماجاء فی التجار)
 رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تجار بدکار ہیں لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ!( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا اللہ تعالیٰ نے بیع حلال نہیں کی ہے؟ فرمایا: ہاں بیع حلال ہے لیکن یہ لوگ بات کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں اور قسم کھاتے ہیں اس میں وہ جھوٹے ہوتے ہیں (سیدنا امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ)۔

تجارت میں قسم کھانا

حضور ِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :بیع میں حلف کی کثرت سے پرہیز کرو کہ اگرچہ یہ چیز کو بکوا دیتا ہے مگر برکت کو مٹا دیتا ہے۔ (مسلم شریف کتاب المساقاۃ باب النہی عن الحلف فی البیع)
 رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا اور نہ ان کی طرف نظر کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عرض کی یارسول اللہ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) وہ خائب وخاسر کون لوگ ہیں؟۔ فرمایا (۱)کپڑا لٹکانے والا (۲)دے کر احسان جتانے والا (۳)اور جھوٹی قسم کے ساتھ اپنا سودا چلانے والا۔ (مسلم شریف :کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار الخ)
مذکورہ بالا روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی تجارت اختیار کی جائے جو اسلامی اصول کے عین مطابق ہوتا کہ دنیاوی کامرانی کے ساتھ اخروی شادمانی بھی میسر ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ترقی کے جذبے سے سرشار ہوکر حلال وحرام اور جائز وناجائز کے فرق وامتیاز کو بھول جائیں اور اس کے تمام تر تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر عتابِ خداوندی کے مستحق ٹھہریں۔ العیاذ باللہ تعالیٰ

{۔۔۔۔۔۔}
 

Link copied to clipboard!