Minara Masjid Minara Masjid

عیدالاضحیٰ

| February 8, 2026 3 min read 3 views

عیدالاضحیٰ

عید کیا ہے؟

ہمیں سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیے کہ عید کہتے کس کو ہیں،تو سنیے:

عیدکا لفظ ’’عود ‘‘سے بنا ہے، عودکے معنی ہیں بار بار آنا ،کیوں کہ عید بار بار آتی ہے اور ہر سال عید منایا جاتا ہے اس لیے عید کو عید کہا جاتا ہے۔

مسلمانوں میں دو طرح کی عید منائی جاتی ہے، ایک ’’عید الفطر‘‘ اور دوسری ’’عید الاضحیٰ‘‘۔

’’عید الفطر‘‘ رمضان کے بعد جو عید آتی ہے اسے کہتے ہیں اور دس ذوالحجہ کو جو عید منائی جاتی ہے ،جس میں قربانی کی جاتی ہے، اسے عیدالاضحیٰ کہتے ہیں۔چوں کہ اس دن قربانی کی جاتی ہےاورکے زیادہ تر گھروں میں بکروں کی قربانی ہوتی ہے ، اس لیے ہندوستان  اور ان ملکوں میں جہاں اردو بولی جاتی ہےاس عید کو ’’بکراعید‘‘ بھی کہتے ہیں۔

’’عید الاضحیٰ‘‘ میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک حج کرنا اور دوسری اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے قربانی کرنا۔

قربانی کیا ہے؟

قربانی کا لفظ،’’ قربان‘‘ سے بنا ہے اور ’’قربان‘‘ قرب ‘‘سے ۔قرب کے معنی ہوتے ہیں نزدیکی۔اور اسلام میں قربانی کا مطلب یہ ہوتاہے کہ اپنی پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں نچھاور کرکے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے۔

یعنی اگر کوئی خود کو اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے کے لیے کوئی بھی چیز راہِ خدا میں خرچ کرے تو اسے قربانی کہا جائے گا۔ یعنی ہر مسلمان جب چاہے کوئی بھی چیز صدقہ کر کے قربانی یعنی اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔

لیکن اسلام میں قربانی ایک خاص معنی کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔اور وہ ہے دس ذوالحجہ کو اللہ کے نام سےکسی جانور کو قربان کیا جائے۔یہ قربانی بڑی اہمیت رکھتی ہے،اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تین دن قربانی کرنے کے لیے خاص کر دیا ہے،۱۰-۱۱-۱۲ – ذوالحجہ۔ اور ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کو دوسری تمام عبادتوں سے زیادہ قربانی کا عمل پسند ہے۔ یعنی اگر کوئی یہ کہے کہ ہم ۳۰۰۰۰؍ہزار کا بکرا لانے کی بجائے ان روپیوں سے کسی غریب کی مدد کر دیں ،تو وہ اپنی سوچ میں بالکل غلطی پر ہے۔اس طرح کے صدقات کے لیے سال کےباقی دن ہیں ،ان دنوں میں اس طرح کا صدقہ کرنا بہت مفید ہے اور اجر وثواب کا باعث ہے۔ ان دنوں میں کسی جانور کی قربانی کرنا ہی اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی آدمی قربانی نہ کر کے اس کی رقم صدقہ کردے تو قربانی سےبری الذمہ نہیں ہوگا ،بلکہ اس پر قربانی واجب ہی رہے گی۔

قربانی کی ابتدا

یوں تو قربانی کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل سے ہوئی تھی، اس کا مختصر قصہ یہ ہے افزائش نسل کے لیے ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن سے اور قابیل کا نکاح ہابیل کی بہن سے ہونا طے پایا تھا،چوں کہ قابیل کی بہن زیادہ خوب صورت تھی اس لیے قابیل کا دل اُس پر آ گیا، قابیل کے دل میں یہ لالچ پیدا ہوگئی کہ خود وہی اپنی بہن سے شادی کر لےاور ہابیل کی شادی اس سے نہ ہونے دے۔ یہ بات جب حضرت آدم علیہ السلام کو معلوم ہوئی تو انھوں نے قابیلکو سمجھایا ،جب قابیل نہ ماناتواُن دونوں سے کہا کہ اپنی اپنی قربانی پیش کروں جس کی قربانی اللہ تبارک و تعالیٰ قبول کرلے قابیل کی بہن کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔

اس وقت قربانی کا طریقہ یہ تھا کہ قربانی کا جانور بیچ میدان میں رکھ دیا جاتا تھا،جس کی قربانی قبول ہوناہوتی آسمان سے آگ آکر اسے جلا دیتی۔

حضرت آدم علیہ السلام کے حکم پر ہابیل اور قابیل دونوں نے اپنی اپنی قربانی کا جانور میدان میں کھڑا کردیا،آسمان سے آگ اتری اور اس نے ہابیل کی قربانی کو جلا دیا، اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول کرلی ہےاور قدرت نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن سے ہوگا، مگر قابیل کو یہ بات بالکل پسند نہ آئی،حسد کی آگ اس کے دل میں جوش مارنے لگی جس کا انجام یہ ہوا کہ اس نے ہابیل کا قتل کردیا۔

       یہ تھی روے زمین پر سب سے پہلی قربانی۔

اور سب سے پہلا قتل بھی، جونفسانی شہوت کی وجہ سے پیش آئی۔

مذہب اسلام میں دسویں ذوالحجہ کو جو قربانی کی جاتی ہےوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے ہیں:

 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ۱۲۰؍ سال اور آپ کی بیوی کی عمر ۹۰؍ کی ہوگئی تھی، مگر ابھی تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی اولاد نہ ہوئی تھی۔بڑی دعا اور گریہ و زاری کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صورت میں ایک نیک فرزند عطا فرمایا، جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کچھ بڑے ہو گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب سچا ہوتا ہے،لہذا حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئےکہ اللہ تبارک وتعالیٰان کے بیٹے اسماعیل کی قربانی چاہتا ہے۔

 آپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بتاتے ہیں:

’’ بیٹا میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ میں تمھیں ذبح کررہا ہوں۔‘‘

 سعادت مند بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام یہ سنتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ رب کی مشیت کیا ہے،لہذا اپنے والدِ بزرگ وار سے عرض کرتے ہیں ۔

’’ابا حضور اور اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو جو حکم دے رہا ہے آپ اسے کرگزریں ،ان شاء اللہ تعالیٰ آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘

اب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے جاتے ہیں ذبح کرنے کے لیے، سنا آپ نے ؟ ایک باپ اپنے بیٹے کو صرف اور صرف رب کی رضا حاصل کرنے کے لیےذبح کرنے لے جارہا ہے،حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے والدِ بزرگ وار سے عرض کرتے ہیں:

’’ابا حضور آپ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجیے،کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا چہرا دیکھ کرآپ کوترس آجائے،آپ کی محبت جاگ جائے اور آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکیں۔‘‘

ابھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمربہت زیادہ نہیں ہوئی ہے،مگر باپ کا ادب کس طرح کر رہے ہیں،کہیں باپ رب تعالیٰ کے حضور رُسوا نہ ہوجائے، یہی سوچ کر خود ذبح ہونے کے لیے تیار ہوگئے۔ سوچنے کی بات ہےکہ کیا اطاعتِ والدین کی کوئی اور ایسی مثال پیش کی جاسکتی ہے؟

علامہ اقبال نے کیا ہی خوب کہا ہے :                            ع

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کوآداب فرزندی

آج ہمارا کیا حال ہے؟ہم اپنے والد کی ایک بات سننے کو تیار نہیں ہیں،اگر باپ کوئی نصیحت کرتا ہےتو چہرے ناراضگی کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں،دوستوں سے تو ہنس بول کر رہتے ہیں، مگر والدین سے کٹے کٹے گھومتے ہیں،محض اس لیے کہ ان بیوی خوش رہے اپنے والد کو الٹا جواب دینا شروع کر دیتے ہیں،کچھ تو والدین کو ڈانٹ دیتے ہیں،کچھ تو اتنے بے غیرت ہوتے ہیں کہ انھیں مار بیٹھتے ہیں،کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو انھیں گھر سے بھی نکال دیتے ہیں۔

ہائے افسوس!!! جن والدین کے سامنے ’’اُف‘‘ کہنے کی بھی اجازت اللہ تعالیٰ نے نہیں دی ہے،ہمارا نوجوان طبقہ ان کے ساتھ کس قدر غیر مہذب برتاو کر رہا ہے۔

ہمیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس واقعے سے سبق لینا چاہیے،اور اگر یہ کہا جائے کہ ہر سال عید ہمیں اپنے والدین کی عظمت و رفعت کا پتہ بتانے آتی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

خیر ،تو میں کہہ رہا تھا:

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے یہ کہنے کے بعد کہ ’’ابو آپ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجیے۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیتے ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹا دیتے ہیں تاکہ بیٹے کا چہرہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے اس عظیم قربانی کی ادائیگی سے پیچھے نہ رہ جائیں ، اُدھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تبارک و تعالیٰ کا نام لے کر چھری چلاتے ہیں ،اِدھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ جنت سے ایک دنبہ لے جاکر اسماعیل کی جگہ پر رکھ دو، چھری چلتی ہے مگر اسماعیل کے بدلے جنّتی دنبہ ذبح ہو جاتا ہے ، بےقرار باپ جب آنکھوں سے پٹی کھولتا ہے کہ دیکھیں اس کے بچے کا کیا حال ہوا،ا تو دیکھتے ہیں کہ اسماعیل دور کھڑے مسکرا رہے ہیں اور اورایک دنبہ ان کی جگہ پر ذبح ہو گیا ہے، رب تبارک و تعالیٰ ان سے فرماتا ہے ہے کہ ابراہیم تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔

اسلام میں حضرت اس ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم سنت کو برقرار رکھا گیا ہے اور دس ذوالحجہ کو ہر مسلمان جو عقل والا ہو اور ضرورت سے زیادہ اتنا مال رکھتا ہوں جس کی قیمت ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔ جون 2025ء میں اگر کسی کے پاس 65 سے 70 ہزارر وپے یا اس کی مقدار کوئی چیز ہو جو حاجت اصلیہ سے یعنی ضرورت سے زیادہ ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔

قربانی کا پیغام

اسلام میں جو بھی تہوار ہے ان میں غریبوں کی مدد کرنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے، دیکھیے رمضان میں لوگ زکاۃ دیتے ہیں ،صدقۂ فطردیتے ہیں؛ تاکہ غریبوں ،مسکینوں ، حاجت مندوں کی مدد ہوجائے اور وہ اپنے بال بچوں کے لیے کپڑے راشن وغیرہ خرید سکیں، اسی طرح عید الاضحیٰ یعنی بکرا عید  کے موقع پر بھی اسلام نے غریبوں کو فائدہ پہنچانے کی تلقین کی ہے؛ لہذا شریعت کا یہ مسئلہ ہے کہ جس جانور کی قربانی آپ کرتے ہیں، آپ اس کے تین حصے کریں، ایک حصے کو آپ خود رکھیں، ایک حصہ اپنے رشتے داروں کو دیں، اور ایک حصہ غریبوں،مسکینوں کو دیں ۔

 یہ اور بات ہے کہ اگر کوئی پورا کا پورا گوشت خود رکھنا چاہے تو وہ رکھ سکتا ہے ، مگر بہتر ومستحب اور ثواب اس میں ہے کہ وہ تین حصے کرکے ایک حصہ خود اپنے لیے رکھے ،باقی دو حصوں کو وہ تقسیم کردے ،ایک حصہ اپنے رشتے داروں کو اور ایک حصہ غریبوں مسکینوں کو۔

 قربانی کا یہی پیغام ہےکہ قربانی کامفہوم ذہن میں رکھ کر اپنی پسندیدہ چیز راہِ خدا میں خرچ کرتا رہے،غریبوں کی مدد کرتا رہے، بے سہاروں کا سہارا بنتا رہے،یتیموں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھیرتا رہے تاکہ اسے  رب کا قرب حاصل ہوجائے ۔

حج کیا ہے؟

مسلمان ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کو سعودی عرب کے شہر مکۂ مکرمہ کی زیارت کے لیے حاضر ہو کر وہاں جو مخصوص عبادت(مثلاً میدان عرفات میں قیام کرنا، خانۂ کعبہ کا طواف کرنا،صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا،شیطان کو کنکریاں مارنا،سر کے بال چھلانا وغیرہ) انجام دیتے ہیں، اس مجموعۂ عبادات کو حج کہتے ہیں۔   

حدیث شریف میں ہے:

اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر ہے، لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ کی گواہی دینا ، نماز قائم کرنا ، زكاة دينا ، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔

(صحیح بخاری،حدیث نمبر:۸)

یعنی حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ستون ہے،حج مالی عبادت بھی ہے اور جسمانی عبادت بھی ،یعنی حج میں مال بھی صرف ہوتا ہے اور بدن سے عبادت بھی کی جاتی ہے ۔جب کہ نماز وروزہ صرف جسمانی عبادت اور زکاۃ صرف مالی عبادت ہے۔

حج پوری زندگی میں ایک بار فرض ہے یعنی ہر وہ مسلمان جو عاقل ہو، بالغ ہو، آزاد ہواور حج کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو،ساتھ ہی ساتھ اس کے پاس اتنا مال بھی ہو جو حج کے اخراجات کےلیے کافی ہو،اوراس کی غیر موجودگی میں اس کے بال بچوں کی کفالت کے لیے بھی کافی ہو۔

از قلم : فاروق خاں مہائمی مصباح

 

Eid kya hai?

Hamein sab se pehle yeh samajhna chahiye ke Eid kehte kis ko hain.
Eid ka lafz “Awd (عود)” se bana hai, jiske ma‘ni hain baar baar aana.
Choonke Eid har saal wapas aati hai, is liye use Eid kaha jata hai۔

Musalmanon mein do qism ki Eidein manai jati hain:

  • Eid-ul-Fitr
  • Eid-ul-Azha

Eid-ul-Fitr Ramzan ke baad aati hai,
jab ke 10 Zil-Hajj ko jo Eid manai jati hai, jismein Qurbani hoti hai, use Eid-ul-Azha kehte hain۔

Choonke is din aksar gharon mein bakray ki qurbani hoti hai, is liye Hindustan aur Urdu bolne wale mumalik mein ise “Bakra Eid” bhi kaha jata hai۔


Eid-ul-Azha ke do bunyadi pehlu

  1. Hajj
  2. Allah ki raza aur qurb hasil karne ke liye Qurbani

Qurbani kya hai?

Qurbani ka lafz “Qurban” se bana hai, aur Qurban ka ma‘ni hai Qurb (nazdeeki).

Islam mein Qurbani ka matlab yeh hai ke:

Apni pasandeeda cheez Allah ki raah mein nisar karke, Allah ka qurb hasil kiya jaye۔

Yani agar koi shakhs Allah se qareeb hone ke liye apni koi bhi cheez Raah-e-Khuda mein kharch karta hai, to yeh bhi Qurbani hai۔

Lekin Islam mein Qurbani ka ek khaas ma‘ni bhi hai:
10 Zil-Hajj ko Allah ke naam par kisi janwar ko zibh karna۔

Is Qurbani ki bohot zyada ahmiyat hai۔
Allah Ta‘ala ne 10, 11 aur 12 Zil-Hajj ko khaas taur par Qurbani ke liye muqarrar farmaya hai, aur in dinon mein Allah ko tamam ibadaton se zyada Qurbani ka amal pasand hai۔

Is liye agar koi yeh kahe:

“Bakra lane ke bajaye hum paisay ghareebon ko de dein”

to yeh soch ghalat hai۔
Is qisam ke sadqaat ke liye saal ke baqi din maujood hain، lekin in khaas dinon mein janwar ki Qurbani hi Allah ko zyada mehboob hai۔

Agar koi shakhs Qurbani ke bajaye uski raqam sadqa kar de, to:

  • Qurbani ada nahi hogi
  • Balkay Qurbani wajib hi rahegi

Qurbani ki ibtida

Qurbani ki ibtida Hazrat Adam علیہ السلام ke do beton Habeel aur Qabeel se hoti hai۔

Mukhtasar waqia yeh hai:
Nasl barqarar rakhne ke liye yeh tay hua ke:

  • Habeel ka nikah Qabeel ki behen se
  • aur Qabeel ka nikah Habeel ki behen se hoga

Magar Qabeel ki behen zyada khoobsurat thi, is liye Qabeel ke dil mein lalach paida ho gaya aur usne khud apni behen se shadi ka irada kar liya۔

Jab Hazrat Adam علیہ السلام ko yeh baat maloom hui, to unhon ne Qabeel ko samjhaya۔
Jab woh na mana, to farmaya:

“Tum dono apni apni Qurbani pesh karo, jis ki Qurbani qubool hogi, usi ke sath nikah hoga.”

Us zamane mein Qurbani ka tareeqa yeh tha ke:

  • Janwar khulay maidan mein rakha jata
  • Jis ki Qurbani qubool hoti, aasman se aag aa kar use jala deti

Habeel aur Qabeel ne apni apni Qurbani pesh ki۔
Aasman se aag utari aur Habeel ki Qurbani jala di — yani Qurbani qubool ho gayi۔

Is faislay par Qabeel hasad mein andha ho gaya aur:

Usne Habeel ko qatl kar diya۔

Yeh:

  • Zameen par pehli Qurbani thi
  • aur pehla qatl bhi — jo nafsani shahwat ki wajah se hua

Hazrat Ibrahim aur Hazrat Ismail علیہما السلام ki Qurbani

10 Zil-Hajj ki Qurbani Hazrat Ibrahim علیہ السلام ki Sunnat hai۔

Hazrat Ibrahim علیہ السلام ki umar 120 saal aur unki biwi ki umar 90 saal thi, magar koi aulaad na thi۔
Bohot dua aur girya-o-zari ke baad Allah Ta‘ala ne Hazrat Ismail علیہ السلام ata farmaye۔

Jab Hazrat Ismail kuch baray hue, to Hazrat Ibrahim ne khwab dekha ke:

“Main apne bete ko zibh kar raha hoon.”

Nabi ka khwab haq hota hai, is liye Hazrat Ibrahim samajh gaye ke yeh Allah ka hukm hai۔

Unhon ne apne bete se farmaya:

“Beta, main ne khwab dekha hai ke main tumhein zibh kar raha hoon.”

Hazrat Ismail ne jawab diya:

“Abba jaan, Allah jo hukm de raha hai, aap use poora karein.
InshaAllah aap mujhe sabr karne walon mein payein ge.”

Phir Hazrat Ismail ne arz ki:

“Abba jaan, aap apni aankhon par patti bandh lein, kahin aisa na ho ke meri soorat dekh kar aap ka dil pighal jaye.”

Kya misaal hai ita‘at-e-walidain ki!

Allama Iqbal ne kya khoob kaha:

“Yeh faizaan-e-nazar tha ya ke maktab ki karamat thi
Sikhaye kis ne Ismail ko adaab-e-farzandi”

Jab chhuri chalai gayi, Allah Ta‘ala ne farishte ko hukm diya ke Jannat ka dumba Ismail ki jagah rakh do۔
Ismail bach gaye, aur dumba zibh ho gaya۔

Allah Ta‘ala ne farmaya:

“Aye Ibrahim! Tum ne apna khwab sach kar dikhaya.”


Qurbani kis par wajib hai?

Har woh Musalman jo:

  • Aqalmand ho
  • Baligh ho
  • Azad ho
  • Hajat-e-asliya se zyada mal rakhta ho

Aur jiska mal:

  • 7.5 tola sona
  • ya 52.5 tola chandi
    ke barabar ho

Us par Qurbani wajib hai۔

June 2025 mein agar kisi ke paas:

65–70 hazaar rupay ya us ke barabar zaroorat se zyada saman ho
to us par Qurbani wajib hai۔


Qurbani ka paighaam

Islam ke tamam tehwaron mein ghareebon ki madad par zor diya gaya hai۔

Eid-ul-Azha par:

  • Gosht ke 3 hissey kiye jate hain
    • 1 hissa khud ke liye
    • 1 hissa rishtedaron ke liye
    • 1 hissa ghareebon aur masakeen ke liye

Agar koi poora gosht khud rakhna chahe to jaiz hai,
lekin behtar aur zyada sawab isi mein hai ke taqseem ki jaye۔

Qurbani ka asal paighaam yahi hai:

Apni pasandeeda cheez Allah ki raah mein dena،
ghareebon ka sahara banna،
yateemon par shafqat karna —
taake Allah ka qurb hasil ho۔


Hajj kya hai?

Hajj un khaas ibadaton ka majmooa hai jo:

  • 8 se 12 Zil-Hajj
  • Makkah Mukarramah mein ada ki jati hain

Jaise:

  • Maidan-e-Arafat mein qiyam
  • Khana-e-Ka‘bah ka tawaf
  • Safa-Marwa ki sa‘i
  • Shaitan ko kankariyan
  • Sar ke baal mundwana

Hadees Sharif:

“Islam ki bunyaad paanch sutoon par hai…”
(Sahih Bukhari, Hadees: 8)

Hajj:

  • Maali ibadat bhi hai
  • aur jismani ibadat bhi

Zindagi mein sirf ek martaba farz hai, jab ke:

  • mal bhi ho
  • sehat bhi
  • aur ghar walon ka intezam bhi maujood ho

Az Qalam:
Farooq Khan Mahaeemi Misbahi

Share This

Related Mazameen