Minara Masjid Minara Masjid

ہنسی مذاق کیجیے مگردل نہ دکھائیے 

| February 8, 2026 3 min read 10 views

ہنسی مذاق کیجیے مگردل نہ دکھائیے 

ہنسی مذاق کیجیے مگردل نہ دکھائیے 

(اُسوۂ رسول کی روشنی میں رہنمااصول)

مشتاق احمد قادری

ایک حد تک ہنسنا اور ہنسانا، خوش ہونا اور خوش کرنااور تفریح ومزاح انسانی فطرتِ سلیمہ کا تقاضا ہے۔ جس کی زندگی میں اس کے لیے وقت نہیں ہوتا وہ صحیح معنیٰ میں زندگی سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا اور اس متاعِ فانی سے کما حقہ متمتع نہیں ہوسکتا۔ اس کی زندگی اس کے لیے اجیرن اور بوجھ بن جاتی ہے، اداسی وپژمردگی اس پر چھا جاتی ہے کیوں کہ زندگی زندہ دلی کا نام ہے اور اس کی تابندگی ورونق، دل کشی ورعنائی ہنسی وخوش طبعی سے قائم ہے اسی وجہ سے لوگ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں وہ زندگی کے مسائل ا ورالجھنوں سے فارغ ہوکر جی بھر کر خوب ہنسیں اور اس حقیقی دنیا اور اس کے جھمیلوں سے نکل کر ایک تصوراتی دنیا میں کھوجائیں جس میں کیف وسرور پایا جاتا ہو اور ان اشخاص سے زیاد ہ مانوس اور قریب ہوتے ہیں جن کے پاس ہوتے ہوئے وہ اپنے غم وپریشانی کو بھول کر سکون وراحت محسوس کریں۔ یہی سبب ہے کہ موجودہ دور میں مادیت کا مارا، تناؤ اور ٹینشن کا شکار، ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں میں جکڑا، خوشی ومسرت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا، چین وسکون کا متلاشی انسان کا میڈی شو، لوفر پروگراموں اور فلموں کو اپنی پریشانیوں کا حل، دکھوں کی دوا اور زندگی میں رونق ومسرت کے حصول کا منبع وذریعہ سمجھ رہا ہے اور اپنے قیمتی اوقات اور کمائی کا کچھ نہ کچھ حصہ اس کی نذر کررہا ہے۔ ان پروگراموں اور فلموں کی بڑھتی کثرت ومقبولیت اس کی واضح دلیل ہے۔

اسی فطرت انسانی کی وجہ سے اسلام نے خوش مزاجی وخوش طبعی کو ناپسند نہیں کیا بلکہ اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے اور خود حضور کی حیاتِ طیبہ میں ہمیں نظر آتا ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنسی ومزاح فرمارہے ہیں، خود مسکرارہے ہیں اور دوسروں کو ہنسا رہے ہیں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ہمارے ساتھ خوش طبعی کیا کرتے تھے میرے چھوٹے بھوئی جس نے گوریا پالی تھی وہ مرگئی تھی آپ اس سے از راہ مزاح کہا کرتے تھے: یَا اَبَا عُمَیْرْ مَافَعَلَ النُغَیْرْ اے ابوعمیر! تمہاری گوریا کیا ہوئی؟ خود حضرت انس کو کبھی کبھار یَا ذَا الاُذْنَیْنِ’’دو کان والے‘‘ کہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے سواری کے لیے جانور دیجیے؟ تو آپ نے فرمایا میں تم کو اونٹنی کا بچہ دوں گا۔ صحابی نے عرض کیا کہ میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہر اونٹ کسی اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔ (بخاری؍ ۷۶۸)

ایک مرتبہ ایک بڑھیا آپ کی خدمت میں آئی اور پوچھا کہ اے اللہ کے رسول !کیا میں جنت میں جاؤں گی؟ تو آپ نے فرمایا کہ بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔ بڑھیا پریشان ہوگئی اور افسوس کرنے لگی تو آپ نے فرمایا کہ ہر بڑھیا کو اس کی جوانی لو ٹائی جائے گی وہ جوان ہوکر جنت میں جائے گی نہ کہ بڑھاپے کے ساتھ۔ ایک دیہاتی صحابی تھے جن کا نا م زہیر تھا وہ دیہات سے سوداسلف لاکر بیچتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ اپنا سامان بیچ رہے تھے تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے آکر ان کو اس طرح پکڑ لیا کہ ان کو معلوم نہ ہوسکا کہ کس نے ان کو پکڑا ہے تو وہ چلانے لگے کہ اے! کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو، جب ان کو معلوم ہوا کہ پکڑنے والے آپ ہیں تو اپنے بدن کو آپ سے اور چمٹانے لگے۔ نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے از راہِ مزاح ان کی بولی لگانی شروع کردی کہ اس غلام کو کون خریدے گا؟ تو ان صحابی نے کہا کہ یہ تو سستا سودا ہے آپ نے فرمایا لیکن اللہ کے نزدیک تم بہت قیمتی ہو۔ (احمد؍ ۱۲۱۸۷)

آپ کے مزاح کے ان واقعات کو دیکھنے سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ کسی کا ٹھٹھا اور تمسخر نہیں کررہے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے (کوئی قوم کسی قوم کا مذاق اور ٹھٹھا نہ کرے) آپ مزاح اور خوش کرنے کے لیے جھوٹ اور غلط بیانی سے کام نہیں لے رہے ہیں بلکہ حقیقت کو ہی کنایہ میںبیان کررہے ہیں جس سے ہنسی اور مزاح کا ماحول پیدا ہورہا ہے اور سچ کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول!( صلی اللہ علیہ وسلم) آپ تو ہم سے ہنسی مذاق بھی کیا کرتے ہیں؟ پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ تو کبھی کبھار ہم سے مذاق بھی کیا کرتے ہیں کیا وہ بھی ہمارے لیے قابل تقلید ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں اس وقت بھی سچ ہی بولتا ہوں۔ (ترمذی؍ ۱۹۱۶) 

۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی کسی کو تکلیف پہنچانے کو قبیح وشنیع قرار دیا ہے چنانچہ آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کا ساما ن نہ مذاق میں لے اور نہ ہی سنجیدگی میں لے۔ (ابوداؤد؍ ۴۳۵۰) ایک مرتبہ چند صحابہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے تو ان میں ایک صحابی سو گئے تو کچھ صحابہ رسی لائے اور ان کو باندھ دیا تو وہ صحابی گھبراگئے۔ا س وقت حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو ڈرائے۔ مزاح اور کسی کو ہنسانے کے لیے کسی کی ایسی نقل کرنے سے بھی منع کیا ہے جس سے دیکھنے والے کو برا لگے اور جو کسی کی ایذا رسانی کا باعث بنے۔

 ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت صفیہ کی یہ بتانے کے لیے کہ وہ بہت پست قد ہیں، نقل اتاری تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ایسا کام کیا ہے اگر اس کی کڑواہٹ کو سمندر میں ملایا جائے تو وہ بھی کڑوا ہوجائے۔

اس کے برعکس اگر آج کے کامیڈی شوز، ہنسی ومزاح کی محفلوں کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ محفلیں جھوٹ وفریب، استہزا وتمسخر، غلط بیانی ونقالی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں اور تھوڑی دیر چند لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کسی کی عزت کو نیلام کردیا جاتا ہے تو کسی کو رسوا وذلیل کیا جاتا ہے اور کسی کی ایسی نقل کی جاتی ہے کہ دیکھنے والے کو ناپسند وقبیح لگتا ہے، جس کی وجہ سے یہ محفلیں خوشی کا ذریعہ بننے کے بجائے بغض وعداوت کا ذریعہ بنتی چلی جارہی ہیں۔ سکون روح کا سبب بننے کے بجائے سوہانِ روح ثابت ہورہی ہیں اور یہ وقتی لذت وخوشی دیرینہ بغض وعداوت کا سبب بن رہی ہے۔ ستم ظرفی یہ ہے کہ اس طرح ہنسانے والے کی خوب ہمت افزائی کی جارہی ہے اور اس کے لیے بڑے بڑے پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے یہ مذاق اور طریقہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا جارہا ہے اور کیا مسلم، کیا غیر مسلم سب اس کو فیشن کے طور پر اپنا رہے ہیں اور اس کو آرٹ اور فن سے تعبیر کررہے ہیں حالاں کہ یہ انسانیت ومعاشرے کو ایسے عمیق دلدل میں دھنسارہا ہے جس سے نکلنا مشکل نظر آرہا ہے۔ یہ ایک ایسا میٹھا زہر ہے (slow Poison) جو معاشرے کی جڑوں اور طاقت کو اندر سے کھوکھلا کررہا ہے اور غیر شعوری طورپر انسانیت کے اعلیٰ دماغوں اور صلاحیتوں کو ملک وقوم کی ترقی وفلاح وبہبود کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ان سطحی اور وقتی چیزوں پر لگارہا ہے اور عزت وحرمت اور عظمت ورفعت نام کی چیزوں کی وقعت غیر شعوری طور پر ختم ہورہی ہے جس کی وجہ سے یہ دنیا جنگل اور انسانیت درندہ بنتی چلی جارہی ہے جس میں چھوٹے اور بڑے کی تمیز کی جارہی ہے اور نہ ہی اعلیٰ اور ادنیٰ کا پاس ولحاظ رکھا جارہا ہے اور ہنسی کے نام پر بے حیائی وفحاشی، ناشائستہ حرکتوں اور دوسروں کی ایذا رسانی بلکہ ہر چیز کو روا رکھا جارہا ہے۔ ان محفلوں میں کی جانے والی غلط باتوں اور حرکتوں کو غلط کہنا تو درکنار غلط سمجھنے ہی کو غلط اور تنگ نظری سے تعبیر کیا جارہا ہے کہ دامنِ عقل کو کبھی تنہا بھی چھوڑ دو کبھی کسی لمحے کے لیے بھی تو مذہب کی جاگیر داری کو ہٹا دو! حالاںکہ مذہب خلافِ فطرت یہ تو مطالبہ نہیں کررہا ہے کہ مزاح اور ہنسی اور خوش طبعی نہ کی جائے بلکہ یہ مطالبہ کررہا ہے کہ ہنسی اور خوش طبعی کے نام پر اعلیٰ اقدار اور اصولوں اور عزت وحرمت کو پامال نہ کیا جائے۔ دائرے میں ہی رہتے ہوئے یہ سب کرنے کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ اس کو مستحسن قرار دیا ہے اور عملاً پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کرکے دکھایا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی طرف توجہ دی جائے اور حسبِ استطاعت انسانیت، قوم ومعاشرے، خاندان اور اپنے گھر والوں کے دلوں میں مذہب اور اعلیٰ اقدار کی ضرورت وحاکمیت کو راسخ کیا جائے تاکہ دین ومذہب کی افادیت واہمیت برقرار رہے ورنہ کہیں ایسا نہ ہوکہ دوسرے مذاہب کی طرح ہمارا مذہب بھی صرف مسجدوں اور مدرسوں تک محدود ہوکر رہ جائے جس کا بازاروں، شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں کچھ کام نہ ہو۔

{۔۔۔۔۔}

 

Hansi Mazaq Kijiye, Magar Dil Na Dukhaiye
— (Uswa-e-Rasool ﷺ ki Roshni mein Rehnuma Usool)

Mushtaq Ahmad Qadri

“Zindagi sirf bojh uthana ka naam nahin,
balkay zinda-dili aur muskurahat ka safar hai.”


Ek hadd tak hansna aur hansana, khush hona aur khush karna, aur tafreeh o mazaq insani fitrat-e-saleema ka taqaza hai. Jis zindagi mein is ke liye waqt na ho, woh asal ma‘ni mein zindagi ka lutf hasil nahin kar sakti. Aisi zindagi ahista ahista bojh ban jati hai, udaasi aur be-dili chhaa jati hai—kyon ke zindagi ka husn zinda-dili se hai, aur is ki ronaqq, dil-kashi aur ra‘naai hansi aur khush-tab‘i se qaim rehti hai.

Isi liye log aise mauqa‘aat ki talash mein rehte hain jahan woh zindagi ke masail aur uljhanon se kuch dair ke liye azad ho kar ji bhar kar hans sakain, aur is haqeeqi duniya ke jhamelon se nikal kar ek tasawwurati duniya mein chale jain jahan kaif o suroor ho. Insan un logon se zyada qareeb hota hai jin ke paas baith kar woh apne gham aur pareshani bhool kar sukoon o rahat mehsoos kare.

Aaj ka insan—jo madiyat ka maara, tanaao aur tension ka shikar, zehni uljhanon mein jakkra hua hai—media shows, laho-o-la‘b programs aur filmon ko apni pareshaniyon ka hal, dukhon ki dawa, aur zindagi mein ronaqq ka zariya samajh raha hai. Is par woh apna qeemti waqt aur kamai bhi kharch kar raha hai. In programs ki barhti hui maqbooliyat is baat ki wazeh daleel hai.


Islam aur Khush-Mizaji

Isi fitri rujhan ki wajah se Islam ne khush-mizaji aur khush-tab‘i ko na-pasand nahin kiya, balkeh pasandeedgi ki nazar se dekha hai. Huzoor ﷺ ki hayat-e-tayyiba mein humein wazeh taur par milta hai ke aap ﷺ apne sahaba ke saath hansi o mazaq farmate, muskurate, aur dusron ko hansate thay.

Hazrat Anas رضی اللہ عنہ bayan karte hain ke Rasool ﷺ hum se khush-tab‘i farmaya karte thay. Un ke chhote bhai ki goriya mar gayi thi, to aap ﷺ un se mazaqan farmate:

“Ya Aba ‘Umair, ma fa‘al-an-nughair?”
(Aey Aba ‘Umair! Tumhari goriya ka kya bana?)

Kabhi kabhi Hazrat Anas ko “Ya Zaal-Uznain” (do kaan walay) keh kar pukarte.
Ek martaba ek sahabi ne sawari ke liye janwar ka sawal kiya, to aap ﷺ ne farmaya:
“Main tumhein oontni ka bachcha doon ga.”
Sahabi ne arz ki: “Oontni ka bachcha le kar kya karoon ga?”
Aap ﷺ ne muskurate hue farmaya:
“Har oont kisi oontni ka bachcha hi hota hai.”
(Bukhari)

Ek martaba ek burhiya ne poocha: “Ya Rasool Allah ﷺ! Kya main jannat mein jaoon gi?”
Aap ﷺ ne farmaya: “Burhiya jannat mein nahin jayegi.”
Woh gham-zada ho gayi, to aap ﷺ ne wazahat farmayi ke jannat mein sab ko jawani lota di jayegi—burhapay ke sath nahin, jawani ke sath jannat mein dakhil hon ge.

Ek dehati sahabi Zuhair the, jo dehat se samaan la kar becha karte. Ek martaba Nabi ﷺ ne peeche se unhein pakar liya. Woh ghabra gaye. Jab maloom hua ke pakarnay walay aap ﷺ hain, to aur qareeb ho gaye. Aap ﷺ ne mazaqan farmaya:
“Is ghulam ko kaun khareeday ga?”
Unhon ne kaha: “Ya Rasool Allah ﷺ! Phir to main sasta hoon.”
Aap ﷺ ne farmaya:

“Magar Allah ke nazdeek tum bohot qeemti ho.”
(Musnad Ahmad)


Mazah ki Hudood

In waqiaat se yeh baat bilkul wazeh ho jati hai ke Huzoor ﷺ ka mazaq:

  • kisi ki tauheen nahin hota,
  • jhoot par mabni nahin hota,
  • aur kisi ka dil dukhana is mein shamil nahin hota.

Aap ﷺ ne farmaya:

“Main mazaq mein bhi sirf sach hi bolta hoon.”
(Tirmizi)

Isi tarah aap ﷺ ne sakhti se mana farmaya ke:

  • kisi ka samaan mazaq mein bhi na liya jaye,
  • kisi musalman ko daraaya na jaye,
  • aur aisi naqal na ki jaye jo kisi ke liye takleef ka sabab bane.

Hazrat Ayesha رضی اللہ عنہا ne jab Hazrat Safiya ke qad par ishara karte hue naqal ki, to aap ﷺ ne farmaya:

“Tum ne aisi baat ki hai ke agar is ki karwahat samandar mein mila di jaye to woh bhi karwa ho jaye.”


Aaj ka Mazah aur Hamara Rawaiyya

Aaj ke comedy shows aur mazaahi mehfilon ka jaiza lein to maloom hota hai ke:

  • jhoot,
  • tamaskhur,
  • behuda naqal,
  • aur izzat-naalmi aam hoti ja rahi hai.

Chand lamhon ki hansi ke liye kisi ki izzat qurban kar di jati hai. Yeh mehfilein sukoon-e-rooh ka zariya banne ke bajaye bughz aur adawat ko janam de rahi hain. Yeh aik meetha zehar (slow poison) hai jo muashray ki jarron ko andar se khokhla kar raha hai.

Sab se afsos-naak baat yeh hai ke is rawaiyyay ko fun aur art ka naam diya ja raha hai, jab ke yeh insani qeematon aur ikhlaqi usoolon ko mitta raha hai.


Asal Zarurat

Zarurat is baat ki hai ke hum:

  • mazah ko dairay mein rakhein,
  • izzat aur hurmat ka lihaz karein,
  • aur apne ghar, khandan aur muashray mein deeni aur ikhlaqi qeematon ko zinda rakhein.

Islam hansi se mana nahin karta,
balkay be-hudgi aur be-hurmati se rokta hai.

Huzoor ﷺ ne khud is ka amalī namoona pesh farmaya. Agar hum ne is rehnumai ko bhula diya, to kahin aisa na ho ke deen sirf masjid aur madrasa tak mehdood reh jaye aur zindagi ke baqi maydanon se door hota chala jaye.


“Hansna bhi ibadat ban sakta hai—
agar us mein sach ho, adab ho, aur kisi ka dil na tootay.”

Credits & Acknowledgements

Article Writing: مشتاق احمد قادری
Post By: Maulana Mazhar Husain Alimi
Share This