نمازپڑھوصحت مندرہو گے
از:مولانا محمد اسلم رضا
ورزشیں نہ صرف اندرونی اعضا مثلا دل، گردے، جگر، پھیپھڑ ے ، دماغ، آنتوں، معدہ، ریڑھ کی ہڈی، گردن، سینہ اور تمام اقسام کے غدود (GLANDS )کی نشوونما کرتی ہیں بلکہ جسم کو بھی سڈول اور خوبصورت بناتی ہیں۔ ایسی ورزشیں بھی ہیں جن کے ذریعے آدمی غیر معمولی طاقت کا مالک بن جاتا ہے اور ایسی بھی ہیں جن سے چہرے کے نقش ونگار خوبصورت اور حسین نظر آنے لگتے ہیں۔ بڑی عمر کا آدمی ہر ورزش نہیں کرسکتا لیکن نماز ایک ایسا عمل ہے جس پر ہر بندہ آسانی کے ساتھ عمل پیرا ہوسکتا ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ آدمی کی وریدیں (VEINUS)، شریانیں (ARTERIES) اور عضلات کی طاقت کم ہوجاتی ہے اور ان کے اندر ایسے مادے پیدا ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے بے شمار امراض لاحق ہونے لگتے ہیں مثلا گٹھیا، عرق النساء، امراضِ قلب، ہائی بلڈپریشر اور بے شمار دوسرے دماغی امراض۔ ان بے شمار بیماریوں سے نجات پانے کے لیے نماز ہمارے لیے قدرت کا ایک بہترین علاج ہے۔ ورزش کا یہ اصل اصول ہے کہ اگر آپ کسی ورید، شریان یا کسی اور مخصوص عضو کی سختی کو دور کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑدیجیے پھر اس حصۂ جسم میں تناؤ پیدا کیجیے اور کچھ دیر تناؤ کی حالت برقرار رکھنے کے بعد جسم کو پھر ڈھیلا چھوڑ دیجیے۔
ماہرینِ ورزش نے ورزش کے اصول وضوابط اور ورزش کے لیے نشستیں بھی متعین کی ہیں۔ہم یہ بات جان چکے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز ادا کرنے کے طریقے میں وہ سب سمودیا ہے جس کی نوع انسانی کو ضرورت ہے خواہ وہ ذ ہنی یکسوئی ہو، آلام ومصائب سے نجات پانا ہو، غیب کی دنیا میں سفر ہو، اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنا ہو یا جسمانی صحت ہو، نماز مجموعۂ اوصاف وکمال ہے۔ آئیے تلاش کریں کہ نماز اور ہماری صحت کا آپس میں کیا تعلق ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کا علاج
نماز قائم کرنے کے لیے ہم سب سے پہلے وضو کا اہتمام کرتے ہیں۔ وضو کے دوران جب ہم اپنا چہرہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھوتے ہیں پیروں اور سرکا مسح کرتے ہیں تو ہمارے اندر دوڑنے والے خون کو ایک نئی زندگی ملتی ہے جس سے ہمیں سکون ملتاہے اور تسکین سے ہمارا سارا اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ پرسکون اعصاب سے دماغ کو آرام ملتا ہے۔ اعضائے رئیسہ سر، پھیپھڑے، دل اور جگر وغیرہ کی کارکردگی بحال ہوتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کم ہوکر نارمل ہوجاتا ہے۔ چہرے پر رونق اورہاتھوں میں رعنائی اور خوبصورتی آجاتی ہے۔ وضو کرنے سے اعصاب کا ڈھیلا پن ختم ہوجاتا ہے۔ آنکھیں پرکشش ہوجاتی ہیں۔ سستی اور کاہلی دور ہوجاتی ہے۔ آپ کبھی بھی تجربہ کرسکتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو وضو کرائیں بلڈ پریشر کم ہوجائے گا۔
گٹھیا کا علاج
جب ہم وضو کرنے کے بعد نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو پہلے ہمارا جسم ڈھیلا ہوتا ہے لیکن جب نماز کی نیت کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو قدرتی طور پر جسم میں تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس حالت میں آدمی کے اوپر سے سفلی جذبات کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ سیدھے کھڑے ہونے میں ام الدماغ سے روشنیاں چل کر ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی پورے اعصاب میں پھیل جاتی ہیں۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جسمانی صحت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے اور عمدہ صحت کا دارومدار ریڑھ کی ہڈی کی لچک پر ہے۔ نماز میں قیام کرنا گھٹنوں، ٹخنوں اور پیروں سے اوپر پنڈلیوں، پنجوں اور ہاتھ کے جوڑوں کو قوی کرتا ہے۔ گھٹیا کے درد کو ختم کرتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جسم سیدھا رہے اور ٹانگوں میں خم(ٹیڑھاپن) واقع نہ ہو۔
جگر کے امراض
جھک کر رکوع میں دونوں ہاتھ اس طرح گھٹنوں پر رکھے جائیں کہ کمر بالکل سیدھی رہے اور گھٹنے جھکے ہوئے نہ ہوں۔ اس عمل سے معدے کو قوت پہنچتی ہے، نظامِ ہضم درست ہوتا ہے، قبض دور ہوتا ہے، معدے کی دوسری خرابیاں نیز آنتوں اور پیٹ کے عضلات کا ڈھیلا پن ختم ہوجاتا ہے۔ رکوع کا عمل جگر اور گردوں کے افعال کو درست کرتا ہے۔ اس عمل سے کمر اور پیٹ کی چربی کم ہوجاتی ہے۔ خون کا دوران تیز ہوجاتا ہے۔ چوں کہ دل اور سر ایک سیدھ میں ہوجاتے ہیں اس لیے دل کے لیے خون کو سر کی طرف پمپ (PUMP)کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے اور اس طرح دل کا کام کم ہوجاتا ہے اور اسے آرام ملتا ہے جس سے دماغی صلاحیتیں اُجاگر ہونے لگتی ہیں۔
اگر تسبیح سبحان ربی العظیم پر غور کرکے تین سے سات بار تک پڑھی جائے تو مراقبے کی سی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ دورانِ رکوع ہاتھ چوں کہ نیچے کی طرف ہوتے ہیں اس لیے کندھوں سے لے کر ہاتھ کی انگلیوں تک پورے حصے کی ورزش ہوجاتی ہے جس سے بازو کے پٹھے (Muscles) طاقت ورہوجاتے ہیں جو فاسد مادے بڑھاپے کی وجہ سے جوڑوں میں جمع ہوتے ہیں، از خود خارج ہوجاتے ہیں۔
پیٹ کم کرنے کے لیے
رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوکر سجدے میں جاتے ہیں۔ سجدے میں جانے سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھے جاتے ہیں۔ یہ عمل ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط اورلچک دار بناتا ہے اور خواتین کے اندرونی اعصاب کوتقویت بخشتا ہے۔ اگر رکوع کے بعد سجدے میں جانے کی حالت میں جلدی نہ کی جائے تو یہ اندرونی جسمانی اعضا کے لیے ایک نعمتِ غیر مترقبہ ورزش ثابت ہوتی ہے۔ سجدے کی حالت ایک ورزش ہے جو رانوں کے زائد گوشت کو گھٹاتی ہے اور جوڑوں کو کھولتی ہے۔ اگر کو لہوں کے جوڑوں میں خشکی آجائے یا چکنائی کم ہوجائے تو اس عمل سے یہ کمی پوری ہوجاتی ہے اور بڑھا ہوا پیٹ کم ہوجاتا ہے۔ متناسب پیٹ سے جسم سڈول اور خوب صورت لگتا ہے۔
السر کا علاج
جن لوگوں کے معدے میں جلن رہتی ہے اور زخم (Ulcer) ہوتاہے توصحیح سجدے کے عمل سے یہ مرض ختم ہوجاتا ہے۔ سجدے میں پیشانی زمین پر رکھی جاتی ہے اس عمل سے دماغ کے اندر دوڑنے والی برقی رو سے براہِ راست اہم رشتہ ہوجاتا ہے اور دماغ کی طاقت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔
جملہ دماغی بیماریاں
خشوع وخضوع کے ساتھ دیر تک سجدہ کرنا دماغی امراض کا علاج ہے۔ دماغ اپنی ضرورت کے مطابق خون سے ضروری اجزا حاصل کرکے فاسد مادوں کو خون کے ذریعے گردوں کو واپس بھیج دیتا ہے تاکہ گردے انہیں پیشاب کی شکل میں باہر نکال دیں۔ سجدے سے اٹھتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ سر جھکا ہوا ہو اور بازو سیدھے رہیں اور ان میں قدر ے تناؤ ہو۔ اٹھتے وقت ران پر ہتھیلیاں بھی رکھیں۔ کمر کو کبھی (کب) کی طرح اوپر اٹھائیں اور آہستہ سے کھڑے ہوجائیں یا بیٹھ جائیں۔
چہرے پر جھریاں
ریڑھ کی ہڈی میں حرام مغز بجلی کا ایک ایسا تار ہے جس کے ذریعے پورے جسم کو حیات ملتی ہے۔ سجدہ کرنے سے خون کا بہاؤ جسم کے اوپر ی حصوں کی طرف ہوجاتا ہے جس سے آنکھیں، دانت اور چہرہ سیراب ہوتا رہتا ہے اور رخساروں پر سے جھریاں دور ہوجاتی ہیں۔ یاد داشت صحیح کام کرتی ہے، فہم وفراست میں اضافہ ہوجاتا ہے، آدمی کے اندر تفکر کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے، بڑھاپا دیر تک نہیں آتا۔ سو سال کی عمر تک بھی آدمی چلتا پھرتا رہتا ہے اور اس کے اندر ایک برقی رو دوڑتی رہتی ہے جو اعصاب کو تقویت پہنچانے کا سبب بنتی ہے ۔صحیح طریقے پر سجدہ کرنے سے بند نزلہ،ثقلِ سماعت اور سردرد جیسی تکلیفوں سے نجات مل جاتی ہے۔
جنسی امراض
دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا (جلسہ) گھٹنوں اور پنڈلیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اس کے علاوہ رانوں میں جو پٹھے اللہ تعالیٰ نے افزائش نسل کے لیے بنائے ہیں ان کو ایک خاص قوت عطا کرتا ہے۔ مردانہ اور زنانہ کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں تاکہ انسان کی نسلیں دماغی اور جسمانی اعتبار سے صحت مند پیدا ہوں۔
سینے کے امراض
نماز کے اختتام پر سلام پھیرتے ہیں۔ گردن پھیرنے کے عمل سے گردن کے عضلات کو طاقت ملتی ہے اور وہ امراض جن کا تعلق ان عضلات سے ہے، لاحق نہیں ہوتے اور انسان ہشاش بشاش اور توانارہتا ہے نیز سینہ اور ہنسی کا ڈھیلا پن ختم ہوجاتا ہے، سینہ چوڑا اور بڑا ہوجاتا ہے۔ ان سب ورزشوں کا فائدہ اس وقت پہنچتا ہے جب ہم نماز پوری توجہ اور دل جمعی اور اس کے پورے آداب کے ساتھ ادا کریں اور جلد بازی سے کام نہ لیں۔
ۘ{۔۔۔۔۔}
“Namaz Parho — Sehat Mand Raho”
Az: Maulana Muhammad Aslam Raza
Namaz aur Jismani Sehat — Ek Mukammal Nizaam
Namaz sirf roohani ibadat nahi balkay aik mukammal qudrati exercise system hai.
Ye na sirf andarooni a‘zaa jaise dil, gurday, jigar, phephray, dimaagh, aantain, ma‘da, reedh ki haddi, gardan, seena aur tamam qisam ke glands ki nasho-numa karti hai, balkay jism ko mutanasib, suthra aur khubsurat bhi banati hai.
“Jahan har exercise har umar ke liye nahi hoti — wahan namaz har shakhs ke liye hai.”
Kayi aisi warzishain hoti hain jo:
- ghair-ma‘mooli quwwat paida karti hain
- chehray ke naqsh-o-nigaar mein husn barqarar rakhti hain
Lekin barhi umar ka aadmi har exercise nahi kar sakta, jabke namaz aik aisa amal hai jo har banda asaani se ada kar sakta hai.
Umar ke sath sath:
- veins, arteries aur muscles kamzor ho jati hain
- jism mein fasid mada jama hone lagta hai
Jis se bemariyan paida hoti hain:
gathiya, irq-un-nisa, amraaz-e-qalb, high blood pressure aur mukhtalif dimaghi amraaz
➡️ In sab se nijaat ke liye namaz qudrat ka behtareen ilaaj hai.
Exercise ka Asal Usool
Agar kisi rag, sharyaan ya a‘za ki sakhti door karni ho to:
- jism ko bilkul dheela chhor diya jaye
- phir us hissa mein tanao paida kiya jaye
- kuch dair tanao barqarar rakh kar
- dobara jism ko dheela chhor diya jaye
➡️ Yehi usoool namaz ke har rukun mein maujood hai.
Namaz — Jami‘at-ul-Kamal
Ham ye baat jaante hain ke Rasool-e-Akram ﷺ ne namaz ke tareeqay mein:
- zehni yaksooi
- gham-o-alam se nijaat
- ghaib ki duniya se rabt
- ma‘rifat-e-Ilahi
- aur jismani sehat
👉 sab kuch sama diya hai
Namaz majmua-e-ausaf-o-kamal hai.
High Blood Pressure ka Ilaaj
Namaz se pehle wuzu:
- chehra, haath, sar ka masah aur paon dhona
- khoon ko nayi zindagi deta hai
- asabi nizaam ko sukoon deta hai
Asraat:
- dimagh ko araam
- qalb, phephray, jigar ki karkardagi bahaal
- blood pressure normal
- chehray par ronaq
- haathon mein husn
- aankhain pur-kashish
- susti aur kaahili khatam
“High BP ke mareez ko wuzu kara ke dekhiye — farq mehsoos hoga.”
Gathiya ka Ilaaj
Qiyaam mein:
- pehle jism dheela
- niyyat ke waqt haath uthane se tanao
Is se:
- safli jazbaat kamzor
- reedh ki haddi mein roshniyon ka nizaam fa‘aal
➡️ Reedh ki haddi sehat ka markaz hai
Namaz ka qiyaam:
- ghutnon
- takhnon
- pindliyon
- panjon
- haath ke joints
👉 sab ko quwwat deta hai
Gathiya ka dard kam hota hai, shart ye ke jism seedha ho.
Jigar ke Amraaz
Ruku‘ mein:
- kamar bilkul seedhi
- ghutnay na jhukein
Faiday:
- ma‘da mazboot
- hazma durust
- qabz khatam
- aant aur pait ke muscles mazboot
- jigar aur gurday ke af‘aal behtar
- pait aur kamar ki charbi kam
Dil aur sar aik seedh mein aane se:
- dil par bojh kam
- dimaghi salahiyatein ujagar
“Subhan Rabbi-al-Azeem”
Agar tawajjoh ke sath 3 se 7 martaba parhi jaye
➡️ muraqba ki si kaifiyat paida hoti hai
Pait Kam Karne ke Liye
Ruku‘ ke baad sajda:
- reedh ki haddi ko lachak deta hai
- khawateen ke andarooni a‘zaa ko taqat
Agar sajda jaldi jaldi na kiya jaye:
➡️ andarooni jism ke liye na‘mat hai
Faiday:
- ranon ka zyada gosht kam
- joints khulte hain
- koolhon ki khushki door
- barha hua pait kam
- jism suthra aur mutanasib
Ulcer ka Ilaaj
Sahih sajda:
- ma‘day ke zakhm aur jalan khatam
Peshani zameen par:
- dimagh ki barqi ro se mustaqeem rabt
- dimaghi quwwat mein izafa
Tamam Dimaghi Bimariyan
Dair tak khushu‘-o-khuzu‘ ke sath sajda:
- dimaghi amraaz ka ilaaj
Dimagh:
- zaroori ajzaa hasil karta
- fasid mada gurdon ko bhejta
Sajday se uthte waqt:
- sar jhuka rahe
- bazu seedhay
- halkasa tanao
- haath ranon par
➡️ aahista uthna sehat ke liye zaroori
Chehray ki Jhurriyan
Reedh ki haddi ke andar:
- aik barqi nizaam jo jism ko zindagi deta hai
Sajday se:
- khoon ka bahaao upar ke hisson ki taraf
- aankhain, daant, chehra sairab
Asraat:
- jhurriyan kam
- yaad-daasht behtar
- feham-o-firasat mein izafa
- barhaapa dair se aata hai
“Sahih sajda — 100 saal ki zindagi ka raaz.”
Band nazla, sardard, thaqal-e-sama‘at bhi door hoti hai.
Jinsi Amraaz
Dono sajdon ke darmiyan jalsa:
- ghutnon aur pindliyon ko quwwat
- ranon ke un muscles ko taqat
jo nasl-afzaaish ke liye banaye gaye
➡️ mardana aur zanana kamzori door
➡️ sehatmand nasal ka zariya
Seenay ke Amraaz
Namaz ke aakhir mein salaam pherna:
- gardan ke muscles mazboot
- gardan se muta‘alliq amraaz se hifazat
- seena khula
- hansi ka dhela pan khatam
Aakhri Baat
In tamaam faidon ka husool tabhi mumkin hai jab:
- namaz tawajjoh
- dil-jam‘i
- aur poore adaab ke sath
- baghair jaldbazi ada ki jaye
“Namaz — Ibadat bhi, Ilaj bhi.”