Minara Masjid Minara Masjid

بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں

Maula Ali Research Center
| January 19, 2026 1 17 views

بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں

میرے حضور میری چشم تر میں رہتے ہیں

ہمارے دل میں ہمارے جگر میں رہتے ہیں

انہیں کے گھر ہیں یہ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں

یہ واقعہ ہے لباس بشر بھی دھوکا ہے

یہ معجزہ ہے لباس بشر میں رہتے ہیں

مقام ان کا نہ فرش زمیں نہ عرش بریں

وہ اپنے چاہنے والوں کے گھر میں رہتے ہیں

ملائکہ بھی عقیدت سے دیکھتے ہیں انہیں

جو خوش نصیب نبی کے نگر میں رہتے ہیں

یقین والے کہاں سے چلے کہاں پہونچے

جو اہل شک ہیں اگر میں مگر میں رہتے ہیں

خدا کے نور کو اپنی طرح سمجھتے ہیں

یہ کون لوگ ہیں کس کے اثر میں رہتے ہیں

رہیں وہ اپنوں سے غافل ارے معاذ اللہ

خوشا نصیب ہم ان کی نظر میں رہتے ہیں

وہ اور ہی تھا جو قوسین پر نظر آیا

ملک تو اپنی حد بال و پر میں رہتے ہیں

جو اخترؔ ان کے تصور میں صبح و شام کریں

کہیں بھی رہتے ہوں طیبہ نگر میں رہتے ہیں

Share This